انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسعد بن زرارہ ؓ کو شوکہ (یہ سرخ بادہ ہے جو غلبہ خون سے پیدا ہوتا ہے) کی بیماری میں داغ دیا ۔ ترمذی ، اور فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم قسط بحری اور زیتون سے نمونیہ کا علاج کریں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمونیہ کے علاج کے لیے زیتون اور ورس (بوٹی) کی تعریف کیا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا ، تم جلاب کے لیے کونسی دوا استعمال کرتی ہو ؟ میں نے عرض کیا : شبرم (چنے کی طرح ایک دانہ ہے جو کہ بہت گرم ہے ، اس کا پانی دوا کے طور پر پیتے ہیں) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ تو انتہائی گرم ہے ۔‘‘ وہ بیان کرتی ہیں ، پھر میں سنا کے ساتھ جلاب لیتی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اگر کسی چیز میں موت کی شفا ہوتی تو وہ سنا میں ہوتی ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابودرداء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بے شک اللہ نے بیماری اتاری ہے تو اس نے دوائی بھی اتاری ہے اور اس نے ہر بیماری کے لیے دوائی بنائی ہے ، تم علاج معالجہ کرو اور حرام چیز کے ساتھ علاج معالجہ مت کرو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حرام چیز کو بطور دوا استعمال کرنے سے بھی منع فرمایا ہے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ احمد و ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سلمی ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : جس شخص نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے درد سر کی شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ’’ پچھنے لگاؤ ۔‘‘ اور جس نے اپنے پاؤں میں تکلیف کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا :’’ مہندی لگاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خادمہ سلمی ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلوار وغیرہ یا کسی اور طرح کوئی بھی زخم آ جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس پر مہندی لگانے کا حکم فرماتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے سر اور اپنے کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے :’’ جو شخص اس خون میں سے کچھ خون نکلواتا ہے تو اگر وہ کسی مرض کا کسی دوائی کے ذریعے علاج نہ بھی کرے تو اس کے لیے کچھ مضر نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے موچ کے درد کی وجہ سے اپنی ران کے اوپر پچھنے لگوائے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن مسعود ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شب معراج کے متعلق حدیث بیان فرمائی کہ وہ فرشتوں کی جس بھی جماعت کے پاس سے گزرے تو وہ یہی کہتے کہ ’’ اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم فرمائیں ۔‘‘ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
عبد الرحمن بن عثمان ؓ سے روایت ہے کہ ایک طبیب نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مینڈک کو دوائی میں ڈالنے کے متعلق دریافت کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس کے قتل کرنے سے منع فرما دیا ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گردن کی دونوں رگوں اور کندھوں کے درمیان پچھنے لگوایا کرتے تھے ۔ ابوداؤد ، امام ترمذی اور امام ابن ماجہ نے یہ اضافہ نقل کیا ہے : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوایا کرتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگانا پسند فرماتے تھے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
ابوہریرہ ؓ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص (چاند کی) سترہ ، انیس اور اکیس تاریخ کو پچھنے لگوائے وہ ہر بیماری سے محفوظ رہے گا ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
کبشہ بنت ابی بکرہ سے روایت ہے کہ اس کے والد منگل کے روز پچھنے لگوانے سے اپنے اہل خانہ کو منع کیا کرتے تھے ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ ’’ منگل کا دن (غلبہ) خون کا دن ہے اور اس میں ایک گھڑی ہے کہ اس میں خون تھمتا نہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
زہری ؒ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مرسل روایت کرتے ہیں ،’’ جو شخص بدھ یا ہفتہ کے روز پچھنے لگوائے اور وہ برص کا شکار ہو جائے تو وہ اس صورت میں خود کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ احمد ، ابوداؤد ، اور ابوداؤد ؒ نے کہا : یہ مشہور ہے کہ یہ روایت مسند ہے ، لیکن یہ صحیح نہیں ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ احمد و ابوداؤد ۔
امام زہری ؒ سے مرسل روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ہفتے یا بدھ کے روز پچھنے لگوائے یا کوئی دوائی لیپ کرے تو وہ برص کا شکار ہونے کی صورت میں صرف اپنے نفس کو ہی ملامت کرے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ فی شرح السنہ ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کی اہلیہ زینب ؓ سے روایت ہے کہ عبداللہ نے میری گردن میں ایک دھاگہ دیکھا تو پوچھا : یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : میرے لیے دم کیا ہوا دھاگہ ہے ، انہوں نے اسے پکڑ کر کاٹ دیا ، پھر فرمایا : تم آل عبداللہ شرک سے بے نیاز ہو ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بے شک دم ، تعویذ اور جادو شرک ہے ۔‘‘ میں نے کہا : آپ اس طرح کیوں کہتے ہیں ؟ میری آنکھ میں شدید درد تھا میں فلاں یہودی کے پاس جاتی تھی ، جب وہ دم کرتا تو درد رک جاتا تھا ، (یہ سن کر) عبداللہ نے فرمایا : یہ محض شیطان کا عمل ہے ، وہ اپنا ہاتھ آنکھ پر مارتا ہے ۔ جب دم کیا جاتا ہے تو وہ ہاتھ مارنا چھوڑ دیتا ہے ، تمہارے لیے اتنا کہنا ہی کافی تھا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے :’’ لوگوں کے رب ! بیماری لے جا ، اور شفا عطا فرما ، تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے ، شفا صرف تیری ہی ہے ، ایسی شفا عطا کر کہ وہ کوئی بیماری نہ چھوڑے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جادو ، منتر (سفلی عمل کو سفلی علم سے دور کرنے) کے متعلق پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ شیطانی عمل ہے ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔