It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Whoever is appointed judge between the people, he has been slaughtered without a knife.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معاذ بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے عبداللہ بن جعفر کی سند سے، وہ عثمان بن محمد سے اور مقبری کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص لوگوں کا قاضی ( فیصلہ کرنے والا ) بنایا گیا تو وہ بغیر چھری کے ذبح کر دیا گیا ۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever asks to be appointed a judge, will be entrusted to himself, but “Whoever asks to be appointed a judge, will be entrusted to himself, but whoever is forced to accept position, an angel will come down to him and guide him.' ”
ہم سے علی بن محمد اور محمد بن اسماعیل نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے بیان کیا: ہم سے بنی اسرائیل نے عبد الاعلی کی سند سے اور بلال بن ابی موسیٰ سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے عہدہ قضاء کا مطالبہ کیا، وہ اپنے نفس کے حوالہ کر دیا جاتا ہے، اور جو اس کے لیے مجبور کیا جائے تو اس کے لیے ایک فرشتہ اترتا ہے جو اسے درست بات کی رہنمائی کرتا ہے ۔
It was narrated that 'Ali رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to Yemen. I said: 'O Messenger of Allah, you are sending me to judge between them while I am a young man, and I do not know how to judge.' He struck me on the chest with his hand and said: 'O Allah, guide his heart and make his tongue steadfast.' And after that I never doubted in passing judgment between two people.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے یعلیٰ اور ابو معاویہ نے، العمش کی سند سے، عمرو بن مرہ کی سند سے، انہوں نے ابو البختری کی سند سے بیان کیا, علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن بھیجا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے ( قاضی بنا کر ) یمن بھیج رہے ہیں، اور میں ( جوان ) ہوں، لوگوں کے درمیان مجھے فیصلے کرنے ہوں گے، اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ فیصلہ کیا ہوتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر ہاتھ مارا پھر فرمایا: اے اللہ! اس کے دل کو ہدایت فرما، اور اس کی زبان کو ثابت رکھ ، پھر اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی کوئی تردد اور شک نہیں ہوا ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There is no judge who judges between the people but on the Day of Resurrection an angel will come and take hold of the back of his head towards the sky and if it said: “Throw him, “he will throw into an abyss the depth of forty autumns (years).' ”
ہم سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یحییٰ بن سعید القطان نے بیان کیا، کہا: ہم سے مجلد نے عامر سے، مسروق سے اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو حاکم بھی لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوئے ہو گا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا، اگر حکم ہو گا کہ اس کو پھینک دو، تو وہ اسے ایک ایسی کھائی میں پھینک دے گا جس میں وہ چالیس برس تک گرتا چلا جائے گا ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Abu Awfa رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Allah is with the judge so long as he is not unjust, but if he rules unjustly, He entrusts him to himself.”
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن بلال نے عمران القطان کی سند سے، وہ حسین کی سند سے، یعنی ابن عمران نے ابواسحاق الشیبانی کی سند سے, عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی مدد قاضی ( فیصلہ کرنے والے ) کے ساتھ اس وقت تک ہوتی ہے جب تک وہ ظلم نہ کرے، جب وہ ظلم کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے نفس کے حوالے کر دیتا ہے ۔
It was narrated from 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The curse of Allah is upon the one who offers a bribe and the one who takes it.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابن ابی ذہب نے اپنے ماموں حارث بن عبدالرحمٰن سے ابو سلمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر اللہ کی لعنت ہے ۔
It was narrated from 'Amr bin 'As رضی اللہ عنہ that:
He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “When the judge passes a judgement and does his best and gets it right, he will have two rewards, and if he passes a judgement and does his best and gets it wrong, he will have one reward.” (Sahih) Yazid (one of narrators) said : “So I Narrated it to Abu Bakr bin 'Amr bin Hazm. He said: 'This is how it was narrated to me by Abu Salamah from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ .'”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا: ہم سے عبدالعزیز بن محمد الدروردی نے بیان کیا، کہا: ہم سے یزید بن عبداللہ بن الحاد نے بیان کیا، انہوں نے محمد بن ابراہیم تیمی سے، بسر بن سعید کی سند سے، انہوں نے عمار ابوالقیس آزاد کی سند سے, عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جب حاکم فیصلہ اجتہاد سے کرے اور صحیح بات تک پہنچ جائے تو اس کو دہرا اجر ملے گا، اور جب فیصلہ کی کوشش کرے اور اجتہاد میں غلطی کرے، تو اس کو ایک اجر ملے گا ۔ یزید بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس حدیث کو ابوبکر بن عمرو بن حزم سے بیان کیا تو انہوں نے کہا: اسی طرح اس کو مجھ سے ابوسلمہ نے بیان کیا ہے، اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔
Abu Hashim said:
“Were it not for the Hadith of Ibn Buraidah from his father, from the Prophet (ﷺ) who said: 'Judges are of three types, two of whom will be in Hell and one will be in Paradise. The man who knows the truth and rules in accordance with it, will be in Paradise. The man who passes judgment on the people in ignorance will be in Hell' - we would have said that if the judge does his best he will be in Paradise.”
ہم سے اسماعیل بن توبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے خلف بن خلیفہ نے بیان کیا، کہا: ابوہاشم کہتے ہیں کہ
اگر ابن بریدہ کی یہ روایت نہ ہوتی جو انہوں نے اپنے والد ( بریدہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ہے، اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی تین طرح کے ہیں: ان میں سے دو جہنمی ہیں اور ایک جنتی، ایک وہ جس نے حق کو معلوم کیا اور اسی کے مطابق فیصلہ دیا، تو وہ جنت میں جائے گا، دوسرا وہ جس نے لوگوں کے درمیان بغیر جانے بوجھے فیصلہ دیا، تو وہ جہنم میں جائے گا، تیسرا وہ جس نے فیصلہ کرنے میں ظلم کیا ( یعنی جان کر حق کے خلاف فیصلہ دیا ) تو وہ بھی جہنمی ہو گا ( اگر یہ حدیث نہ ہوتی ) تو ہم کہتے کہ جب قاضی فیصلہ کرنے میں اجتہاد کرے تو وہ جنتی ہے۔
It was narrated from 'Abdul-Malik bin 'Umair that:
He heard 'Abdur-Rahman bin Abu Bakrah رضی اللہ عنہ (narrate) from his father that the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Let the judge (Qadi) not pass a judgment when he is angry.”
ہم سے ہشام بن عمار، محمد بن عبداللہ بن یزید اور احمد بن ثابت الجہدری نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے عبدالملک بن عمیر کی سند سے بیان کیا کہ
انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے سنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قاضی غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ کرے ۔ ہشام کی روایت کے الفاظ ہیں: حاکم کے لیے مناسب نہیں کہ وہ غصے کی حالت میں دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرے ۔
It was narrated from Umm Salamah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “You refer your disputes to me and I am only human. Perhaps some of you may be more eloquent in presenting your case than others, so I rule in your favor because of what I hear from you. If I pass a judgement in favor of one of you that detracts from his brother's rights, then he should not take it, because it is a piece of fire that is given to him which he will bring forth on the Day Resurrection.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے, ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے پاس جھگڑے اور اختلافات لاتے ہو اور میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں سے کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، اور میں اسی کے مطابق فیصلہ کرتا ہوں جو تم سے سنتا ہوں، لہٰذا اگر میں کسی کو اس کے بھائی کا کوئی حق دلا دوں تو وہ اس کو نہ لے، اس لیے کہ میں اس کے لیے آگ کا ایک ٹکڑا دلاتا ہوں جس کو وہ قیامت کے دن لے کر آئے گا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “I am only human, and some of you may be more eloquent in presenting your case than others. If I pass a judgement in his favor that detracts from his brother's rights, I am giving him a piece of fire.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن بشر نے بیان کیا، ہم سے محمد بن عمرو نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تو ایک انسان ہی ہوں، ہو سکتا ہے تم میں کوئی اپنی دلیل بیان کرنے میں دوسرے سے زیادہ چالاک ہو، تو جس کے لیے میں اس کے بھائی کے حق میں سے کوئی ٹکڑا کاٹوں تو گویا میں اس کے لیے جہنم کا ایک ٹکڑا کاٹ رہا ہوں ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Whoever claims something that does not belong to him; he is not one of us, so let him take his place in Hell.”
ہم سے عبد الوارث بن عبد الصمد بن عبد الوارث بن سعید ابو عبیدہ نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، مجھ سے اپنے والد سے، مجھ سے حسین بن ذکوان نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن بریدہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے یحییٰ بن یمر نے بیان کیا کہ ان سے ابوالاسود الدلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا, ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو کسی ایسی چیز پر دعویٰ کرے جو اس کی نہیں ہے، تو وہ ہم میں سے نہیں، اور اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لینا چاہیئے ۔
It was narrated from Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever takes the wrongdoer's side in a dispute or supports wrongdoing, he will remain subject to the wrath of Allah until he gives it up.”
ہم سے محمد بن ثعلبہ بن سواع نے بیان کیا، مجھ سے میرے چچا محمد بن سواع نے بیان کیا، حسین المعلم کی سند سے، مطر الوراق کی سند سے، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی جھگڑے میں کسی کی ناحق مدد کرے گا، تو اللہ تعالیٰ اس سے ناراض رہے گا یہاں تک کہ وہ ( اس سے ) باز آ جائے ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If the people were given what they claimed, some would have claimed the lives and property of men. But the one the claim is made against is obliged to swear an oath.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ المصری نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: ہمیں ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ کی سند سے خبر دی، انہوں نے کہا:عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر لوگوں کو ان کے دعویٰ کے مطابق دے دیا جائے، تو لوگ دوسروں کی جان اور مال کا ( ناحق ) دعویٰ کر بیٹھیں گے، لیکن مدعا علیہ کو قسم کھانا چاہیئے ۔
It was narrated that Ash'ath bin Qais رضی اللہ عنہ Said:
“There was a dispute between myself and a Jewish man concerning some land, and he denied me my rights so I brought him to the Prophet (ﷺ). The Messenger of Allah (ﷺ) said to me: 'Do you have proof' I said: 'No.’ He said to the Jews, 'Swear an oath.' I said: 'If he swears an oath he will take my property.' Then Allah, Glorious is He, revealed: 'Verily, those who purchase a small gain at the cost of Allah's covenant and their oaths, they shall have no portion in the Hereafter (Paradise). Neither will Allah neither speak to them nor look at them on the Day of Resurrection nor will He purifies them, and they shall have a painful torment.'”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع اور ابو معاویہ نے بیان کیا: ہم سے اعمش نے، شقیق کی سند سے بیان کیا, اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے اور ایک یہودی کے درمیان ایک زمین مشترک تھی، اس نے میرے حصہ کا انکار کر دیا، تو میں اس کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہارے پاس گواہ ہیں ؟ میں نے عرض کیا: نہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودی سے کہا: تم قسم کھاؤ ، میں نے عرض کیا: تب تو وہ قسم کھا لے گا اور میرا مال ہڑپ کر جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «إن الذين يشترون بعهد الله وأيمانهم ثمنا قليلا» ( سورة آل عمران: 77 ) جو لوگ اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کے بدلے تھوڑا مال لیتے ہیں ان کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بات تک نہیں کرے گا، نہ قیامت کے دن ان پر رحمت کی نگاہ ڈالے گا، نہ گناہوں سے ان کو پاک کرے گا، اور ان کو نہایت درد ناک عذاب ہوتا رہے گا ۔
It was narrated from 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever swears a false oath in order to seize the wealth of a Muslim unlawfully, he will meet Allah when He is angry with him.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع اور ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اعمش نے شقیق کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کے لیے قسم کھائے اور وہ اس قسم میں جھوٹا ہو، اور اس کے ذریعہ وہ کسی مسلمان کا مال ہڑپ کر لے، تو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہو گا ۔
Abu Umamah Al-Harithi رضی اللہ عنہ narrated that:
He heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “No man seizes the wealth of a Muslim unlawfully by means of his (false) oath, but Allah will deny Paradise to him and will doom him to Hell.” A man among the people said: “O Messenger of Allah, even if it is something small?” He said: “Even if it is a twig of an Arak tree.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے ولید بن کثیر سے، انہوں نے محمد بن کعب سے کہ انہوں نے اپنے بھائی عبداللہ بن کعب رضی اللہ عنہ سے سنا, ابوامامہ حارثی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص بھی قسم کے ذریعہ کسی مسلمان آدمی کا حق مارے گا، تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کو حرام کر دے گا، اور جہنم کو اس کے لیے واجب کر دے گا، لوگوں میں سے ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! اگرچہ وہ معمولی چیز ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں، خواہ وہ پیلو کی ایک مسواک ہی ہو.
It was narrated from Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'Whoever swears a false oath near this pulpit of mine, let him take his place in Hell, even if it is for a green twig.”
ہم سے عمرو بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان بن معاویہ نے بیان کیا، اور ہم سے احمد بن ثابت الجہدری نے بیان کیا، کہا ہم سے صفوان بن عیسیٰ نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے ہاشم بن ہاشم نے، عبداللہ بن نسطاس کی سند سے بیان کیا, جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص میرے اس منبر کے پاس جھوٹی قسم کھائے، وہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنا لے، خواہ وہ ایک ہری مسواک ہی کے لیے ہو ۔
Muhammad bin Yahya, who is Abu Yunus Al-Qawi , said:
I heard Abu Salamah say: I heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say: “The Messenger of Allah (ﷺ) said: 'No man or woman swears a false oath beside this pulpit, even if it is for a fresh twig, but he will be doomed to Hell.”
ہم سے محمد بن یحییٰ اور زید بن اخزم نے بیان کیا، کہا ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن یزید بن فروخ نے بیان کیا، کہا: محمد بن یحییٰ جو ابو یونس القوی ہیں، نے کہا
میں نے ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا:ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس منبر کے پاس کوئی غلام یا لونڈی جھوٹی قسم نہیں کھاتا، اگرچہ وہ قسم ایک تازہ مسواک ہی کے لیے ہو، مگر جہنم کی آگ اس پر واجب ہو جاتی ہے ۔
It was narrated from Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) called one of the Jewish scholars and said: “ Swear by the One Who sent the Torah (Tawrah) down to Musa.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے اور عبداللہ بن مرہ کی سند سے, براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی عالم کو بلایا، اور فرمایا: میں تم کو اس ذات کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری ۔