Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you, when having sexual relation with his wife, say: 'In the name of Allah. O Allah! Protect us from Satan and prevent Satan from approaching our offspring you are going to give us,' and if he begets a child (as a result of that relation) Satan will not harm it."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا ، ان سے منصور نے ان سے سالم بن ابی الجعد نے ، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے اور یہ دعا پڑتا ہے ” اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں ، اے اللہ ! ہم سے شیطان کو دور رکھ اور جو کچھ ہمیں تو دے ( اولاد ) اس سے بھی شیطان کو دور رکھ ۔ “ پھر اگر ان کے یہاں بچہ پیدا ہوتا ہے تو شیطان اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the (upper) edge of the sun appears (in the morning), don't perform a prayer till the sun appears in full, and when the lower edge of the sun sets, don't perform a prayer till it sets completely." And you should not seek to pray at sunrise or sunset for the sun rises between two sides of the head of the devil (or Satan). I don't know what out of these two statements Hisham has said.
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب سورج کا اوپر کا کنارہ نکل آئے تو نماز نہ پڑھو جب تک وہ پوری طرح ظاہر نہ ہو جائے اور جب غروب ہونے لگے تب بھی اس وقت تک کے لیے نماز چھوڑ دو جب تک بالکل غروب نہ ہو جائے ۔اور نماز سورج کے نکلنے اور ڈوبنے کے وقت نہ پڑھو ، کیونکہ سورج شیطان کے سر کے یا شیطانوں کے سر کے دونوں کونوں کے بیچ میں سے نکلتا ہے ۔ عبدہ نے کہا میں نہیں جانتا ہشام نے شیطان کا سر کہا یا شیطانوں کا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If while you are praying, somebody intends to pass in front of you, prevent him; and should he insist, prevent him again; and if he insists again, fight with him (i.e. prevent him violently e.g. pushing him violently), because such a person is (like) a devil."
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا ، کہا ہم سے یونس نے بیان کیا ، ان سے حمید بن بلال نے ، ان سے ابوصالح نے ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اگر تم میں سے نماز پڑھنے میں کسی شخص کے سامنے سے کوئی گزرے تو اسے گزرنے سے روکے ، اگر وہ نہ رکے تو پھر روکے اور اگر اب بھی نہ رکے تو اس سے لڑے وہ شیطان ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
"Allah's Messenger (ﷺ) put me in charge of the Zakat of Ramadan (i.e. Zakat-ul-Fitr). Someone came to me and started scooping some of the foodstuff of (Zakat) with both hands. I caught him and told him that I would take him to Allah's Messenger (ﷺ)." Then Abu Huraira رضی اللہ عنہ told the whole narration and added "He (i.e. the thief) said, 'Whenever you go to your bed, recite the Verse of "Al-Kursi" (2.255) for then a guardian from Allah will be guarding you, and Satan will not approach you till dawn.' " On that the Prophet (ﷺ) said, "He told you the truth, though he is a liar, and he (the thief) himself was the Satan."
اور عثمان بن ہیشم نے بیان کیا ، کہا ہم سے عوف نے بیان کیا ، ان سے محمد بن سیرین نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ صدقہ فطر کے غلہ کی حفاظت پر مجھے مقرر کیا ، ایک شخص آیا اور دونوں ہاتھوں سے غلہ لپ بھربھر کر لینے لگا ۔ میں نے اسے پکڑ لیا اور کہا کہ اب میں تجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کروں گا ۔ پھر انہوں نے آخر تک حدیث بیان کی ، اس ( چور ) نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ جب تم اپنے بستر پر سونے کے لیے لیٹنے لگو تو آیۃ الکرسی پڑھ لیا کرو ، اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم پر ایک نگہبان مقرر ہو جائے گا اور شیطان تمہارے قریب صبح تک نہ آ سکے گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بات تو اس نے سچی کہی ہے اگرچہ وہ خود جھوٹا ہے ۔ وہ شیطان تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Satan comes to one of you and says, 'Who created so-and-so? 'till he says, 'Who has created your Lord?' So, when he inspires such a question, one should seek refuge with Allah and give up such thoughts."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں عروہ نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے اور تمہارے دل میں پہلے تو یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ فلاں چیز کس نے پیدا کی ، فلاں چیز کس نے پیدا کی ؟ اور آخر میں بات یہاں تک پہنچاتا ہے کہ خود تمہارے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ جب کسی شخص کو ایسا وسوسہ ڈالے تو اللہ سے پناہ مانگنی چاہئے ، شیطانی خیال کو چھوڑ دے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When the month of Ramadan comes, the gates of Paradise are opened and the gates of the (Hell) Fire are closed, and the devils are chained."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا ، ان سے عقیل نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے تیمیین کے مولیٰ ابن ابی انس نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا تھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں ۔ جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں کس دیا جاتا ہے ۔
Narrated Ubai bin Ka`b:
He heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "(The prophet) Moses said to his attendant, "Bring us our early meal' (18.62). The latter said, 'Did you remember when we betook ourselves to the rock? I indeed forgot the fish and none but Satan made me forget to remember it." (18.63) Moses did not feel tired till he had crossed the place which Allah ordered him to go to."
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، کہا ہم سے عمرو بن دینار نے ، کہا کہ مجھے سعید بن جبیر نے خبر دی ، کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا ( نوف بکالی کہتا ہے کہ خضر کے پاس جو موسیٰ گئے تھے وہ دوسرے موسیٰ تھے ) تو انہوں نے کہا کہ ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا ،
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنے رفیق سفر ( یوشع بن نون ) سے فرمایا کہ ہمارا کھانا لا ، اس پر انہوں نے بتایا کہ آپ کو معلوم بھی ہے جب ہم نے چٹان پر پڑاو ڈالا تھا تو میں مچھلی وہیں بھول گیا ( اور اپنے ساتھ نہ لا سکا ) اور مجھے اسے یاد رکھنے سے صرف شیطان نے غافل رکھا اور موسیٰ علیہ السلام نے اس وقت تک کوئی تھکن معلوم نہیں کی جب تک اس حد سے نہ گزر لیے ، جہاں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
I saw Allah's Messenger (ﷺ) pointing towards the east saying, "Lo! Afflictions will verily emerge hence; afflictions will verily emerge hence where the (side of the head of) Satan appears."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ مشرق کی طرف اشارہ کر کے فرما رہے تھے کہ ہاں ! فتنہ اسی طرف سے نکلے گا جہاں سے شیطان کے سر کا کونا نکلتا ہے ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When nightfalls, then keep your children close to you, for the devil spread out then. An hour later you can let them free; and close the gates of your house (at night), and mention Allah's Name thereupon, and cover your utensils, and mention Allah's Name thereupon, (and if you don't have something to cover your utensil) you may put across it something (e.g. a piece of wood etc.).
ہم سے یحییٰ بن جعفر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے عطاء بن ابی رباح نے خبر دی اور انہیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، رات کا اندھیرا شروع ہونے پر یا رات شروع ہونے پر اپنے بچوں کو اپنے پاس ( گھر میں ) روک لو ، کیونکہ شیاطین اسی وقت پھیلنا شروع کرتے ہیں ۔ پھر جب عشاء کے وقت میں سے ایک گھڑی گزر جائے تو انہیں چھوڑ دو ( چلیں پھریں ) پھر اللہ کا نام لے کر اپنا دروازہ بند کرو ، اللہ کا نام لے کر اپنا چراغ بجھا دو ، پانی کے برتن اللہ کا نام لے کر ڈھک دو ، اور دوسرے برتن بھی اللہ کا نام لے کر ڈھک دو ( اور اگر ڈھکن نہ ہو ) تو درمیان میں ہی کوئی چیز رکھ دو ۔
Narrated Safiya bint Huyay رضی اللہ عنہا :
While Allah's Messenger (ﷺ) was in I`tikaf, I called on him at night and having had a talk with him, I got up to depart. He got up also to accompany me to my dwelling place, which was then in the house of Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ . Two Ansari men passed by, and when they saw the Prophet (ﷺ) they hastened away. The Prophet said (to them). "Don't hurry! It is Safiya رضی اللہ عنہا, the daughter of Huyay (i.e. my wife)." They said, "Glorified be Allah! O Allah's Messenger (ﷺ)! (How dare we suspect you?)" He said, "Satan circulates in the human mind as blood circulates in it, and I was afraid that Satan might throw an evil thought (or something) into your hearts."
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے اور ان سے صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے تو میں رات کے وقت آپ سے ملاقات کے لیے ( مسجد میں ) آئی ، میں آپ سے باتیں کرتی رہی ، پھر جب واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئی تو آپ بھی مجھے چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ ام المؤمنین حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کا مکان اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے مکان ہی میں تھا ۔ اسی وقت دو انصاری صحابہ ( اسید بن حضیر ، عبادہ بن بشیر ) گزرے ۔ جب انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو تیز چلنے لگے ۔ آپ نے ان سے فرمایا ، ذرا ٹھہر جاؤ یہ صفیہ بنت حیی ہیں ۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا ، سبحان اللہ یا رسول اللہ ! ( کیا ہم بھی آپ کے بارے میں کوئی شبہ کر سکتے ہیں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے ۔ اس لیے مجھے ڈر لگا کہ کہیں تمہارے دلوں میں بھی کوئی وسوسہ نہ ڈال دے ، یا آپ نے ( لفظ سوء کی جگہ ) لفظشیئا فرمایا ۔ معنی ایک ہی ہیں ۔
Narrated Sulaiman bin Surd رضی اللہ عنہ :
While I was sitting in the company of the Prophet, two men abused each other and the face of one of them became red with anger, and his jugular veins swelled (i.e. he became furious). On that the Prophet said, "I know a word, the saying of which will cause him to relax, if he does say it. If he says: 'I seek Refuge with Allah from Satan.' then all is anger will go away." Some body said to him, "The Prophet has said, 'Seek refuge with Allah from Satan."' The angry man said, "Am I mad?"
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ نے ، ان سے اعمش نے ، ان سے عدی بن ثابت نے اور ان سے سلیمان بن صرد رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا اور ( قریب ہی ) دو آدمی آپس میں گالی گلوچ کر رہے تھے کہ ایک شخص کا منہ سرخ ہو گیا اور گردن کی رگیں پھول گئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے کہ اگر یہ شخص اسے پڑھ لے تو اس کا غصہ جاتا رہے گا ۔ ( ترجمہ ) ” میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کی شیطان سے “ ۔ تو اس کا غصہ جاتا رہے گا ۔ لوگوں نے اس پر اس سے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تمہیں شیطان سے اللہ کی پناہ مانگنی چاہئے ، اس نے کہا ، کیا میں کوئی دیوانہ ہوں ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) said, "If anyone of you, on having sexual relation with his wife, says: 'O Allah! Protect me from Satan, and prevent Satan from approaching the offspring you are going to give me,' and if it happens that the lady conceives a child, Satan will neither harm it nor be given power over it." A'mash, Saalim, Koraib, Ibn-e-Abbaas رضی اللہ عنہما reports the same
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے بیان کیا ، ان سے سالم بن ابی الجعد نے ، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی شخص جب اپنی بیوی کے پاس جائے اور یہ دعا پڑھ لے ۔ ” اے اللہ ! مجھے شیطان سے دور رکھ اور جو میری اولاد پیدا ہو ، اسے بھی شیطان سے دو رکھ “ ۔ پھر اس صحبت سے اگر کوئی بچہ پیدا ہو تو شیطان اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا اور نہ اس پر تسلط قائم کر سکے گا ۔ شعبہ نے بیان کیا اور ہم سے اعمش نے بیان کیا ، ان سے سالم نے ، ان سے کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ایسی ہی روایت کی ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) offered a prayer, and (after finishing) he said, "Satan came in front of me trying persistently to divert my attention from the prayer, but Allah gave me the strength to over-power him." He (ﷺ) then narrated the whole episode.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ، کہا ہم سے شبابہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن زیاد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ نماز پڑھی اور فارغ ہونے کے بعد فرمایا کہ شیطان میرے سامنے آ گیا تھا اور نماز تڑوانے کی کوششیں شروع کر دی تھیں ، لیکن اللہ تعالیٰ نے مجھے اس پر غالب کر دیا ۔ پھر حدیث کو تفصیل کے ساتھ آخر تک بیان کیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When the call for the prayer is pronounced, Satan takes to his heels, passing wind with noise, When the call for the prayer is finished, he comes back. And when the Iqama is pronounced, he again takes to his heels, and after its completion, he returns again to interfere between the (praying) person and his heart, saying to him. 'Remember this or that thing.' till the person forgets whether he has offered three or four rak`at: so if one forgets whether he has prayed three or four rak`at, he should perform two prostrations of Sahu (i.e. forgetfulness).
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، کہا ہم سے اوزاعی نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ، ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جب نماز کے لیے اذان دی جاتی ہے تو شیطان اپنی پیٹھ پھیر کر گوز مارتا ہوا بھاگتا ہے ۔ جب اذان ختم ہو جاتی ہے تو واپس آ جاتا ہے ۔ پھر جب تکبیر ہونے لگتی ہے تو بھاگ کھڑا ہوتا ہے اور جب تکبیر ختم ہو جاتی ہے تو پھر واپس آ جاتا ہے اور آدمی کے دل میں وساوس ڈالنے لگتا ہے کہ فلاں بات یاد کر اور فلاں بات یاد کر ، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو یہ بھی یاد نہیں رہتاکہ تین رکعت نماز پڑھی تھی یا چار رکعت ، جب یہ یاد نہ رہے تو سہو کے دو سجدے کرے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "When any human being is born. Satan touches him at both sides of the body with his two fingers, except Jesus, the son of Mary, whom Satan tried to touch but failed, for he touched the placenta-cover instead."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں ابوالزناد نے ، انہیں اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، شیطان ہر انسان کی پیدائش کے وقت اپنی انگلی سے اس کے پہلو میں کچوکے لگاتا ہے سوائے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے جب انہیں وہ کچوکے لگانے گیا تو پردے پر لگا آیا تھا ( جس کے اندر بچہ رہتا ہے ۔ اس کی رسائی وہاں تک نہ ہو سکی ، اللہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اس کی اس حرکت سے محفوظ رکھا ) .
Narrated Alqama:
I went to Sham (and asked. "Who is here?"), The people said, "Abu Ad-Darda." Abu Darda said, "Is the person whom Allah has protected against Satan, (as Allah's Messenger (ﷺ) said) amongst you". The subnarrator, Mughira said that the person who was given Allah's Refuge through the tongue of the Prophet was `Ammar رضی اللہ عنہ (bin Yasir).
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ، ان سے مغیرہ نے ، ان سے ابراہیم نے اور ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ
میں شام پہنچا تو لوگوں نے کہا ، ابودرداء آئے انہوں نے کہا ، کیا تم لوگوں میں وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کی زبان پر ( یعنی آپ کے زمانے سے ) شیطان سے بچا رکھا ہے ۔ ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ نے یہی حدیث ، اس میں یہ ہے ، جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ میں لینے کا اعلان کیا تھا ، آپ کی مراد حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "While the angels talk amidst the clouds about things that are going to happen on earth, the devils hear a word of what they say and pour it in the ears of a soothsayer as one pours something in a bottle, and they add one hundred lies to that (one word).
حضرت امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا کہ لیث بن سعد نے کہا کہ مجھ سے خالد بن یزید نے بیان کیا ، ان سے سعید بن ابی ہلال نے ، ان سے ابوالاسود نے ، انہیں عروہ نے خبر دی اور انہیں عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، فرشتے ابر میں آپس میں کسی امر میں جو زمین میں ہونے والا ہوتا ہے باتیں کرتے ہیں ۔ عنان سے مراد بادل ہے ۔ تو شیاطین اس میں سے کوئی ایک کلمہ سن لیتے ہیں اور وہی کاہنوں کے کان میں اس طرح لا کر ڈالتے ہیں جیسے شیشے کا منہ ملا کر اس میں کچھ چھوڑتے ہیں اور وہ کاہن اس میں سو جھوٹ اپنی طرف سے ملاتے ہیں ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Yawning is from Satan and if anyone of you yawns, he should check his yawning as much as possible, for if anyone of you (during the act of yawning) should say: 'Ha', Satan will laugh at him."
ہم سے عاصم بن علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا ، ان سے سعید مقبری نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جمائی شیطان کی طرف سے ہے ۔ پس جب کسی کو جمائی آئے تو جہاں تک ہو سکے اسے روکے ۔ کیونکہ جب کوئی ( جمائی لیتے ہوئے ) ” ہاہا “ کرتا ہے تو شیطان اس پر ہنستا ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
On the day (of the battle) of Uhud when the pagans were defeated, Satan shouted, "O slaves of Allah! Beware of the forces at your back," and on that the Muslims of the front files fought with the Muslims of the back files (thinking they were pagans). Hudhaifa رضی اللہ عنہ looked back to see his father "Al-Yaman رضی اللہ عنہ ," (being attacked by the Muslims). He shouted, "O Allah's Slaves! My father! My father!" By Allah, they did not stop till they killed him. Hudhaifa said, "May Allah forgive you." `Urwa said that Hudhaifa رضی اللہ عنہ continued to do good (invoking Allah to forgive the killer of his father till he met Allah (i.e. died).
ہم سے زکریابن یحییٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ، کہا کہ ہشام نے ہمیں اپنے والد عروہ سے خبر دی اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا ، کہا کہ
احد کی لڑائی میں جب مشرکین کو شکست ہو گئی تو ابلیس نے چلا کر کہا کہ اے اللہ کے بندو ! ( یعنی مسلمانو ) اپنے پیچھے والوں سے بچو ، چنانچہ آگے کے مسلمان پیچھے کی طرف پل پڑے اور پیچھے والوں کو ( جو مسلمان ہی تھے ) انہوں نے مارنا شروع کر دیا ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ بھی پیچھے تھے ۔ انہوں نے بہتیرا کہا کہ اے اللہ کے بندو ! یہ میرے والد ہیں ، یہ میرے والد ہیں ۔ لیکن خدا گواہ ہے کہ لوگوں نے جب تک انہیں قتل نہ کر لیا نہ چھوڑا ۔ بعد میں حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا کہ خیر ۔ اللہ تمہیں معاف کرے ( کہ تم نے غلط فہمی سے ایک مسلمان کو مار ڈالا ) عروہ نے بیان کیا کہ پھر حذیفہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے قاتلوں کے لیے برابر مغفرت کی دعا کرتے رہے ۔ تاآنکہ اللہ سے جا ملے ۔
Narrated `Aisha:
I asked the Prophet (ﷺ) about one's looking here and there during the prayer. He replied, "It is what Satan steals from the prayer of any one of you."
ہم سے حسن بن ربیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص نے ، ان سے اشعث نے ، ان سے ان کے والد نے ، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز میں ادھر ادھر دیکھنے کے متعلق پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شیطان کی ایک اچک ہے جو وہ تم میں سے ایک کی نماز سے کچھ اچک لیتا ہے ۔