Military Expeditions led by the Prophet (PBUH) (Al-Maghaazi)
كتاب المغازي
Chapter 65
Narrated Sa`d رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud.
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے سعید بن مسیب سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ
غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میری ہمت افزائی کے لیے ) اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
"Allah's Messenger (ﷺ) mentioned both his father and mother for me on the day of the battle of Uhud." He meant when the Prophet (ﷺ) said (to Sa`d) while the latter was fighting. "Let my father and mother be sacrificed for you!"
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث بن سعد نے بیان کیا، ان سے یحییٰ بن کثیر نے بیان کیا، ان سے ابن المسیب نے، انہوں نے بیان کیا کہ سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ احد کے موقع پر ( میری ہمت بڑھانے کے لیے ) اپنے والد اور والدہ دونوں کو جمع فرمایا۔ ان کی مراد آپ کے اس ارشاد سے تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت فرمایا تھا جب وہ جنگ کر رہے تھے کہ میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
I have never heard the Prophet (ﷺ) mentioning both his father and mother for anybody other than Sa`d رضی اللہ عنہ .
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے مسعر نے بیان کیا، ان سے سعد نے، ان سے ابن شداد نے بیان کیا، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ
سعد رضی اللہ عنہ کے سوا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنا کہ آپ اس کے لیے دعا میں ماں باپ دونوں کو بایں طور جمع کر رہے ہوں۔
Narrated `Ali رضی اللہ عنہ :
I have never heard the Prophet (ﷺ) mentioning his father and mother for anybody other than Sa`d bin Malik. I heard him saying on the day of Uhud, "O Sa`d throw (arrows)! Let my father and mother be sacrificed for you !"
ہم سے یسرہ بن صفوان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے، ان سے عبداللہ بن شداد نے اور ان سے علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
سعد بن مالک کے سوا میں نے اور کسی کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے والدین کا ایک ساتھ ذکر کرتے نہیں سنا، میں نے خود سنا کہ احد کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ سعد! خوب تیر برساؤ۔ میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔
Narrated `Uthman:
In the battles in which the Prophet (peace and blessings of Allah be upon him) fought the infidels. At one point in some of the Ghazwa (Ahud) there was no one left with him except Talha and Saad رضی اللہ عنہما.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے معتمر نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ ابوعثمان بیان کرتے تھے کہ
ان غزوات میں سے جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار سے قتال کیا۔ بعض غزوہ ( احد ) میں ایک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ طلحہ اور سعد کے سوا اور کوئی باقی نہیں رہ گیا تھا۔
Narrated As-Saib bin Yazid:
I have been in the company of `Abdur Rahman bin `Auf, Talha bin 'Ubaidullah, Al-Miqdad and Sa`d رضی اللہ عنہم, and I heard none of them narrating anything from the Prophet (ﷺ) excepting the fact that I heard Talha رضی اللہ عنہ narrating about the day of Uhud (battle) .
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا، ان سے محمد بن یوسف نے بیان کیا، ان سے سائب بن یزید نے کہ
میں، عبدالرحمٰن بن عوف، طلحہ بن عبیداللہ، مقداد بن اسود اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم کی صحبت میں رہا ہوں لیکن میں نے ان حضرات میں سے کسی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے نہیں سنا۔ صرف طلحہ رضی اللہ عنہ سے غزوہ احد کے متعلق حدیث سنی تھی۔
Narrated Qais:
I saw Talha's paralyzed hand with which he had protected the Prophet (ﷺ) on the day of Uhud.
ہم سے عبداللہ بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، ان سے اسماعیل نے، ان سے قیس نے بیان کیا کہ
میں نے طلحہ رضی اللہ عنہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو شل ہو چکا تھا۔ اس ہاتھ سے انہوں نے غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی تھی۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
When it was the day of Uhud, the people left the Prophet (ﷺ) while Abu Talha رضی اللہ عنہ was in front of the Prophet (ﷺ) shielding him with his leather shield. Abu Talha رضی اللہ عنہ was a skillful archer who used to shoot violently. He broke two or three arrow bows on that day. If a man carrying a quiver full of arrows passed by, the Prophet would say (to him), put (scatter) its contents for Abu Talha رضی اللہ عنہ ." The Prophet (ﷺ) would raise his head to look at the enemy, whereupon Abu Talha رضی اللہ عنہ would say, "Let my father and mother be sacrificed for you ! Do not raise your head, lest an arrow of the enemy should hit you. (Let) my neck (be struck) rather than your neck." I saw `Aisha رضی اللہ عنہا , the daughter of Abu Bakr رضی اللہ عنہا, and Um Sulaim رضی اللہ عنہا rolling up their dresses so that I saw their leg-bangles while they were carrying water skins on their backs and emptying them in the mouths of the (wounded) people. They would return to refill them and again empty them in the mouths of the (wounded) people. The sword fell from Abu Talha's hand twice or thrice (on that day).
ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، ان سے عبدالعزیز نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
غزوہ احد میں جب مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے منتشر ہو کر پسپا ہو گئے تو طلحہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے چمڑے کی ڈھال سے حفاظت کر رہے تھے۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ بڑے تیرانداز تھے اور کمان خوب کھینچ کر تیر چلایا کرتے تھے۔ اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑ دی تھیں۔ مسلمانوں میں سے کوئی اگر تیر کا ترکش لیے گزرتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے یہ تیر ابوطلحہ کے لیے یہیں رکھتے جاؤ۔ انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشرکین کو دیکھنے کے لیے سر اٹھا کر جھانکتے تو ابوطلحہ رضی اللہ عنہ عرض کرتے: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، سر مبارک اوپر نہ اٹھایئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ادھر سے کوئی تیر آپ کو لگ جائے۔ میری گردن آپ سے پہلے ہے اور میں نے دیکھا کہ جنگ میں عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا اور ( انس رضی اللہ عنہ کی والدہ ) ام سلیم رضی اللہ عنہا اپنے کپڑے اٹھائے ہوئے ہیں کہ ان کی پنڈلیاں نظر آ رہی تھیں اور مشکیزے اپنی پیٹھوں پر لیے دوڑ رہی ہیں اور اس کا پانی زخمی مسلمانوں کو پلا رہی ہیں پھر ( جب اس کا پانی ختم ہو جاتا ہے ) تو واپس آتی ہیں اور مشک بھر کر پھر لے جاتی ہیں اور مسلمانوں کو پلاتی ہیں۔ اس دن ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ تلوار گر گئی تھی۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When it was the day of Uhud, the pagans were defeated. Then Satan, Allah's Curse be upon him, cried loudly, "O Allah's Worshippers, beware of what is behind!" On that, the front files of the (Muslim) forces turned their backs and started fighting with the back files. Hudhaifa looked, and on seeing his father Al-Yaman, he shouted, "O Allah's Worshippers, my father, my father!" But by Allah, they did not stop till they killed him. Hudhaifa said, "May Allah forgive you." (The sub-narrator, `Urwa, said, "By Allah, Hudhaifa continued asking Allah's Forgiveness for the killers of his father till he departed to Allah (i.e. died).") (Imam Bukhari) says that he thinks: (بصرت) is in fact from '' الْبَصِيرَةِ '' regarding affair; and '' أبصرت '' means to see by an eye. The other people say that بصرت and أبصرت are synonyms.
مجھ سے عبید اللہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
شروع جنگ احد میں پہلے مشرکین شکست کھا گئے تھے لیکن ابلیس، اللہ کی اس پر لعنت ہو، دھوکا دینے کے لیے پکارنے لگا۔ اے عباد اللہ! ( مسلمانو! ) اپنے پیچھے والوں سے خبردار ہو جاؤ۔ اس پر آگے جو مسلمان تھے وہ لوٹ پڑے اور اپنے پیچھے والوں سے بھڑ گئے۔ حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو ان کے والد یمان رضی اللہ عنہ انہیں میں ہیں ( جنہیں مسلمان اپنا دشمن مشرک سمجھ کر مار رہے تھے ) ۔ وہ کہنے لگے مسلمانو! یہ تو میرے والد ہیں، میرے والد۔ عروہ نے کہا، عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا، پس اللہ کی قسم انہوں نے ان کو اس وقت تک نہیں چھوڑا جب تک قتل نہ کر لیا۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے صرف اتنا کہا کہ اللہ مسلمانوں کی غلطی معاف کرے۔ عروہ نے بیان کیا کہ اس کے بعد حذیفہ رضی اللہ عنہ برابر مغفرت کی دعا کرتے رہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے جا ملے۔ «بصرت» یعنی میں دل کی آنکھوں سے کام کو سمجھتا ہوں اور «أبصرت» آنکھوں سے دیکھنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ «بصرت» اور «أبصرت» کے ایک ہی معنی ہیں۔ «بصرت» دل کی آنکھوں سے دیکھنا اور «أبصرت» ظاہر کی آنکھوں سے دیکھنا مراد ہے۔
Narrated `Uthman bin Mauhab:
A man came to perform the Hajj to (Allah's) House. Seeing some people sitting, he said, "Who are these sitting people?" Somebody said, "They are the people of Quraish." He said, "Who is the old man?" They said, "Ibn `Umar رضی اللہ عنہما ." He went to him and said, "I want to ask you about something; will you tell me about it? I ask you with the respect due to the sanctity of this (Sacred) House, do you know that `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ fled on the day of Uhud?" Ibn `Umar رضی اللہ عنہ said, "Yes." He said, "Do you know that he (i.e. `Uthman) was absent from the Badr (battle) and did not join it?" Ibn `Umar رضی اللہ عنہ said, "Yes." He said, "Do you know that he failed to be present at the Ridwan Pledge of allegiance (i.e. Pledge of allegiance at Hudaibiya) and did not witness it?" Ibn `Umar رضی اللہ عنہ replied, "Yes," He then said, "Allahu- Akbar!" Ibn `Umar رضی اللہ عنہ said, "Come along; I will inform you and explain to you what you have asked. As for the flight (of `Uthman) on the day of Uhud, I testify that Allah forgave him. As regards his absence from the Badr (battle), he was married to the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) and she was ill, so the Prophet (ﷺ) said to him, 'You will have such reward as a man who has fought the Badr battle will get, and will also have the same share of the booty.' As for his absence from the Ridwan Pledge of allegiance if there had been anybody more respected by the Meccans than `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ , the Prophet would surely have sent that man instead of `Uthman رضی اللہ عنہ. So the Prophet (ﷺ) sent him (i.e. `Uthman رضی اللہ عنہ to Mecca) and the Ridwan Pledge of allegiance took place after `Uthman رضی اللہ عنہ had gone to Mecca. The Prophet raised his right hand saying. 'This is the hand of `Uthman رضی اللہ عنہ ,' and clapped it over his other hand and said, "This is for `Uthman رضی اللہ عنہ .'" Ibn `Umar رضی اللہ عنہ then said (to the man), "Go now, after taking this information."
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا ہم کو ابوحمزہ نے خبر دی، ان سے عثمان بن موہب نے بیان کیا کہ
ایک صاحب بیت اللہ کے حج کے لیے آئے تھے۔ دیکھا کہ کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ پوچھا کہ یہ بیٹھے ہوئے کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ قریش ہیں۔ پوچھا کہ ان میں شیخ کون ہیں؟ بتایا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما۔ وہ صاحب ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ میں آپ سے ایک بات پوچھتا ہوں۔ آپ مجھ سے واقعات ( صحیح ) بیان کر دیجئیے۔ اس گھر کی حرمت کی قسم دے کر میں آپ سے پوچھتا ہوں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے غزوہ احد کے موقع پر راہ فرار اختیار کی تھی؟ انہوں نے کہا کہ ہاں صحیح ہے۔ انہوں نے پوچھا آپ کو یہ بھی معلوم ہے عثمان رضی اللہ عنہ بدر کی لڑائی میں شریک نہیں تھے؟ کہا کہ ہاں یہ بھی ہوا تھا۔ انہوں نے پوچھا اور آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان ( صلح حدیبیہ ) میں بھی پیچھے رہ گئے تھے اور حاضر نہ ہو سکے تھے؟ انہوں نے کہا کہ ہاں یہ بھی صحیح ہے۔ اس پر ان صاحب نے ( مارے خوشی کے ) اللہ اکبر کہا لیکن ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا۔ یہاں آؤ میں تمہیں بتاؤں گا اور جو سوالات تم نے کئے ہیں ان کی میں تمہارے سامنے تفصیل بیان کر دوں گا۔ احد کی لڑائی میں فرار سے متعلق جو تم نے کہا تو میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی غلطی معاف کر دی ہے۔ بدر کی لڑائی میں ان کے نہ ہونے کے متعلق جو تم نے کہا تو اس کی وجہ یہ تھی۔ کہ ان کے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی ( رقیہ رضی اللہ عنہا ) تھیں اور وہ بیمار تھیں۔ آپ نے فرمایا تھا کہ تمہیں اس شخص کے برابر ثواب ملے گا جو بدر کی لڑائی میں شریک ہو گا اور اسی کے برابر مال غنیمت سے حصہ بھی ملے گا۔ بیعت رضوان میں ان کی عدم شرکت کا جہاں تک سوال ہے تو وادی مکہ میں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی شخص ہر دل عزیز ہوتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے بجائے اسی کو بھیجتے۔ اس لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو وہاں بھیجنا پڑا اور بیعت رضوان اس وقت ہوئی جب وہ مکہ میں تھے۔ ( بیعت لیتے ہوئے ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کو اٹھا کر فرمایا کہ یہ عثمان کا ہاتھ ہے اور اسے اپنے ( بائیں ) ہاتھ پر مار کر فرمایا کہ یہ بیعت عثمان کی طرف سے ہے۔ اب جا سکتے ہو۔ البتہ میری باتوں کو یاد رکھنا۔
Narrated Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) appointed `Abdullah bin Jubair رضی اللہ عنہما as the commander of the cavalry archers on the day of the battle of Uhud. Then they returned defeated, and that what is referred to by Allah's Statement:-- "And the Apostle (Muhammad) was in your rear calling you back." (3.153)
مجھ سے عمرو بن خالد نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابواسحاق نے بیان کیا، کہا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ
غزوہ احد کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تیر اندازوں کے ) پیدل دستہ کا امیر عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کو بنایا تھا لیکن وہ لوگ شکست خوردہ ہو کر آئے۔ ( آیت «يدعوهم الرسول في أخراهم.» ان ہی کے بارے میں نازل ہوئی تھی ) اور یہ ہزیمت اس وقت پیش آئی جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو پیچھے سے پکار رہے تھے۔
Narrated Abu Talha رضی اللہ عنہ :
I was amongst those who were overtaken by slumber until my sword fell from my hand on several occasions. The sword fell and I picked it up, and it fell again, and I picked it up."
اور مجھ سے خلیفہ نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید بن زریع نے بیان کیا، ان سے سعید نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ سے سنا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے اور ان سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں ان لوگوں میں تھا جنہیں غزوہ احد کے موقع پر اونگھ نے آ گھیرا تھا اور اسی حالت میں میری تلوار کئی مرتبہ ( ہاتھ سے چھوٹ کر بے اختیار ) گر پڑی تھی۔ میں اسے اٹھا لیتا، پھر گر جاتی اور میں اسے پھر اٹھا لیتا۔
Narrated Salim's father:
He heard Allah's Messenger (ﷺ), when raising his head from bowing of the first rak`a of the morning prayer, saying, "O Allah! Curse so-and-so and so-and-so" after he had said, "Allah hears him who sends his praises to Him. Our Lord, all the Praises are for you!" So Allah revealed:-- "Not for you (O Muhammad! )......(till the end of Verse) they are indeed wrong-doers." (3.128)
ہم سے یحییٰ بن عبداللہ سلمی نے بیان کیا، کہا ہم کو عبداللہ نے خبر دی، کہا ہم کو معمر نے خبر دی، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے اپنے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی آخری رکعت کے رکوع سے سر مبارک اٹھاتے تو یہ دعا کرتے ”اے اللہ! فلاں، فلاں اور فلاں ( صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام ) کو اپنی رحمت سے دور کر دے۔“ یہ دعا آپ «سمع الله لمن حمده ربنا ولك الحمد» کے بعد کرتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت «ليس لك من الأمر شىء» سے «فإنهم ظالمون» ( آل عمران: 128 ) تک نازل کی۔
Narrated Salim bin `Abdullah:
"Allah's Messenger (ﷺ) used to invoke evil upon Safwan bin Umaiya, Suhail bin `Amr and Al-Harith bin Hisham. So the Verse was revealed:-- "Not for you (O Muhammad!)......(till the end of Verse) For they are indeed wrong-doers." (3.128)
اور حنظلہ بن ابی سفیان سے روایت ہے، انہوں نے بیان کیا کہ میں نے سالم بن عبداللہ سے سنا، وہ بیان کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صفوان بن امیہ، سہیل بن عمرو اور حارث بن ہشام کے لیے بددعا کرتے تھے اس پر یہ آیت «ليس لك من الأمر شىء» سے «فإنهم ظالمون» تک نازل ہوئی۔
Narrated Tha`laba bin Abi Malik:
`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ distributed woolen clothes amongst some women of Medina, and a nice woolen garment remained. Some of those who were sitting with him, said, "O chief of the believers! Give it to the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) who is with you," and by that, they meant Um Kulthum, the daughter of `Ali رضی اللہ عنہا . `Umar رضی اللہ عنہ said, "Um Salit رضی اللہ عنہا has got more right than she." Um Salit رضی اللہ عنہا was amongst those Ansari women who had given the pledge of allegiance to Allah's Messenger (ﷺ) . `Umar رضی اللہ عنہ added, "She (i.e. Um Salit رضی اللہ عنہا ) used to carry the filled water skins for us on the day of the battle of Uhud."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے یونس نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ ثعلبہ بن ابی مالک نے بیان کیا کہ
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں چادریں تقسیم کروائیں۔ ایک عمدہ قسم کی چادر باقی بچ گئی تو ایک صاحب نے جو وہیں موجود تھے، عرض کیا: یا امیرالمؤمنین! یہ چادر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی کو دے دیجئیے جو آپ کے نکاح میں ہیں۔ ان کا اشارہ ام کلثوم بنت علی رضی اللہ عنہا کی طرف تھا۔ لیکن عمر رضی اللہ عنہ بولے کہ ام سلیط رضی اللہ عنہا ان سے زیادہ مستحق ہیں۔ ام سلیط رضی اللہ عنہا کا تعلق قبیلہ انصار سے تھا اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی تھی۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ غزوہ احد میں وہ ہمارے لیے پانی کی مشک بھربھر کر لاتی تھیں۔
Narrated Jafar bin `Amr bin Umaiya رضی اللہ عنہ :
I went out with 'Ubaidullah bin `Adi Al-Khaiyar رضی اللہ عنہ . When we reached Hims (i.e. a town in Syria), 'Ubaidullah bin `Adi رضی اللہ عنہ said (to me), "Would you like to see Wahshi so that we may ask him about the killing of Hamza رضی اللہ عنہ ?" I replied, "Yes." Wahshi used to live in Hims. We enquired about him and somebody said to us, "He is that in the shade of his palace, as if he were a full water skin." So we went up to him, and when we were at a short distance from him, we greeted him and he greeted us in return. 'Ubaidullah was wearing his turban and Wahshi could not see except his eyes and feet. 'Ubaidullah said, "O Wahshi! Do you know me?" Wahshi looked at him and then said, "No, by Allah! But I know that `Adi bin Al-Khiyar married a woman called Um Qital, the daughter of Abu Al-Is, and she delivered a boy for him at Mecca, and I looked for a wet nurse for that child. (Once) I carried that child along with his mother and then I handed him over to her, and your feet resemble that child's feet." Then 'Ubaidullah uncovered his face and said (to Wahshi), "Will you tell us (the story of) the killing of Hamza رضی اللہ عنہ ?" Wahshi replied "Yes, Hamza رضی اللہ عنہ killed Tuaima bin `Adi bin Al-Khaiyar at Badr (battle) so my master, Jubair bin Mut`im said to me, 'If you kill Hamza in revenge for my uncle, then you will be set free." When the people set out (for the battle of Uhud) in the year of 'Ainain ..'Ainain is a mountain near the mountain of Uhud, and between it and Uhud there is a valley.. I went out with the people for the battle. When the army aligned for the fight, Siba' came out and said, 'Is there any (Muslim) to accept my challenge to a duel?' Hamza bin `Abdul Muttalib رضی اللہ عنہ came out and said, 'O Siba'. O Ibn Um Anmar, the one who circumcises other ladies! Do you challenge Allah and His Apostle?' Then Hamza attacked and killed him, causing him to be non-extant like the bygone yesterday. I hid myself under a rock, and when he (i.e. Hamza) came near me, I threw my spear at him, driving it into his umbilicus so that it came out through his buttocks, causing him to die. When all the people returned to Mecca, I too returned with them. I stayed in (Mecca) till Islam spread in it (i.e. Mecca). Then I left for Taif, and when the people (of Taif) sent their messengers to Allah's Messenger (ﷺ), I was told that the Prophet (ﷺ) did not harm the messengers; So I too went out with them till I reached Allah's Messenger (ﷺ). When he saw me, he said, 'Are you Wahshi?' I said, 'Yes.' He said, 'Was it you who killed Hamza?' I replied, 'What happened is what you have been told of.' He said, 'Can you hide your face from me?' So I went out when Allah's Messenger (ﷺ) died, and Musailamah Al-Kadhdhab appeared (claiming to be a prophet). I said, 'I will go out to Musailamah so that I may kill him, and make amends for killing Hamza رضی اللہ عنہ . So I went out with the people (to fight Musailamah and his followers) and then famous events took place concerning that battle. Suddenly I saw a man (i.e. Musailamah) standing near a gap in a wall. He looked like an ash-colored camel and his hair was dishevelled. So I threw my spear at him, driving it into his chest in between his breasts till it passed out through his shoulders, and then an Ansari man attacked him and struck him on the head with a sword. `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ said, 'A slave girl on the roof of a house said: Alas! The chief of the believers (i.e. Musailamah) has been killed by a black slave."
مجھ سے ابو جعفر محمد بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حجین بن مثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ بن ابی سلمہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن فضل نے، ان سے سلیمان بن یسار نے، ان سے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں عبیداللہ بن عدی بن خیار رضی اللہ عنہ کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب حمص پہنچے تو مجھ سے عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا، آپ کو وحشی ( ابن حرب حبشی جس نے غزوہ احد میں حمزہ رضی اللہ عنہ کو قتل کیا اور ہندہ زوجہ ابوسفیان نے ان کی لاش کا مثلہ کیا تھا ) سے تعارف ہے۔ ہم چل کے ان سے حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بارے میں معلوم کرتے ہیں۔ میں نے کہا کہ ٹھیک ہے ضرور چلو۔ وحشی حمص میں موجود تھے۔ چنانچہ ہم نے لوگوں سے ان کے بارے میں معلوم کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ وہ اپنے مکان کے سائے میں بیٹھے ہوئے ہیں، جیسے کوئی بڑا سا کپا ہو۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر ہم ان کے پاس آئے اور تھوڑی دیر ان کے پاس کھڑے رہے۔ پھر سلام کیا تو انہوں نے سلام کا جواب دیا۔ بیان کیا کہ عبیداللہ نے اپنے عمامہ کو جسم پر اس طرح لپیٹ رکھا تھا کہ وحشی صرف ان کی آنکھیں اور پاؤں دیکھ سکتے تھے۔ عبیداللہ نے پوچھا: اے وحشی! کیا تم نے مجھے پہچانا؟ راوی نے بیان کیا کہ پھر اس نے عبیداللہ کو دیکھا اور کہا کہ نہیں، اللہ کی قسم! البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ عدی بن خیار نے ایک عورت سے نکاح کیا تھا۔ اسے ام قتال بنت ابی العیص کہا جاتا تھا پھر مکہ میں اس کے یہاں ایک بچہ پیدا ہوا اور میں اس کے لیے کسی دایا کی تلاش کے لیے گیا تھا۔ پھر میں اس بچے کو اس کی ( رضاعی ) ماں کے پاس لے گیا اور اس کی والدہ بھی ساتھ تھی۔ غالباً میں نے تمہارے پاؤں دیکھے تھے۔ بیان کیا کہ اس پر عبیداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے سے کپڑا ہٹا لیا اور کہا، ہمیں تم حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت کے واقعات بتا سکتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ ہاں، بات یہ ہوئی کہ بدر کی لڑائی میں حمزہ رضی اللہ عنہ نے طعیمہ بن عدی بن خیار کو قتل کیا تھا۔ میرے آقا جبیر بن مطعم نے مجھ سے کہا کہ اگر تم نے حمزہ رضی اللہ عنہ کو میرے چچا ( طعیمہ ) کے بدلے میں قتل کر دیا تو تم آزاد ہو جاؤ گے۔ انہوں نے بتایا کہ پھر جب قریش عینین کی جنگ کے لیے نکلے۔ عینین احد کی ایک پہاڑی ہے اور اس کے اور احد کے درمیان ایک وادی حائل ہے۔ تو میں بھی ان کے ساتھ جنگ کے ارادہ سے ہو لیا۔ جب ( دونوں فوجیں آمنے سامنے ) لڑنے کے لیے صف آراء ہو گئیں تو ( قریش کی صف میں سے ) سباع بن عبدالعزیٰ نکلا اور اس نے آواز دی، ہے کوئی لڑنے والا؟ بیان کیا کہ ( اس کی اس دعوت مبازرت پر ) امیر حمزہ بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نکل کر آئے اور فرمایا، اے سباع! اے ام انمار کے بیٹے! جو عورتوں کے ختنے کیا کرتی تھی، تو اللہ اور اس کے رسول سے لڑنے آیا ہے؟ بیان کیا کہ پھر حمزہ رضی اللہ عنہ نے اس پر حملہ کیا ( اور اسے قتل کر دیا ) اب وہ واقعہ گزرے ہوئے دن کی طرح ہو چکا تھا۔ وحشی نے بیان کیا کہ ادھر میں ایک چٹان کے نیچے حمزہ رضی اللہ عنہ کی تاک میں تھا اور جوں ہی وہ مجھ سے قریب ہوئے، میں نے ان پر اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا، نیزہ ان کی ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کی سرین کے پار ہو گیا۔ بیان کیا کہ یہی ان کی شہادت کا سبب بنا، پھر جب قریش واپس ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ واپس آ گیا اور مکہ میں مقیم رہا۔ لیکن جب مکہ بھی اسلامی سلطنت کے تحت آ گیا تو میں طائف چلا گیا۔ طائف والوں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک قاصد بھیجا تو مجھ سے وہاں کے لوگوں نے کہا کہ انبیاء کسی پر زیادتی نہیں کرتے ( اس لیے تم مسلمان ہو جاؤ۔ اسلام قبول کرنے کے بعد تمہاری پچھلی تمام غلطیاں معاف ہو جائیں گی ) چنانچہ میں بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچا اور آپ نے مجھے دیکھا تو دریافت فرمایا، کیا تمہارا ہی نام وحشی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم ہی نے حمزہ کو قتل کیا تھا؟ میں نے عرض کیا، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس معاملے میں معلوم ہے وہی صحیح ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ اپنی صورت مجھے کبھی نہ دکھاؤ؟ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں وہاں سے نکل گیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جب وفات ہوئی تو مسیلمہ کذاب نے خروج کیا۔ اب میں نے سوچا کہ مجھے مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں ضرور شرکت کرنی چاہیے۔ ممکن ہے میں اسے قتل کر دوں اور اس طرح حمزہ رضی اللہ عنہ کے قتل کا بدل ہو سکے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں بھی اس کے خلاف جنگ کے لیے مسلمانوں کے ساتھ نکلا۔ اس سے جنگ کے واقعات سب کو معلوم ہیں۔ بیان کیا کہ ( میدان جنگ میں ) میں نے دیکھا کہ ایک شخص ( مسیلمہ ) ایک دیوار کی دراز سے لگا کھڑا ہے۔ جیسے گندمی رنگ کا کوئی اونٹ ہو۔ سر کے بال منتشر تھے۔ بیان کیا کہ میں نے اس پر بھی اپنا چھوٹا نیزہ پھینک کر مارا۔ نیزہ اس کے سینے پر لگا اور شانوں کو پار کر گیا۔ بیان کیا کہ اتنے میں ایک صحابی انصاری جھپٹے اور تلوار سے اس کی کھوپڑی پر مارا۔ انہوں ( عبدالعزیز بن عبداللہ ) نے کہا، ان سے عبداللہ بن فضل نے بیان کیا کہ پھر مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی اور انہوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ بیان کر رہے تھے کہ ( مسیلمہ کے قتل کے بعد ) ایک لڑکی نے چھت پر کھڑی ہو کر اعلان کیا کہ امیرالمؤمنین کو ایک کالے غلام ( یعنی وحشی ) نے قتل کر دیا۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) (pointing to his broken canine tooth) said, "Allah's Wrath has become severe on the people who harmed His Prophet. Allah's Wrath has become severe on the man who is killed by the Apostle of Allah in Allah's Cause."
ہم سے اسحاق بن نصر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہمام نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ تعالیٰ کا غضب اس قوم پر انتہائی سخت ہوا جس نے اس کے نبی کے ساتھ یہ کیا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اشارہ آگے کے دندان مبارک ( کے ٹوٹ جانے ) کی طرف تھا۔ اللہ تعالیٰ کا غضب اس شخص ( ابی بن خلف ) پر انتہائی سخت ہوا۔ جسے اس کے نبی نے اللہ کے راستے میں قتل کیا۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Wrath became severe on him whom the Prophet (ﷺ) had killed in Allah's Cause. Allah's Wrath became severe on the people who caused the face of Allah's Prophet to bleed.
مجھ سے مخلد بن مالک نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید اموی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
اللہ تعالیٰ کا اس شخص پر انتہائی غضب نازل ہوا جسے اللہ کے نبی نے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس قوم پر نازل ہوا جنہوں نے اللہ کے نبی کے چہرہ مبارک کو ( غزوہ احد کے موقع پر ) خون آلود کر دیا تھا۔
Narrated Sahl bin Sa`d رضی اللہ عنہ :
"By Allah, I know who washed the wounds of Allah's Messenger (ﷺ) and who poured water (for washing them), and with what he was treated." Sahl added, "Fatima رضی اللہ عنہا , the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) used to wash the wounds, and `Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ used to pour water from a shield. When Fatima رضی اللہ عنہا saw that the water aggravated the bleeding, she took a piece of a mat, burnt it, and inserted its ashes into the wound so that the blood was congealed (and bleeding stopped). His canine tooth got broken on that day, and face was wounded, and his helmet was broken on his head."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے بیان کیا، ان سے ابوحازم نے اور انہوں نے سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے سنا، ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے (غزوہ احد کے موقع پر ہونے والے) زخموں کے متعلق پوچھا گیا، تو انہوں نے بیان کیا کہ
اللہ کی قسم! مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخموں کو کس نے دھویا تھا اور کون ان پر پانی ڈال رہا تھا اور جس دوا سے آپ کا علاج کیا گیا۔ انہوں نے بیان کیا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی خون کو دھو رہی تھیں۔ علی رضی اللہ عنہ ڈھال سے پانی ڈال رہے تھے۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ پانی ڈالنے سے خون اور زیادہ نکلا آ رہا ہے تو انہوں نے چٹائی کا ایک ٹکڑا لے کر جلایا اور پھر اسے زخم پر چپکا دیا جس سے خون کا آنا بند ہو گیا۔ اسی دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے کے دندان مبارک شہید ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہو گیا تھا اور خود سر مبارک پر ٹوٹ گئی تھی۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Wrath gets severe on a person killed by a prophet, and Allah's Wrath became severe on him who had caused the face of Allah's Messenger (ﷺ) to bleed.
مجھ سے عمرو بن علی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن جریج نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے عکرمہ نے اور ان سے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس شخص پر نازل ہوا جسے اللہ کے نبی نے قتل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا انتہائی غضب اس شخص پر نازل ہوا جس نے ( یعنی عبداللہ بن قمیہ نے لعنتہ اللہ علیہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کو خون آلود کیا تھا۔