Military Expeditions led by the Prophet (PBUH) (Al-Maghaazi)
كتاب المغازي
Chapter 65
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
As if I am just now looking at the dust rising in the street of Banu Ghanm (in Medina) because of the marching of Gabriel's regiment when Allah's Messenger (ﷺ) set out to Banu Quraiza (to attack them).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ‘ ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جیسے اب بھی وہ گردوغبار میں دیکھ رہا ہوں جو جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ سوار فرشتوں کی وجہ سے قبیلہ بنو غنم کی گلی میں اٹھا تھا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کے خلاف چڑھ کر گئے تھے۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
On the day of Al-Ahzab (i.e. Clans) the Prophet (ﷺ) said, "None of you Muslims) should offer the `Asr prayer but at Banu Quraiza's place." The `Asr prayer became due for some of them on the way. Some of those said, "We will not offer it till we reach it, the place of Banu Quraiza," while some others said, "No, we will pray at this spot, for the Prophet (ﷺ) did not mean that for us." Later on It was mentioned to the Prophet (ﷺ) and he did not berate any of the two groups.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن محمد بن اسماء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ بن اسماء نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
غزوہ احزاب کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمام مسلمان عصر کی نماز بنو قریظہ تک پہنچنے کے بعد ہی ادا کریں۔ بعض حضرات کی عصر کی نماز کا وقت راستے ہی میں ہو گیا۔ ان میں سے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم نے تو کہا کہ ہم راستے میں نماز نہیں پڑھیں گے۔ ( کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ میں نماز عصر پڑھنے کے لیے فرمایا ہے ) اور بعض صحابہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا منشا یہ نہیں تھا۔ ( بلکہ جلدی جانا مقصد تھا ) بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ ہوا تو آپ نے کسی پر خفگی نہیں فرمائی۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Some (of the Ansar) used to present date palm trees to the Prophet (ﷺ) till Banu Quraiza and Banu An- Nadir were conquered (then he returned to the people their date palms). My people ordered me to ask the Prophet (ﷺ) to return some or all the date palms they had given to him, but the Prophet (ﷺ) had given those trees to Um Aiman رضی اللہ عنہ . On that, Um Aiman came and put the garment around my neck and said, "No, by Him except Whom none has the right to be worshipped, he will not return those trees to you as he (i.e. the Prophet (ﷺ) ) has given them to me." The Prophet (ﷺ) go said (to her), "Return those trees and I will give you so much (instead of them)." But she kept on refusing, saying, "No, by Allah," till he gave her ten times the number of her date palms.
ہم سے عبداللہ ابی الاسود نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا (دوسری سند امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں) اور مجھ سے خلیفہ بن خیاط نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ‘ کہ میں نے اپنے والد سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
بطور ہدیہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنے باغ میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے چند کھجور کے درخت مقرر کر دیئے تھے یہاں تک کہ بنو قریظہ اور بنو نضیر کے قبائل فتح ہو گئے ( تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ہدایا کو واپس کر دیا ) میرے گھر والوں نے بھی مجھے اس کھجور کو، تمام کی تمام یا اس کا کچھ حصہ لینے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کھجور ام ایمن رضی اللہ عنہا کو دے دی تھی۔ اتنے میں وہ بھی آ گئیں اور کپڑا میری گردن میں ڈال کر کہنے لگیں ‘ قطعاً نہیں۔ اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں یہ پھل تمہیں نہیں ملیں گے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عنایت فرما چکے ہیں۔ یا اسی طرح کے الفاظ انہوں نے بیان کئے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تم مجھ سے اس کے بدلے میں اتنے لے لو۔ ( اور ان کا مال انہیں واپس کر دو ) لیکن وہ اب بھی یہی کہے جا رہی تھیں کہ قطعاً نہیں، خدا کی قسم! یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں، میرا خیال ہے کہ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس کا دس گنا دینے کا وعدہ فرمایا ( پھر انہوں نے مجھے چھوڑا ) یا اسی طرح کے الفاظ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کئے۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
The people of (Banu) Quraiza agreed to accept the verdict of Sa`d bin Mu`adh رضی اللہ عنہ . So the Prophet (ﷺ) sent for Sa`d, and the latter came (riding) a donkey and when he approached the Mosque, the Prophet (ﷺ) said to the Ansar, "Get up for your chief or for the best among you." Then the Prophet (ﷺ) said (to Sa`d رضی اللہ عنہ)." These (i.e. Banu Quraiza) have agreed to accept your verdict." Sa`d رضی اللہ عنہ said, "Kill their (men) warriors and take their offspring as captives, "On that the Prophet (ﷺ) said, "You have judged according to Allah's Judgment," or said, "according to the King's judgment."
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے غندر نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ انہوں نے ابوامامہ سے سنا ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
بنو قریظہ نے سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلانے کے لیے آدمی بھیجا۔ وہ گدھے پر سوار ہو کر آئے۔ جب اس جگہ کے قریب آئے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھنے کے لیے منتخب کر رکھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے فرمایا کہ اپنے سردار کے لینے کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ) اپنے سے بہتر شخص کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ بنو قریظہ نے تم کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ چنانچہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جتنے لوگ ان میں جنگ کے قابل ہیں انہیں قتل کر دیا جائے اور ان کے بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تم نے اللہ کے فیصلہ کے مطابق فیصلہ کیا یا یہ فرمایا کہ جیسے بادشاہ ( یعنی اللہ ) کا حکم تھا۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Sa`d رضی اللہ عنہ was wounded on the day of Khandaq (i.e. Trench) when a man from Quraish, called Hibban bin Al-`Araqa hit him (with an arrow). The man was Hibban bin Qais from (the tribe of) Bani Mais bin 'Amir bin Lu'ai who shot an arrow at Sa`d's medial arm vein (or main artery of the arm). The Prophet (ﷺ) pitched a tent (for Sa`d) in the Mosque so that he might be near to the Prophet (ﷺ) to visit. When the Prophet returned from the (battle) of Al-Khandaq (i.e. Trench) and laid down his arms and took a bath Gabriel came to him while he (i.e. Gabriel) was shaking the dust off his head, and said, "You have laid down the arms?" By Allah, I have not laid them down. Go out to them (to attack them)." The Prophet (ﷺ) said, "Where?" Gabriel pointed towards Bani Quraiza. So Allah's Messenger (ﷺ) went to them (i.e. Banu Quraiza) (i.e. besieged them). They then surrendered to the Prophet's judgment but he directed them to Sa`d to give his verdict concerning them. Sa`d said, "I give my judgment that their warriors should be killed, their women and children should be taken as captives, and their properties distributed." Narrated Hisham: My father informed me that `Aisha رضی اللہ عنہا said, "Sa`d رضی اللہ عنہ said, "O Allah! You know that there is nothing more beloved to me than to fight in Your Cause against those who disbelieved Your Apostle and turned him out (of Mecca). O Allah! I think you have put to an end the fight between us and them (i.e. Quraish infidels). And if there still remains any fight with the Quraish (infidels), then keep me alive till I fight against them for Your Sake. But if you have brought the war to an end, then let this wound burst and cause my death thereby.' So blood gushed from the wound. There was a tent in the Mosque belonging to Banu Ghifar who were surprised by the blood flowing towards them . They said, 'O people of the tent! What is this thing which is coming to us from your side?' Behold! Blood was flowing profusely out of Sa`d's wound. Sa`d رضی اللہ عنہ then died because of that."
ہم سے زکریا بن یحییٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
غزوہ خندق کے موقع پر سعد رضی اللہ عنہ زخمی ہو گئے تھے۔ قریش کے ایک کافر شخص ‘ حسان بن عرفہ نامی نے ان پر تیر چلایا تھا اور وہ ان کے بازو کی رگ میں آ کے لگا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے مسجد میں ایک خیمہ لگا دیا تھا تاکہ قریب سے ان کی عیادت کرتے رہیں۔ پھر جب آپ غزوہ خندق سے واپس ہوئے اور ہتھیار رکھ کر غسل کیا تو جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے۔ وہ اپنے سر سے غبار جھاڑ رہے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا آپ نے ہتھیار رکھ دیئے۔ اللہ کی قسم! ابھی میں نے ہتھیار نہیں اتارے ہیں۔ آپ کو ان پر فوج کشی کرنی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کن پر؟ تو انہوں نے بنو قریظہ کی طرف اشارہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ تک پہنچے ( اور انہوں نے اسلامی لشکر کے پندرہ دن کے سخت محاصرہ کے بعد ) سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کو ثالث مان کر ہتھیار ڈال دیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ کو فیصلہ کا اختیار دیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں ان کے بارے میں فیصلہ کرتا ہوں کہ جتنے لوگ ان کے جنگ کرنے کے قابل ہیں وہ قتل کر دیئے جائیں ‘ ان کی عورتیں اور بچے قید کر لیے جائیں اور ان کا مال تقسیم کر لیا جائے۔ ہشام نے بیان کیا کہ پھر مجھے میرے والد نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ سعد رضی اللہ عنہ نے یہ دعا کی تھی ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز عزیز نہیں کہ میں تیرے راستے میں اس قوم سے جہاد کروں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور انہیں ان کے وطن سے نکالا لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تو نے ہماری اور ان کی لڑائی اب ختم کر دی ہے۔ لیکن اگر قریش سے ہماری لڑائی کا کوئی بھی سلسلہ ابھی باقی ہو تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھنا۔ یہاں تک کہ میں تیرے راستے میں ان سے جہاد کروں اور اگر لڑائی کے سلسلے کو تو نے ختم ہی کر دیا ہے تو میرے زخموں کو پھر سے ہرا کر دے اور اسی میں میری موت واقع کر دے۔ اس دعا کے بعد سینے پر ان کا زخم پھر سے تازہ ہو گیا۔ مسجد میں قبیلہ بنو غفار کے کچھ صحابہ کا بھی ایک خیمہ تھا۔ خون ان کی طرف بہہ کر آیا تو وہ گھبرائے اور انہوں نے کہا: اے خیمہ والو! تمہاری طرف سے یہ خون ہماری طرف بہہ کر آ رہا ہے؟ دیکھا تو سعد رضی اللہ عنہ کے زخم سے خون بہہ رہا تھا ‘ ان کی وفات اسی میں ہوئی۔
Narrated Al-Bara رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to Hassan رضی اللہ عنہ , "Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e, supports you)." (Through another group of sub narrators) Al-Bara bin Azib said, "On the day of Quraiza's (besiege), Allah's Messenger (ﷺ) said to Hassan bin Thabit, 'Abuse them (with your poems), and Gabriel is with you (i.e. supports you).' "
ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی ‘ کہا کہ مجھے عدی بن ثابت نے خبر دی ‘ انہوں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ مشرکین کی ہجو کر یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بجائے ) «هاجهم» فرمایا جبرائیل تمہارے ساتھ ہیں۔
Narrated Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ :
"On the day of Quraiza's (siege), Allah's Messenger (ﷺ) said to Hassan bin Thabit رضی اللہ عنہ , 'Abuse them (with your poems), and Jibril is with you.'"
اور ابراہیم بن طہمان نے شیبانی سے یہ زیادہ کیا ہے ان سے عدی بن ثابت نے بیان کیا اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو قریظہ کے موقع پر حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ مشرکین کی ہجو کرو جبرائیل تمہاری مدد پر ہیں۔
Narrated Jabir bin Abdullah (رضی اللہ عنہما):
The Prophet (ﷺ) led his Companions in the Fear Prayer in the seventh Ghazwa i.e. the Ghazwa of Dhat-ur-Riqa. Ibn Abbas رضی اللہ عنہما said, "The Prophet (ﷺ) offered the Fear Prayer at a place called Dhi-Qarad."
اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ‘ انہیں عمران قطان نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی تھی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) led the people in the Fear Prayer on the day of Muharib and Tha'laba (i.e. the day of the battle of Dhat-ur-Riqa').
اور بکر بن سوادہ نے بیان کیا ‘ ان سے زیاد بن نافع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوموسیٰ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ محارب اور بنی ثعلبہ میں اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی تھی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) set out for the battle of Dhat-ur-Riqa' at a place called Nakhl and he met a group of people from Ghatafan, but there was no clash (between them); the people were afraid of each other and the Prophet (ﷺ) offered the two raka'at of the Fear prayer." Narrated Salama رضی اللہ عنہ : "I fought in the company of the Prophet (ﷺ) on the day of al-Qarad."
اور ابن اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ‘ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی اور چونکہ مسلمانوں پر کفار کے ( اچانک حملے کا ) خطرہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اور یزید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذوالقرد میں شریک تھا۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
"We went out in the company of the Prophet (ﷺ) for a Ghazwa and we were six persons having one camel which we rode in rotation. So, (due to excessive walking) our feet became thin and my feet became thin and my nail dropped, and we used to wrap our feet with the pieces of cloth, and for this reason, the Ghazwa was named Dhat-ur-Riqa as we wrapped our feet with rags." When Abu- Musa رضی اللہ عنہ narrated this (Hadith), he felt regretful to do so and said, as if he disliked to have disclosed a good deed of his.
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسَامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ ( پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے ) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔
Narrated Salih bin Khawwat:
Concerning those who witnessed the Fear Prayer that was performed in the battle of Dhat-ur-Riqa' in the company of Allah's Messenger (ﷺ); One batch lined up behind him while another batch (lined up) facing the enemy. The Prophet (ﷺ) led the batch that was with him in one rak`a, and he stayed in the standing posture while that batch completed their (two rak`at) prayer by themselves and went away, lining in the face of the enemy, while the other batch came and he (i.e. the Prophet) offered his remaining rak`a with them, and then, kept on sitting till they completed their prayer by themselves, and he then finished his prayer with Taslim along with them.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ‘ ان سے یزید بن رومان نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ایک ایسے صحابی سے بیان کیا
جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھی تھی۔ اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ پہلے ایک جماعت نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ اس وقت دوسری جماعت ( مسلمانوں کی ) دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو جو آپ کے پیچھے صف میں کھڑی تھی ‘ ایک رکعت نماز خوف پڑھائی اور اس کے بعد آپ کھڑے رہے۔ اس جماعت نے اس عرصہ میں اپنی نماز پوری کر لی اور واپس آ کر دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی دوسری رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی اور ( رکوع و سجدہ کے بعد ) آپ قعدہ میں بیٹھے رہے۔ پھر ان لوگوں نے جب اپنی نماز ( جو باقی رہ گئی تھی ) پوری کر لی تو آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
"We were with the Prophet (ﷺ) at Nakhl," and then he mentioned the Fear prayer. Imam Malik رضی اللہ عنہ says: ''Out of all reports, I have heard about the fear prayer, this is the best.'' Narrated Al-Qasim bin Muhammad: The Prophet (ﷺ) offered the Fear prayer in the Ghazwa of Banu Anmar.
اور معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے ابوزبیر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے۔ پھر انہوں نے نماز خوف کا ذکر کیا۔ امام مالک نے بیان کیا کہ نماز خوف کے سلسلے میں جتنی روایات میں نے سنی ہیں یہ روایت ان سب میں زیادہ بہتر ہے۔ معاذ بن ہشام کے ساتھ اس حدیث کو لیث بن سعد نے بھی ہشام بن سعد مدنی سے ‘ انہوں نے زید بن اسلم سے روایت کیا اور ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو انمار میں ( نماز خوف ) پڑھی تھی۔
Narrated Sahl bin Abi Hathma (describing the Fear prayer):
The Imam stands up facing the Qibla and one batch of them (i.e. the army) (out of the two) prays along with him and the other batch faces the enemy. The Imam offers one rak`a with the first batch they themselves stand up alone and offer one bowing and two prostrations while they are still in their place, and then go away to relieve the second batch, and the second batch comes (and takes the place of the first batch in the prayer behind the Imam) and he offers the second rak`a with them. So he completes his two-rak`at and then the second batch bows and prostrates two prostrations (i.e. complete their second rak`a and thus all complete their prayer). (This hadith has also been narrated through two other chain by Sahl b. Abi Hathma)
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے قاسم بن محمد نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ
( نماز خوف میں ) امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گی۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت دشمن کے مقابلہ پر کھڑی ہو گی۔ انہیں کی طرف منہ کیے ہوئے۔ امام اپنے ساتھ والی جماعت کو پہلے ایک رکعت نماز پڑھائے گا ( ایک رکعت پڑھنے کے بعد پھر ) یہ جماعت کھڑی ہو جائے گی اور خود ( امام کے بغیر ) اسی جگہ ایک رکوع اور دو سجدے کر کے دشمن کے مقابلہ پر جا کر کھڑی ہو جائے گی۔ جہاں دوسری جماعت پہلے سے موجود تھی۔ اس کے بعد امام دوسری جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائے گا۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہو جائیں گی اور یہ دوسری جماعت ایک رکوع اور دو سجدے خود کرے گی۔(یعنی اپنی دوسری رکعت پوری کرتا ہے اور اس طرح سب اپنی نماز پوری کرتے ہیں)۔ (یہ حدیث سہل بن ابی حاتمہ نے بھی دو اور سندوں سے نقل کی ہے)
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I took part in a Ghazwa towards Najd along with Allah's Messenger (ﷺ) and we clashed with the enemy, and we lined up for them.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے سالم نے خبر دی اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
میں نجد کی طرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ کے لیے گیا تھا۔ وہاں ہم دشمن کے آمنے سامنے ہوئے اور ان کے مقابلے میں صف بندی کی۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) led the Fear-prayer with one of the two batches of the army while the other (batch) faced the enemy. Then the first batch went away and took places of their companions (i.e. second batch) and the second batch came and he led his second rak`a with them. Then he (i.e. the Prophet: finished his prayer with Taslim and then each of the two batches got up and completed their remaining one rak`a.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معمر نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اور ان سے ان کے والد نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جماعت کے ساتھ نماز ( نماز خوف ) پڑھی اور دوسری جماعت اس عرصہ میں دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ پھر یہ جماعت جب اپنے دوسرے ساتھیوں کی جگہ ( نماز پڑھ کر ) چلی گئی تو دوسری جماعت آئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت نماز پڑھائی۔ اس کے بعد آپ نے اس جماعت کے ساتھ سلام پھیرا۔ آخر اس جماعت نے کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی اور پہلی جماعت نے بھی کھڑے ہو کر اپنی ایک رکعت پوری کی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
He had participated in a Ghazwa towards Najd in the company of Allah's Messenger (ﷺ) .
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعیب نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے بیان کیا ‘ ان سے سنان اور ابوسلمہ نے بیان کیا اور انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں لڑائی کے لیے گئے تھے۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
He fought in a Ghazwa towards Najd along with Allah's Messenger (ﷺ) and when Allah's Messenger (ﷺ) returned, he too, returned along with him. The time of the afternoon nap overtook them when they were in a valley full of thorny trees. Allah's Messenger (ﷺ) dismounted and the people dispersed amongst the thorny trees, seeking the shade of the trees. Allah's Messenger (ﷺ) took shelter under a Samura tree and hung his sword on it. We slept for a while when Allah's Messenger (ﷺ) suddenly called us, and we went to him, to find a bedouin sitting with him. Allah's Messenger (ﷺ) said, "This (bedouin) took my sword out of its sheath while I was asleep. When I woke up, the naked sword was in his hand and he said to me, 'Who can save you from me?, I replied, 'Allah.' Now here he is sitting." Allah's Messenger (ﷺ) did not punish him (for that).
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے محمد بن ابی عتیق نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے سنان بن ابی سنان دولی نے ‘ انہیں جابر رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اطراف نجد میں غزوہ کے لیے گئے تھے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو وہ بھی واپس ہوئے۔ قیلولہ کا وقت ایک وادی میں آیا ‘ جہاں ببول کے درخت بہت تھے۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہیں اتر گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم درختوں کے سائے کے لیے پوری وادی میں پھیل گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ایک ببول کے درخت کے نیچے قیام فرمایا اور اپنی تلوار اس درخت پر لٹکا دی۔ جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابھی تھوڑی دیر ہمیں سوئے ہوئے ہوئی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں پکارا۔ ہم جب خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کے پاس ایک بدوی بیٹھا ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شخص نے میری تلوار ( مجھ ہی پر ) کھینچ لی تھی ‘ میں اس وقت سویا ہوا تھا ‘ میری آنکھ کھلی تو میری ننگی تلوار اس کے ہاتھ میں تھی۔ اس نے مجھ سے کہا ‘ تمہیں میرے ہاتھ سے آج کون بچائے گا؟ میں نے کہا کہ اللہ! اب دیکھو یہ بیٹھا ہوا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر کوئی سزا نہیں دی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
"We were in the company of the Prophet (during the battle of) Dhat-ur-Riqa', and we came across a shady tree and we left it for the Prophet (to take rest under its shade). A man from the pagans came while the Prophet's sword was hanging on the tree. He took it out of its sheath secretly and said (to the Prophet (ﷺ) ), 'Are you afraid of me?' The Prophet (ﷺ) said, 'No.' He said, 'Who can save you from me?' The Prophet (ﷺ) said, Allah.' The companions of the Prophet (ﷺ) threatened him, then the Iqama for the prayer was announced and the Prophet (ﷺ) offered a two rak`at Fear prayer with one of the two batches, and that batch went aside and he offered two rak`a-t with the other batch. So the Prophet (ﷺ) offered four rak`at but the people offered two rak`at only." (The subnarrator) Abu Bishr added, "The man was Ghaurath bin Al-Harith and the battle was waged against Muharib Khasafa."
اور ابان نے کہا کہ ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ‘ ان سے ابوسلمہ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذات الرقاع میں تھے۔ کہ ہم ایک گھنے سایہ دار درخت کے پاس آئے۔ وہ درخت ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مخصوص کر دیا کہ آپ وہاں آرام فرمائیں۔ بعد میں مشرکین میں سے ایک شخص آیا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلوار درخت سے لٹک رہی تھی۔ اس نے وہ تلوار آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کھینچ لی اور پوچھا ‘ تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں۔ اس پر اس نے پوچھا آج میرے ہاتھ سے تمہیں کون بچائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ! پھر صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ڈانٹا دھمکایا اور نماز کی تکبیر کہی گئی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ایک جماعت کو دو رکعت نماز خوف پڑھائی جب وہ جماعت ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سے ) ہٹ گئی تو آپ نے دوسری جماعت کو بھی دو رکعت نماز پڑھائی۔ اس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعت نماز ہوئی۔ لیکن مقتدیوں کی صرف دو دو رکعت اور مسدد نے بیان کیا ‘ ان سے ابوعوانہ نے ‘ ان سے ابوبسر نے کہ اس شخص کا نام ( جس نے آپ پر تلوار کھینچی تھی ) غورث بن حارث تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں قبیلہ محارب خصفہ سے جنگ کی تھی۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
"We were with the Prophet (ﷺ) at Nakhl and he offered the Fear prayer." Abu Huraira رضی اللہ عنہ said, "I offered the Fear prayer with the Prophet (ﷺ) during the Ghazwa (i.e. the battle) of Najd." Abu Huraira رضی اللہ عنہ came to the Prophet (ﷺ) during the day of Khaibar.
اور ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھائی اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف غزوہ نجد میں پڑھی تھی۔ یہ یاد رہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ( سب سے پہلے ) غزوہ خیبر کے موقع پر حاضر ہوئے تھے۔