عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ میں کچھ فرق نہیں سمجھتا کہ میں تریاق پیوں یا تعویذ لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
مغیرہ بن شعبہ ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جس شخص نے داغ لگوایا یا دم کرایا تو وہ توکل سے لاتعلق ہو گیا ۔‘‘ حسن ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
عیسیٰ بن حمزہ ؒ بیان کرتے ہیں ، میں عبداللہ بن عکیم ؓ کے پاس گیا تو انہیں سرخ بادہ کا مرض تھا ، میں نے کہا : آپ تعویذ کیوں نہیں لیتے ؟ انہوں نے کہا : ہم اس سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے تو اسے اسی کے سپرد کر دیا جاتا ہے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نظر لگ جانے یا کسی کے ڈسنے سے دم کرنا جائز ہے ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابوداؤد ۔
امام ابن ماجہ نے اسے بریدہ ؓ سے روایت کیا ہے ۔ صحیح ، رواہ ابن ماجہ ۔
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ نظر لگ جانے یا کسی چیز کے ڈس لینے یا نکسیر جاری ہونے پر دم کرنا درست ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
اسماء بن عمیس ؓ سے روایت ہے ، انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! جعفر ؓ کی اولاد کو بہت جلد نظر لگ جاتی ہے ، کیا میں انہیں دم کراؤں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ ہاں ، کیونکہ اگر تقدیر پر کوئی چیز غالب ہوتی تو اس پر نظر غالب آتی ۔‘‘ صحیح ، رواہ احمد و الترمذی و ابن ماجہ ۔
شفاء بنت عبداللہ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو میں حفصہ ؓ کے پاس تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم اس (حفصہ ؓ) کو نملہ (پھنسیاں جو پسلی پر نکلتی ہیں) کا دم نہیں سکھا دیتی جس طرح تم نے اسے لکھنا سکھایا ہے ؟‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ ابوداؤد ۔
ابوامامہ بن سہل بن حنیف بیان کرتے ہیں ، عامر بن ربیعہ نے سہل بن حنیف کو غسل کرتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کہا ، اللہ کی قسم ! میں نے جس قدر سفید و ملائم جلد آج دیکھی ہے ایسی کبھی نہیں دیکھی ، راوی بیان کرتے ہیں ، (اسی بات پر) سہل بے ہوش ہو کر گر گئے ، انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا گیا ، اللہ کے رسول ! کیا آپ کو سہل بن حنیف کے بارے میں کچھ خبر ہے ؟ اللہ کی قسم ! وہ تو اپنا سر بھی نہیں اٹھاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کیا تم اس کے متعلق کسی کے بارے میں گمان کرتے ہو ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا ، ہم عامر بن ربیعہ کے بارے میں گمان کرتے ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عامر کو بلایا اور اس سے سخت لہجے میں بات کی اور فرمایا :’’ تم اپنے بھائی کو قتل کرتے ہو ، تم نے اس کے لیے برکت کی دعا کیوں نہ کی ، اس کے لیے غسل کرو ۔‘‘ عامر نے اس کے لیے ایک برتن میں اپنا چہرہ ، اپنے ہاتھ ، اپنی کہنیاں ، اپنے گھٹنے ، پاؤں کے اطراف اور ازار کے ساتھ کے اعضاء دھوئے ، پھر وہ پانی اس پر ڈالا گیا تو وہ (اٹھ کر) لوگوں کے ساتھ چل پڑا اور اسے کوئی تکلیف نہیں تھی ۔ اور امام مالک نے اسے روایت کیا ہے ، اور ان کی روایت میں ہے ، فرمایا :’’ بے شک نظر (کی تاثیر) ثابت ہے ، اس کے لیے وضو کر ۔‘‘ اس نے اس کے لیے وضو کیا ۔ صحیح ، رواہ فی شرح السنہ و مالک ۔
ابوسعید خدری ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (اذکار کے ذریعے) جنوں اور انسان کی نظر سے پناہ طلب کیا کرتے تھے حتی کہ سورۃ الفلق اور سورۃ الناس نازل ہوئیں ، جب وہ نازل ہوئیں تو آپ نے انہیں لے لیا اور جو ان دونوں کے علاوہ تھا اسے ترک کر دیا ۔ اور امام ترمذی نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔
عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے فرمایا :’’ کیا تم میں ’’مغربون‘‘ دیکھے گئے ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ’’مغربون‘‘ کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ وہ لوگ (جو اللہ کا ذکر نہیں کرتے) ان میں جن (شیطان) شریک ہو جاتا ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
ابن عباس ؓ سے مروی حدیث :’’ بہترین علاج جس کے ....‘‘ بَابُ التَّرَجُّلِ میں ذکر کی گئی ہے ۔ ضعیف تقدم ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ معدہ بدن کا حوض ہے ، جبکہ رگیں (ہر طرف سے) اس کی طرف آتی ہیں ، جب معدہ درست ہو گا تو رگیں تندرستی لے کر واپس آتی ہیں ، اور جب معدہ بیمار ہوتا ہے ، تو رگیں بیماری لے کر واپس آتی ہیں ۔ موضوع ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تو بچھو نے آپ کو ڈس لیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا جوتا مار کر اسے مار دیا ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فارغ ہوئے تو فرمایا :’’ اللہ بچھو پر لعنت فرمائے وہ کسی نمازی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو ۔‘‘ یا فرمایا :’’ کسی نبی کو چھوڑتا ہے نہ کسی اور کو ۔‘‘ پھر آپ نے نمک اور پانی منگایا اور انہیں ایک برتن میں جمع کر دیا ۔ پھر آپ اس انگلی پر جہاں اس نے ڈسا تھا ڈالنے لگے ، اسے ملنے لگے اور معوذتین کے ذریعے اس سے پناہ طلب کرنے لگے ۔ امام بیہقی نے دونوں روایتیں شعب الایمان میں ذکر کی ہیں ۔ حسن ، رواہ البیھقی فی شعب الایمان ۔
عثمان بن عبداللہ بن موہب بیان کرتے ہیں ، میرے اہل خانہ نے پانی کا پیالہ دے کر مجھے ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا ، اور یہ دستور تھا کہ جب کسی کو نظر لگ جاتی یا کوئی اور مسئلہ درپیش ہوتا تو وہ پانی کا برتن ام سلمہ ؓ کی طرف بھیج دیا کرتے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال ، جو کہ انہوں نے چاندی کی گھنٹی میں رکھے ہوئے تھے ، نکالتیں اور انہیں اس شخص کے لیے (پانی میں) ہلاتیں اور بیمار آدمی وہ پانی پی لیتا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ، میں نے اس ڈبیا میں جھانک کر دیکھا تو میں نے سرخ بال دیکھے ۔ رواہ البخاری ۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا ، کھنبی زمین کی چیچک ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ کھنبی ، من (من و سلوی) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے باعث شفا ہے ، اور عجوہ (کھجور) جنت سے ہے اور وہ زہر کا تریاق ہے ۔‘‘ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے تین یا پانچ یا سات کھنبیاں لیں ، انہیں نچوڑ کر ان کے پانی کو ایک شیشی میں رکھ لیا ، اور میں نے اپنی اس لونڈی کی آنکھوں میں وہ پانی ڈالا جس کی آنکھوں سے پانی بہتا رہتا تھا ، تو وہ اس سے صحت یاب ہو گئی ۔ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ جو شخص ہر ماہ تین روز شہد چاٹتا ہے تو اسے کوئی بڑی بیماری لاحق نہیں ہوتی ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :’’ شفا دینے والی دو چیزوں کو لازم پکڑو (یعنی) شہد اور قرآن ۔‘‘ امام ابن ماجہ نے دونوں رواتیں نقل کی ہیں ، اور امام بیہقی نے انہیں شعب الایمان میں نقل کیا اور فرمایا : صحیح بات یہ ہے کہ آخری (دوسری) حدیث ابن مسعود ؓ پر موقوف ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ و البیھقی فی شعب الایمان ۔
ابو کبشہ انماری ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زہر والی بکری (کھانے) کی وجہ سے اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے ۔ معمر بیان کرتے ہیں ، میں نے بھی زہر کے اثر کے بغیر ہی اپنے سر کے وسط میں پچھنے لگوائے تو میرا حافظہ جاتا رہا حتی کہ دورانِ نماز مجھے سورۂ فاتحہ کا لقمہ دیا جاتا تھا ۔ لم اجدہ ، رواہ رزین ۔
نافع بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : نافع ! میرا فشارِ خون بڑھ رہا ہے کسی پچھنے لگانے والے نوجوان کو میرے پاس لاؤ ، دیکھنا وہ بوڑھا یا بچہ نہ ہو ، راوی بیان کرتے ہیں ، ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا :’’ خالی پیٹ پچھنے لگوانا زیادہ بہتر ہے ، وہ عقل و فہم اور حافظہ میں اضافہ کرتا ہے ، جس شخص نے پچھنے لگوانے ہوں تو وہ جمعرات کے روز اللہ تعالیٰ کا نام لے کر پچھنے لگوائے ، جمعہ ہفتہ اور اتوار کو پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ۔ پیر اور منگل کو پچھنے لگواؤ اور بدھ کے روز پچھنے لگوانے سے اجتناب کرو ، کیونکہ یہ وہ دن ہے جس روز ایوب ؑ آزمائش کا شکار ہوئے ، جذام اور برص بدھ کے روز یا بدھ کی رات ہی ظاہر ہوتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ ابن ماجہ ۔