اور انس ؓ سے مروی ایک اور حدیث میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شراب نوشی پر چالیس جوتے اور شاخیں مارا کرتے تھے ۔ رواہ مسلم ۔
سائب بن یزید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں ، ابوبکر ؓ کے دور خلافت اور عمر ؓ کے خلافت کے شروع کے دور میں شراب نوش کو لایا جاتا تو ہم اپنے ہاتھوں ، جوتوں اور اپنے کپڑوں کے ساتھ اسے مارتے تھے حتی کہ عمر ؓ کی خلافت کے آخری دور میں چالیس کوڑے مارے جاتے تھے حتی کہ جب وہ حد سے بڑھ گئے اور سرکشی پر اُتر آئے تو انہوں نے اسّی کوڑے مارے ۔ رواہ البخاری ۔
جابر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص شراب پیئے تو اسے کوڑے مارو ، اگر وہ چوتھی مرتبہ پیئے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ راوی بیان کرتے ہیں ، پھر اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی پیش کیا گیا جس نے چوتھی مرتبہ شراب پی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے قتل نہیں کیا ۔ حسن ، رواہ الترمذی ۔
امام ابوداؤد نے اسے قبیصہ بن ذؤیب سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوداؤد اور ترمذی کی دوسری روایت اور نسائی ، ابن ماجہ اور دارمی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کی جماعت ، جن میں ابن عمر ؓ ، معاویہ ؓ ، ابوہریرہ ؓ اور شرید ؓ ہیں ، سے ’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ تک مروی ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
عبدالرحمن بن ازہر ؓ بیان کرتے ہیں ، گویا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھ رہا ہوں جب ایک شخص کو ، جس نے شراب پی رکھی تھی ، لایا گیا تو آپ نے لوگوں سے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ان میں سے کسی نے اسے جوتوں کے ساتھ مارا ، کسی نے لاٹھی کے ساتھ مارا اور کسی نے اسے کھجور کی سبز شاخ کے ساتھ مارا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زمین سے خاک اٹھائی اور اس کے چہرے پر دے ماری ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے شراب پی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ہم میں سے کوئی اسے ہاتھ مار رہا تھا ، کوئی اپنے کپڑے سے اور کوئی اپنے جوتے سے مار رہا تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے ملامت کرو ۔‘‘ وہ اس کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے : تو اللہ سے نہ ڈرا ، تجھے اللہ کا خوف نہ آیا اور تجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے حیا نہ آئی ، اور کسی نے کہہ دیا : اللہ تمہیں رسوا کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس طرح نہ کہو ، اور اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔ بلکہ تم کہو : اے اللہ ! اسے بخش دے اور اس پر رحم فرما ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے شراب پی تو وہ مدہوش ہو گیا ۔ وہ راستے میں جھومتا ہوا ملا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف لے جایا جانے لگا ۔ جب وہ عباس ؓ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ بھاگ کر عباس ؓ کے پاس پہنچ گیا اور ان سے چمٹ گیا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسکرا دیے ، اور فرمایا :’’ کیا اس نے یہ کیا ؟‘‘ اور آپ نے اس کے متعلق کچھ بھی نہ کہا ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
عمیر بن سعید نخعی بیان کرتے ہیں ، میں نے علی بن ابی طالب ؓ کو فرماتے ہوئے سنا : اگر میں کسی شخص پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اپنے دل میں کسی قسم کا افسوس نہیں کروں گا ۔ لیکن اگر شرابی پر حد قائم کروں اور وہ فوت ہو جائے تو میں اس کی طرف سے دیت دوں گا ۔ یہ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس بارے میں کوئی حد مقرر نہیں فرمائی ۔ متفق علیہ ۔
ثور بن زید دیلمی بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے حد شراب کے متعلق مشورہ طلب کیا تو علی ؓ نے انہیں فرمایا : میرا خیال ہے کہ آپؓ اسے اسّی کوڑے ماریں ، کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو وہ مدہوش ہو جاتا ہے اور جب مدہوش ہو جاتا ہے تو وہ ہذیانی کیفیت میں اول فول باتیں کرتا ہے ۔ اور جب وہ اول فول باتیں کرتا ہے تو پھر افترا پردازی کرتا ہے ، عمر ؓ نے شراب کی حد میں اسّی کوڑے مارے ۔ صحیح ، رواہ مالک ۔
عمر بن خطاب ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی جس کا نام عبداللہ اور لقب حمار تھا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہنسایا کرتا تھا ، جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب نوشی کے جرم میں اس پر حد نافذ کی تھی ، ایک روز اسے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کوڑے مارنے کا حکم فرمایا تو اسے کوڑے مارے گئے ، لوگوں میں سے کسی نے کہہ دیا ، اے اللہ اس پر لعنت فرما ، کتنی ہی بار اسے (شراب نوشی کے جرم میں) لایا جا چکا ہے ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس پر لعنت نہ بھیجو ، اللہ کی قسم ! میں جو جانتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک آدمی لایا گیا جس نے پی رکھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے مارو ۔‘‘ ہم میں سے کوئی اپنے ہاتھ سے مارنے والا تھا ، کوئی جوتوں کے ساتھ اور کوئی اپنے کپڑے کے ساتھ مارنے والا تھا ، جب وہ واپس ہوا تو کسی نے کہہ دیا : اللہ تمہیں رسوا کرے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایسے نہ کہو ، اس کے خلاف شیطان کی مدد نہ کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، اسلمی (ماعز ؓ) نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنی ذات کے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ حرام کام (زنا) کا ارتکاب کیا ہے ۔ آپ ہر مرتبہ اس سے اعراض فرماتے رہے ، پانچویں مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے توجہ فرمائی تو پوچھا :’’ کیا تم نے اس سے جماع کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، فرمایا :’’ حتی کہ تمہاری یہ چیز (شرم گاہ) اس عورت کی اس چیز (شرم گاہ) میں گم ہو گئی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس طرح سلائی سرمے دانی میں اور رسی کنویں میں داخل ہو (کر غائب ہو) جاتی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم جانتے ہو زنا کیا ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : جی ہاں ، میں نے اس کے ساتھ حرام طور پر وہ کام کیا ہے جو آدمی حلال طور پر اپنی اہلیہ کے ساتھ کرتا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم اپنے اس قول و اقرار سے کیا چاہتے ہو ؟‘‘ اس نے عرض کیا : میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے پاک فرما دیں ، آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ میں سے دو آدمیوں کو سنا کہ ان میں سے ایک اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا : اس آدمی کو دیکھو جس کی اللہ نے ستر پوشی کی تھی ، اس کے نفس نے اسے نہ چھوڑا حتی کہ وہ کتے کی طرح سنگسار کر دیا گیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے متعلق خاموشی اختیار فرمائی ، پھر کچھ دیر چلے حتی کہ آپ ایک مردار گدھے کے پاس سے گزرے جس نے اپنی ٹانگ اٹھا رکھی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ فلاں فلاں شخص کہاں ہیں ؟‘‘ ان دونوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم حاضر ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ دونوں نیچے اترو اور اس مردار گدھے کا گوشت کھاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے نبی ! اسے کون کھائے گا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے ابھی جو اپنے بھائی کی عزت خراب کی وہ اسے کھانے سے بھی زیادہ سنگین ہے ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! وہ تو اب جنت کی نہروں میں غوطہ زنی کر رہا ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
خزیمہ بن ثابت ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے کوئی گناہ کیا اور اس گناہ کی حد قائم کر دی گئی تو وہ (حد) اس کا کفارہ بن جاتی ہے ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
علی ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے موجب حد کسی گناہ کا ارتکاب کیا اور اسے دنیا میں اس کی سزا مل گئی تو اللہ اس سے زیادہ عادل ہے کہ وہ اپنے بندے کو آخرت میں دوبارہ سزا دے ، اور جو شخص کسی موجب حد گناہ کا ارتکاب کرے اور اللہ اس کی پردہ پوشی فرمائے اور اس سے درگزر فرمائے تو اللہ اس سے زیادہ کریم ہے کہ وہ کسی چیز پر مؤاخذہ فرمائے جس سے اس نے درگزر فرمایا ہو ۔‘‘ ترمذی ، ابن ماجہ ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابوبُردہ بن نیار ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے سوا دس کوڑوں سے زیادہ نہ مارے جائیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم میں سے کوئی مارے تو وہ چہرے (پر مارنے) سے اجتناب کرے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب آدمی کسی (مسلمان) آدمی سے کہے : اے یہودی ! تو اسے بیس کوڑے مارو ، اور جب کہے : اے ہجڑے ! تو اسے بیس کوڑے مارو اور جو شخص کسی محرم خاتون سے جماع کرے تو اسے قتل کر دو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف جذا ، رواہ الترمذی ۔
عمر ؓ روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب تم ایسا آدمی پاؤ جس نے اللہ کی راہ (مال غنیمت) میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو ۔‘‘ ترمذی ۔ ابوداؤد ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شراب ان درختوں کھجور اور انگور سے تیار ہوتی ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔