ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تاکید کے ساتھ قسم اٹھاتے تو یوں فرماتے :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوالقاسم کی جان ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قسم اٹھاتے تو یوں فرماتے :’’ نہیں ! اور میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قسم اٹھائے اور ان شاء اللہ کہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ۔‘‘ ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ، ابن ماجہ ، دارمی ۔ اور امام ترمذی نے محدثین کی ایک جماعت کا ذکر کیا جس نے اسے ابن عمر ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
ابو الاحوص عوف بن مالک اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے بتائیں کہ میرا چچا زاد ہے ، میں اس کے پاس جاتا ہوں اور اس سے کوئی چیز مانگتا ہوں تو وہ مجھے نہ تو چیز دیتا ہے اور نہ مجھ سے تعلق جوڑتا ہے ، پھر اسے میری ضرورت پڑتی ہے تو وہ میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کوئی چیز مانگتا ہے جبکہ میں قسم اٹھا چکا ہوں کہ میں اسے کوئی چیز نہیں دوں گا اور نہ اس سے صلہ رحمی کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم فرمایا کہ ’’ میں اس چیز کو اختیار کروں جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کروں ۔‘‘ اور ایک روایت میں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرا چچا زاد میرے پاس آتا ہے ، اور میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں اس کو کچھ نہیں دوں گا اور نہ ہی اس سے صلہ رحمی کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ النسائی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ اور ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نذر نہ مانو کیونکہ نذر تقدیر کے معاملہ میں کوئی فائدہ نہیں دیتی ، البتہ اس کے ذریعے بخیل سے (اس کا مال) نکالا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص اللہ کی اطاعت کی نذر مانتا ہے تو وہ اسے پورا کرے ، اور جو شخص اس کی نافرمانی کی نذر مانتا ہے تو وہ اسے پورا نہ کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نافرمانی کی نذر پوری نہیں کرنی چاہیے اور نہ اس چیز کی جو انسان کے بس میں نہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔ اور ایک روایت میں ہے :’’ اللہ کی نافرمانی میں کوئی نذر نہیں ۔‘‘
عقبہ بن عامر ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نذر کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، اس دوران کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ایک آدمی کھڑا دکھائی دیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق دریافت کیا تو صحابہ ؓ نے عرض کیا : ابواسرائیل ہے اس نے نذر مانی ہے کہ وہ کھڑا رہے گا ، بیٹھے گا نہیں ، وہ سایہ میں بیٹھے گا نہ کلام کرے گا اور وہ روزہ رکھے گا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے حکم دو کہ وہ کلام کرے ، سایہ میں بیٹھے اور اپنا روزہ پورا کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک عمر رسیدہ شخص کو دیکھا کہ اسے اپنے دو بیٹوں کے سہارے چلایا جا رہا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کو کیا ہوا ؟‘‘ انہوں نے بتایا کہ اس نے پیدل چل کر بیت اللہ جانے کی نذر مانی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالے ۔‘‘ اور آپ نے اسے سوار ہونے کا حکم فرمایا ۔ متفق علیہ ۔
اور مسلم کی روایت میں ہے ، ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بزرگوار ! سوار ہو جاؤ کیونکہ اللہ تم سے اور تمہاری نذر سے بے نیاز ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ سعد بن عبادہ ؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس نذر کے متعلق ، جو ان کی والدہ کے ذمہ تھی لیکن وہ اسے پورا کرنے سے پہلے وفات پا گئیں ، مسئلہ دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ان (کی والدہ) کی طرف سے اسے ادا کرنے کا فتوی دیا ۔ متفق علیہ ۔
کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میری توبہ کا یہ تقاضا ہے کہ میں اپنا سارا مال اللہ اور اس کے رسول کے لیے صدقہ کر دوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنا کچھ مال رکھ لو وہ تمہارے لیے بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کیا : میں اپنا خیبر والا حصہ روک لیتا ہوں ۔‘‘ بخاری ، مسلم ، اور یہ ایک لمبی حدیث کا کچھ حصہ ہے ۔ متفق علیہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ معصیت میں کوئی نذر نہیں ، اور اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے کسی چیز کا نام لیے بغیر نذر مانی تو اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی طرح ہے ، جس نے معصیت کی نذر مانی تو اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے ، جس نے کسی ایسی چیز کی نذر مانی جس کی وہ طاقت نہیں رکھتا تو اس کا کفارہ قسم کے کفارے کی طرح ہے ۔ اور جس نے کوئی ایسی نذر مانی جس کی وہ طاقت رکھتا ہے تو وہ اسے پورا کرے ۔‘‘ ابوداؤد ، ابن ماجہ ۔ اور بعض نے اسے ابن عباس ؓ پر موقوف قرار دیا ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
ثابت بن ضحاک ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں بوانہ کے مقام پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (اس کے متعلق) بتایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہاں دور جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا وہاں ان کی عیدوں میں سے کوئی عید تھی ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی معصیت میں نذر پوری کرنا ضروری نہیں اور نہ اس میں جس کا انسان مالک نہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عمر وبن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے نذر مانی ہے کہ میں آپ کی موجودگی میں دف بجاؤں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو ۔‘‘ اور رزین نے یہ اضافہ نقل کیا ، اس (عورت) نے عرض کیا : میں نے فلاں فلاں جگہ جہاں اہل جاہلیت ذبح کرتے تھے ، ذبح کرنے کی نذر مانی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس جگہ جاہلیت کا کوئی بت تھا جس کی پوجا کی جاتی تھی ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا اس جگہ ان کی کوئی عید تھی ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، نہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اپنی نذر پوری کرو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و رزین ۔
ابولبابہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، میری توبہ (کے اتمام میں) سے ہے کہ میں اپنی آبائی جگہ سے ہجرت کر جاؤں جہاں میں نے گناہ کیا تھا اور میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری طرف سے ایک تہائی کافی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ رزین ۔
جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے روز ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے اللہ عزوجل کے لیے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مکہ میں فتح عطا فرمائے تو میں بیت المقدس میں دو رکعتیں پڑھوں گا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہیں (بیت اللہ میں) پڑھ لو ۔‘‘ اس نے پھر یہی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہیں پڑھ لو ۔‘‘ اس نے پھر یہی بات دہرائی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تب تیری مرضی ہے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ کی بہن نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی جبکہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تیری بہن کے پیدل چلنے سے بے نیاز ہے ، وہ سوار ہو اور قربانی کرے ۔‘‘ اور ابوداؤد کی ایک روایت میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو حکم فرمایا کہ وہ سواری کرے اور قربانی کرے ۔ اور انہی کی ایک روایت میں ہے : نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ تیری بہن کو مشقت و تھکاوٹ میں ڈال کر کیا کرے گا ، وہ سواری کرے ، حج کرے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الدارمی ۔