Chapter on Virtues
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 50
Narrated Ibn Mas'ud: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Take as examples the two after me from my Companions, Abu Bakr and 'Umar. And act upon the guidance of 'Ammar, and hold fast to the advice of Ibn Mas'ud.
عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد ( وصیت ) کو مضبوطی سے تھامے رہو“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ۳- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔
Narrated Abu Musa: My brother and I arrived from Yemen, and we did not see a period except that we thought 'Abdullah bin Mas'ud was a man from the people of the house of the Prophet (ﷺ), due to what we would see of him entering, and his mother's entering, upon the Prophet (ﷺ).
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ
انہوں نے ابوموسیٰ اشعری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( ان کے گھر میں ) آتے جاتے دیکھتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Narrated 'Abdur-Rahman bin Yazid: We came to Hudhaifah and said: 'Inform us of the closest to the Messenger of Allah (ﷺ) in guidance and conduct, so that we may take from him and hear from him.' He said: 'The closest of the people in guidance, conduct, and character used to be 'Abdullah bin Mas'ud, until he would hide from us in his house. And the guarded ones (guarded by Allah from straying in word and deed) from the Companions of Muhammad (ﷺ) know that Ibn Umm 'Abd (a nickname for 'Abdullah bin Mas'ud) is from among the most intimately close to Allah of them.'
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ
ہم حذیفہ رضی الله عنہ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سب سے قریب ابن مسعود رضی الله عنہ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود رضی الله عنہ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated 'Ali: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If I was going to appoint anyone of them as a leader without any consultation, I would appoint Ibn Umm 'Abd over them.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی رضی الله عنہ سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated 'Ali: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: If I was going to appoint anyone as a leader without any consultation, I would appoint Ibn Umm 'Abd.
علی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے ( عبداللہ بن مسعود ) کو امیر بناتا“۔
Narrated 'Abdullah bin 'Amr: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Take the Qur'an from four: From Ibn Mas'ud, Ubayy bin Ka'b, Mu'adh bin Jabal, and Salim the freed slave of Abu Hudhaifah.
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Khaithamah bin Abi Sabrah: I came to Al-Madinah, so I asked Allah to make it easy for me to sit with one who is righteous. He made Abu Hurairah accessible to me, so I sat with him and said to him: 'Indeed, I asked Allah to make it easy for me to sit with who is righteous, and it is to you that I was guided.' So he said to me: 'From where are you?' I said: 'From the people of Al-Kufah, I came to search out good and to seek it.' So he said: 'Is there not among you Sa'd bin Malik whose supplication is answered, Ibn Mas'ud, the one who used to carry the water for purification and the sandals of the Messenger of Allah (ﷺ), and Hudhaifah, the keeper of the secrets of the Messenger of Allah (ﷺ), and 'Ammar whom Allah has guarded from Shaitan upon the tongue of His Prophet, and Salman the companion of the Two Books?'
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ
میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چنانچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ رضی الله عنہ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ۱؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چنانچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ۲؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ۳؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ۲- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کر دی گئی ہے۔
Narrated Hudhaifah: that they said: O Messenger of Allah, if you were to appoint someone as a successor. He said: If I were to appoint a successor over you, and you were to disobey him, you would be punished. But whatever Hudhaifah narrates to you, then believe him, and whatever 'Abdullah teaches you to recite, then recite it.
حذیفہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اپنا جانشین مقرر فرما دیتے، آپ نے فرمایا: ”اگر میں نے اپنا جانشین مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو“، اور جو عبداللہ ( عبداللہ بن مسعود ) ۱؎ تمہیں پڑھائیں انہیں پڑھ لو“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے۔
Narrated Zaid bin Aslam: from his father, from 'Umar, that he ('Umar) granted a stipend of three-thousand and five-hundred to Usamah bin Zaid, and he granted three-thousand to 'Abdullah bin 'Umar. So 'Abdullah bin 'Umar said to his father: Why have you given preference to Usamah over me? For by Allah, he has not preceded me to any battle. He said: Because Zaid used to be more beloved to the Messenger of Allah (ﷺ) than your father, and Usamah was more beloved to the Messenger of Allah (ﷺ) than you. So I gave preference to the beloved of the Messenger of Allah (ﷺ) over my beloved.
اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ
عمر رضی الله عنہ نے اسامہ بن زید رضی الله عنہما کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کے لیے تین ہزار کا تو عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما نے اپنے باپ سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ زید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: We called Zaid bin Harithah nothing but 'Zaid bin Muhammad' until the Qur'an was revealed (ordering): Call them by their fathers, that is more just according to Allah. (33:5)
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» ”تم متبنی ( لے پالک ) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے“ ( الاحزاب: ۵ ) ، نازل ہوئی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث صحیح ہے۔
Narrated Jabalah bin Harithah, the brother of Zaid: I came to the Messenger of Allah (ﷺ) and said: 'O Messenger of Allah, send my brother Zaid with me.' He said: 'Here he is.' He said: 'If he goes with you, I will not prevent him.' Zaid said: 'O Messenger of Allah, by Allah, I will not choose anyone over you.' He said: So I considered the view of my brother to be better than my own view.
زید بن حارثہ رضی الله عنہ کے بھائی جبلہ بن حارثہ رضی الله عنہ کا بیان ہے کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا: ”وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا“، یہ سن کر زید نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کر سکتا، جبلہ کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابن رومی کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ علی بن مسہر سے روایت کرتے ہیں۔
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) sent and army and put Usamah bin Zaid in charge of them. So the people contested his leadership, so the Prophet (ﷺ) said: 'If you contest his leadership, then you did contest the leadership of his father before him. And indeed, by Allah, he was certainly fit for leadership, and he was of the most beloved of people to me, and this one is among the most beloved of people to me after him.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو ۱؎، قسم اللہ کی! وہ ( زید ) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی ( اسامہ ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Muhammad bin Usamah bin Zaid: from his father, that he said: When the Messenger of Allah (ﷺ) became weak, I marched and the people marched upon Al-Madinah. I entered upon the Messenger of Allah (ﷺ) and he was unable to speak (because of weakness), so he did not say anything. So the Messenger of Allah (ﷺ) began to place his hands upon me and then raise them up, so I knew he was supplicating for me.
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو میں ( «جرف» سے ) اتر کر مدینہ آیا اور ( میرے ساتھ ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہو چکی تھی، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated 'Aishah, the Mother of the Believers: The Prophet (ﷺ) wanted to wipe the running nose of Usamah. 'Aishah said: Leave it to me so that I may be the one to do it. He said: O 'Aishah, love him, for verily I love him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ۱؎ تو میں نے کہا: آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا: ”عائشہ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Usamah bin Zaid: I was sitting [with the Prophet (ﷺ)] when 'Ali and Al-'Abbas came seeking permission to enter. They said: 'O Usamah, seek permission for us from the Messenger of Allah (ﷺ).' So I said: 'O Messenger of Allah, 'Ali and Al-'Abbas seek permission to enter.' He said: 'Do you know what has brought them?' I said: 'No [I do not know].' So the Prophet (ﷺ) said: 'But I know, grant them permission.' So they entered and said: 'O Messenger of Allah, we have come to you, to ask you which of your family is most beloved to you.' He said: 'Fatimah bint Muhammad.' So they said: 'We did not come to ask you about (immediate) family.' He said: 'The most beloved of my family to me is the one whom Allah favored and I favored, Usamah bin Zaid.' They said: 'Then who?' He said: 'Then 'Ali bin Abi Talib.' Al-'Abbas said: 'O Messenger of Allah, you have made your uncle the last of them.' He said: 'Indeed, 'Ali has preceded you in emigration.'
اسامہ بن زید رضی الله عنہما کا بیان ہے کہ
میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علی اور عباس رضی الله عنہما دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا: اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں؟“ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے تو معلوم ہے“، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ”فاطمہ بنت محمد“، تو وہ دونوں بولے: ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں“، وہ دونوں بولے: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: ”پھر علی بن ابی طالب ہیں“، عباس بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کر دیا، آپ نے فرمایا: ”علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- شعبہ: عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
Narrated Jarir bin 'Abdullah: The Messenger of Allah (ﷺ) never screened me since I accepted Islam, nor did he look at me except that he laughed.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے ) منع نہیں فرمایا ۱؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Jarir: The Messenger of Allah (ﷺ) never screened me since I accepted Islam, nor did he look at me except that he smiled.
جریر بن عبداللہ بجلی رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے ( اندر جانے سے ) منع نہیں کیا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Abu Jahdam: from Ibn 'Abbas that he saw Jibra'il (AS), two times and the Prophet (ﷺ) supplicated for him two times.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
انہوں نے جبرائیل علیہ السلام کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ۲- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے، ۳- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) supplicated for me that Allah should give me Al-Hukm (knowledge, understanding, judging justly, or understanding of the Qur'an) two times.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو بار مجھے حکمت سے نوازے جانے کی دعا فرمائی ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
Narrated Ibn 'Abbas: The Messenger of Allah (ﷺ) pulled me close to him and said: 'O Allah, teach him Al-Hikmah (wisdom).
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا: «اللهم علمه الحكمة» ”اے اللہ! اسے حکمت سکھا دے“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔