Narrated Yali رضی اللہ عنہ :
I heard the Prophet (ﷺ) reciting the following Verse on the pulpit: "They will call: O Mali......' and Sufyan said that `Abdullah رضی اللہ عنہما recited it: 'They will call: O Mali..' (43.77)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن دینار نے ، ان سے عطاء بن ابی رباح نے ، ان سے صفوان بن یعلیٰ نے اور ان سے ان کے والد ( یعلیٰ بن امیہ رضی اللہ عنہ ) نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ منبر پر سورۃ الاحزاب کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے » ونادوا یا مالک « اور وہ دوزخی پکاریں گی اے مالک ! ( یہ داروغہ جہنم کا نام ہے ) اور سفیان نے کہا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کی رات میں یوں ہے » ونادوا یا مال « ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
She asked the Prophet (ﷺ) , 'Have you encountered a day harder than the day of the battle) of Uhud?" The Prophet (ﷺ) replied, "Your tribes have troubled me a lot, and the worse trouble was the trouble on the day of 'Aqaba when I presented myself to Ibn `Abd-Yalail bin `Abd-Kulal and he did not respond to my demand. So I departed, overwhelmed with excessive sorrow, and proceeded on, and could not relax till I found myself at Qarnath-Tha-alib where I lifted my head towards the sky to see a cloud shading me unexpectedly. I looked up and saw Gabriel in it. He called me saying, 'Allah has heard your people's saying to you, and what they have replied back to you, Allah has sent the Angel of the Mountains to you so that you may order him to do whatever you wish to these people.' The Angel of the Mountains called and greeted me, and then said, "O Muhammad! Order what you wish. If you like, I will let Al-Akh-Shabain (i.e. two mountains) fall on them." The Prophet (ﷺ) said, "No but I hope that Allah will let them beget children who will worship Allah Alone, and will worship None besides Him."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن وہب نے خبر دی ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، ان سے ابن شہاب نے کہا ، ان سے عروہ نے کہا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ، کیا آپ پر کوئی دن احد کے دن سے بھی زیادہ سخت گزرا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہاری قوم ( قریش ) کی طرف سے میں نے کتنی مصیبتیں اٹھائی ہیں لیکن اس سارے دور میں عقبہ کا دن مجھ پر سب سے زیادہ سخت تھا یہ وہ موقع تھا جب میں نے ( طائف کے سردار ) کنانہ بن عبد یالیل بن عبد کلال کے ہاں اپنے آپ کو پیش کیا تھا ۔ لیکن اس نے ( اسلام کو قبول نہیں کیا اور ) میری دعوت کو رد کر دیا ۔ میں وہاں سے انتہائی رنجیدہ ہو کر واپس ہوا ۔ پھر جب میں قرن الثعالب پہنچا ، تب مجھ کو کچھ ہوش آیا ، میں نے اپنا سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ بدلی کا ایک ٹکڑا میرے اوپر سایہ کئے ہوئے ہے اور میں نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام اس میں موجود ہیں ، انہوں نے مجھے آواز دی اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کے بارے میں آپ کی قوم کی باتیں سن چکا اور جو انہوں نے رد کیا ہے وہ بھی سن چکا ۔ آپ کے پاس اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں کا فرشتہ بھیجا ہے ، آپ ان کے بارے میں جو چاہیں اس کا اسے حکم دے دیں ۔ اس کے بعد مجھے پہاڑوں کے فرشتے نے آواز دی ، انہوں نے مجھے سلام کیا اور کہا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! پھر انہیں نے بھی وہی بات کہی ، آپ جو چاہیں ( اس کا مجھے حکم فرمائیں ) اگر آپ چاہیں تو میں دونوں طرف کے پہاڑ ان پر لا کر ملا دوں ( جن سے وہ چکنا چور ہو جائیں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، مجھے تو اس کی امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی نسل سے ایسی اولاد پیدا کرے گا جو اکیلے اللہ کی عبادت کرے گی ، اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائے گی ۔
Narrated Abu 'Is-haq-Ash-Shaibani:
I asked Zir bin Hubaish regarding the Statement of Allah: "And was at a distance Of but two bowlengths Or (even) nearer; So did (Allah) convey The Inspiration to His slave (Gabriel) and then he (Gabriel) Conveyed (that to Muhammad). (53.9-10) On that, Zir said, "Ibn Mas`ud رضی اللہ عنہما informed us that the Prophet (ﷺ) had seen Gabriel having 600 wings."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسحاق شیبانی نے بیان کیا ، کہا کہ
میں نے زر بن حبیش سے اللہ تعالیٰ کے ( سورۃ النجم میں ) ارشاد » فکان قاب قوسین اوادنیٰ فاوحیٰ الی عبدہ ما اوحیٰ « کے متعلق پوچھا ، تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم سے ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ( اپنی اصلی صورت میں ) دیکھا ، تو ان کے چھ سو بازو تھے ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Regarding the Verse: "Indeed he (Muhammad) did see. Of the Signs of his Lord, The Greatest!" (53.18) That the Prophet (ﷺ) had seen a green carpet spread all over the horizon of the sky.
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابراہیم نے ، ان سے علقمہ نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے
( اللہ تعالیٰ کے ارشاد ) » لقد رای من ایات ربہ الکبریٰ « کے متعلق بتلایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سبز رنگ کا بچھونا دیکھا تھا جو آسمان میں سارے کناروں کو گھیرے ہوئے تھا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Whoever claimed that (the Prophet) Muhammad saw his Lord, is committing a great fault, for he only saw Gabriel in his genuine shape in which he was created covering the whole horizon.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ، ان سے ابن عون نے ، کہا ہم کو قاسم نے خبر دی اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
جس نے یہ گمان کیا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا تھا تو اس نے بڑی جھوٹی بات زبان سے نکالی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ( معراج کی رات میں ) ان کی اصل صورت میں دیکھا تھا ۔ ان کے وجود نے آسمان کا کنارہ ڈھانپ لیا تھا ۔
Narrated Masruq:
I asked Aisha رضی اللہ عنہا "What about His Statement:-- "Then he (Gabriel) approached And came closer, And was at a distance Of but two bow-lengths Or (even) nearer?" (53.8-9) She replied, "It was Gabriel who used to come to the Prophet (ﷺ) in the figure of a man, but on that occasion, he came in his actual and real figure and (he was so huge) that he covered the whole horizon."
مجھ سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے زکریابن ابی زائدہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن الاشوع نے ، ان سے شعبی نے اور ان سے مسروق نے بیان کیا کہ
میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا ( ان کے اس کہنے پر کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دیکھا نہیں تھا ) پھر اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد » ثم دنی فتدلیٰ فکان قاب قوسین او ادنیٰ « کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے کہا کہ یہ آیت تو جبرائیل علیہ السلام کے بارے میں ہے ، وہ انسانی شکل میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا کرتے تھے اور اس مرتبہ اپنی اس شکل میں آئے جو اصلی تھی اور انہوں نے تمام آسمان کے کناروں کو ڈھانپ لیا تھا ۔
Narrated Samura رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Last night I saw (in a dream) two men coming to me. One of them said, "The person who kindles the fire is Malik, the gate-keeper of the (Hell) Fire, and I am Gabriel, and this is Michael."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا ، ان سے ابورجاء نے بیان کیا ، ان سے سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں نے آج رات ( خواب میں ) دیکھا کہ دو شخص میرے پاس آئے ۔ ان دونوں نے مجھے بتایا کہ وہ جو آگ جلا رہا ہے ۔ وہ جہنم کا داروغہ مالک نامی فرشتہ ہے ۔ میں جبرائیل ہوں اور یہ میکائیل ہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If a husband calls his wife to his bed (i.e. to have sexual relation) and she refuses and causes him to sleep in anger, the angels will curse her till morning." Abu Hamza, Ibn-e-Daud, Abu Moaviyah have corroborated him (i.e. Abu Awanah) from Aamash.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے اعمش نے ، ان سے ابوحازم نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر کسی مرد نے اپنی بیوی کو اپنے بستر پر بلایا ، لیکن اس نے آنے سے انکار کر دیا اور مرد اس پر غصہ ہو کر سو گیا ، تو صبح تک فرشتے اس عورت پر لعنت کرتے رہتے ہیں ۔ اس روایت کی متابعت ، ابوحمزہ ، ابن داوداور ابومعاویہ نے اعمش کے واسطہ سے کی ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما report that he heard the Prophet (ﷺ) saying:
"The Divine Inspiration was delayed for a short period but suddenly, as I was walking. I heard a voice in the sky, and when I looked up towards the sky, to my surprise, I saw the angel who had come to me in the Hira Cave, and he was sitting on a chair in between the sky and the earth. I was so frightened by him that I fell on the ground and came to my family and said (to them), 'Cover me! (with a blanket), cover me!' Then Allah sent the Revelation: "O, You wrapped up (In a blanket)! (Arise and warn! And your Lord magnify And keep pure your garments, And desert the idols." (74.1-5)
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو لیث نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا ، انھوں نے بیان کیا کہ مجھے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے خبر دی اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ نے فرمایا تھا کہ
( پہلے غار حراء میں جو حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھ کو سورۃ اقراء پڑھا کر گئے تھے اس کے بعد ) مجھ پر وحی کا نزول ( تین سال ) بند رہا ۔ ایک بار میں کہیں جا رہا تھا کہ میں نے آسمان میں سے ایک آواز سنی اور نظر آسمان کی طرف اٹھائی ، میں نے دیکھا کہ وہی فرشتہ جو غار حرا میں میرے پاس آیا تھا ( یعنی حضرت جبرائیل علیہ السلام ) آسمان اور زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے ۔ میں انہیں دیکھ کر اتنا ڈر گیا کہ زمین پر گر پڑا ۔ پھر میں اپنے گھر آیا اور کہنے لگا کہ مجھے کچھ اوڑھا دو ، مجھے کچھ اوڑھا دو ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ۔ » یا ایہا المدثر « اللہ تعالیٰ کے ارشاد فاہجر تک ۔ ابوسلمہ نے کہا کہ آیت میں الرجز سے بت مراد ہیں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "On the night of my Ascent to the Heaven, I saw Moses who was a tall brown curlyhaired man as if he was one of the men of Shan'awa tribe, and I saw Jesus, a man of medium height and moderate complexion inclined to the red and white colors and of lank hair. I also saw Malik, the gate-keeper of the (Hell) Fire and Ad-Dajjal amongst the signs which Allah showed me." (The Prophet then recited the Holy Verse): "So be not you in doubt of meeting him' when you met Moses during the night of Mi'raj over the heavens" (32.23) Narrated Anas and Abu Bakra رضی اللہ عنہما : "The Prophet (ﷺ) said, "The angels will guard Medina from Ad-Dajjal (who will not be able to enter the city of Medina).
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن عروبہ نے ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے تمہارے نبی کے چچازاد بھائی عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شب معراج میں میں نے موسیٰ علیہ السلام کو دیکھا تھا ، گندمی رنگ ، قد لمبا اور بال گھونگھریالے تھے ، ایسے لگتے تھے جیسے قبیلہ شنوہ کا کوئی شخص ہو اور میں نے عیسیٰ علیہ السلام کو بھی دیکھا تھا ۔ درمیانہ قد ، میانہ جسم ، رنگ سرخی اور سفیدی لیے ہوئے اور سر کے بال سیدھے تھے ( یعنی گھونگھریالے نہیں تھے ) اور میں نے جہنم کے داروغہ کو بھی دیکھا اور دجال کو بھی ، منجملہ ان آیات کے جو اللہ تعالیٰ نے مجھ کو دکھائی تھیں ( سورۃ السجدہ میں اسی کا ذکر ہے کہ ) پس ( اے نبی ! ) ان سے ملاقات کے بارے میں آپ کسی قسم کا شک و شبہ نہ کریں ، یعنی موسیٰ علیہ السلام سے ملنے میں ، انس اور ابوبکرہ رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یوں بیان کیا کہ جب دجال نکلے گا تو فرشتے دجال سے مدینہ کی حفاظت کریں گے ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رصی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When anyone of you dies, he will be shown his destination both in the morning and in the evening, and if he belongs to the people of Paradise, he will be shown his place in Paradise, and if he is from the people of Hell, he will be shown his place in Hell."
ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رصی اللہ عنہما نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب کوئی شخص مرتا ہے تو ( روزانہ ) صبح و شام دونوں وقت اس کا ٹھکانا ( جہاں وہ آخرت میں رہے گا ) اسے دکھلایا جاتا ہے ۔ اگر وہ جنتی ہے تو جنت میں اگر وہ دوزخی ہے تو دوزخ میں ۔
Narrated `Imran bin Husain رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "I looked at Paradise and found poor people forming the majority of its inhabitants; and I looked at Hell and saw that the majority of its inhabitants were women."
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلم بن زریر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابورجاء نے بیان کیا اور ان سے عمران بن حصین رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، میں نے جنت میں جھانک کر دیکھا تو جنتیوں میں زیادتی غریبوں کی نظر آئی اور میں نے دوزخ میں جھانک کر دیکھا تو دوزخیوں میں کثرت عورتوں کی نظر آئی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
While we were in the company of the Prophet, he said, "While I was asleep, I saw myself in Paradise and there I beheld a woman making ablution beside a palace, I asked, To whom does this palace belong? 'They said, To `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ .' Then I remembered `Umar's Ghaira (concerning women), and so I quickly went away from that palace." (When `Umar heard this from the Prophet), he wept and said, "Do you think it is likely that I feel Ghaira because of you, O Allah's Messenger (ﷺ)?"
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا کہا کہ مجھ سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، کہا مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، تو آپ نے فرمایا کہ میں نے خواب میں جنت دیکھی ، میں نے اس میں ایک عورت کو دیکھا جو ایک محل کے کنارے وضو کر رہی تھی ۔ میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے ؟ تو فرشتوں نے بتایا کہ یہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا محل ہے ۔ مجھے ان کی غیرت یاد آئی اور میں وہاں سے فوراً لوٹ آیا ۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ رو دئیے اور کہنے لگے ، یا رسول اللہ ! کیا میں آپ کے ساتھ بھی غیرت کروں گا ؟
Narrated `Abdullah bin Qais Al-Ash`ari:
The Prophet (ﷺ) said, "A tent (in Paradise) is like a hollow pearl which is thirty miles in height and on every corner of the tent the believer will have a family that cannot be seen by the others." (Narrated Abu `Imran in another narration, "The tent is sixty miles in height.")
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوعمران جونی سے سنا ، ان سے ابوبکر بن عبداللہ بن قیس اشعری نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ( جنتیوں کا ) خیمہ کیا ہے ، ایک موتی ہے خولدار جس کی بلندی اوپر کو تیس میل تک ہے ۔ اس کے ہر کنارے پر مومن کی ایک بیوی ہو گی جسے دوسرے نہ دیکھ سکیں گے ۔ ابوعبدالصمد اور حارث بن عبید نے ابوعمران سے ( بجائے تیس میل کے ) ساٹھ میل بیان کیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Allah said, "I have prepared for My Pious slaves things which have never been seen by an eye, or heard by an ear, or imagined by a human being." If you wish, you can recite this Verse from the Holy Qur'an:--"No soul knows what is kept hidden for them, of joy as a reward for what they used to do." (32.17)
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ چیزیں تیار کر رکھی ہیں ، جنہیں نہ آنکھوں نے دیکھا ، نہ کانوں نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا کبھی خیال گزرا ہے ۔ اگر جی چاہے تو یہ آیت پڑھ لو ” پس کوئی شخص نہیں جانتاکہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے کیا کیا چیزیں چھپا کر رکھی گئی ہیں “ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The first group (of people) who will enter Paradise will be (glittering) like the moon when it is full. They will not spit or blow their noses or relieve nature. Their utensils will be of gold and their combs of gold and silver; in their centers the aloe wood will be used, and their sweat will smell like musk. Everyone of them will have two wives; the marrow of the bones of the wives' legs will be seen through the flesh out of excessive beauty. They ( i.e. the people of Paradise) will neither have differences nor hatred amongst themselves; their hearts will be as if one heart and they will be glorifying Allah in the morning and in the evening."
ہم سے محمد بن مقاتل نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودہویں کا چاند روشن ہوتا ہے ۔ نہ اس میں تھوکیں گے نہ ان کی ناک سے کوئی آلائش آئے گی اور نہ پیشاب ، پائخانہ کریں گے ۔ ان کے برتن سونے کے ہوں گے ۔ کنگھے سونے چاندی کے ہوں گے ۔ انگیٹھیوں کا ایندھن عود کا ہو گا ۔ پسینہ مشک جیسا خوشبودار ہو گا اور ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی ۔ جن کا حسن ایسا ہو گا کہ پنڈلیوں کا گودا گوشت کے اوپر سے دکھائی دے گا ۔ نہ جنتیوں میں آپس میں کوئی اختلاف ہو گا اور نہ بغض و عناد ، ان کے دل ایک ہوں گے اور وہ صبح و شام اللہ پاک کی تسبیح و تہلیل میں مشغول رہا کریں گے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The first batch (of people) who will enter Paradise will be (glittering) like a full moon; and those who will enter next will be (glittering) like the brightest star. Their hearts will be as if the heart of a single man, for they will have no enmity amongst themselves, and everyone of them shall have two wives, each of whom will be so beautiful, pure and transparent that the marrow of the bones of their legs will be seen through the flesh. They will be glorifying Allah in the morning and evening, and will never fall ill, and they will neither blow their noses, nor spit. Their utensils will be of gold and silver, and their combs will be of gold, and the fuel used in their centers will be the aloeswood, and their sweat will smell like musk." Mujahid says: "الإِبْكَارُ" means morning and "الْعَشِيُّ" means: Decline of the sun'to set in.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، ان سے ابالزناد نے بیان کیا ، ان سے اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جنت میں داخل ہونے والے سب سے پہلے گروہ کے چہرے ایسے روشن ہوں گے جیسے چودہویں کا چاند ہوتا ہے ۔ جو گروہ اس کے بعد داخل ہو گا ان کے چہرے سب سے زیادہ چمک دار ستارے جیسے روشن ہوں گے ۔ ان کے دل ایک ہوں گے کہ کوئی بھی اختلاف ان میں آپس میں نہ ہو گا اور نہ ایک دوسرے سے بغض و حسد ہو گا ۔ ہر شخص کی دو بیویاں ہوں گی ، ان کی خوبصورتی ایسی ہو گی کہ ان کی پنڈلیوں کا گودا گوشت کے اوپر سے دکھائی دے گا ۔ وہ صبح شام اللہ کی تسبیح کرتے رہیں گے نہ ان کو کوئی بیماری ہو گی ، نہ ان کی ناک میں کوئی آلائش آئے گی اور نہ تھوک آئے گا ۔ ان کے برتن سونے اور چاندی کے اور کنگھے سونے کے ہوں گے اور ان کی انگیٹھیوں کا ایندھن الوہ کا ہو گا ، ابوالیمان نے بیان کیا کہ الوہ سے عود ہندی مراد ہے ۔ اور ان کا پسینہ مشک جیسا ہو گا ۔ مجاہد نے کہا کہ ابکار سے مراد اول فجر ہے ۔ اور العشی سے مراد سورج کا اتنا ڈھل جانا کہ وہ غروب ہوتا نظر آنے لگے ۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Verily! 70,000 or 700,000 of my followers will enter Paradise altogether; so that the first and the last amongst them will enter at the same time, and their faces will be glittering like the bright full moon."
ہم سے محمد بن ابی بکر مقدمی نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے فضیل بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ابوحازم نے بیان کیا اور ان سے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری امت میں سے ستر ہزار یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) سات لاکھ کی ایک جماعت جنت میں ایک ہی وقت میں داخل ہوں گی اور ان سب کے چہرے ایسے چمکیں گے جیسے چودہویں کا چاند چمکتا ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
A silken cloak was presented to the Prophet (ﷺ) and he used to forbid the usage of silk (by men). When the people were fascinated by the cloak. he said, "By Allah in Whose Hands the life of Muhammad is, the handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh in Paradise are better than this."
ہم سے عبداللہ بن محمد جعفی نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا ، ان سے شیبان نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سندس ( ایک خاص قسم کا ریشم ) کا ایک جبہ تحفہ میں پیش کیا گیا ۔ آپ ( مردوں کے لیے ) ریشم کے استعمال سے پہلے ہی منع فرما چکے تھے ۔ لوگوں نے اس جبے کو بہت ہی پسند کیا ، تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ کے رو مال اس سے بہتر ہوں گے ۔
Narrated Al-Bara bin Azib رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) was given a silken garment, and its beauty and delicacy astonished the people. On that, Allah's Messenger (ﷺ) said, "No doubt, the handkerchiefs of Sa`d bin Mu`adh in Paradise are better than this."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابواسحاق نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے سنا ، آپ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک کپڑا پیش کیا گیا اس کی خوبصورتی اور نزاکت نے لوگوں کو حیرت میں ڈال دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنت میں سعد بن معاذ کے رو مال اس سے بہتر اور افضل ہیں ۔