عبداللہ بن مالک سے روایت ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ نے اپنی بہن کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ اس نے ننگے پاؤں ننگے سر حج کرنے کی نذر مانی ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے حکم دو کہ وہ سر پر کپڑا لے ، سواری کرے اور تین روزے رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں کے درمیان میراث تھی ۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا : اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے اخراجات کے لیے وقف ہے ۔ تو عمر ؓ نے اسے فرمایا : کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں ، اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے کلام کر ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ رب کی معصیت ، قطع رحمی اور اس چیز کے بارے میں جس کا تو مالک نہیں تجھ پر نہ تو کوئی نذر ہے اور نہ قسم ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ نذر کی دو قسمیں ہیں ، جو شخص اطاعت میں نذر مانے تو نذر اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے ، اور جس نے معصیت میں نذر مانی تو وہ شیطان کے لیے ہے وہ پوری نہیں کرنی چاہیے ، اور وہ اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی مثل ادا کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس کے دشمن سے نجات دی تو وہ اپنے آپ کو ذبح کرے گا ، ابن عباس ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسے فرمایا : مسروق سے پوچھو ، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اپنے آپ کو ذبح نہ کرو ، کیونکہ اگر تم مومن ہو تو تم نے ایک مومن کی جان کو قتل کیا ، اور اگر تم کافر ہو تو تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی ، ایک مینڈھا خریدو اور اسے مساکین کے لیے ذبح کرو ، کیونکہ اسحاق ؑ تم سے بہتر تھے اور ان کے فدیہ میں ایک مینڈھا دیا گیا ، جب ابن عباس ؓ کو بتایا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں بھی تمہیں اسی طرح کا فتوی دینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔