عکرمہ ، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم جس شخص کو قوم لوط کا سا کام کرتے ہوئے دیکھو تو فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کر دو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص چوپائے کے ساتھ بُرا فعل کرے تو اس شخص کو قتل کر دو اور اس کے ساتھ اس (چوپائے) کو بھی قتل کر دو ۔‘‘ ابن عباس ؓ سے عرض کیا گیا ، چوپائے کو کس لیے ؟ انہوں نے کہا : میں نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کچھ نہیں سنا لیکن میرا خیال ہے کہ آپ نے ایسے جانور کا گوشت کھانے یا اس سے فائدہ اٹھانے کو ناپسند فرمایا جس کے ساتھ یہ فعل کیا گیا ہو ۔ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ مجھے اپنی امت کے متعلق قومِ لوط کے عمل میں ملوث ہونے کا سب سے زیادہ اندیشہ ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ بنوبکر بن لیث قبیلے کا ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کرنے کا چار بار اقرار کیا تو آپ نے اسے سو کوڑے مارے ، کیونکہ وہ کنوارا تھا ، پھر آپ نے اس شخص سے عورت کے خلاف گواہ طلب کیے ، (جب وہ اس سے عاجز آ گیا) تو اس عورت نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! اس نے جھوٹ کہا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر حد قذف (اسی کوڑے سزا) قائم کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، جب میری براءت کے بارے میں آیات نازل ہوئیں تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے تو اس کو ذکر فرمایا ، جب آپ منبر سے اترے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو مردوں اور ایک عورت کے بارے میں حکم فرمایا تو ان پر حد قائم کی گئی ۔ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
نافع سے روایت ہے کہ (ابن عمر ؓ کی اہلیہ) صفیہ بنت ابی عبید نے اسے بتایا کہ امارت کے غلاموں میں سے ایک غلام نے خُمس کی ایک لونڈی سے زنا بالجبر کیا تو عمر ؓ نے اس غلام کو کوڑے مارے اور لونڈی کو کوڑے نہ مارے کیونکہ اس نے اسے مجبور کیا تھا ۔ رواہ البخاری ۔
یزید بن نعیم بن ہزّال اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : ماعز بن مالک یتیم تھے اور میرے والد کی کفالت میں تھے ، انہوں نے قبیلہ کی ایک لونڈی سے زنا کیا تو میرے والد نے انہیں کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ اور اپنی حرکت کے متعلق انہیں بتاؤ شاید کہ وہ تمہارے لیے مغفرت طلب کریں ، ان کا مقصد یہ تھا کہ شاید اس کے لیے نجات کی کوئی سبیل نکل آئے ، وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے آپ مجھ پر اللہ کی کتاب (کا حکم) قائم کریں ، آپ نے اس سے اعراض فرمایا تو وہ دوبارہ آیا اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے ۔ آپ مجھ پر اللہ کی کتاب (کا حکم) قائم کریں ، (وہ کہتا رہا) حتی کہ اس نے چار مرتبہ ایسے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے چار مرتبہ یہ بات کی ہے ، بتاؤ تم نے کس کے ساتھ (زنا کیا ہے) ؟‘‘ اس نے عرض کیا : فلاں عورت کے ساتھ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تو اس کے ساتھ ہم بستر ہوا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اس کے ساتھ ملاپ کیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم نے اس سے جماع کیا ؟‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، راوی بیان کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا کہ اسے رجم کیا جائے ، اسے حرّہ کی طرف لے جایا گیا ، جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو وہ برداشت نہ کر سکا تو وہ (رجم کی جگہ سے) بھاگ کھڑا ہوا ۔ لیکن عبداللہ بن انیس نے اسے جا لیا جبکہ اس کے دیگر رفقاء پیچھے رہ گئے انہوں نے اونٹ کی پنڈلی کی ہڈی اسے ماری اور قتل کر دیا ، پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو اس کے متعلق بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے چھوڑ کیوں نہ دیا شاید کہ وہ توبہ کر لیتا اور اللہ اس کی توبہ قبول فرما لیتا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
عمرو بن عاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس قوم میں زنا عام ہو جاتا ہے وہ قحط سالی کا شکار ہو جاتی ہے ، اور جس قوم میں رشوت عام ہو جائے اس پر خوف مسلط کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
ابن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص قومِ لوط کا سا عمل کرے وہ ملعون ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ رزین ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے ان دونوں (فاعل اور مفعول) کو جلا دیا ، جبکہ ابوبکر ؓ نے ان دونوں پر دیوار گرا دی ۔ لم اجدہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ عزوجل اس آدمی کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھتا جو کسی مرد کے ساتھ بُرا فعل کرے یا وہ عورت کی پیٹھ (دبر) میں بدفعلی کرے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے کہا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا : جو شخص کسی چوپائے کے ساتھ بُرا فعل کرے تو اس پر کوئی حد نہیں ۔‘‘ امام ترمذی نے سفیان ثوری سے روایت کیا کہ انہوں نے کہا : یہ حدیث ، حدیث اول :’’ جو شخص کسی چوپائے کے ساتھ بُرا فعل کرے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ سے زیادہ صحیح ہے ۔ اور اہل علم کے ہاں اسی پر عمل ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
عبادہ بن صامت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہر قریب و بعید (نسب کے لحاظ سے یاقوت کے لحاظ سے) پر اللہ کی حدود نافذ کر دو ۔ اور اللہ کے (حکم جاری کرنے) میں کسی ملامت گر کی ملامت تمہارے آڑے نہ آئے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی حدود میں سے کسی حد کا قائم کر دینا ، اللہ کے شہروں پر چالیس راتیں بارش ہونے سے بہتر ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذہ ، رواہ ابن ماجہ ۔
امام نسائی نے اسے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ النسائی ۔
عائشہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ (مالیت کی چوری) پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین درہم مالیت کی ڈھال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا ۔ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ چور پر لعنت کرے کہ وہ انڈا چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ، اور وہ رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
رافع بن خدیج ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ درخت پر لگے ہوئے پھل اور شگوفے میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ مالک و الترمذی و ابوداؤد و النسائی و الدارمی و ابن ماجہ ۔
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا کہ آپ سے درختوں پر لگے ہوئے پھل (کی چوری) کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس نے اسے گودام میں محفوظ کر لینے کے بعد چوری کیا اور وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ گیا تو پھر اس پر قطع (ہاتھ کاٹنا) ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔