Chapter on Virtues
كتاب المناقب عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
Chapter 50
Narrated 'Ali bin Abi Talib: I was with the Messenger of Allah (ﷺ), and Abu Bakr and 'Umar came up (in discussion), so the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'These two are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise. From the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. But do not inform them O 'Ali.'
علی بن ابی طالب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر رضی الله عنہما نمودار ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ۳- علی رضی الله عنہ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ۴- اس باب میں انس اور ابن عباس رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Ali: that the Prophet (ﷺ) said: Abu Bakr and 'Umar are the masters of the elder people among the inhabitants of Paradise, from the first ones and the last ones, not including the Prophets and the Messengers. Do not inform them O 'Ali.
علی رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا“۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: that Abu Bakr said: Am I not the most deserving of it among the people, am I not the first to become Muslim, am I not the person of such and such, am I not the person of such and such.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں؟ ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Narrated Anas: that the Messenger of Allah (ﷺ) used to go out to his Companions from The Muhajirin and the Ansar while they were sitting, and Abu Bakr and 'Umar would be with them. No one would lift their sight towards him except Abu Bakr and 'Umar, because they used to look at him, and he would look at them, and they would smile at him, and he would smile at them.
انس رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر رضی الله عنہما بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) departed one day and entered the Masjid, along with Abu Bakr and 'Umar. One was on his right and the other was on his left, and he was holding their hands, and he said: This is how we will be resurrected on the Day of Judgement.'
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر رضی الله عنہما میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: ”اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ۳- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر رضی الله عنہما سے آئی ہے۔
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) said to Abu Bakr: You are my companion at the Hawd, and my companion in the cave.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر رضی الله عنہ سے فرمایا: ”تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔
Narrated 'Abdullah bin Hantab: that the Prophet (ﷺ) saw Abu Bakr and 'Umar and said: These two are the hearing and the seeing.
عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر و عمر رضی الله عنہما کو دیکھا تو فرمایا: ”یہ دونوں ( اسلام کے ) کان اور آنکھ ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں پایا، ۲- اس باب میں عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated 'Aishah: that the Prophet (ﷺ) said: Order Abu Bakr to lead the people in Salat. 'Aishah said: O Messenger of Allah! If Abu Bakr takes your place, the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat. She said: So he said: 'Order Abu Bakr to lead the people in Salat.' 'Aishah said: So I said to Hafsah: 'Tell him that if Abu Bakr takes your place, then the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat.' Upon this Hafsah did it. So the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed you are but like the companions of Yusuf! Order Abu Bakr to lead the people in Salat. So Hafsah said to 'Aishah: I never received any good from you.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم نے فرمایا: ”ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس پر عائشہ رضی الله عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ”ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated 'Aishah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: It is not befitting that a group, among whom is Abu Bakr, be led by other than him.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر رضی الله عنہ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Narrated Abu Hurairah: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Whoever spends a pair of things in the path of Allah, he will be called in Paradise: 'O Worshiper of Allah, this is good.' And whoever is among the people of Salat, he will be called from the gate of Salat, and whoever was among from the people of Jihad, he will be called from the gate of Jihad. And whoever was among the people of charity, then he will be called from the gate of charity, and whoever was from the people of fasting, then he will be called from the gate of Ar-Rayyan. So Abu Bakr said: May my father and mother be ransomed for you! The one who is called from these gates will be free of all worries. But will anyone be called from all of those gates? He (ﷺ) said: Yes, and I hope that you are among them.
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ وہ خیر ہے ( جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے ) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہو گا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہو گا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہو گا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہو گا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے ( اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہو جانا کافی ہے ) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہو گا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Zaid bin Aslam: I heard 'Umar bin Al-Khattab saying: 'We were ordered by the Messenger of Allah (ﷺ) to give in charity, and that coincided with a time in which I had some wealth, so I said, Today I will beat Abu Bakr, if ever I beat him. ' So I came with half of my wealth, and the Messenger of Allah (ﷺ) said: What did you leave for your family? I said: The like of it. And Abu Bakr came with everything he had, so he said: O Abu Bakr! What did you leave for your family? He said: I left Allah and His Messenger for them. I said: '[By Allah] I will never be able to beat him to something.'
عمر بن خطاب رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے ( دل میں ) کہا: اگر میں ابوبکر رضی الله عنہ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ میں نے عرض کیا: اتنا ہی ( ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں ) اور ابوبکر رضی الله عنہ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ”ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟“ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے ( اپنے جی میں ) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Narrated Jubair bin Mut'im: that a woman came to the Messenger of Allah (ﷺ) to speak to him about something. Then he ordered her with something, and she said: What should I do O Messenger of Allah if I do not find you? He said: If you do not find me, then go to Abu Bakr.
جبیر بن مطعم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی: مجھے بتائیے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں؟ ( تو کس کے پاس جاؤں ) آپ نے فرمایا: ”اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا“ ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
Narrated Abu Salamah bin 'Abdur-Rahman: from Abu Hurairah, who said that the Messenger of Allah (ﷺ) said: While a man was riding a cow it said: I was not created for this, I was only created to till.' So the Messenger of Allah (ﷺ) said: I believe in that, myself, and Abu Bakr, 'Umar. Abu Salamah said: And the two of them were not among the people that day [and Allah knows best].
ابوہریرہ رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں ( یہ کہہ کر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے“، واللہ اعلم ۱؎۔
Narrated 'Aishah: that the Prophet (ﷺ) ordered the closing of all the gates, except for the gate of Abu Bakr. And there is a nation on this topic from Abu Sa'eed.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد کی طرف کھلنے والے ) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر رضی الله عنہ کے دروازہ کے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ۲- اس باب میں ابو سعید خدری رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔
Narrated 'Aishah: that Abu Bakr entered upon the Messenger of Allah (ﷺ), so he said: You are Allah's 'Atiq from the Fire. From that day on he was called 'Atiq.
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا سے روایت ہے کہ
ابوبکر رضی الله عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: ”تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسى بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔
Narrated Abu Sa'eed Al-Khudri: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: There is no Prophet except that he has two ministers among the inhabitants of the heavens, and two ministers among the inhabitants of the earth. As for my two ministers from the inhabitants of the heavens, then they are Jibril and Mika'il, and as for my two ministers from the inhabitants of the earth, then they are Abu Bakr and 'Umar.
ابو سعید خدری رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل علیہما السلام ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر رضی الله عنہما ہیں“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے، ۲- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے، سفیان ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا ( اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے ) ۳- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ۱؎۔
Narrated Ibn 'Umar: that the Messenger of Allah (ﷺ) said: O Allah! Honor Islam through the most dear of these two men to you: Through Abu Jahl or through 'Umar bin Al-Khattab. He said: And the most dear of them to Him was 'Umar.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما“، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے“۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ابن عمر رضی الله عنہما کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Narrated Nafi': from Ibn 'Umar, that the Messenger of Allah (ﷺ) said: Indeed Allah has put the truth upon the tongue and in the heard of 'Umar. He said: And Ibn 'Umar said: 'No affair occurred among the people, except that they said something about it, and 'Umar said something about it' or he said - Ibn Al-Khattab - Kharijah (one of the narrators) had a doubt about it - except that the Qur'an was revealed in line with what 'Umar had said.
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے“۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ( راوی خارجہ کو شک ہو گیا ہے ) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر رضی الله عنہ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ۲- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ۳- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ رضی الله عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Narrated Ibn 'Abbas: that the Prophet (ﷺ) said: O Allah honor Islam through Abu Jahl bin Hisham or through 'Umar bin Al-Khattab. He said: So it happened that 'Umar came the next day to the Messenger of Allah (ﷺ) and accepted Islam.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما“، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور اسلام لے آئے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ۲- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ ( لیکن حدیث رقم: ( ۳۶۹۰ ) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے ) ۔
Narrated Jabir bin 'Abdullah: that 'Umar said to Abu Bakr: O best of people after the Messenger of Allah (ﷺ)! So Abu Bakr said: If you say that, then I have heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: 'The sun has not risen upon a man better than 'Umar.'
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ
عمر نے ابوبکر رضی الله عنہما سے کہا: اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر انسان! اس پر ابوبکر رضی الله عنہ نے کہا: سنو! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ۲- اس باب میں ابو الدرداء رضی الله عنہ سے بھی روایت ہے۔