Back to Sahih Bukhari

Military Expeditions led by the Prophet (PBUH) (Al-Maghaazi)

كتاب المغازي

Chapter 65

Hadith 4159
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، وَرْقَاءَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ فَقَالَ ‏ "‏ أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَحْلِقَ وَهْوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، لَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ يُهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ‏.‏
English

Narrated Ka`b bin Ujra رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) saw him with the lice falling (from his head) on his face. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Are your lice troubling you? Ka`b said, "Yes." Allah's Messenger (ﷺ) thus ordered him to shave his head while he was at Al-Hudaibiya. Up to then there was no indication that all of them would finish their state of Ihram and they hoped that they would enter Mecca. Then the order of Al-Fidya was revealed, so Allah's Messenger (ﷺ) ordered Ka`b to feed six poor persons with one Faraq of food or slaughter a sheep or fast for three days.

Urdu

ہم سے حسن بن خلف نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے اسحاق بن یوسف نے بیان کیا ‘ ان سے ابوبشر ورقاء بن عمر نے ‘ ان سے ابن ابی نجیح نے ‘ ان سے مجاہد نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا اور ان سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا اس سے تمہیں تکلیف ہوتی ہے؟ وہ بولے کہ جی ہاں ‘ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں سر منڈوانے کا حکم دیا۔ آپ اس وقت حدیبیہ میں تھے ( عمرہ کے لیے احرام باندھے ہوئے ) اور ان کو یہ معلوم نہیں ہوا تھا کہ وہ عمرہ سے روکے جائیں گے۔ حدیبیہ ہی میں ان کو احرام کھول دینا پڑے گا۔ بلکہ ان کی تو یہ آرزو تھی کہ مکہ میں کسی طرح داخل ہوا جائے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فدیہ کا حکم نازل فرمایا ( یعنی احرام کی حالت میں ) سر منڈوانے وغیرہ پر ‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب کو حکم دیا کہ ایک فرق اناج چھ مسکینوں کو کھلا دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھیں۔

Hadith 4160, 4161
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ خَرَجْتُ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ إِلَى السُّوقِ، فَلَحِقَتْ عُمَرَ امْرَأَةٌ شَابَّةٌ فَقَالَتْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلَكَ زَوْجِي وَتَرَكَ صِبْيَةً صِغَارًا، وَاللَّهِ مَا يُنْضِجُونَ كُرَاعًا، وَلاَ لَهُمْ زَرْعٌ وَلاَ ضَرْعٌ، وَخَشِيتُ أَنْ تَأْكُلَهُمُ الضَّبُعُ، وَأَنَا بِنْتُ خُفَافِ بْنِ إِيمَاءَ الْغِفَارِيِّ، وَقَدْ شَهِدَ أَبِي الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم، فَوَقَفَ مَعَهَا عُمَرُ، وَلَمْ يَمْضِ، ثُمَّ قَالَ مَرْحَبًا بِنَسَبٍ قَرِيبٍ‏.‏ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى بَعِيرٍ ظَهِيرٍ كَانَ مَرْبُوطًا فِي الدَّارِ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ غِرَارَتَيْنِ مَلأَهُمَا طَعَامًا، وَحَمَلَ بَيْنَهُمَا نَفَقَةً وَثِيَابًا، ثُمَّ نَاوَلَهَا بِخِطَامِهِ ثُمَّ قَالَ اقْتَادِيهِ فَلَنْ يَفْنَى حَتَّى يَأْتِيَكُمُ اللَّهُ بِخَيْرٍ‏.‏ فَقَالَ رَجُلٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَكْثَرْتَ لَهَا‏.‏ قَالَ عُمَرُ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ، وَاللَّهِ إِنِّي لأَرَى أَبَا هَذِهِ وَأَخَاهَا قَدْ حَاصَرَا حِصْنًا زَمَانًا، فَافْتَتَحَاهُ، ثُمَّ أَصْبَحْنَا نَسْتَفِيءُ سُهْمَانَهُمَا فِيهِ‏.
English

Narrated Zaid bin Aslam reports that his father:

Once I went with `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ to the market. A young woman followed `Umar رضی اللہ عنہ and said, "O chief of the believers! My husband has died, leaving little children. By Allah, they have not even a sheep's trotter to cook; they have no farms or animals. I am afraid that they may die because of hunger, and I am the daughter of Khufaf bin Ima Al-Ghafari رضی اللہ عنہ , and my father witnessed the Pledge of allegiance) of Al-Hudaibiya with the Prophet." `Umar رضی اللہ عنہ stopped and did not proceed, and said, "I welcome my near relative." Then he went towards a strong camel which was tied in the house, and carried on to it, two sacks he had loaded with food grains and put between them money and clothes and gave her its rope to hold and said, "Lead it, and this provision will not finish till Allah gives you a good supply." A man said, "O chief of the believers! You have given her too much." `Umar رضی اللہ عنہ said disapprovingly. "May your mother be bereaved of you! By Allah, I have seen her father and brother besieging a fort for a long time and conquering it, and then we were discussing what their shares they would have from that war booty."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ

میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بازار گیا۔ عمر رضی اللہ عنہ سے ایک نوجوان عورت نے ملاقات کی اور عرض کیا کہ امیرالمؤمنین! میرے شوہر کی وفات ہو گئی ہے اور چند چھوٹی چھوٹی بچیاں چھوڑ گئے ہیں۔ اللہ کی قسم کہ اب نہ ان کے پاس بکری کے پائے ہیں کہ ان کو پکا لیں، نہ کھیتی ہے ‘ نہ دودھ کے جانور ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ وہ فقر و فاقہ سے ہلاک نہ ہو جائیں۔ میں خفاف بن ایماء غفاری رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہوں۔ میرے والد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے کھڑے ہو گئے ‘ آگے نہیں بڑھے۔ پھر فرمایا ‘ مرحبا ‘ تمہارا خاندانی تعلق تو بہت قریبی ہے۔ پھر آپ ایک بہت قوی اونٹ کی طرف مڑے جو گھر میں بندھا ہوا تھا اور اس پر دو بورے غلے سے بھرے ہوئے رکھ دیئے۔ ان دونوں بوروں کے درمیان روپیہ اور دوسری ضرورت کی چیزیں اور کپڑے رکھ دیئے اور اس کی نکیل ان کے ہاتھ میں تھما کر فرمایا کہ اسے لے جا ‘ یہ ختم نہ ہو گا اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ تجھے اس سے بہتر دے گا۔ ایک صاحب نے اس پر کہا ‘ اے امیرالمؤمنین! آپ نے اسے بہت دے دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا ‘ تیری ماں تجھے روئے ‘ اللہ کی قسم! اس عورت کے والد اور اس کے بھائی جیسے اب بھی میری نظروں کے سامنے ہیں کہ ایک مدت تک ایک قلعہ کے محاصرے میں وہ شریک رہے ‘ آخر اسے فتح کر لیا۔ پھر ہم صبح کو ان دونوں کا حصہ مال غنیمت سے وصول کر رہے تھے۔

Hadith 4162
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ أَبُو عَمْرٍو الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ الشَّجَرَةَ، ثُمَّ أَتَيْتُهَا بَعْدُ فَلَمْ أَعْرِفْهَا‏.‏ قَالَ مَحْمُودٌ ثُمَّ أُنْسِيتُهَا بَعْدُ‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab has reported from his father said:

"I saw the Tree (of the Ar-Ridwan Pledge of allegiance and when I returned to it later, I was not able to recognize it. (Imam Bukhari has said) Mehmood bin Ghalian's report says: Iwent there for a second time, 'Then; forgot it (i.e., the Tree).)"

Urdu

مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعمرو شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے قتادہ نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد (مسیب بن حزن رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ

میں نے وہ درخت دیکھا تھا لیکن پھر بعد میں جب آیا تو میں اسے نہیں پہچان سکا۔ محمود نے بیان کیا کہ پھر بعد میں وہ درخت مجھے یاد نہیں رہا تھا۔

Hadith 4163
Sahih
حَدَّثَنَا مَحْمُودٌ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ انْطَلَقْتُ حَاجًّا فَمَرَرْتُ بِقَوْمٍ يُصَلُّونَ قُلْتُ مَا هَذَا الْمَسْجِدُ قَالُوا هَذِهِ الشَّجَرَةُ، حَيْثُ بَايَعَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَيْعَةَ الرُّضْوَانِ‏.‏ فَأَتَيْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ فَأَخْبَرْتُهُ فَقَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّهُ كَانَ فِيمَنْ بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ، قَالَ فَلَمَّا خَرَجْنَا مِنَ الْعَامِ الْمُقْبِلِ نَسِينَاهَا، فَلَمْ نَقْدِرْ عَلَيْهَا‏.‏ فَقَالَ سَعِيدٌ إِنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صلى الله عليه وسلم لَمْ يَعْلَمُوهَا وَعَلِمْتُمُوهَا أَنْتُمْ، فَأَنْتُمْ أَعْلَمُ‏.‏
English

Narrated Tariq bin `Abdur-Rahman:

When I set out for Hajj, I passed by some people offering a prayer, I asked, "What is this mosque?" They said, "This is the Tree where Allah's Messenger (ﷺ) took the Ar-Ridwan Pledge of allegiance. Then I went to Sa`id bin Musaiyab and informed him about it. Sa`id said, "My father said that he was amongst those who had given the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) beneath the Tree. He (i.e. my father) said, "When we set out the following year, we forgot the Tree and were unable to recognize it. "Then Sa`id said (perhaps ironically) "The companions of the Prophet (ﷺ) could not recognize it; nevertheless, you do recognize it; therefore you have a better knowledge."

Urdu

ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے اسرائیل نے ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ

حج کے ارادے سے جاتے ہوئے میں کچھ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جو نماز پڑھ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کون سی مسجد ہے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ وہی درخت ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیعت رضوان لی تھی۔ پھر میں سعید بن مسیب کے پاس آیا اور میں نے انہیں اس کی خبر دی ‘ انہوں نے کہا مجھ سے میرے والد مسیب بن حزن نے بیان کیا ‘ وہ ان لوگوں میں تھے جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے جب میں دوسرے سال وہاں گیا تو اس درخت کی جگہ کو بھول گیا۔ سعید نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب تو اس درخت کو پہچان نہ سکے۔ تم لوگوں نے کیسے پہچان لیا ( اس کے تلے مسجد بنا لی ) تم ان سے زیادہ علم والے ٹھہرے۔

Hadith 4164
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا طَارِقٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ، فَرَجَعْنَا إِلَيْهَا الْعَامَ الْمُقْبِلَ فَعَمِيَتْ عَلَيْنَا‏.‏
English

Narrated Sa`id bin Al-Musaiyab reported from his father:

He was amongst those who had given the Pledge of allegiance (to the Prophet (ﷺ) ) beneath the Tree, and the next year when they went towards the Tree, they were not able to recognize it.

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعوانہ نے ‘ کہا ہم سے طارق بن عبدالرحمٰن نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ان کے والد نے کہ

انہوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس درخت کے تلے بیعت کی تھی۔ کہتے تھے کہ جب ہم دوسرے سال ادھر گئے تو ہمیں پتہ نہیں چلا کہ وہ کون سا درخت تھا۔

Hadith 4165
Sahih
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ طَارِقٍ، قَالَ ذُكِرَتْ عِنْدَ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ الشَّجَرَةُ فَضَحِكَ فَقَالَ أَخْبَرَنِي أَبِي وَكَانَ، شَهِدَهَا‏.‏
English

Narrated Tariq:

(The tree where the Ridwan Pledge of allegiance was taken by the Prophet) was mentioned before Sa`id bin Al-Musaiyab. On that he smiled and said, "My father informed me (about it) and he had witnessed it (i.e. the Pledge) ."

Urdu

ہم سے قبیصہ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے طارق بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا کہ

سعید بن مسیب کی مجلس میں «الشجرة» کا ذکر ہوا تو وہ ہنسے اور کہا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ وہ بھی اس درخت کے تلے بیعت میں شریک تھے۔

Hadith 4166
Sahih
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِذَا أَتَاهُ قَوْمٌ بِصَدَقَةٍ قَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَيْهِمْ ‏"‏‏.‏ فَأَتَاهُ أَبِي بِصَدَقَتِهِ فَقَالَ ‏"‏ اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى آلِ أَبِي أَوْفَى ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah bin Abi `Aufa رضی اللہ عنہ :

(Who was one of those who had given the Pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) beneath the Tree) When the people brought Sadaqa (i.e. rak`at) to the Prophet (ﷺ) he used to say, "O Allah! Bless them with your Mercy." Once my father came with his Sadaqa to him whereupon he (i.e. the Prophet) said. "O Allah! Bless the family of Abu `Aufa رضی اللہ عنہ ."

Urdu

ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن مرہ نے ‘ انہوں نے کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے سنا ‘

وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب کوئی صدقہ لے کر حاضر ہوتا تو آپ دعا کرتے کہ اے اللہ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما۔ چنانچہ میرے والد بھی اپنا صدقہ لے کر حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! آل ابی اوفی رضی اللہ عنہ پر اپنی رحمت نازل فرما۔

Hadith 4167
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، عَنْ أَخِيهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، قَالَ لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْحَرَّةِ وَالنَّاسُ يُبَايِعُونَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْظَلَةَ فَقَالَ ابْنُ زَيْدٍ عَلَى مَا يُبَايِعُ ابْنُ حَنْظَلَةَ النَّاسَ قِيلَ لَهُ عَلَى الْمَوْتِ‏.‏ قَالَ لاَ أُبَايِعُ عَلَى ذَلِكَ أَحَدًا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم‏.‏ وَكَانَ شَهِدَ مَعَهُ الْحُدَيْبِيَةَ‏.‏
English

Narrated `Abbad bin Tamim:

When it was the day (of the battle) of Al-Harra the people were giving Pledge of allegiance to `Abdullah bin Hanzala رضی اللہ عنہ . Ibn Zaid said, "For what are the people giving Pledge of allegiance to `Abdullah bin Hanzala?" It was said to him, "For death." Ibn Zaid said, "I will never give the Pledge of allegiance for that to anybody else after Allah's Messenger (ﷺ) ." Ibn Zaid was one of those who had witnessed the day of Al-Hudaibiya with the Prophet.

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے بھائی عبدالحمید نے ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے عمرو بن یحییٰ نے اور ان سے عباد بن تمیم نے بیان کیا کہ

حرہ کی لڑائی میں لوگ عبداللہ بن حنظلہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے۔ عبداللہ بن زید نے پوچھا کہ ابن حنظلہ سے کس بات پر بیعت کی جا رہی ہے؟ تو لوگوں نے بتایا کہ موت پر۔ ابن زید نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اب میں کسی سے بھی موت پر بیعت نہیں کروں گا۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شریک تھے۔

Hadith 4168
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَعْلَى الْمُحَارِبِيُّ، قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنَا إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ، قَالَ حَدَّثَنِي ـ أَبِي وَكَانَ، مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ قَالَ كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم الْجُمُعَةَ ثُمَّ نَنْصَرِفُ، وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ ظِلٌّ نَسْتَظِلُّ فِيهِ‏.‏
English

Narrated Iyas bin Salama bin Al-Akwa`:

My father who was amongst those who had given the Pledge of allegiance to the Prophet (ﷺ) beneath the Tree, said to me, "We used to offer the Jumua prayer with the Prophet (ﷺ) and then depart at a time when the walls had no shade for us to take shelter in."

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یعلیٰ محاربی نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد نے بیان کیا ‘ ان سے ایاس بن سلمہ بن اکوع نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے

میرے والد نے بیان کیا ‘ وہ اصحاب شجرہ میں سے تھے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوئے تو دیواروں کا سایہ ابھی اتنا نہیں ہوا تھا کہ ہم اس میں آرام کر سکیں۔

Hadith 4169
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ، قَالَ قُلْتُ لِسَلَمَةَ بْنِ الأَكْوَعِ عَلَى أَىِّ شَىْءٍ بَايَعْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ‏.‏ قَالَ عَلَى الْمَوْتِ‏.‏
English

Narrated Yazid bin Abi Ubaid:

I said to Salama bin Al-Akwa` رضی اللہ عنہ , "For what did you give the Pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) on the day of Al-Hudaibiya?" He replied, "For death (in the Cause of Islam.).

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا کہ ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ان سے یزید بن ابی عبید نے بیان کیا کہ

میں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کس چیز پر بیعت کی تھی؟ انہوں نے بتلایا کہ موت پر۔

Hadith 4170
Sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِشْكَابٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْعَلاَءِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَقِيتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍ ـ رضى الله عنهما ـ فَقُلْتُ طُوبَى لَكَ صَحِبْتَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَبَايَعْتَهُ تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.‏ فَقَالَ يَا ابْنَ أَخِي إِنَّكَ لاَ تَدْرِي مَا أَحْدَثْنَا بَعْدَهُ‏.‏
English

Narrated Al-Musaiyab:

I met Al-Bara bin `Azib رضی اللہ عنہ and said (to him). "May you live prosperously! You enjoyed the company of the Prophet (ﷺ) and gave him the Pledge of allegiance (of Al-Hudaibiya) under the Tree." On that, Al- Bara' said, "O my nephew! You do not know what we have done after him (i.e. his death).

Urdu

مجھ سے احمد بن اشکاب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا ‘ ان سے علاء بن مسیب نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ

میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ‘ مبارک ہو! آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت نصیب ہوئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آپ نے شجر ( درخت ) کے نیچے بیعت کی۔ انہوں نے کہا بیٹے! تمہیں معلوم نہیں کہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کیا کیا کام کئے ہیں۔

Hadith 4171
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ، قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ـ هُوَ ابْنُ سَلاَّمٍ ـ عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الضَّحَّاكِ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، بَايَعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم تَحْتَ الشَّجَرَةِ‏.‏
English

Narrated Thabit bin Ad-Dahhak رضی اللہ عنہ :

He was one of those who had given the Pledge of allegiance (of Al-Hudaibiya) beneath the Tree.

Urdu

ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ‘ وہ سلام کے بیٹے ہیں ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ ان سے ابوقلابہ نے اور انہیں ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔

Hadith 4172
Sahih
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا‏}‏ قَالَ الْحُدَيْبِيَةُ‏.‏ قَالَ أَصْحَابُهُ هَنِيئًا مَرِيئًا فَمَا لَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ ‏{‏لِيُدْخِلَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ جَنَّاتٍ‏}‏ قَالَ شُعْبَةُ فَقَدِمْتُ الْكُوفَةَ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا كُلِّهِ عَنْ قَتَادَةَ ثُمَّ رَجَعْتُ فَذَكَرْتُ لَهُ فَقَالَ أَمَّا ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ‏}‏ فَعَنْ أَنَسٍ، وَأَمَّا هَنِيئًا مَرِيئًا فَعَنْ عِكْرِمَةَ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

regarding Allah's Statement: "Verily! We have granted you (O, Muhammad) Manifest victory." (48.1) It refers to the Al-Hudaibiya Pledge. And the companions of the Prophet (ﷺ) said (to the Prophet), "Congratulations and happiness for you; but what reward shall we get?" So Allah revealed:-- "That He may admit the believing men and women to gardens beneath which rivers flow." (48.5) Shobah says: I went to Koufah and narrated the complete Hadith to Hadrat Qatadah. When I came back and mentioned it to him, he said: This interpretation of ''إنا فتحنا لك'' is reported from Hadrat Anas رضی اللہ عنہ nd as for ''هنيئا مريئا'' , it is reported from Ikrimah.

Urdu

مجھ سے احمد بن اسحاق نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ انہیں قتادہ نے اور انہیں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

( آیت ) «إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی ہوئی فتح دی۔“ یہ فتح صلح حدیبیہ تھی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو مرحلہ آسان ہے ( کہ آپ کی تمام اگلی اور پچھلی لغزشیں معاف ہو چکی ہیں ) لیکن ہمارا کیا ہو گا؟ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی «ليدخل المؤمنين والمؤمنات جنات‏» ”اس لیے کہ مومن مرد اور مومن عورتیں جنت میں داخل کی جائیں گی جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔“ شعبہ نے بیان کیا کہ پھر میں کوفہ آیا اور میں قتادہ سے پورا واقعہ بیان کیا ‘ پھر میں دوبارہ قتادہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کے سامنے اس کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ «إنا فتحنا لك‏» ”بیشک ہم نے تمہیں کھلی فتح دی ہے۔“ کی تفسیر تو انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے لیکن اس کے بعد «هنيئا مريئا» ( یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تو ہر مرحلہ آسان ہے ) یہ تفسیر عکرمہ سے منقول ہے۔

Hadith 4173
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَجْزَأَةَ بْنِ زَاهِرٍ الأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ ـ وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الشَّجَرَةَ ـ قَالَ إِنِّي لأُوقِدُ تَحْتَ الْقِدْرِ بِلُحُومِ الْحُمُرِ إِذْ نَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَاكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ‏.‏
English

Narrated Zahir Al-Aslami:

(who was one of those who had witnessed (the Pledge of allegiance beneath) the Tree) While I was making fire beneath the cooking pots containing donkey's meat, the announcer of Allah's Messenger (ﷺ) announced, "Allah's Messenger (ﷺ) forbids you to eat donkey's meat."

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوعامر عقدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل بن یونس نے بیان کیا ‘ ان سے مجزاۃ بن زاہر اسلمی نے اور ان سے ان کے والد زاہر بن اسود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا

وہ بیعت رضوان میں شریک تھے۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں ہانڈی میں گدھے کا گوشت ابال رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک منادی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اعلان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں گدھے کے گوشت کے کھانے سے منع فرماتے ہیں۔

Hadith 4174
Sahih
وَعَنْ مَجْزَأَةَ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْهُمْ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ اسْمُهُ أُهْبَانُ بْنُ أَوْسٍ وَكَانَ اشْتَكَى رُكْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا سَجَدَ جَعَلَ تَحْتَ رُكْبَتِهِ وِسَادَةً‏.‏
English

Hadrat Majzah reports that:

A holy elder who was amongst the people of the tree whose name was Uhban bin Aus رضی اللہ عنہ , had got a pain in knee, so when he would prostrate himself, he would place a pillow beneath his knee.

Urdu

اور مجزاۃ نے اپنے ہی قبیلہ کے ایک صحابی کے متعلق

جو بیعت رضوان میں شریک تھے اور جن کا نام اہبان بن اوس رضی اللہ عنہ تھا ‘ نقل کیا کہ ان کے ایک گھٹنے میں تکلیف تھی ‘ اس لیے جب وہ سجدہ کرتے تو اس گھٹنے کے نیچے کوئی نرم تکیہ رکھ لیتے تھے۔

Hadith 4175
Sahih
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ ـ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَصْحَابُهُ أُتُوا بِسَوِيقٍ فَلاَكُوهُ‏.‏ تَابَعَهُ مُعَاذٌ عَنْ شُعْبَةَ‏.‏
English

Narrated Suwaid bin An-Nu`man رضی اللہ عنہ :

who was one of those who witnessed (the Pledge of allegiance beneath) the Tree: Allah's Messenger (ﷺ) and his companions were given Sawiq and they chewed it. Moadh has also reported the same from Shobah.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی عدی نے ‘ ان سے شعبہ نے ان سے یحییٰ بن سعید نے ‘ ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ‘ وہ بیعت رضوان میں شریک تھے کہ

گویا اب بھی وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے ستو لایا گیا۔ جسے ان حضرات نے پیا۔ اس روایت کی متابعت معاذ نے شعبہ سے کی ہے۔

Hadith 4176
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا شَاذَانُ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، قَالَ سَأَلْتُ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ـ رضى الله عنه ـ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ هَلْ يُنْقَضُ الْوِتْرُ قَالَ إِذَا أَوْتَرْتَ مِنْ أَوَّلِهِ، فَلاَ تُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ‏.‏
English

Narrated Abu Jamra:

I asked Aidh bin `Amr رضی اللہ عنہ, who was one of the companions of the Prophet (ﷺ) one of those (who gave the allegiance to the Prophet (ﷺ) the Tree: "Can the witr prayer be repeated (in one night)?" He said, "If you have offered it in the first part of the night, you should not repeat it in the last part 'of the night." (See Fath-ul-Bari page 458 Vol 8th).

Urdu

ہم سے محمد بن حاتم بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شاذان (اسود بن عامر) نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے ابوجَمْرَہ نے بیان کیا کہ

انہوں نے عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے پوچھا: وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے اور بیعت رضوان میں شریک تھے کہ کیا وتر کی نماز ( ایک رکعت اور پڑھ کر ) توڑی جا سکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر شروع رات میں تو نے وتر پڑھ لیا ہو تو آخر رات میں نہ پڑھو۔

Hadith 4177
Sahih
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَسِيرُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَسِيرُ مَعَهُ لَيْلاً، فَسَأَلَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ شَىْءٍ فَلَمْ يُجِبْهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَلَمْ يُجِبْهُ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا عُمَرُ، نَزَرْتَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، كُلُّ ذَلِكَ لاَ يُجِيبُكَ‏.‏ قَالَ عُمَرُ فَحَرَّكْتُ بَعِيرِي ثُمَّ تَقَدَّمْتُ أَمَامَ الْمُسْلِمِينَ، وَخَشِيتُ أَنْ يَنْزِلَ فِيَّ قُرْآنٌ، فَمَا نَشِبْتُ أَنْ سَمِعْتُ صَارِخًا يَصْرُخُ بِي ـ قَالَ ـ فَقُلْتُ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يَكُونَ نَزَلَ فِيَّ قُرْآنٌ‏.‏ وَجِئْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَقَالَ ‏"‏ لَقَدْ أُنْزِلَتْ عَلَىَّ اللَّيْلَةَ سُورَةٌ لَهِيَ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ، ثُمَّ قَرَأَ ‏{‏إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا‏}‏‏.‏‏"‏
English

Narrated Zaid bin Aslam reports from his father:

"Allah's Messenger (ﷺ) was proceeding at night on one of his journeys and `Umar bin Al- Khattab رضی اللہ عنہ was going along with him. `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ asked him (about something) but Allah's Apostle did not answer him. `Umar رضی اللہ عنہ asked him again, but he did not answer him. He asked him again (for the third time) but he did not answer him. On that `Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ addressed himself saying, "May your mother be bereaved of you, O `Umar, for you have asked Allah's Messenger (ﷺ) thrice, yet he has not answered you." `Umar رضی اللہ عنہ said, "Then I made my camel run fast and took it in front of the other Muslims, and I was afraid that something might be revealed in my connection. I had hardly waited for a moment when I heard somebody calling me. I said, 'I was afraid that something might have been revealed about me.' Then I came to Allah's Messenger (ﷺ) and greeted him. He (i.e. the Prophet) said, 'Tonight there has been revealed to me, a Sura which is dearer to me than (all the world) on which the sun rises,' and then he recited: 'Verily! We have granted you (O Muhammad) A manifest victory." (48.1)

Urdu

مجھ سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ‘ انہیں زید بن اسلم نے اور انہیں ان کے والد اسلم نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی سفر یعنی ( سفر حدیبیہ ) میں تھے، رات کا وقت تھا اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ ساتھ تھے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے کچھ پوچھا لیکن ( اس وقت آپ وحی میں مشغول تھے ‘ عمر رضی اللہ عنہ کو خبر نہ تھی ) آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے پھر کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ آپ نے اس مرتبہ بھی کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے دل میں ) کہا: عمر! تیری ماں تجھ پر روئے ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تم نے تین مرتبہ سوال کیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں ایک مرتبہ بھی جواب نہیں دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر میں نے اپنے اونٹ کو ایڑ لگائی اور مسلمانوں سے آگے نکل گیا۔ مجھے ڈر تھا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی وحی نہ نازل ہو جائے۔ ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ میں نے سنا ‘ ایک شخص مجھے آواز دے رہا تھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سوچا کہ میں تو پہلے ہی ڈر رہا تھا کہ میرے بارے میں کہیں کوئی وحی نازل نہ ہو جائے۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو سلام کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات مجھ پر ایک سورت نازل ہوئی ہے اور وہ مجھے اس تمام کائنات سے زیادہ عزیز ہے جس پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ پھر آپ نے سورۃ «إنا فتحنا لك فتحا مبينا‏» ”بیشک ہم نے آپ کو کھلی ہوئی فتح دی ہے۔“ کی تلاوت فرمائی۔

Hadith 4178, 4179
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ، حِينَ حَدَّثَ هَذَا الْحَدِيثَ،، حَفِظْتُ بَعْضَهُ، وَثَبَّتَنِي مَعْمَرٌ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَمَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ قَالاَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم عَامَ الْحُدَيْبِيَةِ فِي بِضْعَ عَشْرَةَ مِائَةً مِنْ أَصْحَابِهِ، فَلَمَّا أَتَى ذَا الْحُلَيْفَةِ قَلَّدَ الْهَدْىَ، وَأَشْعَرَهُ، وَأَحْرَمَ مِنْهَا بِعُمْرَةٍ، وَبَعَثَ عَيْنًا لَهُ مِنْ خُزَاعَةَ، وَسَارَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم حَتَّى كَانَ بِغَدِيرِ الأَشْطَاطِ، أَتَاهُ عَيْنُهُ قَالَ إِنَّ قُرَيْشًا جَمَعُوا لَكَ جُمُوعًا، وَقَدْ جَمَعُوا لَكَ الأَحَابِيشَ، وَهُمْ مُقَاتِلُوكَ وَصَادُّوكَ عَنِ الْبَيْتِ وَمَانِعُوكَ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ أَشِيرُوا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَىَّ، أَتَرَوْنَ أَنْ أَمِيلَ إِلَى عِيَالِهِمْ وَذَرَارِيِّ هَؤُلاَءِ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّونَا عَنِ الْبَيْتِ، فَإِنْ يَأْتُونَا كَانَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَطَعَ عَيْنًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَإِلاَّ تَرَكْنَاهُمْ مَحْرُوبِينَ ‏"‏‏.‏ قَالَ أَبُو بَكْرٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، خَرَجْتَ عَامِدًا لِهَذَا الْبَيْتِ، لاَ تُرِيدُ قَتْلَ أَحَدٍ وَلاَ حَرْبَ أَحَدٍ، فَتَوَجَّهْ لَهُ، فَمَنْ صَدَّنَا عَنْهُ قَاتَلْنَاهُ‏.‏ قَالَ ‏"‏ امْضُوا عَلَى اسْمِ اللَّهِ ‏"‏‏.
English

Narrated Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہ and Marwan bin Al-Hakam:

(one of them said more than his friend) The Prophet (ﷺ) set out in the company of more than one thousand of his companions in the year of Al-Hudaibiya, and when he reached Dhul-Hulaifa, he garlanded his Hadi (i.e. sacrificing animal), assumed the state of Ihram for `Umra from that place and sent a spy of his from Khuzi'a (tribe). The Prophet (ﷺ) proceeded on till he reached (a village called) Ghadir-al-Ashtat. There his spy came and said, "The Quraish (infidels) have collected a great number of people against you, and they have collected against you the Ethiopians, and they will fight with you, and will stop you from entering the Ka`ba and prevent you." The Prophet (ﷺ) said, "O people! Give me your opinion. Do you recommend that I should destroy the families and offspring of those who want to stop us from the Ka`ba? If they should come to us (for peace) then Allah will destroy a spy from the pagans, or otherwise we will leave them in a miserable state." On that Abu Bakr رضی اللہ عنہ said, "O Allah Apostle! You have come with the intention of visiting this House (i.e. Ka`ba) and you do not want to kill or fight anybody. So proceed to it, and whoever should stop us from it, we will fight him." On that the Prophet (ﷺ) said, "Proceed on, in the Name of Allah!"

Urdu

ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ جب زہری نے یہ حدیث بیان کی ( جو آگے مذکور ہوئی ہے ) تو اس میں سے کچھ میں نے یاد رکھی اور معمر نے اس کو اچھی طرح یاد دلایا۔ ان سے عروہ بن زبیر نے ‘ ان سے مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ اور مروان بن حکم نے بیان کیا ‘

ان میں سے ہر ایک دوسرے سے کچھ بڑھاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ کے موقع پر تقریباً ایک ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر روانہ ہوئے۔ پھر جب آپ ذو الحلیفہ پہنچے تو آپ نے قربانی کے جانور کو قلادہ پہنایا اور اس پر نشان لگایا اور وہیں سے عمرہ کا احرام باندھا۔ پھر آپ نے قبیلہ خزاعہ کے ایک صحابی کو جاسوسی کے لیے بھیجا اور خود بھی سفر جاری رکھا۔ جب آپ غدیر الاشطاط پر پہنچے تو آپ کے جاسوس بھی خبریں لے کر آ گئے۔ جنہوں نے بتایا کہ قریش نے آپ کے مقابلے کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا ہے اور بہت سے قبائل کو بلایا ہے۔ وہ آپ سے جنگ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور آپ کو بیت اللہ سے روکیں گے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ مجھے مشورہ دو کیا تمہارے خیال میں یہ مناسب ہو گا کہ میں ان کفار کی عورتوں اور بچوں پر حملہ کر دوں جو ہمارے بیت اللہ تک پہنچنے میں رکاوٹ بننا چاہتے ہیں؟ اگر انہوں نے ہمارا مقابلہ کیا تو اللہ عزوجل نے مشرکین سے ہمارے جاسوس کو محفوظ رکھا ہے اور اگر وہ ہمارے مقابلے پر نہیں آتے تو ہم انہیں ایک ہاری ہوئی قوم جان کر چھوڑ دیں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یا رسول اللہ! آپ تو صرف بیت اللہ کے عمرہ کے لیے نکلے ہیں نہ آپ کا ارادہ کسی کو قتل کرنے کا ہے اور نہ کسی سے لڑائی کا۔ اس لیے آپ بیت اللہ تشریف لے چلیں۔ اگر ہمیں پھر بھی کوئی بیت اللہ تک جانے سے روکے گا تو ہم اس سے جنگ کریں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اللہ کا نام لے کر سفر جاری رکھو۔

Hadith 4180, 4181
Sahih
حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَمِّهِ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ، وَالْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ، يُخْبِرَانِ خَبَرًا مِنْ خَبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي عُمْرَةِ الْحُدَيْبِيَةِ فَكَانَ فِيمَا أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ عَنْهُمَا أَنَّهُ لَمَّا كَاتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم سُهَيْلَ بْنَ عَمْرٍو، يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى قَضِيَّةِ الْمُدَّةِ، وَكَانَ فِيمَا اشْتَرَطَ سُهَيْلُ بْنُ عَمْرٍو أَنَّهُ قَالَ لاَ يَأْتِيكَ مِنَّا أَحَدٌ وَإِنْ كَانَ عَلَى دِينِكَ إِلاَّ رَدَدْتَهُ إِلَيْنَا، وَخَلَّيْتَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُ‏.‏ وَأَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ عَلَى ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمُؤْمِنُونَ ذَلِكَ وَامَّعَضُوا، فَتَكَلَّمُوا فِيهِ، فَلَمَّا أَبَى سُهَيْلٌ أَنْ يُقَاضِيَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ عَلَى ذَلِكَ، كَاتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم، فَرَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَبَا جَنْدَلِ بْنَ سُهَيْلٍ يَوْمَئِذٍ إِلَى أَبِيهِ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو، وَلَمْ يَأْتِ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ مِنَ الرِّجَالِ إِلاَّ رَدَّهُ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ، وَإِنْ كَانَ مُسْلِمًا، وَجَاءَتِ الْمُؤْمِنَاتُ مُهَاجِرَاتٍ، فَكَانَتْ أُمُّ كُلْثُومٍ بِنْتُ عُقْبَةَ بْنِ مُعَيْطٍ مِمَّنْ خَرَجَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَهْىَ عَاتِقٌ، فَجَاءَ أَهْلُهَا يَسْأَلُونَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَنْ يَرْجِعَهَا إِلَيْهِمْ، حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمُؤْمِنَاتِ مَا أَنْزَلَ‏.
English

Narrated `Urwa bin Az-Zubair:

He heard Marwan bin Al-Hakam and Al-Miswar bin Makhrama رضی اللہ عنہما relating one of the events that happened to Allah's Messenger (ﷺ) in the `Umra of Al-Hudaibiya. They said, "When Allah's Messenger (ﷺ) concluded the truce with Suhail bin `Amr on the day of Al-Hudaibiya, one of the conditions which Suhail bin `Amr stipulated, was his saying (to the Prophet), "If anyone from us (i.e. infidels) ever comes to you, though he has embraced your religion, you should return him to us, and should not interfere between us and him." Suhail refused to conclude the truce with Allah's Messenger (ﷺ) except on this condition. The believers disliked this condition and got disgusted with it and argued about it. But when Suhail refused to conclude the truce with Allah's Messenger (ﷺ) except on that condition, Allah's Apostle concluded it. Accordingly, Allah's Messenger (ﷺ) then returned Abu Jandal bin Suhail to his father, Suhail bin `Amr, and returned every man coming to him from them during that period even if he was a Muslim. The believing women Emigrants came (to Medina) and Um Kulthum, the daughter of `Uqba bin Abi Mu'ait was one of those who came to Allah's Messenger (ﷺ) and she was an adult at that time. Her relatives came, asking Allah's Messenger (ﷺ) to return her to them, and in this connection, Allah revealed the Verses dealing with the believing (women).

Urdu

مجھ سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو یعقوب بن ابراہیم نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھتیجے ابن شہاب نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے چچا محمد بن مسلم بن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عروہ بن زبیر نے خبر دی اور

انہوں نے مروان بن حکم اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ دونوں راویوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عمرہ حدیبیہ کے بارے میں بیان کیا تو عروہ نے مجھے اس میں جو کچھ خبر دی تھی ‘ اس میں یہ بھی تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور ( قریش کا نمائندہ ) سہیل بن عمرو حدیبیہ میں ایک مقررہ مدت تک کے لیے صلح کی دستاویز لکھ رہے تھے اور اس میں سہیل نے یہ شرط بھی رکھی تھی کہ ہمارا اگر کوئی آدمی آپ کے یہاں پناہ لے خواہ وہ آپ کے دین پر ہی کیوں نہ ہو جائے تو آپ کو اسے ہمارے حوالے کرنا ہی ہو گا تاکہ ہم اس کے ساتھ جو چاہیں کریں۔ سہیل اس شرط پر اڑ گیا اور کہنے لگا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس شرط کو قبول کر لیں اور مسلمان اس شرط پر کسی طرح راضی نہ تھے۔ مجبوراً انہوں نے اس پر گفتگو کی ( کہا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ مسلمان کو کافر کے سپرد کر دیں ) سہیل نے کہا کہ یہ نہیں ہو سکتا تو صلح بھی نہیں ہو سکتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ شرط بھی تسلیم کر لی اور ابوجندل بن سہیل رضی اللہ عنہ کو ان کے والد سہیل بن عمرو کے سپرد کر دیا ( جو اسی وقت مکہ سے فرار ہو کر بیڑی کو گھسیٹتے ہوئے مسلمانوں کے پاس پہنچے تھے ) ( شرط کے مطابق مدت صلح میں مکہ سے فرار ہو کر ) جو بھی آتا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اسے واپس کر دیتے ‘ خواہ وہ مسلمان ہی کیوں نہ ہوتا۔ اس مدت میں بعض مومن عورتیں بھی ہجرت کر کے مکہ سے آئیں۔ ام کلثوم بنت عقبہ ابن ابی معیط بھی ان میں سے ہیں جو اس مدت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی تھیں ‘ وہ اس وقت نوجوان تھیں ‘ ان کے گھر والے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے مطالبہ کیا کہ انہیں واپس کر دیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے مومن عورتوں کے بارے میں وہ آیت نازل کی جو شرط کے مناسب تھی۔