‘Amr bin Shu’aib narrated from his father that his grandfather said:
“There is no awarding of the spoils after the Messenger of Allah (ﷺ), rather whatever the army acquires (of spoils of war) will be distributed among strong and weak alike.” Raja said: "I heard Sulaiman bin Musa say to him: Makhul narrated to me from Habib bin Maslamah رضی اللہ عنہ that the prophet ﷺ awarded the spoils of war, one quarter at the beginning one third after his return." 'Amr said: "I narrated to you from my grandfather, and you narrated to me from Makhul?"
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الحسین نے بیان کیا، کہا ہم کو راجہ بن ابی سلمہ نے خبر دی، کہا کہ ہم کو عمرو بن شعیب نے اپنے والد سے اور اپنے دادا سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مال غنیمت سے ہبہ اور عطیہ کا سلسلہ ختم ہو گیا، اب طاقتور مسلمان کمزور مسلمانوں کو مال لوٹائیں گے ۔ حبیب بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شروع لڑائی میں ملنے والے کو مال غنیمت کا چوتھائی حصہ بطور ہبہ اور عطیہ دیا، اور لوٹتے وقت تہائی حصہ دیا ۔ تو عمرو بن شعیب نے سلیمان بن موسیٰ سے کہا کہ میں تمہیں اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا ( عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما ) سے روایت کر رہا ہوں اور تم مجھ سے مکحول کے حوالے سے بیان کر رہے ہو؟
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Prophet (ﷺ) distributed the war spoils on the Day of Khaibar, giving three shares to the horseman, two shares for the horse, and one share for the man.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے عبید اللہ بن عمر سے اور نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ خیبر میں گھوڑ سوار کے لیے تین حصے متعین فرمائے، دو حصے گھوڑے کے، اور ایک حصہ آدمی کا۔
It was narrated that Muhammad bin Zaid:
‘Umair رضی اللہ عنہما, the freed slave of Aabi Lahm – Waki’ said; - “He used to not eat meat” – said: “I fought alongside my master on the Day of Khaibar, and I was a slave. I was not given anything from the spoils of war but I was given from the least of the utensils (goods) a sword, which I dragged when I put it around my waist.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن سعد نے بیان کیا, محمد بن زید کہتے ہیں کہ
میں نے آبی اللحم ( وکیع کہتے ہیں کہ وہ گوشت نہیں کھاتے تھے ) کے غلام عمیر رضی اللہ عنہما سے سنا: وہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے مالک کے ہمراہ خیبر کے دن جہاد کیا، چونکہ میں غلام تھا لہٰذا مجھے مال غنیمت میں حصہ نہیں ملا، صرف ردی چیزوں میں سے ایک تلوار ملی، جب اسے میں لٹکا کر چلتا تو ( وہ اتنی لمبی تھی ) کہ وہ گھسٹتی رہتی تھی ۔
It was narrated that Umm ‘Atiyyah Al-Ansariyyah رضی اللہ عنہا said:
“I fought alongside the Messenger of Allah (ﷺ) in seven campaigns, looking after their goods, making food for them, tending the wounded and looking after the sick.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحیم بن سلیمان نے بیان کیا، انہوں نے ہشام سے اور حفصہ بنت سیرین سے, ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سات غزوات میں شرکت کی تھی، مردوں کی غیر موجودگی میں ان کے ڈیروں میں رہتی، ان کے لیے کھانا بناتی، زخمیوں کا علاج کرتی اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھی۔
It was narrated that Safwan bin ‘Assil رضی اللہ عنہ said:
“The Messenger of Allah (ﷺ) sent us in a military detachment and said: ‘Go in the Name of Allah, and in the cause of Allah. Fight those who disbelieve in Allah. Do not mutilate, do not be treacherous, do not steal from the spoils of war, and do not kill children.’”
ہم سے حسن بن علی الخلال نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عطیہ بن حارث نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو الغرف عبید اللہ بن خلیفہ نے بیان کیا, صفوان بن عسال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوجی دستے میں بھیجا تو فرمایا: اللہ کے نام پر، اللہ کے راستے میں جاؤ، جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑو، لیکن مثلہ نہ کرنا، ( ناک کان مت کاٹنا ) عہد شکنی نہ کرنا، مال غنیمت میں چوری نہ کرنا، اور بچے کو قتل نہ کرنا ۔
It was narrated from Ibn Buraidah رضی اللہ عنہ that his father said:
“Whenever he appointed a man to lead a military detachment, the Messenger of Allah (ﷺ) would advise him especially to fear Allah and treat the Muslims with him well. He (ﷺ) said: ‘Fight in the Name of Allah and in the cause of Allah. Fight those how disbelieve in Allah. Fight but do not be treacherous, do not steal from the spoils of war, do not mutilate and do not kill children. When you meet your enemy from among the polytheists, call them to one of three things. Whichever of them they respond to, accept it from them and refrain from fighting them. Invite them to accept Islam, and if they respond then accept it from them and refrain from fighting them. Then invite them to leave their land and move to the land of the polytheists. Tell them that if they do that, then they will have the same rights and duties as the polytheists. If they refuse, then tell them that they will be like the Muslim Bedouins (who live in the desert), subject to the same rulings of Allah as the believers. But they will have no share of Fay’* or war spoils, unless they fight alongside the Muslims. If they refuse to enter Islam, then ask them to pay the Poll-tax. If they do that, then accept it from them and refrain from fighting them. But if they refuse, then seek the help of Allah against them and fight them. If you lay siege to them and they want you to give them the protection of Allah and your Prophet, do not give them the protection of Allah and your Prophet, rather give them your protection and the protection of your father and your Companions, for if you violate your protection and the protection of your fathers, that is easier than violating the protection of Allah and the protection of His Messenger. If you lay siege to them and they want you to let them come out with a promise of the judgement of Allah and His Messenger (ﷺ), do not offer them a promise of the judgement of Allah and His Messenger (ﷺ), rather offer them your judgement, because you do not know if you will actually pass (the same as) Allah’s judgement regarding them or not.’”
ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن یوسف فریابی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا، وہ علقمہ بن مرثد سے، وہ ابن بریدہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے، وہ اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی فوجی دستے پر کسی شخص کو امیر متعین فرماتے تو اسے ذاتی طور پر اللہ سے ڈرتے رہنے اور اپنے ساتھی مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی وصیت کرتے، اور فرماتے: اللہ کے راستے میں اللہ کا نام لے کر لڑنا، جو اللہ کے ساتھ کفر کرے اس سے لڑنا، اور بدعہدی نہ کرنا، ( مال غنیمت میں ) خیانت نہ کرنا، مثلہ نہ کرنا، اور کسی بچے کو قتل نہ کرنا، جب مشرکوں میں سے اپنے دشمن سے مڈبھیڑ ہو تو انہیں تین باتوں میں سے ایک کی دعوت دینا، ان میں سے جس بات پر وہ راضی ہو جائیں اسے قبول کرنا، اور ان سے جنگ سے رک جانا ( سب سے پہلے ) انہیں اسلام کی دعوت دینا، اگر وہ قبول کر لیں تو ان کا اسلام قبول کرنا، اور ان کے قتل سے باز رہنا، پھر انہیں گھربار چھوڑ کر مہاجرین کے ساتھ رہنے کی دعوت دینا، اور انہیں بتانا کہ اگر وہ ایسا گریں گے تو انہیں مہاجرین جیسے حقوق حاصل ہوں گے، اور جرم و سزا کا جو قانون مہاجرین کے لیے ہے وہی ان کے لیے بھی ہو گا، اگر وہ ہجرت کرنے سے انکار کریں تو انہیں بتانا کہ ان کا حکم اعرابی ( دیہاتی ) مسلمانوں جیسا ہو گا، اللہ تعالیٰ کے جو احکام مسلمانوں پر جاری ہوتے ہیں ان پر بھی جاری ہوں گے، لیکن مال غنیمت میں اور اس مال میں جو کافروں سے جنگ کے بغیر ہاتھ آ جائے، ان کا کوئی حصہ نہ ہو گا، مگر اس صورت میں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد کریں، اگر وہ اسلام میں داخل ہونے سے انکار کریں، تو ان سے جزیہ دینے کا مطالبہ کرنا، اگر وہ جزیہ دیں تو ان سے قبول کرنا، اور ان سے اپنا ہاتھ روک لینا، اور اگر وہ انکار کریں تو ( کامیابی کے لیے ) اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنا، اور ان سے جنگ کرنا، اگر تم کسی قلعہ کا محاصرہ کر لو اور قلعہ والے تم سے اللہ اور نبی کا عہد کرانا چاہیں تو اللہ اور نبی کا عہد مت دینا، بلکہ اپنا، اپنے باپ کا، اور اپنے ساتھیوں کا ذمہ دینا، کیونکہ تم اپنا اور اپنے باپ کا ذمہ اللہ اور رسول کے ذمہ کے مقابلے میں آسانی سے توڑ سکتے ہو، اگر تم نے کسی قلعے کا محاصرہ کر لیا، اور وہ اللہ کے حکم پر اترنا چاہیں تو انہیں اللہ کے حکم پہ مت اتارنا، بلکہ اپنے حکم پہ اتارنا کیونکہ تمہیں کیا معلوم کہ ان کے بارے میں تم اللہ کے حکم پر چل رہے ہو یا نہیں ۔ علقمہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث مقاتل بن حیان سے بیان کی، انہوں نے کہا: مجھ سے مسلم بن ہیضم نے بیان کی، مسلم نے نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مثل روایت کی۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever obeys me, obeys Allah, And whoever disobeys me, disobeys Allah. Whoever obeys the ruler, obeys me, and whoever disobeys the ruler, disobeys me.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن محمد نے بیان کیا, ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے اعمش نے ابو صالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے میری بات مانی اس نے اللہ کی بات مانی، اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی، ( اسی طرح ) جس نے امام کی بات مانی اس نے میری بات مانی، اور جس نے امام کی نافرمانی کی اس نے میری نا فرمانی کی۔
It was narrated from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “Listen and obey, even if the one appointed over you is an Ethiopian slave with a head like a raisin.”
ہم سے محمد بن بشار اور ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مجھ سے ابو التیاح نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سنو اور اطاعت کرو، گرچہ تم پر حبشی غلام ہی امیر ( حاکم ) کیوں نہ بنا دیا جائے، جس کا سر منقی ( کشمش ) کی طرح ہو ۔
It was narrated from Umm Husain رضی اللہ عنہا that:
She heard the Messenger of Allah (ﷺ) say: “Even if the one appointed over you is a mutilated Ethiopian slave whose nose and ears have been cut off, listen to him and obey, so long as he leads you according to the Book of Allah.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع بن الجراح نے شعبہ کی سند سے اور یحییٰ بن حصین سے, ام الحصین رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: اگر تم پر کوئی نک کٹا حبشی غلام امیر ( حاکم ) بنا دیا جائے تو بھی اس کی بات سنو اور مانو، جب تک کہ وہ اللہ کی کتاب ( قرآن ) کے مطابق تمہاری سربراہی کرتا رہے ۔
It was narrated from Abu Dharr رضی اللہ عنہ that:
He reached Rabadhah when the Iqamah for the prayer had already been given, and there was a slave leading them in prayer. It was said: “This is Abu Dharr رضی اللہ عنہ,” so he (the slave) started to move back. But Abu Dharr رضی اللہ عنہ said: “My close friend (i.e., the Prophet (ﷺ)) told me to listen and obey, even if (the leader was) an Ethiopian slave with amputated limbs.”
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، وہ ابوعمران الجونی نے عبداللہ بن صامت کی سند سے, ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
وہ مقام ربذہ میں پہنچے تو نماز کے لیے تکبیر کہی جا چکی تھی، تو کیا دیکھتے ہیں کہ ایک غلام لوگوں کی امامت کر رہا ہے، اس سے کہا گیا: یہ ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، یہ سن کر وہ پیچھے ہٹنے لگا تو ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے خلیل ( جگری دوست ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ وصیت کی کہ امام گرچہ اعضاء کٹا حبشی غلام ہی کیوں نہ ہو میں اس کی بات سنوں اور مانوں ۔
It was narrated from Abu Sa’eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) sent ‘Alqamah bin Mujazziz رضی اللہ عنہ at the head of a detachment, and I was among them. When he reached the battle site, or when he was partway there, a group of the army asked permission to take a different route, and he gave them permission, and appointed ‘Abdullah bin Hudhafah bin Qais As-Sahmi رضی اللہ عنہ as their leader, and I was one of those who fought alongside with him. When we were partway there, the people lit a fire to warm themselves and cook some food. ‘Abdullah رضی اللہ عنہ, who was a man who liked to joke, said: “Do I not have the right that you should listen to me and obey?” They said: “Yes.” He said: “And if I command you to do something, will you not do it?” They said: “Of course.” He said: “Then I command you to jump into this fire.” Some people got up and got ready to jump, and when he saw that they were about to jump, he said: “Restrain yourselves, for I was joking with you.” When we came to Al-Madinah, they mentioned that to the Prophet (ﷺ), and the Messenger of Allah (ﷺ) said: “Whoever among you commands you to do something that involves disobedience to Allah, do not obey him.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن عمرو نے، عمر بن الحکم بن ثوبان رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علقمہ بن مجزر رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر کا سردار بنا کر بھیجا، میں بھی اس لشکر میں تھا، جب وہ لشکر کے آخری پڑاؤ پر پہنچے یا درمیان راستے ہی میں تھے تو لشکر کی ایک جماعت نے ( آگے جانے کی ) اجازت مانگی، علقمہ رضی اللہ عنہ نے اجازت دے دی، اور عبداللہ بن حذافہ بن قیس سہمی رضی اللہ عنہ کو ان پر امیر مقرر کر دیا، میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے ان کے ساتھ غزوہ کیا، ابھی وہ راستہ ہی میں تھے کہ ان لوگوں نے تاپنے یا کچھ پکانے کے لیے آگ جلائی، تو عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ ( جن کے مزاج میں خوش طبعی پائی جاتی تھی ) نے کہا: کیا تم پر میری بات سننا اور اطاعت کرنا واجب نہیں؟ لوگوں نے جواب دیا: کیوں نہیں؟ کہا: میں کسی کام کے کرنے کا تمہیں حکم دوں تو تم حکم بجا لاؤ گے؟ لوگوں نے جواب دیا: ہاں، کہا: میں لازمی حکم دیتا ہوں کہ تم اس آگ میں چھلانگ لگا دو، کچھ لوگ کھڑے ہو گئے اور کودنے کے لیے کمر کس لی، عبداللہ بن حذافہ رضی اللہ عنہ کو جب یہ گمان ہوا کہ واقعی یہ تو کود ہی جائیں گے، تو بولے: ٹھہرو، میں تم سے یونہی مذاق کر رہا تھا ۱؎۔ جب ہم لوگ واپس مدینہ آئے، لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سارا ماجرا سنایا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حکام میں جو تمہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا حکم دے تو اس کی بات نہ ما نو ۔
It was narrated from Ibn ‘Umar رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The Muslim is obliged to obey (the ruler) whether he likes it or not, unless he is commanded to commit an act of disobedience. If he is commanded to commit a sin then he should neither listen nor obey.”
ہم سے محمد بن رمح نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو لیث بن سعد نے عبید اللہ بن عمر سے، نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے خبر دی اور ہم سے محمد بن صباح اور سوید بن سعید نے بیان کیا کہ :ہم سے عبداللہ بن رجاع مکی نے عبید اللہ سے اور نافع کی سند سے بیان کیا:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمان آدمی پر ( امیر اور حاکم کی ) بات ماننا لازم ہے، چاہے وہ اسے پسند ہو یا ناپسند، ہاں اگر اللہ اور رسول کی نافرمانی کا حکم دیا جائے تو اس کو سننا ماننا نہیں ہے ۔
It was narrated from ‘Abdullah bin Mas’ud رضی اللہ عنہ that:
The Prophet (ﷺ) said: “Among those in charge of you, after I am gone, will be men who extinguish the Sunnah and follow innovation. They will delay the prayer from its proper time.” I said: “O Messenger of Allah, if I live to see them, what should I do?” He said: “You ask me, O Ibn ‘Abd, what you should do? There is no obedience to one who disobeys Allah.”
ہم سے سوید بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سلیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے اسماعیل بن عیاش نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے بیان کیا، وہ قاسم بن عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن مسعود سے اپنے والد مصنف سے,اپنے دادا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ زمانہ قریب ہے کہ میرے بعد تمہارے معاملات کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آئے گی جو سنت کو مٹائیں گے، بدعت پر عمل پیرا ہوں گے، اور نماز کی وقت پر ادائیگی میں تاخیر کریں گے ، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اگر میں ان کا زمانہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کروں؟ جو شخص اللہ کی نافرمانی کرے اس کی بات نہیں مانی جائے گی ۔
It was narrated that ‘Ubadah bin Samit رضی اللہ عنہ said:
“We gave our pledge to the Messenger of Allah (ﷺ), pledging to listen and obey in times of hardship and times of ease, willingly or reluctantly, and when others are shown preference over us, and that we would not dispute the order of those in charge, that we would speak the truth wherever we are, and that we would not fear the blame of anyone when acting or speaking for the sake of Allah.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، وہ محمد بن اسحاق، یحییٰ بن سعید، عبید اللہ بن عمر اور ابن عجلان نے عبادہ بن ولید بن عبادہ بن الصامت سے اپنے والد کی سند سے,عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ہم نے تنگی اور فراخی، خوشی و ناخوشی، اور اپنے اوپر دوسروں کو ترجیح دئیے جانے کی حالت میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، نیز اس بات پر بیعت کی کہ حکمرانوں سے نہ جھگڑیں، اور جہاں بھی ہوں حق بات کہیں، اور اللہ کے سلسلے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں ۔
‘Awf bin Malik Al-Ashja’i رضی اللہ عنہ said:
“We were with the Prophet (ﷺ) – seven or eight or nine of us – and he said: ‘Will you not give pledge to the Messenger of Allah?’ So we stretched forth our hands and someone said: ‘O Messenger of Allah, we have already given you our pledge. On what basis shall we give this pledge?’ He said: ‘(On the basis that) you will worship Allah and not associate anything with Him, you will establish the five daily prayers, you will listen and obey’ – then he spoke some words under his breath – ‘and you will not ask the people for anything.’ He said: ‘I saw some of that group. If he dropped his whip he would not ask anyone to pick it up for him.’”
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، کہا ہم سے سعید بن عبد العزیز التنوخی نے بیان کیا، ان سے ربیعہ بن یزید نے، وہ ابو ادریس خولانی کی سند سے، انہوں نے ابو مسلم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ثقہ محبوب نے بیان کیا، جیسا کہ اس نے مجھ سے کہا،عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہم سات یا آٹھ یا نو آدمی تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگ اللہ کے رسول سے بیعت نہیں کرو گے ؟ ہم نے بیعت کے لیے اپنے ہاتھ پھیلا دئیے ( بیعت کرنے کے بعد ) ایک شخص نے کہا: اللہ کے رسول! ہم آپ سے بیعت تو کر چکے لیکن یہ کس بات پر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس بات پر کہ اللہ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، پانچ وقت کی نماز کا اہتمام کرو، حکم سنو اور مانو ، پھر ایک بات چپکے سے فرمائی: لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہ کرو ، راوی کا بیان ہے کہ ( اس بات کا ان لوگوں پر اتنا اثر ہوا کہ ) میں نے ان میں سے بعض کو دیکھا کہ اس کا کوڑا بھی گر جاتا تو کسی سے یہ نہ کہتا کہ کوڑا اٹھا کر مجھے دو ۔
It was narrated that ‘Attab, the freed slave of Hurmuz, said:
“I heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ say: ‘We gave our pledge to the Messenger of Allah (ﷺ) on the basis that we would listen and obey. He (ﷺ) said: “As much as you can.”
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے بیان کیا، کہا: ہم سے شعبہ نے، ہرمز کے آزاد کردہ غلام عتاب سے بیان کیا، انہوں نے کہا
میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی، تو آپ نے فرمایا: جہاں تک تم سے ہو سکے ۔
It was narrated that Jabir رضی اللہ عنہ said:
“A slave came and gave his pledge to the Prophet (ﷺ), pledging to emigrate, and the Prophet (ﷺ) did not realize that he was a slave. Then his master came looking for him, and the Prophet (ﷺ) said: ‘Sell him to me,’ and he brought him in exchange for two black slaves. Then after that he did not accept the pledge from anyone until he had asked whether he was a slave.”
ہم سے محمد بن رومح نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں لیث بن سعد نے ابو الزبیر سے خبر دی، جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
ایک غلام آیا، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت پر بیعت کر لی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے غلام ہونے کا معلوم ہی نہ ہوا، چنانچہ اس کا مالک جب اسے لینے کے مقصد سے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ غلام مجھے بیچ دو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو کالے غلاموں کے عوض خرید لیا، پھر اس کے بعد کسی سے بھی یہ معلوم کئے بغیر بیعت نہیں کرتے کہ وہ غلام تو نہیں ہے؟
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “There are three to whom Allah will not speak on the Day of Resurrection, not will He look at them nor purify them, and theirs will be a painful torment: A man who has surplus water in the desert and withholds it from a wayfarer; a man who sells a man his product after ‘Asr, swearing by Allah that he bought it for such and such a price, and the other believes him, but that is not the case; and a man who gives his pledge to a ruler, only doing to for the purpose of worldly gain, and if he is given something he fulfills it, but if he is not given anything he does not fulfill it.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن محمد اور احمد بن سنان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تین آدمیوں سے نہ بات کرے گا، نہ ان کی طرف دیکھے گا، نہ ہی انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک وہ آدمی جس کے پاس چٹیل میدان میں فالتو پانی ہو اور مسافر کو پانی لینے سے منع کرے، دوسرا وہ شخص جس نے عصر کے بعد کسی کے ہاتھ سامان بیچا اور اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ اس نے یہ چیز اتنے اتنے میں لی ہے، پھر خریدار نے اس کی بات کا یقین کر لیا، حالانکہ اس نے غلط بیانی سے کام لیا تھا، تیسرا وہ آدمی جس نے کسی امام کے ہاتھ پر بیعت کی، اور مقصد محض دنیاوی فائدہ تھا، چنانچہ اگر اس نے اسے کچھ دیا تو بیعت کو پورا کیا، اور اگر نہیں دیا تو پورا نہیں کیا ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “The affairs of the Children of Israel were administered by their Prophets. Every time a Prophet left, he was followed by another, but there will be no Prophet among you after I am gone.” They said: “What will happen, O Messenger of Allah?” He said: “There will be caliphs and there will be many of them.” They said: “What should we do?” He said: “Fulfill your pledge to the first one, then the one who comes after him, and do the duties required of you, for Allah will question them about the duties upon them.”
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن ادریس نے بیان کیا، انہوں نے حسن بن فرات سے، اپنے والد سے اور ابو حازم کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل کی حکومت ان کے انبیاء چلایا کرتے تھے، ایک نبی چلا جاتا تو دوسرا اس کی جگہ لے لیتا، لیکن میرے بعد تم میں کوئی نبی ہونے والا نہیں ، لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پھر کیا ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خلیفہ ہوں گے اور بہت ہوں گے ، لوگوں نے کہا: پھر کیسے کریں گے؟ فرمایا: پہلے کی بیعت پوری کرو، پھر اس کے بعد والے کی، اور اپنا حق ادا کرو، اللہ تعالیٰ ان سے ان کے حق کے بارے میں سوال کرے گا ۔
It was narrated from ‘Abdullah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah (ﷺ) said: “A banner will be set up for every traitor on the Day of Resurrection, and it will be said: ‘This is the treachery of so-and- so.’”
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو الولید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے شعبہ کی سند سے، اعمش کی سند سے، ابو وائل کی سند سے, عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ہر دغا باز کے لیے ایک جھنڈا نصب کیا جائے گا، پھر کہا جائے گا کہ یہ فلاں شخص کی دغا بازی ہے ۔