ابن عباس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب مکاتب دیت یا میراث کا مستحق بنتا ہے تو وہ اپنی آزادی کے حساب سے وارث بنے گا ۔‘‘ اور ترمذی کی روایت میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مکاتب کو اس حصہ کے مطابق دیت دی جائے گی جو اس نے دیت حر ادا کی ہے اور جو بچ جائے وہ دیت عبد ہے ۔‘‘ اور امام ترمذی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری سے روایت ہے کہ ان کی والدہ نے غلام آزاد کرنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اسے صبح تک مؤخر کر دیا ، سو وہ فوت ہو گئیں ، عبدالرحمن بیان کرتے ہیں ، میں نے قاسم بن محمد سے کہا : اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کر دوں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا ؟ قاسم نے کہا : سعد بن عبادہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کیا : میری والدہ فوت ہو گئیں ہیں ، اگر میں ان کی طرف سے غلام آزاد کروں تو کیا انہیں فائدہ ہو گا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک ۔
یحیی بن سعید بیان کرتے ہیں ، عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ حالت نیند ہی میں وفات پا گئے تو ان کی بہن عائشہ ؓ نے ان کی طرف سے بہت سے غلام آزاد کیے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے کوئی غلام خریدا اس (غلام) کے مال کی شرط قائم نہ کی تو اس (خریدنے والے) کے لیے (اس کے مال سے) کچھ بھی نہیں ملے گا ۔‘‘ صحیح ، رواہ الدارمی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ تر ان الفاظ کے ساتھ قسم اٹھایا کرتے تھے :’’ دلوں کے پھیرنے والے کی قسم !‘‘ رواہ البخاری ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسمیں اٹھانے سے منع فرماتا ہے ، جس نے قسم اٹھانی ہو وہ اللہ کی قسم اٹھائے یا پھر خاموش رہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبدالرحمن بن سمرہ ؓ روایت کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بتوں اور اپنے باپ دادا کے ناموں کی قسمیں مت اٹھاؤ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے لات و عُزی (بتوں) کی قسم اٹھائی تو اسے ’’ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ ‘‘ پڑھنا چاہیے ۔ اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا : آؤ میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں تو اسے صدقہ کرنا چاہیے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ثابت بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے اسلام کے علاوہ کسی اور ملت پر جھوٹی قسم اٹھائی تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ، اور ابن آدم پر ایسی چیز کی نذر پوری کرنا واجب نہیں جس کا وہ مالک نہیں ، جس نے کسی چیز کے ساتھ اپنے آپ کو دنیا میں قتل کیا تو روزِ قیامت اسے اسی کے ساتھ عذاب دیا جائے گا ، کسی مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کے مترادف ہے جس نے کسی مومن شخص پر کفر کا بہتان لگایا تو وہ ایسے ہے جیسے اس نے اسے قتل کر دیا اور جس نے مال بڑھانے کی خاطر جھوٹا دعویٰ کیا تو اللہ اس کی تنگ دستی میں اضافہ فرماتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوموسی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! اگر میں کسی بات پر قسم اٹھا لوں اور پھر اس کا غیر اس سے بہتر جانوں تو ان شاء اللہ میں اپنی قسم کا کفارہ دوں گا اور اس سے بہتر کو اختیار کر لوں گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عبدالرحمن بن سمرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ عبدالرحمن بن سمرہ ! امارت مت طلب کرنا ، اگر وہ تمہیں تمہاری طلب پر دے دی گئی تو تم اس کے سپرد کر دیے جاؤ گے اور اگر وہ طلب کیے بغیر تمہیں دے دی گئی تو اس پر تمہاری مدد کی جائے گی ، اور جب تم کسی چیز پر قسم اٹھا لو اور پھر تم اس کے غیر کو بہتر جانو تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دو اور جو بہتر ہو اسے اختیار کر لو ۔‘‘ اور ایک دوسری روایت میں ہے :’’ جو بہتر ہے اسے اختیار کر لو اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کسی چیز پر قسم اٹھائے اور وہ اس سے بہتر چیز جان لے تو وہ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے اور جو بہتر چیز ہے وہ کرے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی قسم ! تمہارا اپنی اس قسم پر اصرار کرنا جو اپنے گھر والوں کے متعلق ہو ، اللہ کے نزدیک قسم توڑنے سے زیادہ گناہ رکھتا ہے جس کا کفارہ ادا کرنا اللہ نے اس پر فرض کیا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری قسم کا وہی مفہوم معتبر ہو گا جس پر تیرا ساتھی (قسم طلب کرنے والا) تمہیں سچا جانے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قسم ، قسم طلب کرنے والے کی نیت پر معتبر ہو گی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، یہ آیت ’’ اللہ تم سے لغو قسم کا مؤاخذہ نہیں کرے گا ، اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو (عادت کے طور پر) کہتا ہے : لا واللہ ! اور بلیٰ واللہ ! ’’ نہیں ، نہیں ! اللہ کی قسم ‘‘ ۔ ’’ ہاں ، ہاں ! اللہ کی قسم ۔‘‘ رواہ البخاری ۔ اور شرح السنہ میں مصابیح کے یہی الفاظ ہیں اور امام بغوی نے فرمایا : بعض محدثین نے اسے عائشہ ؓ سے مرفوع بیان کیا ہے ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کی قسمیں مت اٹھاؤ اور نہ ہی اپنے بتوں کی ، اور اللہ کی قسم بھی صرف اس صورت میں اٹھاؤ جب تم سچے ہو ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا :’’ جس نے اللہ کے علاوہ کسی کی قسم اٹھائی ، اس نے شرک کیا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے امانت کی قسم اٹھائی تو وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قسم اٹھاتے وقت یہ کہتا ہے کہ معاملہ ایسا ہوا تو میں اسلام سے بیزار و لاتعلق ہوں اگر وہ جھوٹا ہے تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ، اور اگر وہ سچا ہے تو وہ سالم طور پر اسلام کی طرف نہیں لوٹے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔