عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی حسین المکی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ لٹکے ہوئے پھلوں (کی چوری) میں قطع ہے نہ پہاڑ کے دامن میں چرنے والے جانور (کی چوری) میں ، جب وہ (جانور) باڑے میں پناہ گزیں ہوں اور پھل گودام میں محفوظ ہو تو پھر اس کی چوری پر قطع ہے جب وہ ڈھال کی قیمت کو پہنچ جائے ۔‘‘ حسن ، رواہ مالک ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ڈاکو پر قطع (ہاتھ کاٹنا) نہیں (اس کی سزا الگ ہے) ، اور جو شخص بڑے بڑے ڈاکے ڈالے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ خیانت کرنے والے ، ڈاکہ ڈالنے والے اور جھپٹ کر مال حاصل کرنے والے پر ’’ قطع ‘‘ نہیں ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی و النسائی و ابن ماجہ و الدارمی ۔
اور شرح السنہ میں مروی ہے کہ صفوان بن امیہ ؓ مدینہ آئے تو وہ اپنی چادر کا سرہانہ بنا کر مسجد میں سو گئے ، ایک چور آیا اور اس نے ان کی چادر پکڑ لی تو انہوں نے اسے گرفتار کر لیا ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آئے ، آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو صفوان ؓ نے عرض کیا ، میں نے اس (قطع) کا ارادہ نہیں کیا تھا ، وہ (چادر) اس (چور) پر صدقہ ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم نے اسے میرے پاس لانے سے پہلے کیوں نہ معاف کر دیا ۔‘‘ حسن ، رواہ البغوی فی شرح السنہ ۔
امام ابن ماجہ نے اسی طرح عبداللہ بن صفوان عن ابیہ کی سند سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ ابن ماجہ ۔
اور امام دارمی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ۔ حسن ، رواہ الدارمی ۔
بُسر بن ارطاۃ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ غزوہ میں ہاتھ نہ کاٹے جائیں ۔‘‘ البتہ امام ابوداؤد اور امام نسائی نے غزوہ کے بجائے ’’ سفر ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی و الدارمی و ابوداؤد و النسائی ۔
ابوسلمہ ، ابوہریرہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چور کے بارے میں فرمایا :’’ اگر وہ چوری کرے تو اس کا ہاتھ کاٹ دو ، اگر پھر چوری کرے تو اس کا پاؤں کاٹ دو ، اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) ہاتھ کاٹ دو اور اگر پھر چوری کرے تو اس کا (دوسرا) پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف جذہ موضوع ، رواہ فی شرح السنہ ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک چور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ پھر اسے (دوسری چوری میں) دوسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا ہاتھ کاٹ دو ۔‘‘ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر اسے تیسری مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ، پھر چوتھی مرتبہ پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس کا پاؤں کاٹ دو ۔‘‘ اس کا پاؤں کاٹ دیا گیا ، پھر اسے پانچویں مرتبہ لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے قتل کر دو ۔‘‘ ہم اسے لے گئے اور اسے قتل کر دیا ۔ پھر ہم نے اسے گھسیٹ کر کنویں میں پھینک دیا اور اس پر پتھر ڈال دیے ۔ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی ۔
اور انہوں نے شرح السنہ میں چور کے ہاتھ کاٹنے کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس (کے ہاتھ) کو کاٹ دو پھر اسے داغ دو ۔‘‘ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
فضالہ بن عبید ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اسے اس کی گردن میں لٹکا دیا گیا ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب غلام چوری کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک ’’ نش ‘‘ (بیس درہم) ہی ملے ۔‘‘ حسن ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، ایک چور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹ دیا ، تو انہوں (صحابہ) نے عرض کیا ، ہمارا آپ کے متعلق یہ گمان نہیں تھا کہ آپ اس کے متعلق یہ کچھ کریں گے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر (بفرضِ محال) فاطمہ ؓ بھی ہوتیں تو میں (بلا تفریق) ان کا ہاتھ بھی کاٹتا ۔‘‘ صحیح ، رواہ النسائی ۔
ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی اپنا غلام لے کر عمر ؓ کے پاس آیا تو اس نے کہا : اس کا ہاتھ کاٹ ڈالیں کیونکہ اس نے میری اہلیہ کا آئینہ چرا لیا ہے ۔ عمر ؓ نے فرمایا : اس پر قطع نہیں اور وہ تمہارا خادم ہے ، اس نے تمہارا سامان اٹھا لیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ مالک ۔
ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ابوذر !‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں حاضر ہوں ، اسی میں میری سعادت ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تمہاری اس وقت کیا حالت ہو گی جب لوگ کثرت سے موت کا شکار ہوں گے اور اس وقت قبر غلام کے عوض ملے گی ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم صبر کرنا ۔‘‘ حماد بن ابی سلیمان نے کہا : کفن چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ میت پر اس کے گھر میں داخل ہوا ہے ۔ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ مخزومیہ عورت ، جس نے چوری کی تھی ، کے واقعہ نے قریشیوں کو غمزدہ کر دیا تو انہوں نے کہا : اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کون سفارش کرے ؟ پھر انہوں نے کہا : یہ کام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہیتے صرف اسامہ بن زید ؓ ہی کر سکتے ہیں ۔ اسامہ ؓ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سفارش کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کرتے ہو ؟‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے ، خطبہ ارشاد فرمایا ، پھر فرمایا :’’ تم سے پہلے لوگ صرف اسی وجہ سے ہلاک کر دیے گئے کہ جب ان میں سے خاندانی شخص چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور شخص چوری کرتا تو وہ اس پر حد قائم کر دیتے ، اللہ کی قسم ! اگر فاطمہ بنت محمد (محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیٹی فاطمہ ؓ) بھی چوری کرتیں تو میں ان کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔‘‘ بخاری ، مسلم ۔ اور مسلم کی روایت میں ہے ، عائشہ ؓ نے بیان کیا : ایک مخزومیہ عورت (فاطمہ بنت اسود) تھی جو عاریۃً چیزیں لیا کرتی تھی اور پھر ان کی واپسی کا انکار کر دیا کرتی تھی ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم فرمایا تو اس کے خاندان والے اسامہ ؓ کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے بات کی اور اسامہ ؓ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سفارش کی ، پھر امام مسلم نے حدیث مذکورہ کے مطابق حدیث بیان کی ۔ متفق علیہ ۔
عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ جس شخص کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد کے نفاذ کے آگے حائل ہو گئی تو اس نے اللہ کی مخالفت کی ، جس نے جانتے ہوئے کسی باطل (ناحق) کے بارے میں جھگڑا کیا تو وہ اس سے دست کش ہونے تک اللہ تعالیٰ کی ناراضی میں رہتا ہے اور جس نے کسی مومن پر بہتان لگایا تو وہ کچ لہو کے کیچڑ میں رہے گا حتی کہ وہ اس سے نکل آئے جو اس نے کہا ہے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، اور بیہقی کی شعب الایمان میں ایک روایت ہے :’’ جس نے کسی جھگڑے پر اعانت کی جبکہ وہ نہیں جانتا کہ وہ حق ہے یا باطل تو وہ اللہ کی ناراضی میں رہتا ہے حتی کہ وہ اس سے دست کش ہو جائے ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و البیھقی ۔
ابوامیہ مخزومی ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک چور لایا گیا ، اس نے اعتراف جرم کر لیا لیکن اس سے مال برامد نہ ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ میرا خیال ہے کہ تم نے چوری نہیں کی ۔‘‘ اس نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، ضرور کی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ یہ بات دہرائی لیکن وہ ہر مرتبہ اعتراف کرتا رہا ، آپ نے اس کے متعلق حکم فرمایا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ اور پھر اسے آپ کے پاس لایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ اللہ سے مغفرت طلب کرو اور اس کے حضور توبہ کرو ۔‘‘ اس نے عرض کیا : میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور اس کے حضور توبہ کرتا ہوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کی توبہ قبول فرما ۔‘‘ اور میں نے اصول اربعہ ، جامع الاصول ، شعب الایمان اور معالم السنن میں ابوامیہ سے اسی طرح پایا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و النسائی و ابن ماجہ و الدارقطنی ۔
اور مصابیح کے نسخوں میں ’’ ابوامیہ ‘‘ کی بجائے ’’ ابورمثہ ‘‘ ہے ۔ ضعیف ، رواہ مصابیح السنہ ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب نوشی پر کھجور کی ٹہنیاں اور جوتے مارے اور ابوبکر ؓ نے چالیس کوڑے مارے ۔ متفق علیہ ۔