معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ قمری مہینے کی سترہ تاریخ کو منگل کے دن پچھنے لگوانا سال بھر کی بیماریوں کے لیے دوائی ہے ۔‘‘ امام احمد کے شاگرد حرب بن اسماعیل کرمانی نے اسے روایت کیا ہے ، اور اس کی سند قوی نہیں ، اور مثقیٰ میں اسی طرح ہے ۔ اسنادہ ضعیف ۔
رزین نے اس کی مثل ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ بدشگونی کچھ بھی نہیں ، اور اس کی بہتر صورت فال ہے ۔‘‘ صحابہ ؓ نے عرض کیا ، فال کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اچھی بات جو تم میں سے کوئی ایک سنتا ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ کوئی بدشگونی ہے ۔ اور الّو منحوس ہے اور نہ ماہ صفر ، اور مجذوم سے ایسے بھاگو جیسے تو شیر سے بھاگتا ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ الّو منحوس ہے اور نہ ہی ماہ صفر ۔‘‘ (یہ سن کر) ایک دیہاتی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان اونٹوں کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے جو ریگستان میں رہتے ہیں اور وہ ہرن معلوم ہوتے ہیں ، اس میں ایک خارش زدہ اونٹ شامل ہو جاتا ہے تو وہ انہیں بھی خارش لگا دیتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تو پھر پہلے (اونٹ) کو کس نے خارش زدہ کیا ؟‘‘ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ الّو منحوس ہے اور نہ کوئی ستارہ منحوس ہے اور نہ صفر منحوس ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ کوئی بیماری متعدی ہے نہ ماہ صفر منحوس ہے نہ کوئی بھوت ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عمرو بن شرید اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا : وفدِ ثقیف میں ایک مجذوم شخص تھا ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف پیغام بھیجا کہ ’’ تیری بیعت ہو گئی ہے لہذا تم واپس چلے جاؤ ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فال لیتے تھے اور آپ بدشگونی نہیں لیتے تھے اور آپ اچھے نام پسند کرتے تھے ۔ حسن ، رواہ فی شرح السنہ ۔
قطن بن قبیصہ ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ پرندوں کے ذریعے فال لینا ، لکیریں کھینچ کر فال لینا اور بدشگونی لینا جادو کی اقسام ہیں ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ بدشگونی لینا شرک ہے ، آپ نے یہ جملہ تین مرتبہ فرمایا :’’ اور ہم میں سے اگر کسی کے دل میں یہ خیال آتا ہے تو اللہ توکل کے ذریعے اسے ختم کر دیتا ہے ۔‘‘ ابوداؤد ، ترمذی ۔ امام ترمذی نے فرمایا : میں نے محمد بن اسماعیل (امام بخاری ؒ) کو بیان کرتے ہوئے سنا : سلیمان بن حرب اس حدیث کے متعلق کہا کرتے تھے :’’ اور ہم میں سے کسی کے دل میں اس کے متعلق خیال آتا ہے تو اللہ توکل کے باعث اسے ختم کر دیتا ہے ۔‘‘ اور میرا خیال ہے کہ یہ جملہ ابن مسعود ؓ کا قول ہے ۔ صحیح ، رواہ ابوداؤد و الترمذی ۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجذوم شخص کا ہاتھ پکڑا اور اسے اپنے ساتھ ہی کھانے کے برتن میں رکھا اور فرمایا :’’ اللہ پر اعتماد و بھروسہ اور توکل کرتے ہوئے کھاؤ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔
سعد بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نہ الّو منحوس ہے اور نہ کوئی بیماری متعدی ہے اور نہ ہی کوئی بدشگونی ہے ۔ اور اگر بدشگونی (یعنی نحوست) کسی چیز میں ہوتی تو گھر ، گھوڑے اور عورت میں ہوتی ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کام کے لیے نکلتے تو آپ یا راشد (راہنمائی پانے والے) ، یا نجیح (کامیابی پانے والے) کے الفاظ سننا پسند فرمایا کرتے تھے ۔ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیا کرتے تھے ، جب آپ کسی عامل (گورنر و حکمران) کو بھیجتے تو اس کا نام دریافت فرماتے ، اگر آپ کو اس کا نام پسند آتا تو آپ اس سے خوش ہوتے اور اس خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر نظر آتے ، اور اگر آپ اس کا نام ناپسند کرتے تو اس کی ناپسندیدگی آپ کے چہرے پر نظر آتی ۔ اور جب آپ کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس کا نام دریافت فرماتے ، اگر آپ کو اس کا نام اچھا لگتا تو آپ خوش ہوتے اور خوشی کے آثار آپ کے چہرے پر دکھائی دیتے ۔ اور اگر اس کے نام کو ناپسند فرماتے تو ناگواری کے اثرات آپ کے چہرے پر نمایاں ہوتے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک آدمی نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہم ایک گھر میں تھے جس سے ہمارے افراد اور اموال میں اضافہ ہوا ، پھر ہم نے وہ گھر بدل لیا تو ہمارے افراد و اموال میں کمی آ گئی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اس گھر کو چھوڑ دو کیونکہ یہ گھر اچھا نہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ ابوداؤد ۔
یحیی بن عبداللہ بن بحیر بیان کرتے ہیں ، مجھے اس شخص نے بتایا جس نے فروہ بن مسیک کو بیان کرتے ہوئے سنا ، وہ کہتے ہیں ، میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہمارے پاس ابین نامی زمین ہے ، ہماری زراعت و معیشت اسی زمین سے وابستہ ہے ، لیکن وہاں کی وبا شدید ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ بیماری کے قریب رہنا ہلاکت کو دعوت دینا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عروہ بن عامر بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس بدشگونی کا ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ان میں سے بہتر چیز نیک فال لینا ہے ، اور وہ (بدشگونی) کسی مسلمان کو کام سے مت منع کرے ، جب تم میں سے کوئی شخص ناپسندیدہ چیز دیکھے تو کہے : اے اللہ ! تمام بھلائیاں تو ہی لاتا ہے اور تمام برائیاں تو ہی دور کرتا ہے ، ہر قسم کے گناہ سے بچنا اور نیکی کرنا محض تیری توفیق سے ممکن ہے ۔‘‘ ابوداؤد نے اسے مرسل روایت کیا ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
معاویہ بن حکم بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! کچھ ایسے امور و معاملات ہیں جو ہم دور جاہلیت میں کیا کرتے تھے ، ہم کاہنوں کے پاس جایا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ تم کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : ہم پرندوں کے ذریعے فال لیا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ یہ ایسی چیز ہے جسے تم میں سے کوئی اپنے دل میں پاتا ہے وہ (فال لینا) تمہیں (کام کرنے سے) نہ روکے ۔‘‘ وہ بیان کرتے ہیں ، میں نے عرض کیا : ہم میں سے کچھ ایسے ہیں جو لکیریں کھینچا کرتے تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ایک نبی بھی لکیریں کھینچا کرتے تھے ، جس کا خط ان کے خط کے موافق ہو گیا تو وہ ٹھیک ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کاہنوں کے بارے میں دریافت کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں فرمایا :’’ ان کی کوئی حیثیت نہیں ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! بعض اوقات وہ جو کہتے ہیں ، ویسے ہی ہو جاتا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جب کسی سچی بات کو جن (اوپر سے) اچک لیتا ہے تو پھر وہ مرغی کی آواز کی طرح اسے اپنے ساتھی کے کان تک پہنچا دیتا ہے ، کاہن لوگ اس میں سو سے زیادہ جھوٹ ملا دیتے ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔