It was narrated from ‘Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet (ﷺ) said: “War is deceit.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن بکر نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق سے، انہوں نے یزید بن رومان سے اور عروہ کی سند سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۔
It was narrated from Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) said: “War is deceit.”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یونس بن بکیر نے مطر بن میمون کی سند سے عکرمہ کی سند سے بیان کیا,عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنگ دھوکہ ہے ۔
It was narrated that Qais bin ‘Ubaid said:
“I heard Abu Dharr رضی اللہ عنہ swearing that these verses were revealed concerning those six people on the Day of Badr: ‘These two opponents (believers and disbelievers) dispute with each other about their Lord.”[22:19] to the words “Verily, Allah does what he wills.’[22:14] (that is) Hamzah bin ‘Abdul-Muttalib, ‘Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہما , ‘Ubaidah bin Al-Harith, ‘Utbah bin Rabi’ah, Shaibah bin Rabi’ah and Al-Walid bin ‘Utbah. They argued with one another on the Day of Badr.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، مجھ سے ابو فروا یزید بن سنان نے بیان کیا، مجھ سے عروہ بن رویم لقمی نے بیان کیا، ان سے ابو ثعلبہ خشنی نے بیان کیا کہ وہ ان سے ملے اور ان سے بات کی، اور کہا:وہ یحییٰ بن الاسود ہیں، ابو مجلّز کی سند سے, قیس بن عباد کہتے ہیں کہ
میں نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو قسم کھا کر کہتے سنا کہ آیت کریمہ: «هذان خصمان اختصموا في ربهم» ( سورۃ الحج: ۱۹ ) یہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن ہیں اپنے رب کے بارے میں انہوں نے جھگڑا کیا سے «إن الله يفعل ما يريد» ( سورۃ الحج: ۲۴ ) تک، ان چھ لوگوں کے بارے میں اتری جو بدر کے دن باہم لڑے، حمزہ بن عبدالمطلب، علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما مسلمانوں کی طرف سے، اور عبیدہ بن حارث، عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے۔
It was narrated from Iyas bin Salamah bin Akwa’ رضی اللہ عنہ that his father said:
“I fought a man and killed him, and the Messenger of Allah (ﷺ) awarded me his spoils.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو العمیس اور عکرمہ بن عمار نے بیان کیا, ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی سند سے، اپنے والد کی سند سے، جنہوں نے کہا
میں نے ایک شخص کو مقابلہ کے لیے للکارا، اور اسے قتل کر ڈالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے چھینا ہوا سامان بطور انعام مجھے ہی دے دیا۔
It was narrated from Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatadah رضی اللہ عنہ (from Abu Qatadah) that:
The Messenger of Allah (ﷺ) awarded him the spoils of a man whom he killed on the Day of Hunain.
ہم سے محمد بن صباح نے بیان کیا، کہا: ہمیں سفیان بن عیینہ نے یحییٰ بن سعید کی سند سے، وہ عمر بن کثیر بن افلح کے واسطہ سے، ابو قتادہ کے آزاد کردہ غلام ابو محمد نے، ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ حنین کے موقعہ پر ان کے ہاتھ سے قتل کیے گئے شخص کا سامان انہیں کو دے دیا۔
It was narrated from the son of Samurah bin Jundub رضی اللہ عنہ that his father said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) said: ‘Whoever kills, the spoils are his.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ہم سے ابو مالک اشجعی نے بیان کیا، ان سے نعیم بن ابی ہند نے، ابن سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے روایت کی، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص ( کسی کافر ) کو قتل کرے، تو اس سے چھینا ہوا مال اسی کو ملے گا ۔
It was narrated that Ibn ‘Abbas رضی اللہ عنہما said:
“Sa’b bin Jaththamah رضی اللہ عنہ said: ‘The Prophet (ﷺ) was asked about the polytheists who are attacked at night, and their women and children are killed.’ He said: ‘They are from among them.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری کی سند سے، عبید اللہ بن عبد اللہ کی سند سے، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کیا، انہوں نے کہا
ہم سےصعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ مشرکین کی آبادی پر شبخون مارتے ( رات میں حملہ کرتے ) وقت عورتیں اور بچے بھی قتل ہو جائیں گے، تو اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ بھی انہیں میں سے ہیں ۔
It was narrated from Iyas bin Salamah bin Awka’ رضی اللہ عنہ , that his father said:
“We attacked Hawazin, with Abu Bakr رضی اللہ عنہ, during the time of the Prophet (ﷺ), and we arrived at an oasis belonging to Bani Fazarah during the last part of the night. We attacked at dawn, raiding the people of the oasis, and killed them, nine or seven households.”
ہم سے محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں وکیع نے عکرمہ بن عمار کی سند سے، وہ ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کے والد سے، انہوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ قبیلہ ہوازن سے جہاد کیا، چنانچہ ہم بنی فزارہ کے چشمہ کے پاس آئے اور ہم نے وہیں پر پڑاؤ ڈالا، جب صبح کا وقت ہوا، تو ہم نے ان پر حملہ کر دیا، پھر ہم چشمہ والوں کے پاس آئے ان پر بھی شبخون مارا، اور ان کے نو یا سات گھروں کے لوگوں کو قتل کیا۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) saw a woman who had been killed on the road, and he forbade killing women and children.
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا، ہم کو مالک بن انس نے نافع کی سند سے خبر دی, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے راستے میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کر دیا گیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرما دیا ۔
It was narrated that Hanzalah Al-Katib رضی اللہ عنہ said:
“We went out to fight alongside the Messenger of Allah (ﷺ), and we passed by a slain woman whom the people had gathered around. They parted (to let the Prophet (ﷺ) through) and he said: ‘This (woman) was not one of those who were fighting.’ Then he said to a man: ‘Go to Khalid bin Walid and tell him that the Messenger of Allah (ﷺ) commands you: “Do not kill any women or any (farm) laborer.’”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے، سفیان سے، ابو الزناد سے، مرقع بن عبداللہ بن صیفی کی سند سے,حنظلہ الکاتب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ ( جنگ ) میں شریک تھے، ہمارا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا، وہاں لوگ اکٹھے ہو گئے تھے، ( آپ کو دیکھ کر ) لوگوں نے آپ کے لیے جگہ خالی کر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تو لڑنے والوں میں نہ تھی ( پھر اسے کیوں مار ڈالا گیا ) اس کے بعد ایک شخص سے کہا: خالد بن ولید کے پاس جاؤ، اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں حکم دے رہے ہیں کہ عورتوں، بچوں، مزدوروں اور خادموں کو ہرگز قتل نہ کرنا ۔
It was narrated that Usamah bin Said رضی اللہ عنہما said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sent me to a village called Ubna, and said: “Go to Ubna in the morning and burn it.’”
ہم سے محمد بن اسماعیل بن سمرہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے، صالح بن ابی اخضر سے، زہری نے عروہ بن زبیر سے, اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ابنی نامی بستی کی جانب بھیجا اور فرمایا: ابنیٰ میں صبح کے وقت جاؤ، اور اسے آگ لگا دو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) burned the palm trees of Banu Nadir, and cut down Buwairah (the name of their garden). Then Allah revealed the words: “What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy), or you left them standing...” [59:5]
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے نافع کی سند سے خبر دی،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کا باغ جلا دیا، اور کاٹ ڈالا، اس باغ کا نام بویرہ تھا، چنانچہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان نازل ہوا: «ما قطعتم من لينة أو تركتموها قائمة» یعنی تم نے کھجوروں کے جو درخت کاٹ ڈالے یا جنہیں تم نے ان کی جڑوں پہ باقی رہنے دیا یہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم سے تھا، اور اس لیے بھی کہ فاسقوں کو اللہ تعالیٰ رسوا کرے ( سورۃ الحشر: ۵ ) ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) burned the palm trees of Banu Nadir and cut them down. Concerning that, their poet said: “It is easy for the elite of Banu Luai – To burn Al-Buwairah in a Frightening manner.”
ہم سے عبداللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عقبہ بن خالد نے عبیداللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنو نضیر کے کھجور کے درخت جلا دئیے اور انہیں کاٹ دیا، اسی سے متعلق ایک شاعر کہتا ہے: «فهان على سراة بني لؤي حريق بالبويرة مستطير» بنی لؤی کے سرداروں کے لیے آسان ہوا، بویرہ میں آگ لگانا جو ہر طرف پھیلتی جا رہی تھی۔
It was narrated from Ayas bin Salamah bin Akwa’ رضی اللہ عنہ that his father said:
“We attacked, Hawazin at the time of the Messenger of Allah (ﷺ) with Aby Bakr. He awarded me a slave girl from Banu Fazarah, among the most beautiful of the Arabs, who was wearing an animal skin of hers. I did not divest her of her clothing until I reached Al-Madinah. Then the Prophet (ﷺ) met me in the marketplace, and said: ‘By Allah, give her to me.’ So I gave her to him, and he sent her as a ransom for some of the Muslim prisoners who were in Makkah.”
ہم سے علی بن محمد اور محمد بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے عکرمہ بن عمار کی سند سے، ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے، اپنے والد کی سند سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہم نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قبیلہ ہوازن سے جنگ کی، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی فزارہ سے حاصل کی ہوئی ایک لونڈی مجھے بطور نفل ( انعام ) دی، وہ عرب کے خوبصورت ترین لوگوں میں سے تھی، اور پوستین پہنے ہوئی تھی، میں نے اس کا کپڑا بھی نہیں کھولا تھا کہ مدینہ آیا، بازار میں میری ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی شان، تمہارا باپ بھی کیا خوب آدمی تھا! یہ لونڈی مجھے دے دو، میں نے وہ آپ کو ہبہ کر دی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لونڈی ان مسلمانوں کے عوض فدیہ میں دے دی جو مکہ میں تھے ۔
It was narrated that Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما said that:
A horse of his went out and the enemy captured it. Then the Muslims defeated them and it was returned to him. (That was) during the time of the Messenger of Allah (ﷺ). He said: “And a slave of his absconded and joined up with the Romans, then the Muslims defeated them, and Khalid bin Walid رضی اللہ عنہ returned him to me, after the death of the Messenger of Allah (ﷺ).”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
ان کا ایک گھوڑا چلا گیا، اور اسے دشمن نے پکڑ لیا، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں وہ انہیں لوٹایا گیا، ان کا ایک غلام بھی بھاگ گیا، اور روم ( کے نصاریٰ ) سے جا ملا، پھر مسلمان ان پر غالب آ گئے، تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ان کو واپس کر دیا ۔
It was narrated that Zaid bin Khalid Al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
“A man from (the tribe of) Ashja’ died in Khaibar, and the Prophet (ﷺ) said: ‘Offer the funeral prayer for your companion.’ The people found that strange.* When he saw that, he said: ‘Your companion stole from the spoils of war (when fighting) in the cause of Allah.’” Zaid رضی اللہ عنہ said: "So they searched belonging and found two pearls from the pearls of the jews that were not even worth two Dirham."
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی، وہ یحییٰ بن سعید کی سند سے، وہ محمد بن یحییٰ بن حبان کی سند سے، وہ ابو عمرہ کی سند سے, زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
قبیلہ اشبحع کے ایک شخص کا خیبر میں انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کی نماز ( جنازہ ) پڑھ لو، لوگوں کو اس پر تعجب ہوا اور ان کے چہروں کے رنگ اڑ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ صورت حال دیکھی تو فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کے راستے میں ( حاصل شدہ مال غنیمت میں ) خیانت کی ہے ۔ زید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پھر لوگوں نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو کیا دیکھتے ہیں کہ یہود کے مونگوں میں سے کچھ مونگے جو کہ دو درہم کے برابر تھے اس کے سامان میں موجود تھے۔
It was narrated that ‘Abdullah bin ‘Amr رضی اللہ عنہما said:
“There was a man called Kirkah in charge of the goods of the Prophet (ﷺ), who died. The Prophet (ﷺ) said: ‘He is in Hell.’ They went and looked, and found him wearing a garment or a cloak that he had stolen from the spoils of war.”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے عمرو بن دینار سے اور سالم بن ابی الجعد کی سند سے, عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کی نگہبانی پر کرکرہ نامی ایک شخص تھا، اس کا انتقال ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جہنم میں ہے ، لوگ اس کا سامان دیکھنے لگے تو اس میں ایک کملی یا عباء ملی جو اس نے مال غنیمت میں سے چرا لی تھی۔
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) led us in prayer on the Day of Hunain, beside a camel that was part of the spoils of war. Then he took something from the camel, and extracted from it a hair, which he placed between two of his fingers. Then he said: ‘O people, this is part of your spoils of war. Hand over a needle and thread and anything greater than that or less than that. For stealing from the spoils of war will be a source of shame for those who do it, and ignominy and Fire, on the Day of Resurrection.’”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے ابو سنان سے عیسیٰ بن سنان نے، وہ یعلی بن شداد سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جنگ حنین کے دن مال غنیمت کے ایک اونٹ کے پہلو میں نماز پڑھائی، نماز کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ میں سے کوئی چیز لی جیسے اونٹ کا بال اور اسے اپنی انگلیوں سے پکڑا پھر فرمایا: لوگو! یہ بھی تمہارے مال غنیمت کا حصہ ہے، لہٰذا دھاگہ سوئی نیز اس سے چھوٹی اور بڑی چیز بھی جمع کر دو کیونکہ مال غنیمت میں خیانت ( چوری ) کرنے والے کے لیے قیامت کے دن باعث عار ( ندامت ) و شنار ( عیب ) اور باعث نار ( عذاب ) ہو گی ۔
It was narrated from Habib bin Maslamah رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) awarded one third (of the spoils of war) after the one fifth (had been taken).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا: ہم سے وکیع نے سفیان کی سند سے، یزید بن یزید بن جبیر کی سند سے، مکحول کی سند سے، زید بن جریث سے, حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت میں سے خمس ( پانچواں حصہ جو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے ) نکال لینے کے بعد مال غنیمت کا ایک تہائی بطور نفل ہبہ اور عطیہ دیتے ۔
It was narrated from ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) awarded one quarter of the spoils to those who attacked the enemy at the beginning and one third to those who attacked at the end.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے سفیان کی سند سے، وہ عبدالرحمٰن بن حارث الزرقی نے، سلیمان بن موسیٰ کی سند سے، مکول کی سند سے، ابو سلام الاعراج کی سند سے، ابو امامہ کی سند سے, عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شروع لڑائی میں ملنے والے مال غنیمت کا چوتھا حصہ بطور ہبہ دیتے، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیتے ۔