The Book on the Mosques and the Congregations
كتاب المساجد والجماعات
Chapter 6
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said: When the Iqamah is called for the prayer, do not come running. Come walking with tranquility. Whatever you catch up with, pray, and whatever you miss, complete it.
ہم سے ابو مروان عثمانی محمد بن عثمان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے، وہ سعید بن المسیب اور ابو سلمہ کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب نماز کے لیے اقامت کہہ دی جائے تو دوڑتے ہوئے نہ آؤ، بلکہ اطمینان سے چل کر آؤ، امام کے ساتھ جتنی نماز ملے پڑھ لو، اور جو چھوٹ جائے اسے پوری کر لو ۔
It was narrated from Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ that:
He heard the Messenger of Allah say: 'Shall I not tell you of something by means of which Allah expiates for sins and increases good deeds?' They said: 'Yes, O Messenger of Allah.' He said: 'Performing ablution properly despite difficulties, increasing the number of steps one takes towards the mosque and waiting for the next prayer after prayer
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن ابی بکر نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر بن محمد نے بیان کیا، وہ عبداللہ بن محمد بن عقیل کے واسطہ سے، وہ سعید بن مسیب کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں جس سے اللہ گناہوں کو معاف کرتا اور نیکیوں میں اضافہ کرتا ہے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کہا: جی ہاں، ضرور بتائیے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دشواری و ناپسندیدگی کے باوجود پورا وضو کرنا، مسجدوں کی جانب دور سے چل کر جانا، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ۔
It was narrated that 'Abdullah رضی اللہ عنہ said:
Whoever would like to meet Allah tomorrow (i.e. on the Day of Judgment) as a Muslim, let him preserve these five (daily) prayer when the call for them is given, for they are part of the ways of guidance, and Allah prescribed the ways of guidance to your Prophet. By Allah, if each of you prays in his house, you will have abandoned the Sunnah of your Prophet, and if you abandon the Sunnah of your Prophet you will go astray. I remember when no one stayed behind from the prayer except a hypocrite who was known for his hypocrisy. I have a man coming supported by two others, until he joined the row (of worshippers). There is no man who purifies himself and does it well, and comes to the mosque and prays there, but for every step that he takes, Allah raises him in status one degree thereby, and takes away one of his sins.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم الہجری نے، انہوں نے ابو الاحواص کی سند سے، انہوں نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا: جو شخص کل مسلمان ہونے کے ناطے اللہ تعالیٰ سے ملاقات کرنا چاہتا ہے، اسے چاہیے کہ وہ ان پانچ نمازوں کی پابندی کرے,عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص کو خوشی ہو کہ وہ کل اللہ تعالیٰ سے اسلام کی حالت میں ملاقات کرے تو جب اور جہاں اذان دی جائے ان پانچوں نمازوں کی پابندی کرے، کیونکہ یہ ہدایت کی راہیں ہیں، اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی کے لیے ہدایت کے راستے مقرر کئے ہیں، قسم ہے اگر تم میں سے ہر ایک اپنے گھر میں نماز پڑھ لے، تو تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا، اور جب تم نے اپنے نبی کا راستہ چھوڑ دیا تو گمراہ ہو گئے، ہم یقینی طور پر دیکھتے تھے کہ نماز سے پیچھے صرف وہی رہتا جو کھلا منافق ہوتا، اور واقعی طور پر ( عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ) ایک شخص دو آدمیوں پر ٹیک دے کر مسجد میں لایا جاتا، اور وہ صف میں شامل ہوتا، اور جو شخص اچھی طرح وضو کرے اور مسجد کا ارادہ کر کے نکلے، پھر اس حالت میں نماز پڑھے، تو وہ جو قدم بھی چلے گا ہر قدم پر اللہ تعالیٰ اس کا ایک درجہ بلند فرمائے گا، اور ایک گناہ مٹا دے گا ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Whoever leaves his house for the prayer and says: 'Allahumma inni asa'luka bi-haqqis-sa'ilina 'alaika, wa as'aluka bi-haqqi mamshaya hadha, fa inni lam akhruj asharan wa la batran, wa la riya'an, wa la sum'atan, wa kharajtu-ttiqa'a sukhtika wabtigha'a mardatika, fa as'aluka an tu'idhani minan-nari wa an taghfira li dhunubi, Innahu la yaghfirudh-dhunuba illa Anta. (O Allah, I ask You by the right that those who ask of You have over You, and I ask by virtue of this walking of mine, for I am not going out because of pride or vanity, or to show off or make a reputation, rather I am going out because I fear Your wrath and seek Your pleasure. So I ask You to protect me from the Fire and to forgive me my sins, for no one can forgive sins except You),' Allah will turn His Face towards him and seventy thousand angels will pray for his forgiveness.
ہم سے محمد بن سعید بن یزید بن ابراہیم التستری نے بیان کیا، کہا ہم سے الفضل بن الموفق ابو الجہم نے بیان کیا، ہم سے فضیل بن مرزوق نے عطیہ کی سند سے بیان کیا, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اپنے گھر سے نماز کے لیے نکلے اور یہ دعا پڑھے: «اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك وأسألك بحق ممشاي هذا فإني لم أخرج أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة وخرجت اتقاء سخطك وابتغاء مرضاتك فأسألك أن تعيذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! میں تجھ سے اس حق ۱؎ کی وجہ سے مانگتا ہوں جو مانگنے والوں کا تجھ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کی وجہ سے، کیونکہ میں غرور، تکبر، ریا اور شہرت کی نیت سے نہیں نکلا، بلکہ تیرے غصے سے بچنے اور تیری رضا چاہنے کے لیے نکلا، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ تو مجھے جہنم سے پناہ دیدے، اور میرے گناہوں کو معاف کر دے، اس لیے کہ گناہوں کو تیرے علاوہ کوئی نہیں معاف کر سکتا تو اللہ تعالیٰ اس کی جانب متوجہ ہو گا، اور ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائے مغفرت کریں گے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Those who walk to the mosque in the dark are those who are diving into the mercy of Allah.'
ہم سے راشد بن سعید بن راشد الرملی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ولید بن مسلم نے ابو رافع اسماعیل بن رافع کی سند سے، ابو بکر کے آزاد کردہ غلام سمیم کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے بیان کیا, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والے ہی ( قیامت کے دن ) اللہ تعالیٰ کی رحمت میں غوطہٰ مارنے والے ہیں ۔
It was narrated that Sahl bin Sa'd As-Sa'idi رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Give glad tidings, to those who walk to the mosques in the dark, of perfect light on the Day of Resurrection.'
ہم سے ابراہیم بن محمد حلبی نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حارث الشیرازی نے بیان کیا، ہم سے زہیر بن محمد تمیمی نے بیان کیا، ابو حازم کی سند سے, سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں ( نماز کے لیے ) چل کر جانے والے خوش ہو جائیں کہ ان کے لیے قیامت کے دن کامل نور ہو گا ۔
It was narrated that Anas bin Malik رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'Give glad tidings to those who walk to the mosques in the dark, of perfect light on the Day of Resurrection.'
ثابت البنانی کے آزاد کردہ غلام مجزعہ بن سفیان بن اسید نے ہم سے بیان کیا, ہم سے سلیمان بن داؤد الصائغ, نے ثابت البنانی کی سند سے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تاریکیوں میں مسجدوں کی جانب چل کر جانے والوں کو قیامت کے دن کامل نور کی بشارت سنا دو ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'The greater the distance from the mosque, the greater the reward.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہوں نے ابن ابی ذہب کی سند سے، عبدالرحمٰن بن مہران سے اور عبدالرحمٰن بن سعد کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں جو جتنا ہی دور سے آتا ہے، اس کو اتنا ہی زیادہ اجر ملتا ہے ۔
It was narrated that Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ said:
There was a man among the Ansar whose house was the furthest house in Al-Madinah, yet he never missed prayer with the Messenger of Allah. I felt sorry for him and said: 'O so-and-so, why do you not buy a donkey to spare yourself the heat of the scorching sand, to carry over the stony ground, and to keep you away from the vermin on the ground?' He said: 'By Allah! I do not want to live so close to Muhammed.' This troubled me until I came to the house of the Prophet and mentioned that to him. He called (the man) and asked him, and he said something similar, and said that he was hoping for the reward for his steps. The Messenger of Allah said, 'You will have that (reward) that you sought.'
ہم سے احمد بن عبدہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عباد بن عباد المحلبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عاصم الاحول نے بیان کیا، وہ ابو عثمان النہدی رضی اللہ عنہ سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
مدینہ میں ایک انصاری شخص کا مکان انتہائی دوری پر تھا، اس کے باوجود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کی کوئی نماز نہیں چھوٹتی تھی، مجھے اس کی یہ مشقت دیکھ کر اس پر رحم آیا، اور میں نے اس سے کہا: اے ابوفلاں! اگر تم ایک گدھا خرید لیتے جو تمہیں گرم ریت پہ چلنے، پتھروں کی ٹھوکر اور زمین کے کیڑے مکوڑوں سے محفوظ رکھتا ( تو اچھا ہوتا ) ! اس انصاری نے کہا: اللہ کی قسم میں تو یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ میرا گھر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کے کسی گوشے سے ملا ہو، اس کی یہ بات مجھے بہت ہی گراں گزری ۱؎ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اور آپ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا اور اس سے پوچھا، تو اس نے آپ کے سامنے بھی وہی بات کہی، اور کہا کہ مجھے نشانات قدم پر ثواب ملنے کی امید ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس ثواب کی تم امید رکھتے ہو وہ تمہیں ملے گا ۔
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
Banu Salimah wanted to move from their homes to somewhere near the mosque, but the Prophet did not want the outskirts of Al-madinah to be left vacant, so he said: 'O Banu Salimah, do you not hope for the reward of your footsteps?' So they stayed (where they were).
ہم سے ابو موسیٰ محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد بن حارث نے بیان کیا، کہا ہم سے حمید نے بیان کیا, انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
بنو سلمہ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنے پرانے گھروں کو جو مسجد نبوی سے فاصلہ پر تھے چھوڑ کر مسجد نبوی کے قریب آ رہیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی ویرانی کو مناسب نہ سمجھا، اور فرمایا: بنو سلمہ! کیا تم اپنے نشانات قدم میں ثواب کی نیت نہیں رکھتے؟ ، یہ سنا تو وہ وہیں رہے جہاں تھے۔
It was narrated that Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما said:
The houses of the Ansar were far from the mosque and they wanted to move closer. Then the following Verse was revealed: 'We record that which they send before (them), and their traces.' [Ya-Sin: 12] He said: So they remained (where they were).
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، ہم سے اسرائیل نے سماک کی سند سے، عکرمہ کی سند سے بیان کیا, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
انصار کے مکانات مسجد نبوی سے کافی دور تھے، ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ مسجد کے قریب آ جائیں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی: «ونكتب ما قدموا وآثارهم» ہم ان کے کئے ہوئے اعمال اور نشانات قدم لکھیں گے ( يسين: 12 ) تو وہ اپنے مکانوں میں رک گئے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'A man's prayer in congregation is twenty-some levels higher than his prayer in his house or in the marketplace.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، ان سے العمش نے، وہ ابو صالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں یا بازار میں تنہا نماز پڑھنے سے بیس سے زیادہ درجہ افضل ہے ۔
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ that:
The Messenger of Allah said: The prayer in congregation is twenty-five times more virtuous than the prayer of anyone of you on his own.
ہم سے ابو مروان محمد بن عثمان العثمانی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے ابن شہاب کی سند سے، وہ سعید بن المسیب کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جماعت کی فضیلت تم میں سے کسی کے اکیلے نماز پڑھنے سے پچیس درجہ زیادہ ہے ۔
It was narrated that Abu Sa'eed Al-Khudri رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'the prayer of a man in congregation is twenty-five levels higher than his prayer in his home.'
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے ہلال بن میمون کی سند سے، وہ عطاء بن یزید کی سند سے, ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کے ساتھ نماز پڑھنا گھر میں تنہا نماز پڑھنے سے پچیس درجہ افضل ہے ۔
It was narrated that Ibn 'Umar رضی اللہ عنہما said:
The Messenger of Allah said: 'The prayer of a man in congregation is twenty-seven levels more virtuous than a man's prayer on his own.'
ہم سے عبدالرحمٰن بن عمر رستہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا، نافع کی سند سے, عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی گئی نماز پر ستائیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
It was narrated that Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'The prayer of a man in congregation is higher than his prayer on his own by twenty-four or twenty-five levels.
ہم سے محمد بن معمر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوبکر حنفی نے بیان کیا، کہا ہم سے یونس بن ابی اسحاق نے اپنے والد سے، عبداللہ بن ابی بصیر نے اپنے والد سے, ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا جماعت کی نماز تنہا پڑھی ہوئی نماز پر چوبیس یا پچیس درجہ فضیلت رکھتی ہے ۔
It was narrated that Abu Hurairah رضی اللہ عنہ said:
The Messenger of Allah said: 'I was thinking of commanding that the call to prayer be given, then I would tell a man to lead the people in prayer, then I would go out with some other men carrying bundles of wood, and go to people who do not attend the prayer, and burn their houses down around them.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہوں نے الاعمش کی سند سے، انہوں نے ابوصالح کی سند سے, ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرا پختہ ارادہ ہوا کہ نماز پڑھنے کا حکم دوں اور اس کے لیے اقامت کہی جائے، پھر ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے، اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جن کے ساتھ لکڑیوں کا گٹھر ہو، لے کر ان لوگوں کے پاس جاؤں جو نماز میں حاضر نہیں ہوتے ہیں، اور ان کے ساتھ ان کے گھروں کو آگ لگا دوں ۔
It was narrated that Ibn Umm Maktum رضی اللہ عنہ said:
I said to the Prophet: 'I am an old man and blind; my house is far away, and I have no one to lead me. Is there any concession (for me not to have to attend the prayer in the mosque)?' He said: 'Can you hear the call?' I said: 'Yes.' He said: 'Then I do not find any concession for you.'
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، وہ ز ایدہ کی سند سے، عاصم نے ابو رزین سے, عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں بوڑھا اور نابینا ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے، تو کیا آپ میرے لیے ( جماعت سے غیر حاضری کی ) کوئی رخصت پاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟ ، میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۔
It was narrated from Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما that:
The Prophet صلی اللہ علیہ وسلم said: Whoever hears the call and does not come, his prayer is not valid, except for those who have an excuse.
ہم سے عبدالحمید بن بیان الوسطی نے بیان کیا، کہا ہم کو ہشیم نے شعبہ کی سند سے، عدی بن ثابت نے سعید بن جبیر کی سند سے, عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس شخص نے اذان سنی لیکن مسجد میں نہیں آیا تو اس کی نماز نہیں ہو گی، الا یہ کہ کوئی عذر ہو ۔
Ibn 'Abbas and Ibn 'Umar رضی اللہ عنہم narrated that:
They heard the Prophet say on his pulpit: People should desist from failing to attend the congregations, otherwise Allah will seal their hearts, and they will be among the negligent.
ہم سے علی بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، انہوں نے ہشام الدستو ای سے، انہوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے، انہوں نے حکم بن منیا کی سند سے, عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم خبر دیتے ہیں کہ
ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا: لوگ نماز باجماعت چھوڑنے سے ضرور باز آ جائیں، ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا، پھر ان کا شمار غافلوں میں ہونے لگے گا ۔