Narrated Abu Qatada:
The Prophet (ﷺ) said, "A good dream is from Allah, and a bad or evil dream is from Satan; so if anyone of you has a bad dream of which he gets afraid, he should spit on his left side and should seek Refuge with Allah from its evil, for then it will not harm him."
( دوسری سند ) ہم سے ابوالمغیرہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مثل روایت سابقہ کی حدیث بیان کی ) مجھ سے سلیمان بن عبدالرحمن نے بیان کیا ، کہا ہم سے ولید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی قتادہ نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے ۔ اس لیے اگر کوئی برا اور ڈراونا خواب دیکھے تو بائیں طرف تھوتھو کر کے شیطان کے شر سے اللہ کی پناہ مانگے ۔ اس عمل سے شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If one says one-hundred times in one day: "None has the right to be worshipped but Allah, the Alone Who has no partners, to Him belongs Dominion and to Him belong all the Praises, and He has power over all things (i.e. Omnipotent)", one will get the reward of manumitting ten slaves, and one-hundred good deeds will be written in his account, and one-hundred bad deeds will be wiped off or erased from his account, and on that day he will be protected from the morning till evening from Satan, and nobody will be superior to him except one who has done more than that which he has done."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوبکر کے غلام سمی نے ، انہیں ابوصالح نے اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جو شخص دن بھر میں سو مرتبہ یہ دعا پڑھے گا ( ترجمہ ) ” نہیں ہے کوئی معبود ، سوا اللہ تعالیٰ کے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ملک اسی کا ہے ۔ اور تمام تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ “ تو اسے دس غلام آزاد کرنے کے برابر ثواب ملے گا ۔ سو نیکیاں اس کے نامہ اعمال میں لکھی جائیں گی اور سو برائیاں اس سے مٹا دی جائیں گی ۔ اس روز دن بھر یہ دعا شیطان سے اس کی حفاظت کرتی رہے گی ۔ تاآنکہ شام ہو جائے اور کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہ آئے گا ، مگر جو اس سے بھی زیادہ یہ کلمہ پڑھ لے ۔
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas:
Once `Umar رضی اللہ عنہ asked the leave to see Allah's Messenger (ﷺ) in whose company there were some Quraishi women who were talking to him and asking him for more financial support raising their voices. When `Umar asked permission to enter the women got up (quickly) hurrying to screen themselves. When Allah's Messenger (ﷺ) admitted `Umar رضی اللہ عنہ , Allah's Messenger (ﷺ) was smiling, `Umar رضی اللہ عنہ asked, "O Allah's Messenger (ﷺ)! May Allah keep you in happiness always." Allah's Messenger (ﷺ) said, "I am astonished at these women who were with me. As soon as they heard your voice, they hastened to screen themselves." `Umar said, "O Allah's Apostle! You have more right to be feared by them." Then he addressed (those women) saying, "O enemies of your own souls! Do you fear me and not Allah's Messenger (ﷺ) ?" They replied. "Yes, for you are a fearful and fierce man as compared with Allah's Messenger (ﷺ)." On that Allah's Messenger (ﷺ) said (to `Umar), "By Him in Whose Hands my life is, whenever Satan sees you taking a path, he follows a path other than yours."
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا ، ان سے صالح نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے عبدالحمید بن عبدالرحمن بن زید نے خبر دی ، انہیں محمد بن سعد بن ابی وقاص ( رضی اللہ عنہ ) نے خبر دی اور ان سے ان کے والد حضرت سعد بن ابی وقاص نے بیان کیا کہ
ایک دفعہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی ۔ اس وقت چند قریشی عورتیں ( خود آپ کی بیویاں ) آپ کے پاس بیٹھی آپ سے گفتگو کر رہی تھیں اور آپ سے ( خرچ میں ) بڑھانے کا سوال کر رہی تھیں ۔ خوب آواز بلند کر کے ۔ لیکن جونہی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی ، وہ خواتین جلدی سے پردے کے پیچھے چلی گئیں ۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا رہے تھے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ، اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کو ہنساتا رکھے ، یا رسول اللہ ! آپ نے فرمایا کہ مجھے ان عورتوں پر تعجب ہوا ابھی ابھی میرے پاس تھیں ، لیکن جب تمہاری آواز سنی تو پردے کے پیچھے جلدی سے بھاگ گئیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، لیکن آپ یا رسول اللہ ! زیادہ اس کے مستحق تھے کہ آپ سے یہ ڈرتیں ، پھر انہوں نے کہا ، اے اپنی جانوں کے دشمنو ! مجھ سے تو تم ڈرتی ہو اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں ڈرتیں ۔ ازواج مطہرات بولیں کہ واقعہ یہی ہے کیونکہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے برخلاف مزاج میں بہت سخت ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر شیطان بھی کہیں راستے میں تم سے مل جائے ، تو جھٹ وہ راستہ چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کر لیتا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you rouses from sleep and performs the ablution, he should wash his nose by putting water in it and then blowing it out thrice, because Satan has stayed in the upper part of his nose all the night."
ہم سے ابراہیم بن حمزہ نے بیان کیا ، کہا مجھ سے ابن ابی حازم نے بیان کیا ، ان سے یزید نے ، ان سے محمد بن ابراہیم نے ، ان سے عیسیٰ بن طلحہ نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب کوئی شخص سو کر اٹھے اور پھر وضو کرے تو تین مرتبہ ناک جھاڑے ، کیونکہ شیطان رات بھر اس کی ناک کے نتھنے پر بیٹھا رہتا ہے ۔ ( جس سے آدمی پر سستی غالب آجاتی ہے ۔ پس ناک جھاڑنے سے وہ سستی دور ہو جائے گی ) ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin `Abdullah bin `Abdur-Rahman bin Abi Sasaa Ansari:
Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ said to his father. "I see you are fond of sheep and the desert, so when you want to pronounce the Adhan, raise your voice with it for whoever will hear the Adhan whether a human being, or a Jinn, or anything else, will bear witness, in favor on the Day of Resurrection." Abu Sa`id رضی اللہ عنہ added, "I have heard this from Allah's Messenger (ﷺ) ."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے امام مالک نے ، ان سے عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ انصاری نے اور انہیں ان کے والد نے خبر دی کہ
ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھتا ہوں کہ تم کو جنگل میں رہ کر بکریاں چرانا بہت پسند ہے ۔ اس لیے جب کبھی اپنی بکریوں کے ساتھ تم کسی بیابان میں موجود ہو اور ( وقت ہونے پر ) نماز کے لیے اذان دو تو اذان دیتے ہوئے اپنی آواز خوب بلند کرو ، کیونکہ مؤذن کی آواز اذان کو جہاں تک بھی کوئی انسان ، جن یا کوئی چیز بھی سنے گی تو قیامت کے دن اس کے لیے گواہی دے گی ۔ حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
He heard the Prophet (ﷺ) delivering a sermon on the pulpit saying, "Kill snakes and kill Dhu-at- Tufyatain (i.e. a snake with two white lines on its back) and Al-Abtar (i.e. a snake with short or mutilated tail) for they destroy the sight of one's eyes and bring about abortion." (`Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما further added): Once while I was chasing a snake in order, to kill it, Abu Lubaba رضی اللہ عنہ called me saying: "Don't kill it," I said. "Allah's Messenger (ﷺ) ordered us to kill snakes." He said, "But later on he prohibited the killing of snakes living in the houses." (Az-Zuhri said. "Such snakes are called Al-Awamir.")
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے بیان کیا ، ان سے سالم نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ آپ منبر پر خطبہ دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ سانپوں کو مار ڈالا کرو ( خصوصاً ) ان کو جن کے سروں پر دو نقطے ہوتے ہیں اور دم بریدہ سانپ کو بھی ، کیونکہ دونوں آنکھ کی روشنی تک ختم کر دیتے ہیں اور حمل تک گرا دیتے ہیں ۔عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہمانے کہا کہ ایک مرتبہ میں ایک سانپ کو مارنے کی کوشش کر رہا تھا کہ مجھ سے ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے پکار کر کہا کہ اسے نہ مارو ، میں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو سانپوں کے مارنے کا حکم دیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ بعد میں پھر آنحضرت نے گھروں میں رہنے والے سانپوں کو جو جن ہوتے ہیں دفعتاً مار ڈالنے سے منع فرمایا ۔
Narrated Hadrat Abdur Razzaq has reported it from Mammar:
And Abu Lubabah or Zaid bin Khattab saw me. Yousuf, Ibn-e-Oyainah, Ishaq Kalbi and Zubaidi corroborated him. Sualih Ibn-e-Abu Hafsah, Ibn-e-Mujammi'i, Zuhri, Salim, reports from Hadrat Ibn-e-Umer رضی اللہ عنہما : Abu lubabah and Zaid bin Khattab saw me.
اور عبدالرزاق نے بھی اس حدیث کو معمر سے روایت کیا ، اس میں یوں ہے کہ
مجھ کو ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا یا میرے چچا زید بن خطاب نے اور معمر کے ساتھ اس حدیث کو یونس اور ابن عیینہ اور اسحاق کلبی اور زبیدہ نے بھی زہری سے روایت کیا اور صالح اور سالم سے ، انہوں نے ابن ابی حفصہ اور ابن مجمع نے بھی زہری سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس میں یوں ہے کہ مجھ کو ابولبابہ اور زید بن خطاب ( دونوں ) نے دیکھا ۔
Narrated Abu Sa`id al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "There will come a time when the best property of a man will be sheep which he will graze on the tops of mountains and the places where rain falls (i.e. pastures) escaping to protect his religion from afflictions."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمن بن عبداللہ بن عبدالرحمن بن ابی صعصعہ نے ، ان سے ان کے والد نے ، اور ان سے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ایک زمانہ آئے گا جب مسلمان کا سب سے عمدہ مال اس کی وہ بکریاں ہوں گی جنہیں وہ پہاڑ کی چوٹیوں اور بارش کی وادیوں میں لے کر چلا جائے گا تاکہ اس طرح اپنے دین و ایمان کو فتنوں سے بچا لے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The main source of disbelief is in the east. Pride and arrogance are characteristics of the owners of horses and camels, and those bedouins who are busy with their camels and pay no attention to Religion; while modesty and gentleness are the characteristics of the owners of sheep."
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے خبر دی ، انہیں اعرج نے خبر دی ، اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کفر کی چوٹی مشرق میں ہے اور فخر اور تکبر کرنا گھوڑے والوں ، اونٹ والوں اور زمینداروں میں ہوتا ہے جو ( عموماً ) گاؤں کے رہنے والے ہوتے ہیں اور بکری والوں میں دل جمعی ہوتی ہے ۔
Narrated `Uqba bin `Umar and Abu Mas`ud رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) pointed with his hand towards Yemen and said, "True Belief is Yemenite yonder (i.e. the Yemenite, had True Belief and embraced Islam readily), but sternness and mercilessness are the qualities of those who are busy with their camels and pay no attention to the Religion where the two sides of the head of Satan will appear. Such qualities belong to the tribe of Rabi`a and Mudar."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل نے بیان کیا کہ مجھ سے قیس نے بیان کیا اور ان سے عقبہ بن عمرو ابومسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یمن کی طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان تو ادھر ہے یمن میں ! ہاں ، اور قساوت اور سخت دلی ان لوگوں میں ہے جو اونٹوں کی دمیں پکڑے چلاتے رہتے ہیں ۔ جہاں سے شیطان کی چوٹیاں نمودار ہوں گی ، یعنی ربیعہ اور مضر کی قوموں میں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When you hear the crowing of cocks, ask for Allah's Blessings for (their crowing indicates that) they have seen an angel. And when you hear the braying of donkeys, seek Refuge with Allah from Satan for (their braying indicates) that they have seen a Satan."
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے جعفر بن ربیعہ نے ، ان سے اعرج نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب مرغ کی بانگ سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو ، کیونکہ اس نے فرشتے کو دیکھا ہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ اس نے شیطان کو دیکھا ہے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When night falls (or it is evening), keep your children close to you for the devils spread out at that time. But when an hour of the night elapses, you can let them free. Close the doors and mention the Name of Allah, for Satan does not open a closed door." Amr bin Dinaar reports the same from Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ as he reported from Ata but did not mention " وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ ".
ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو روح بن عبادہ نے خبر دی ، کہا ہم کو ابن جریج نے خبر دی ، کہا کہ مجھے عطابن ابی رباح نے خبر دی اور انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب رات کا اندھیرا شروع ہو یا ( آپ نے یہ فرمایا کہ ) جب شام ہو جائے تو اپنے بچوں کو اپنے پاس روک لیا کرو ، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلتے ہیں ۔ البتہ جب ایک گھڑی رات گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو ، اور اللہ کا نام لے کر دروازے بند کر لو ، کیوں کے شیطان کسی بند دروازے کو نہیں کھول سکتا ، ابن جریج نے بیان کیا کہ مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے بالکل اسی طرح حدیث سنی تھی جس طرح مجھے عطاء نے خبر دی تھی ، البتہ انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ ” اللہ کا نام لو “ ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "A group of Israelites were lost. Nobody knows what they did. But I do not see them except that they were cursed and changed into rats, for if you put the milk of a she-camel in front of a rat, it will not drink it, but if the milk of a sheep is put in front of it, it will drink it." I told this to Ka`b who asked me, "Did you hear it from the Prophet (ﷺ) ?" I said, "Yes." Ka`b asked me the same question several times.; I said to Ka`b. "Do I read the Torah? (i.e. I tell you this from the Prophet.)"
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہیب نے ، ان سے خالد نے ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، بنی اسرائیل میں کچھ لوگ غائب ہو گئے ۔ ( ان کی صورتیں مسخ ہو گئیں ) میرا تو یہ خیال ہے کہ انہیں چوہے کی صورت میں مسخ کر دیا گیا ۔ کیونکہ چوہوں کے سامنے جب اونٹ کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے ( کیونکہ بنی اسرائیل کے دین میں اونٹ کا گوشت حرام تھا ) اور اگر بکری کا دودھ رکھا جائے تو پی جاتے ہیں ۔ پھر میں نے یہ حدیث کعب احبار سے بیان کی تو انہوں نے ( حیرت سے ) پوچھا ، کیا واقعی آپ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ حدیث سنی ہے ؟ کئی مرتبہ انہوں نے یہ سوال کیا ۔ اس پر میں نے کہا ( کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی تو پھر کس سے ) کیا میں توراۃ پڑھا کرتا ہوں ؟ ( کہ اس سے نقل کر کے بیان کرتا ہوں ) ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) called the Salamander, a mischief-doer. I have not heard him ordering that it should be killed. Sa`d bin Waqqas claims that the Prophet (ﷺ) ordered that it should be killed.
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، ان سے ابن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے یونس نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عروہ نے ، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ ( چھپکلی ) کے متعلق فرمایا کہ وہ موذی جانور ہے لیکن میں نے آپ سے اسے مار ڈالنے کا حکم نہیں سنا تھا اور سعد بن ابی وقاص بتاتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔
Narrated Um Sharik رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) ordered her to kill Salamanders.
ہم سے صدقہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ نے بیان کیا ، ان سے سعید بن مسیب نے بیان کیا اور انہیں ام شریک رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گرگٹ کو مار ڈالنے کا حکم فرمایا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Kill the snake with two white lines on its back, for it blinds the on-looker and causes abortion." Along with Abu Usamah, it has also been narrated by Hamad bin Salamah.
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس سانپ کے سر پر دو نقطے ہوتے ہیں ، انہیں مار ڈالا کرو ، کیونکہ وہ اندھا بنا دیتے ہیں اور حمل کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں ۔ ابواسامہ کے ساتھ اس کو حماد بن سلمہ نے بھی روایت کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) ordered that a short-tailed or mutilated-tailed snake (i.e. Abtar) should be killed, for it blinds the on-looker and causes abortion."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے ہشام نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دم بریدہ سانپ کو مار ڈالنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ یہ آنکھوں کو نقصان پہنچاتا ہے اور حمل کو ساقط کر دیتا ہے ۔
Narrated Abu Mulaika:
Ibn `Umarرضی اللہ عنہما used to kill snakes, but afterwards he forbade their killing and said, "Once the Prophet (ﷺ) pulled down a wall and saw a cast-off skin of a snake in it. He said, 'Look for the snake. 'They found it and the Prophet (ﷺ) said, "Kill it." For this reason I used to kill snakes. Later on I met Abu Lubaba رضی اللہ عنہ who told me the Prophet (ﷺ) said, 'Do not kill snakes except the short-tailed or mutilated-tailed snake with two white lines on its back, for it causes abortion and makes one blind. So kill it.' "
ہم سے عمرو بن علی فلاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا ، ان سے ابویونس قشیری ( حاتم بن ابی صغیرہ ) نے ، ان سے ابن ابی ملیکہ نے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو پہلے مار ڈالا کرتے تھے لیکن بعد میں انہیں مارنے سے خود ہی منع کرنے لگے ۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک دیوار گروائی تو اس میں سے ایک سانپ کی کینچلی نکلی ، آپ نے فرمایا کہ دیکھو ، وہ سانپ کہاں ہے ۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تلاش کیا ( اور وہ مل گیا تو ) آپ نے فرمایا کہ اسے مار ڈالو ، میں بھی اسی وجہ سے سانپوں کو مار ڈالا کرتا تھا ۔ پھرمیری ملاقات ایک دن ابولبابہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی ، تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کہ پتلے یا سفید سانپوں کو نہ مارا کرو ۔ البتہ دم کٹے ہوئے سانپ کو جس پر دو سفید دھاریاں ہوتی ہیں اس کو مار ڈالو ، کیونکہ یہ اتنا زہریلا ہے کہ حاملہ کے حمل کو گرا دیتا ہے اور آدمی کو اندھا بنا دیتا ہے ۔
Narrated Nafi`:
Ibn `Umar رضی اللہ عنہما used to kill snakes but when Abu Lubaba رضی اللہ عنہ informed him that the Prophet (ﷺ) had forbidden the killing of snakes living in houses, he gave up killing them.
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا اور ان سے نافع نے کہ
ابن عمر رضی اللہ عنہما سانپوں کو مار ڈالا کرتے تھے ۔پھر ان سے ابولبابہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھروں کے پتلے یا سفید سانپوں کو مارنے سے منع فرمایا ہے تو انہوں نے مارنا چھوڑ دیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "Five kinds of animals are mischief-doers and can be killed even in the Sanctuary: They are the rat the scorpion, the kite, the crow and the rabid dog."
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ، ان سے زہری نے ، ان سے عروہ نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، پانچ جانور موذی ہیں ، انہیں حرم میں بھی مارا جا سکتا ہے ( توحل میں بطریق اولیٰ ان کا مارنا جائز ہو گا ) چوہا ، بچھو ، چیل ، کوا اور کاٹ لینے والا کتا ۔