It was narrated from Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said to two Jews: “Swear by Allah Who sent the Tawrah down to Musa, peace be upon him.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہیں مجلد کی سند سے امیر نے خبر دی، جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یہودیوں سے فرمایا: میں تم دونوں کو اس اللہ کی قسم دلاتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات اتاری ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
He said that two men laid claim to an animal, and neither of them had any proof, so the Prophet (ﷺ) commanded them to cast lots as to which of them should swear an oath.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا، وہ خلاس کے واسطہ سے، وہ ابو رافع کے واسطہ سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
انہوں نے ذکر کیا کہ ایک جانور پر دو آدمیوں نے دعویٰ کیا، اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم پر قرعہ اندازی کا حکم دیا ۔
It was narrated from Abu Musa رضی اللہ عنہ that :
Two men referred a dispute to the Messenger of Allah (ﷺ) concerning an animal, and neither of them had proof, so he ruled that it should be divided in half.
ہم سے اسحاق بن منصور، محمد بن معمر اور زہیر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا: ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے، سعید بن ابی بردہ سے اپنے والد سے, ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو آدمی جھگڑا لے کر آئے، اور ان دونوں کے درمیان ایک جانور تھا ( جس پر دونوں اپنا اپنا دعویٰ کر رہے تھے ) اور ان دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی گواہ نہ تھا، تو آپ نے اسے دونوں کو آدھا آدھا بانٹ دیا۔
It was narrated from Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a man loses something, or it is stolen from him, and he finds it in the possession of a man who bought it, then he has more right to it, and the one who bought it should ask for his money back from the one who sold it to him.' ”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجاج نے بیان کیا، وہ سعید بن عبید بن زید بن عقبہ سے اپنے والد کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدمی کا کوئی سامان کھو جائے یا چوری ہو جائے، پھر وہ کسی آدمی کو اسے بیچتے ہوئے پائے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور جس نے خریدا وہ اس کے بیچنے والے سے قیمت واپس لے لے ۔
It was narrated from Ibn Shihab that:
Ibn Muhayyisah Al-Ansari رضی اللہ عنہ told him that a she-camel belonging to Bara رضی اللہ عنہ used to wander free. It entered a garden belonging to some people and caused some damage. The Messenger of Allah (ﷺ) was told of that, and he ruled that property was to be protected by its owners of livestock were responsible for any damage caused by their animals during the night.
ہم سے محمد بن روم المصری نے لیث بن سعد کی سند سے اور ابن شہاب کی سند سے بیان کیا
ابن محیصہ الانصاری رضی اللہ عنہ نے انہیں خبر دی کہ براء رضی اللہ عنہ کی ایک اونٹنی کو لوگوں کا کھیت چرنے کی عادی تھی، وہ لوگوں کے باغ میں چلی گئی، اور اسے نقصان پہنچا دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ کیا کہ دن کو اپنے مال کی حفاظت کی ذمہ داری مال والوں کی ہے، اور رات کو جانور جو نقصان پہنچا جائیں اسے جانوروں کے مالکوں کو دینا ہو گا ۔
It was narrated that a man from Banu Suwa'ah said:
'I said to 'Aishah رضی اللہ عنہا : Tell me about the character of the Messenger of Allah (ﷺ).' She said: 'Have you not read the Qur'an: “And verily, you (O Mohammed {SAW}) are on an exalted (standard of) character?” She said: 'The Messenger of Allah (ﷺ) was with his Companions, and I made some food for him, and Hafsah made some food for him, but Hafash got there before me. So I said to the slave girl: “Overturn her bowl.” She went and caught up with her, and she was about to put (the bowl) in front of the Messenger of Allah (ﷺ). She overturned it and the bowl broke, scattering the food. The Messenger of Allah (ﷺ) gathered the pieces and the food on the leather mat and they ate. Then he sent for my bowl and gave it to Hafsah, and said: “Take this pot in place of your pot, and eat what is in it.” And I did not see any expression of anger on the face of the Messenger of Allah (ﷺ).' ”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے شریک بن عبداللہ نے بیان کیا، قیس بن وہب سے, قبیلہ بنی سوءۃ کے ایک شخص کا بیان ہے کہ
میں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا حال بیان کیجئیے، تو وہ بولیں: کیا تم قرآن ( کی آیت ) : «وإنك لعلى خلق عظيم» یقیناً آپ بڑے اخلاق والے ہیں نہیں پڑھتے؟ ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ تشریف فرما تھے، میں نے آپ کے لیے کھانا تیار کیا، اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کے لیے کھانا تیار کیا، حفصہ رضی اللہ عنہا مجھ سے پہلے کھانا لے آئیں، میں نے اپنی لونڈی سے کہا: جاؤ ان کے کھانے کا پیالہ الٹ دو، وہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، اور جب انہوں نے اپنا پیالہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھنا چاہا، تو اس نے اسے الٹ دیا جس سے پیالہ ٹوٹ گیا، اور کھانا بکھر گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گرے ہوئے کھانے کو اور پیالہ میں جو بچا تھا سب کو دستر خوان پر اکٹھا کیا، اور سب نے اسے کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا پیالہ اٹھایا، اور اسے حفصہ کو دے دیا، اور فرمایا: اپنے برتن کے بدلے میں برتن لے لو ، اور جو کھانا اس میں ہے وہ کھا لو، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک پر اس کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) was with one of the Mothers of the Believers (his wives) and another (wife) sent a bowl containing food. She (the first wife) struck the hand of the Messenger of (ﷺ) and the bowl fell and broke. The Messenger of Allah (ﷺ) took the two pieces and put them back together, then he started gathering up the food and putting it in (the bowl). He said: 'Your mother was jealous. Eat.' So they ate, and she (the wife who broke the bowl) brought the bowl that was in her house and gave the intact bowl to the Messenger (ﷺ), who left the broken bowl in the house of the one who broke it.”
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن میں سے ایک کے پاس تھے، آپ کی کسی دوسری بیوی نے ایک کھانے کا پیالہ بھیجا، پہلی بیوی نے ( غصہ سے کھانا لانے والے ) کے ہاتھ پر مارا، اور پیالہ گر کر ٹوٹ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ٹکڑوں کو اٹھا کر ایک کو دوسرے سے جوڑا اور اس میں کھانا اکٹھا کرنے لگے اور فرماتے جاتے تھے: تمہاری ماں کو غیرت آ گئی ہے ( کہ میرے گھر اس نے کھانا کیوں بھیجا ) ، تم کھانا کھاؤ، لوگوں نے کھایا، پھر جن کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اپنا پیالہ لائیں، تو آپ نے یہ صحیح سالم پیالہ قاصد کو عنایت کر دیا، اور ٹوٹا ہوا پیالہ اس بیوی کے گھر میں رکھ چھوڑا جس نے اسے توڑا تھا۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
“The Prophet (ﷺ) said: 'When anyone of you asks his neighbor for permission to fix a piece of wood to his wall, he should not refuse him. 'When Abu Hurairah رضی اللہ عنہ told them this, they lowered their heads, and when he saw them he said: 'Why do I see you turning away from it? By Allah, I will force you to accept it.' ”
ہم سے ہشام بن عمار اور محمد بن الصباح نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے اور عبدالرحمٰن العرج کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کسی سے اس کا پڑوسی اس کی دیوار پر شہ تیر ( دھرن یا کڑی ) رکھنے کی اجازت مانگے، تو اس کو منع نہ کرے ، جب ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث لوگوں سے بیان کی تو لوگوں نے اپنے سروں کو جھکا لیا، یہ دیکھ کر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: کیوں، کیا ہوا؟ میں دیکھتا ہوں کہ تم اس حدیث سے منہ پھیر رہے ہو، اللہ کی قسم! میں تو اس کو تمہارے شانوں کے درمیان مار کر رہوں گا ۔
Ikrimah bin Salamh narrated that:
There were two brothers from among the sons of Mughirah. One of them swore an oath to set a slave free if the other one fixed a piece of wood to his wall. Mujammi' bin Yazid رضی اللہ عنہ and many men from among the Ansar came and said: “We bear witness that the Messenger of Allah (ﷺ) said: 'None of you should refuse to let his neighbor fix a piece of wood to his wall.' ” He said: 'O my brother, judgment has been passed in your favor against me, but I have sworn an oath.' So go ahead and fix your wood to my wall.”
ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو عاصم نے بیان کیا، ان سے ابن جریج نے، وہ عمرو بن دینار سے، انہیں ہشام بن یحییٰ نے خبر دی کہ عکرمہ بن سلمہ کہتے ہیں
بلمغیرہ ( بنی مغیرہ ) کے دو بھائیوں میں سے ایک نے یہ شرط لگائی کہ اگر میری دیوار میں تم دھرن لگاؤ تو میرا غلام آزاد ہے، پھر مجمع بن یزید رضی اللہ عنہ اور بہت سے انصار آئے اور کہنے لگے: ہم اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے ، یہ سن کر وہ کہنے لگا: میرے بھائی! شریعت کا فیصلہ تمہارے موافق نکلا لیکن چونکہ میں قسم کھا چکا ہوں اس لیے تم میری دیوار کے ساتھ ایک ستون کھڑا کر کے اس پر لکڑی رکھ لو ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “No one of you should refuse to let his neighbor fix a piece of wood to his wall.”
ہم سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابن لہیعہ نے بیان کیا، ان سے ابو الاسود نے عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی ( دھرن ) گاڑنے سے منع نہ کرے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Make the path seven forearms length wide.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے مثنیٰ بن سعید الضعبی نے، قتادہ کی سند سے، بشیر بن کعب کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: راستہ کو سات ہاتھ رکھو ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “When you dispute concerning a path, make it seven forearms length wide.' ”
ہم سے محمد بن یحییٰ اور محمد بن عمر بن حیاج نے بیان کیا، کہا ہم سے قبیصہ نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے سماک سے اور عکرمہ سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم راستے کے سلسلہ میں اختلاف کرو تو اسے سات ہاتھ کا کر دو ۔
It was narrated from 'Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) ruled: “There should be neither harming nor reciprocating harm.”
ہم سے عبد ربیح بن خالد النمیری ابو المغلس نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا، ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن یحییٰ بن الولید نے بیان کیا, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There should be neither harming nor reciprocating harm.”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم کو معمر نے جابر جعفی سے اور عکرمہ کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کسی کو نقصان پہنچانا جائز نہیں نہ ابتداء ً نہ مقابلۃ ً ۔
It was narrated from Abu Sirmah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever harms others, Allah (SWT) will harm him; and whoever causes hardship to other Allah will cause hardship to him.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یحییٰ بن سعید کی سند سے، وہ محمد بن یحییٰ بن حبان کی سند سے، وہ لولوہ کی سند سے, ابوصرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کو نقصان پہنچائے گا اللہ تعالیٰ اسے نقصان پہنچائے گا، اور جو کسی پر سختی کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سختی کرے گا ۔
It was narrated from Nimran bin Jariyah رضی اللہ عنہ , from his father, that:
Some people referred a dispute to the Prophet (ﷺ) about a hut, so that he could judge between them. He sent Hudhaifah رضی اللہ عنہ to judge between them, and he ruled in favor of those who had the rope (with which the hut was blinded together). When he went back to the Prophet (ﷺ) he told him (what he had done) and he said: “You did the right thing, and you did well.”
ہم سے محمد بن الصباح اور عمار بن خالد الواسطی نے بیان کیا: ہم سے ابوبکر بن عیاش نے دحتم بن قران سے، نمران بن جاریہ رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد سے
کچھ لوگ ایک جھونپڑی کے متعلق جو ان کے بیچ میں تھی جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حذیفہ رضی اللہ عنہ کو ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے لیے بھیجا، انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ جھونپڑی ان کی ہے جن سے رسی قریب ہے، پھر جب وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے، اور انہیں بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نے ٹھیک اور اچھا فیصلہ کیا ۔
It was narrated from ('Uqbah bin 'Amir or) Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “If a product is sold to two men, it is for the one who was first.”
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے قتادہ کی سند سے اور حسن کی سند سے, سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب مال دو آدمیوں کے ہاتھ بیچا جائے تو وہ مال اس شخص کا ہو گا جس نے پہلے خریدا ۔ ابوالولید کہتے ہیں کہ اس حدیث سے خلاصی کی شرط باطل ہوتی ہے۔
It was narrated from 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہما that :
A man had six slaves, and he did not have any other wealth apart from them, and he set them free when he died. The Messenger of Allah (ﷺ) divided them into groups, set two free and left four as slaves.
ہم سے نصر بن علی الجہضمی اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے خالد الحذی نے ابوقلابہ سے، ابو المحلب کی سند سے,عمران بن حصین رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
ایک شخص کے چھ غلام تھے، ان غلاموں کے علاوہ اس کے پاس کوئی اور مال نہ تھا، مرتے وقت اس نے ان سب کو آزاد کر دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے حصے کئے ( دو دو کے تین حصے ) ( اور قرعہ اندازی کر کے ) دو کو ( جن کے نام قرعہ نکلا ) آزاد کر دیا، اور چار کو بدستور غلام رکھا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that :
Two men disputed concerning a transaction, and neither of them had proof. The Messenger of Allah commanded them to draw lots as to which of them should swear an oath, whether they liked it or not.
ہم سے جمیل بن الحسن العتکی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الاعلٰی نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید نے قتادہ کی سند سے، خلاس کے واسطہ سے، ابو رافع کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک بیع کے متعلق دو آدمیوں نے جھگڑا کیا، اور ان میں کسی کے پاس گواہ نہیں تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو قسم کھانے کے لیے قرعہ ڈالنے کا حکم دیا خواہ انہیں یہ فیصلہ پسند ہو یا ناپسند۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that :
When the Prophet (ﷺ) traveled, he would cast lots among his wives (to decide which one would accompany him).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن یمان نے بیان کیا، معمر کی سند سے، زہری نے عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر پر جاتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے ۱؎۔