The Book on the Mosques and the Congregations
كتاب المساجد والجماعات
Chapter 6
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
A man among the Ansar sent word to the Messenger of Allah saying: Come and designate a place in my house where I can perform prayer,' that was after he had become blind. So he went and did that.
ہم سے یحییٰ بن الفضل المقری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن سلمہ نے عاصم کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
قبیلہ انصار کے ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خبر بھیجی کہ آپ تشریف لائیں اور میرے گھر میں مسجد کے لیے حد بندی کر دیں تاکہ میں اس میں نماز پڑھا کروں، اور یہ اس لیے کہ وہ صحابی نابینا ہو گئے تھے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، اور ان کی مراد پوری کر دی۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
One of my paternal uncles made some food for the Prophet and said to the Prophet: 'I would like you to eat and perform prayer in my house.' So he went to him, and in his house there was one of these Fahl. He ordered that a corner be swept and water sprinkled in it, then he performed prayer and we prayed with him.' (Sahih)Abu 'Abdullah bin Majah said: A Fahl is a mat that has become black (through use).
ہم سے یحییٰ بن حکیم نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، ان سے ابن عون نے، ان سے انس بن سیرین نے، وہ عبد الحمید بن المنذر بن جارود رضی اللہ عنہ سے, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میرے ایک چچا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، اور انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آپ آج میرے گھر کھانا کھائیں، اور اس میں نماز بھی پڑھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے گھر میں ایک پرانی کالی چٹائی پڑی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھر کے ایک گوشہ کو صاف کرنے کا حکم دیا، وہ صاف کیا گیا، اور اس پر پانی چھڑک دیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی، ہم نے بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں کہ «فحل» اس چٹائی کو کہتے ہیں جو پرانی ہونے کی وجہ سے کالی ہو گئی ہو.
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever removes something harmful from the mosque, Allah will build for him a house in Paradise.'
ہم سے ہشام بن عمار نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سلیمان بن ابی الجون نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن صالح مدنی نے بیان کیا، کہا ہم سے مسلم بن ابی مریم نے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص مسجد سے کوڑا کرکٹ نکال دے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah commanded that mosque to be built in (Ad-Dur) villages, and that they be purified and perfumed.
ہم سے عبدالرحمٰن بن بشر بن الحکم اور احمد بن الازہر نے بیان کیا، ہم سے مالک بن سعیر نے بیان کیا, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں، اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Messenger of Allah commanded that places of prayer be established in villages, and that they be purified and perfumed
ہم سے رزق اللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن اسحاق الحضرمی نے بیان کیا، کہا ہم سے زایدہ بن قدامہ نے بیان کیا، وہ ہشام بن عروہ سے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا: محلوں میں مسجدیں بنائی جائیں اور انہیں پاک و صاف رکھا جائے، اور ان میں خوشبو لگائی جائے ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The first person who put lamps in the mosque was Tamim Ad-Dari رضی اللہ عنہ .
ہم سے احمد بن سنان نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے خالد بن ایاس نے، ان سے یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب نے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
سب سے پہلے تمیم داری رضی اللہ عنہ نے مسجدوں میں چراغ جلایا تھا۔
It is narrated from Abu Hurairah and Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہما that:
The Messenger of Allah saw some sputum on the wall of the mosque. He picked up a stone and scraped it off, then he said, If anyone of you needs to spit, he should not spit in front of him or to his right; let him spit to his right; let him spit to his left or under his left foot.
ہم سے محمد بن عثمان عثمانی ابو مروان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے، وہ حمید بن عبدالرحمٰن بن عوف کی سند سے, ابوہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا: جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ that:
The Prophet saw some sputum in the prayer direction of the mosque and he became so angry that his face turned red. Then a woman from among the Ansar came and scraped it off, and put some Khaluq on that spot. The Messenger of Allah said: How good this is.
ہم سے محمد بن طریف نے بیان کیا، کہا ہم سے عائض بن حبیب نے بیان کیا، حمید کی سند سے, انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصہ ہوئے یہاں تک کہ آپ کا چہرہ مبارک سرخ ہو گیا، اتنے میں قبیلہ انصار کی ایک عورت آئی اور اس نے اسے کھرچ دیا، اور اس کی جگہ خوشبو لگا دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کتنا اچھا کام ہے ۔
It was narrated that 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah saw some sputum in the prayer direction of the mosque, when he was praying in front of the people. He scratched it off, then when the prayer was over, he said: 'When anyone of you is performing prayer, Allah is before him, so none of you should spit toward the front while praying.'
ہم سے محمد بن روم المصری نے لیث بن سعد کی سند سے اور نافع کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی دیوار قبلہ پر بلغم دیکھا، اس وقت آپ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ بلغم کھرچ دیا، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: جب کوئی شخص نماز میں ہوتا ہے تو اللہ اس کے سامنے ہوتا ہے، لہٰذا کوئی شخص نماز میں اپنے سامنے نہ تھوکے ۔
It was narrated from 'Aishah رضی اللہ عنہا that:
The Prophet scratched some spittle from the prayer direction of the mosque
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے, ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ کی دیوار پر لگا ہوا تھوک رگڑ کر صاف کر دیا۔
It was narrated from Sulaiman bin Burdah رضی اللہ عنہ that his father said:
The Messenger of Allah performed prayer, then a man said: 'Who was looking for the red camel?' The Prophet said: 'May you not find it! The mosques were built for that for which they were built.'
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا: ہم سے وکیع نے ابو سنان سعید بن سنان سے، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے، سلیمان بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے اپنے والد سے، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، تو ایک شخص نے کہا: میرا سرخ اونٹ کس کو ملا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کرے تمہیں نہ ملے، مسجدیں خاص مقصد کے لیے بنائی گئی ہیں ۔
It was narrated from 'Amr bin Shu'aib from his father, from his grandfather that:
The Messenger of Allah forbade making lost-and-found announcements in the mosque.
ہم سے محمد بن رومہ نے بیان کیا، انہیں عبداللہ بن لہیہ نے خبر دی۔ اور ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سب نے ابن عجلان سے، عمرو بن شعیب سے، اپنے والد سے اور اپنے دادا سے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں گمشدہ چیزوں کے اعلان سے منع فرمایا ہے۔
It was narrated from Abu 'Abdullah, the freed slave of Shaddad bin Had that:
He heard Abu Hurairah رضی اللہ عنہ say: I heard the Messenger of Allah say: 'Whoever hears a man making a lost-and-found announcement in the mosque, let him say: May Allah not return it to you! For the mosques were not built for that.'
ہم سے یعقوب بن حمید بن کسب نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے حیوہ بن شریح نے محمد بن عبدالرحمٰن اسدی ابو الاسود سے، وہ ابو عبداللہ کی سند سے، جو شداد کے آزاد کردہ غلام تھے
اس نے ابو ہریرہ کو کہتے سنا:میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو شخص کسی کو مسجد میں کسی گمشدہ چیز کا اعلان کرتے سنے تو کہے: اللہ کرے تمہاری چیز نہ ملے، اس لیے کہ مسجدیں اس کے لیے نہیں بنائی گئی ہیں ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: If you cannot find anywhere (for prayer) except sheep's resting-places and camels' resting-places, then perform prayer in the sheep's resting-places and do not perform prayer in the camels' resting-places.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا اور ہم سے ابوبشر بکر بن خلف نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زری نے بیان کیا، ان دونوں نے کہا: ہم سے ہشام بن حسن نے بیان کیا، محمد بن سیرین کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہیں بکریوں اور اونٹوں کے باڑوں کے علاوہ کوئی جگہ میسر نہ ہو تو بکری کے باڑے میں نماز پڑھو، اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھو ۔
It was narrated that 'Abdullah bin Mughaffal Al-Muzani رضی اللہ عنہ said:
The Prophet said: 'Perform prayer in the sheep's resting-places and do not perform prayer in the camels' resting-places, for they were created from the devils.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشیم نے یونس کی سند سے اور حسن کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھو، اور اونٹوں کے باڑ میں نماز نہ پڑھو، کیونکہ ان کی خلقت میں شیطنت ہے ۔
Abdul-Malik bin Rabi' bin Sabrah bin Ma'bad Al-Juhani رضی اللہ عنہ said:
My father told me, from his father that the Messenger of Allah said: 'Do not perform prayer in the camels' resting-places, and perform prayer in the sheep's resting-places.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے زید بن حباب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الملک بن ربیع بن صبرہ بن معبد جہنی نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے بیان کیا, معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اونٹ کے باڑے میں نماز نہ پڑھی جائے، اور بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لی جائے ۔
It was narrated that Fatimah رضی اللہ عنہا the daughter of the Messenger of Allah said:
Whenever the Messenger of Allah entered the mosque he would say: 'Bismillah, was-salamu 'ala Rasulillah, Allahummagh-firli dhunubi waftah li abwaba rahmatika. (In the Name of Allah, and peace be upon the Messenger of Allah. O Allah, forgive me my sins and open to me the gates of Your mercy).' When he left he would say: 'Bismillah, was-salamu 'ala Rasulillah, Allahummagh-firli dhunubi waftah li abwaba fadlika. (In the Name of Allah, and peace be upon the Messenger of Allah. O Allah, forgive me my sins and open to me the gates of Your bounty).'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم اور ابو معاویہ نے لیث کی سند سے، عبداللہ بن حسن نے اپنی والدہ سے, رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب مسجد میں داخل ہوتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب رحمتك» میں اللہ کا نام لے کر داخل ہوتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب نکلتے تو یہ دعا پڑھتے: «بسم الله والسلام على رسول الله اللهم اغفر لي ذنوبي وافتح لي أبواب فضلك» میں اللہ کا نام لے کر جاتا ہوں، اور رسول اللہ پر سلام ہو، اے اللہ! میرے گناہوں کو بخش دے، اور اپنے فضل کے دروازے مجھ پر کھول دے ۔
It was narrated that Abu Humaid As-Sa'idi said:
The Messenger of Allah said: 'When anyone of you enters the mosque, let him send peace upon the prophet, then let him say: Allahummaftah li abwaba rahmatika (O Allah, open to me the gates of Your mercy). And when he leaves, let him say: Allahumma inni as'aluka min fadlika. (O Allah, I ask of you from Your bounty).
ہم سے عمرو بن عثمان بن سعید بن کثیر بن دینار الحمصی اور عبد الوہاب بن ضحاک نے بیان کیا : ہم سے اسماعیل بن عیاش نے عمارہ بن غازیہ کی سند سے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن کی سند سے بیان کیا , ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سلام بھیجے، پھر کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے اور جب نکلے تو یہ کہے: «اللهم إني أسألك من فضلك» اے اللہ! میں تجھ سے تیرے فضل کا سوال کرتا ہوں ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said: When anyone of enters the mosque, let him send peace upon the Prophet, then let him say: 'Allahumma aftahli abwaba rahmatik (O Allah, open to me the gates of Your mercy).' And when he leaves, let him send peace upon the Prophet and say: 'Allahumma- simni minash-shaitanir-rajim (O Allah, protect me from the accursed Shaitan).'
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے ضحاک بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے سعید مقبری نے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص مسجد میں جائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے اور کہے:«اللهم افتح لي أبواب رحمتك» اے اللہ! میرے لیے اپنی رحمت کے دروازے کھول دے ، اور جب مسجد سے نکلے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہ سلام بھیجے، اور کہے: «اللهم اعصمني من الشيطان الرجيم» اے اللہ! مردود شیطان سے میری حفاظت فرما ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'When one of you performs ablution and does it well, then he comes to the mosque with no other motive but prayer and not seeking anything other than the prayer, he does not take one step but Allah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins, until he enters the mosque. When he enters the mosque he is in a state of prayer so long as he is waiting for the prayer.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے الاعمش نے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی شخص اچھی طرح وضو کرے، پھر مسجد آئے، اور نماز ہی اس کے گھر سے نکلنے کا سبب ہو، اور وہ نماز کے علاوہ کوئی اور ارادہ نہ رکھتا ہو، تو ہر قدم پہ اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند کرتا ہے اور ایک گناہ مٹاتا ہے، یہاں تک کہ مسجد میں داخل ہو جائے، پھر مسجد میں داخل ہو گیا تو جب تک نماز اسے روکے رکھے نماز ہی میں رہتا ہے ۔