Back to Mishkat Al-Masabih

Emancipation

كتاب العتق

Chapter 14

Hadith 3442
sahih
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ عُقْبَةَ بن عَامر سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أُخْتٍ لَهُ نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ حَافِيَةً غَيْرَ مُخْتَمِرَةٍ فَقَالَ: «مُرُوهَا فَلْتَخْتَمِرْ وَلْتَرْكَبْ وَلْتَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِيُّ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ والدارمي
Urdu

عبداللہ بن مالک سے روایت ہے کہ عقبہ بن عامر ؓ نے اپنی بہن کے متعلق نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے مسئلہ دریافت کیا کہ اس نے ننگے پاؤں ننگے سر حج کرنے کی نذر مانی ہے ۔ آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا :’’ اسے حکم دو کہ وہ سر پر کپڑا لے ، سواری کرے اور تین روزے رکھے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔

Hadith 3443
sahih
وَعَن سعيد بن الْمسيب: أَنَّ أَخَوَيْنِ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ بَيْنَهُمَا مِيرَاثٌ فَسَأَلَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ الْقِسْمَةَ فَقَالَ: إِنْ عُدْتَ تَسْأَلُنِي الْقِسْمَةَ فَكُلُّ مَالِي فِي رِتَاجِ الْكَعْبَةِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: إِنَّ الْكَعْبَةَ غَنِيَّةٌ عَنْ مَالِكَ كَفِّرْ عَنْ يَمِينِكَ وَكَلِّمْ أَخَاكَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا يَمِينَ عَلَيْكَ وَلَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ الرَّبِّ وَلَا فِي قَطِيعَةِ الرَّحِمِ وَلَا فِيمَا لَا يملك» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد
Urdu

سعید بن مسیّب ؒ سے روایت ہے کہ انصار کے دو بھائیوں کے درمیان میراث تھی ۔ ان میں سے ایک نے اپنے ساتھی سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس نے کہا : اگر تم نے دوبارہ مجھ سے تقسیم کا مطالبہ کیا تو میرا سارا مال کعبہ کے اخراجات کے لیے وقف ہے ۔ تو عمر ؓ نے اسے فرمایا : کعبہ کو تیرے مال کی ضرورت نہیں ، اپنی قسم کا کفارہ ادا کر اور اپنے بھائی سے کلام کر ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے :’’ رب کی معصیت ، قطع رحمی اور اس چیز کے بارے میں جس کا تو مالک نہیں تجھ پر نہ تو کوئی نذر ہے اور نہ قسم ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔

Hadith 3444
sahih
عَن عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: النَّذْرُ نَذْرَانِ: فَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي طَاعَةٍ فَذَلِكَ لِلَّهِ فِيهِ الْوَفَاءُ وَمَنْ كَانَ نَذَرَ فِي مَعْصِيَةٍ فَذَلِكَ لِلشَّيْطَانِ وَلَا وَفَاء فِيهِ وَيُكَفِّرُهُ مَا يُكَفِّرُ الْيَمِينَ . رَوَاهُ النَّسَائِيُّ
Urdu

عمران بن حصین ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ نذر کی دو قسمیں ہیں ، جو شخص اطاعت میں نذر مانے تو نذر اللہ کے لیے ہے اور اسے پورا کرنا ہے ، اور جس نے معصیت میں نذر مانی تو وہ شیطان کے لیے ہے وہ پوری نہیں کرنی چاہیے ، اور وہ اس کا کفارہ قسم کے کفارہ کی مثل ادا کرے ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔

Hadith 3445
sahih
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا نَذَرَ أَنْ يَنْحَرَ نَفْسَهُ إِنْ نَجَّاهُ اللَّهُ مِنْ عَدُوِّهِ فَسَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ لَهُ: سَلْ مَسْرُوقًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَهُ: لَا تَنْحَرْ نَفْسَكَ فَإِنَّكَ إِنْ كُنْتَ مُؤْمِنًا قَتَلْتَ نَفْسًا مُؤْمِنَةً وَإِنْ كُنْتَ كَافِرًا تَعَجَّلْتَ إِلَى النَّارِ وَاشْتَرِ كَبْشًا فَاذْبَحْهُ لِلْمَسَاكِينِ فَإِنَّ إِسْحَاقَ خَيْرٌ مِنْكَ وَفُدِيَ بِكَبْشٍ فَأَخْبَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ: هَكَذَا كُنْتُ أَرَدْتُ أَنْ أُفْتِيَكَ. رَوَاهُ رَزِينٌ
Urdu

محمد بن منتشر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس کے دشمن سے نجات دی تو وہ اپنے آپ کو ذبح کرے گا ، ابن عباس ؓ سے اس بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے اسے فرمایا : مسروق سے پوچھو ، اس نے ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا : اپنے آپ کو ذبح نہ کرو ، کیونکہ اگر تم مومن ہو تو تم نے ایک مومن کی جان کو قتل کیا ، اور اگر تم کافر ہو تو تم نے آگ میں جانے کی جلدی کی ، ایک مینڈھا خریدو اور اسے مساکین کے لیے ذبح کرو ، کیونکہ اسحاق ؑ تم سے بہتر تھے اور ان کے فدیہ میں ایک مینڈھا دیا گیا ، جب ابن عباس ؓ کو بتایا گیا تو انہوں نے فرمایا : میں بھی تمہیں اسی طرح کا فتوی دینے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔