Narrated Hudhaifa رضی اللہ عنہ :
Whenever the Prophet (ﷺ) intended to go to bed, he would recite: "Bismika Allahumma amutu wa ahya (With Your name, O Allah, I die and I live)." And when he woke up from his sleep, he would say: "Al-hamdu lil-lahil-ladhi ahyana ba'da ma amatana; wa ilaihi an-nushur (All the Praises are for Allah Who has made us alive after He made us die (sleep) and unto Him is the Resurrection). "
ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے ، ان سے ربعی بن حراش نے اور ان سے حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سو نے کا ارادہ کرتے تو کہتے باسمك اللهم أموت وأحيا ” تیر ے نام کے ساتھ اے اللہ ! میں مر تا اور تیر ے ہی نام سے جیتا ہوں “ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے ۔ الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا ، وإليه النشور ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زند گی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو لوٹناہے ۔ “
Narrated Abu Dhar رضی اللہ عنہ :
Whenever the Prophet (ﷺ) lay on his bed, he used to say: "Allahumma bismika amutu wa ahya," and when he woke up he would say: "Al-hamdu lil-lahilladhi ahyana ba'da ma an atana, wa ilaihi an-nushur."
ہم سے عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے ابوحمزہ محمد بن میمون نے ، ان سے منصور بن معمر نے ، ان سے ربعی بن حراش نے ، ان سے خرشہ بن الحر نے اور ان سے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
جب رسول اللہ رات میں اپنی خواب گاہ پر جاتے تو کہتے للهم باسمك أموت وأحيا ” اے اللہ ! میں تیر ے ہی نام سے مر تا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوتا ہوں “ اور جب بیدار ہوتے تو فر ماتے الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور ” تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو جانا ہے “
Narrated Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ :
He said to the Prophet, "Teach me an invocation with which I may invoke (Allah) in my prayer." The Prophet (ﷺ) said, "Say: Allahumma inni zalamtu nafsi zulman kathiran wala yaghfirudhdhunuba illa anta, Faghfirli maghfiratan min indika war-hamni, innaka antalGhafur-Rahim." Amr, Yazeed, Abdu Khair, Abdullah bin Amr رضی اللہ عنہ , Hadrat Abu Bakr رضی اللہ عنہ reported it from the prophet ﷺ.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو لیث بن سعد نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے یزید بن ابی حبیب نے بیان کیا ، ان سے ابو الخیر مرثدبن عبداللہ نے ، ان سے عبداللہ بن عمر وبن عاص رضی اللہ عنہما نے اور ان سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہ
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ مجھے ایسی دعا سکھا دیجئیے جسے میں اپنی نماز میں پڑھا کروں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کہا کر قل : اللهم إني ظلمت نفسي ظلما كثيرا ، ولا يغفر الذنوب إلا أنت ، فاغفر لي مغفرۃ من عندك ، وارحمني ، إنك أنت الغفور الرحيم ” اے اللہ ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے اور گناہوں کوتیرے سوا کوئی معاف نہیں کرتا پس میری مغفرت کر ، ایسی مغفرت جو تیرے پاس سے ہو اور مجھ پر رحم کر بلاشبہ تو بڑا مغفرت کرنے ولا ، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔ “ اور عمرو بن حارث نے بھی اس حدیث کو یزید سے ، انہوں نے ابوالخیر سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ورضی اللہ عنہ سے سنا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا آخر تک ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Verse: 'Neither say your prayer aloud, nor say it in a low tone.' (17.110) was revealed as regards invocation.
ہم سے علی نے بیان کیا ، کہا ہم سے مالک بن سعیر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
” ولا تجھر بصلٰوتک ولاتخافت بھا “ دعا کے بارے میں نازل ہوئی ( کہ نہ بہت زور زور سے اور نہ بالکل آہستہ آہستہ ) بلکہ درمیانی راستہ اختیار کرو ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
We used to say in the prayer: 'AsSalam be on Allah, As-Salam be on so-and so.' So one day the Prophet said to us, "Allah Himself is As-Salam; when anyone of you sits during his prayer, he should say: 'at-tah, iyyatu-li l-lahi,' up to 'As-Salihin,' (All the compliments are for Allah ...righteous people) for when he recites this, then he says his Salam to all the righteous people present in the heavens and on the earth. Then he should say, 'I testify that none has the right to be worshipped except Allah, and that Muhammad is His slave and His Apostle,' and then he can select whatever he likes to celebrate (Allah's) Praises."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے جریر بن عبدالحمید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے منصور بن معتمر نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
ہم نماز میں یہ کہا کرتے تھے کہ اللہ پر سلام ہو ، فلاں پر سلام ہو ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ایک دن فرمایا کہ اللہ خود سلام ہے اس لئے جب تم نماز میں بیٹھوتو یہ پڑھا کرو ۔ ” التحيات لله “ ارشاد ” الصالحين “ تک اس لئے کہ جب تم یہ کہو گے تو آسمان و زمین میں موجود اللہ تبارک وتعالیٰ کے ہر صالح بندہ کو پہنچے گا ۔ أشهد أن لا إله إلا الله ، وأشهد أن محمدا عبده ورسوله ۔ اس کے بعد ثنا میں اختیار ہے جو دعا چاہو پڑھو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! The rich people have got the highest degrees of prestige and the permanent pleasures (in this life and the life to come in the Hereafter)." He said, "How is that?" They said, "The rich pray as we pray, and strive in Allah's Cause as we do, and spend from their surplus wealth in charity, while we have no wealth (to spend likewise)." He said, "Shall I not tell you a thing, by doing which, you will catch up with those who are ahead of you and supersede those who will come after you; and nobody will be able to do such a good deed as you do except the one who does the same (deed as you do). That deed is to recite 'Subhan Allah ten times, and 'Al-Hamduli l-lah ten times, and 'AllahuAkbar' ten times after every prayer." Obaidullah bin Umer has reported likewise from Somayy. Ibn-e-Ajlan has reported likewise from Somayy and Raja bin Haiwah. Jareer, Abdul Azeez bin Rafi'o, Abu Sualih reported from Hadrat Abu Derda. Sohail, his father, Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ reported from the prophet ﷺ.
مجھ سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ، کہا ہم کو زید بن ہارون نے خبر دی ، کہا ہم کو ورقاء نے خبر دی ، انہیں سمی نے ، انہیں ابوصالح ذکوان نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ! مالدار لوگ بلند درجات اور ہمیشہ رہنے والی جنت کی نعمتوں کو حاصل کر لے گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کیسے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا جس طرح ہم نماز پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں اور جس طرح ہم جہاد کرتے ہیں وہ بھی جہاد کرتے ہیں اور اس کے ساتھ وہ اپنا زائد مال بھی ( اللہ کے راستہ میں ) خرچ کرتے ہیں اور ہمارے پاس مال نہیں ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتلاؤں جس سے تم اپنے آگے کے لوگوں کے ساتھ ہو جاؤ اور اپنے پیچھے آنے والوں سے آگے نکل جاؤ اور کوئی شخص اتنا ثواب نہ حاصل کر سکے جتنا تم نے کیا ہو ، سوا اس صورت کے جب کہ وہ بھی وہی عمل کرے جو تم کرو گے ( اور وہ عمل یہ ہے ) کہ ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللہ پڑھا کرو ، دس مرتبہ الحمدللہ پڑھا کرو اور دس مرتبہ اللہ اکبر پڑھا کرو ۔ اس کی روایت عبیداللہ بن عمر نے سمی اور رجاء بن حیوہ سے کی اور اس کی روایت جریر نے عبد العزیز بن رفیع سے کی ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ۔ اور اس کی روایت سہیل نے اپنے والد سے کی ، ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔
Narrated Warrad (the freed slave of Al-Mughira bin Shu`ba):
Al-Mughira wrote to Muawiya bin Abu Sufyan رضی اللہ عنہما that Allah's Messenger (ﷺ) used to say at the end of every prayer after the Taslim, "La ilaha illa-l-lahu wahdahu la sharika lahu; lahu-l-mulk wa lahu-l-hamd, wahuwa 'ala kulli shai'n qadir. Allahumma la mani'a Lima a taita, wa la mu'ta Lima mana'ta, wa la yanfa'u dhal-jaddu minkal-jadd. Shobah has reported it from Mansur and said: I heard it from Mosayyab رضی اللہ عنہ . Shobah has reported it from Mansur and said: I heard it from Mosayyab رضی اللہ عنہ .
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریربن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے منصور بن معتمر نے ، ان سے مسیب بن رافع نے ، ان سے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے مولا وراد نے بیان کیاکہ
حضرت مغیرہ بن شعبہ نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما کو لکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہرنماز کے بعد جب سلام پھیرتے تو یہ کہا کرتے تھے کہ لا إله إلا الله ، وحده لا شريك له ، له الملك ، وله الحمد ، وهو على كل شىء قدير ، اللهم لا مانع لما أعطيت ، ولا معطي لما منعت ، ولا ينفع ذا الجد منك الجد اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ تنہاء ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، ملک اسی کے لئے ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ اے اللہ ! جو کچھ تو نے دیا ہے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو کچھ تو نے روک دیا اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی مالدار اور نصیبہ ور ( کوتیری بارگاہ میں ) اس کا مال نفع نہیں پہنچا سکتا ۔ اور شعبہ نے بیان کیا ، ان سے منصور نے بیان کیا کہ میں نے حضرت مسیب رضی اللہ عنہ سے سنا ۔
Narrated Salama bin Al-Akwa` رضی اللہ عنہ :
We went out with the Prophet (ﷺ) to Khaibar. A man among the people said, "O 'Amir! Will you please recite to us some of your poetic verses?" So 'Amir got down and started chanting among them, saying, "By Allah! Had it not been for Allah, we would not have been guided." 'Amir رضی اللہ عنہ also said other poetic verses which I do not remember. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Who is this (camel) driver?" The people said, "He is 'Amir bin Al-Akwa`," He said, "May Allah bestow His Mercy on him." A man from the People said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Would that you let us enjoy his company longer." When the people (Muslims) lined up, the battle started, and 'Amir was struck with his own sword (by chance) by himself and died. In the evening, the people made a large number of fires (for cooking meals). Allah's Apostle said, "What is this fire? What are you making the fire for?" They said, "For cooking the meat of donkeys." He said, "Throw away what is in the pots and break the pots!" A man said, "O Allah's Prophet! May we throw away what is in them and wash them?" He said, "Never mind, you may do so." (See Hadith No. 509, Vol. 5).
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے مسلم کے مولیٰ یزید بن ابی عبیدہ نے اور ان سے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر گئے ( راستہ میں ) مسلمانوں میں سے کسی شخص نے کہا عامر ! اپنی حدی سناؤ ۔ وہ حدی پڑھنے لگے اور کہنے لگے ۔ ” خدا کی قسم اگر اللہ نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے “ اس کے علاوہ دوسرے اشعاربھی انہوں نے پڑھے مجھے وہ یاد نہیں ہیں ۔ ( اونٹ حدی سن کر تیز چلنے لگے تو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ سواریوں کو کون ہنکا رہا ہے ، لوگوں نے کہا کہ عامر بن اکوع ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اس پر رحم کرے ۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کاش ابھی آپ ان سے ہمیں اور فائدہ اٹھانے دیتے ۔ پھر جب صف بندی ہوئی تو مسلمانوں نے کافروں سے جنگ کی اور حضرت عامر رضی اللہ عنہ کی تلوار چھوٹی تھی جو خود ان کے پاؤں پر لگ گئی اور ان کی موت ہو گئی ۔ شام ہوئی تو لوگوں نے جگہ جگہ آگ جلائی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ آگ کیسی ہے ، اسے کیوں جلایا گیا ہے ؟ صحابہ نے کہا کہ پالتو گدھوں ( کا گوشت پکانے ) کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو کچھ ہانڈیوں میں گوشت ہے اسے پھینک دو اور ہانڈیوں کو توڑ دو ۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! اجازت ہو تو ایسا کیوں نہ کر لیں کہ ہانڈیوں میں جو کچھ ہے اسے پھینک دیں اور ہانڈیوں کو دھو لیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا یہی کر لو ۔
Narrated Ibn Abi `Aufa رضی اللہ عنہما :
Whenever a man brought his alms to the Prophet, the Prophet (ﷺ) would say, "O Allah! Bestow Your Blessing upon the family of so-and-so." When my father came to him (with his alms), he said, "O Allah! Bestow Your Blessings upon the family of Abi `Aufa."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے ، کہا میں نے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اگر کوئی شخص صدقہ لاتا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ اے اللہ ! فلاں کی آل اولاد پر اپنی رحمتیں نازل فرما ۔ میرے والد صدقہ لائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! ابی اوفی ٰ کی آل اولاد پر رحمتیں نازل فرما ۔
Narrated Jarir:
Allah's Messenger (ﷺ) said to me. "Will you relieve me from Dhi-al-Khalasa? " Dhi-al-Khalasa was an idol which the people used to worship and it was called Al-Ka`ba al Yamaniyya. I said, "O Allah's Messenger (ﷺ) I am a man who can't sit firm on horses." So he stroked my chest (with his hand) and said, "O Allah! Make him firm and make him a guiding and well-guided man." So I went out with fifty (men) from my tribe of Ahrnas. (The sub-narrator, Sufyan, quoting Jarir, perhaps said, "I went out with a group of men from my nation.") and came to Dhi-al-Khalasa and burnt it, and then came to the Prophet (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! I have not come to you till I left it like a camel with a skin disease." The Prophet then invoked good upon Ahmas and their cavalry (fighters).
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے قیس نے کہ میں نے جریر بن عبداللہ بجلی سے سنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کوئی ایسا مرد مجاہد ہے جو مجھ کو ذی الخلصہ بت سے آرام پہنچائے وہ ایک بت تھا جس کو جاہلیت میں لوگ پوجاکرتے تھے اور اس کو کعبہ کہا کرتے تھے ۔ میں نے کہا یا رسول اللہ ! اس خدمت کے لئے میں تیار ہوں لیکن میں گھوڑے پر ٹھیک جم کر بیٹھ نہیں سکتا ہوں آپ نے میرے سینہ پر ہاتھ مبارک پھیر کر دعا فرمائی کہ اے اللہ ! اسے ثابت قدمی عطا فرما اور اس کو ہدایت کرنے والا اور نور ہدایت پانے والا بنا ۔ جریر نے کہا کہ پھر میں اپنی قوم احمس کے پچاس آدمی لے کر نکلا اور ابی سفیان نے یوں نقل کیا کہ میں اپنی قوم کی ایک جماعت لے کر نکلا اور میں وہاں گیا اور اسے جلا دیا پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا اے اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم میں آپ کے پاس نہیں آیاجب تک میں نے اسے جلے ہوئے خارش زدہ اونٹ کی طرح سیاہ نہ کر دیا ۔ پس آپ نے قبیلہ احمس اور اس کے گھوڑوں کے لئے دعا فرمائی ۔
Narrated Um Sulaim رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) "Anas is your servant." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! increase his wealth and offspring, and bless (for him) what ever you give him."
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے کہا کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ
انس آپ کا خادم ہے اس کے حق میں دعا فرمائیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اللهم أكثر ماله وولده ، وبارك له فيما أعطيته یا اللہ ! اس کے مال واولاد کوزیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے ، اس میں اسے برکت عطا فرمائیو ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) heard a man reciting (the Qur'an) in the mosque. He said," May Allah bestow His Mercy on him, as he made me remember such and-such Verse which I had missed in such-and-such Sura."
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدہ بن سلیمان نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو مسجد میں قرآن پڑھتے سنا تو فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے اس نے مجھے فلاں فلاں آیتیں یاد دلا دیں جو میں فلاں فلاں سورتوں سے بھول گیا تھا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) divided something (among the Muslims) and distributed the shares (of the booty). A man said, "This division has not been made to please Allah." When I informed the Prophet (ﷺ) about it, he became so furious that I noticed the signs of anger on his face and he then said, "May Allah bestow His Mercy on Moses, for he was hurt with more than this, yet he remained patient."
ہم سے حفص بن عمر نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے ، کہا مجھ کو سلیمان بن مہران نے خبر دی ، انہیں ابووائل نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز تقسیم فر مائی تو ایک شخص بولا کہ یہ ایسی تقسیم ہے کہ اس سے اللہ کی رضا مقصود نہیں ہے ۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی تو آپ اس پر غصہ ہوئے اور میں نے خفگی کے آثار آپ کے چہرہ مبارک پر دیکھے اور آپ نے فریا کہ اللہ مو سیٰ علیہ السلام پر رحم فرمائے ، انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیف دی گئی ۔ لیکن انہوں نے صبرکیا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"Preach to the people once a week, and if you won't, then preach them twice, but if you want to preach more, then let it be three times (a week only), and do not make the people fed-up with this Qur'an. If you come to some people who are engaged in a talk, don't start interrupting their talk by preaching, lest you should cause them to be bored. You should rather keep quiet, and if they ask you, then preach to them at the time when they are eager to hear what you say. And avoid the use of rhymed prose in invocation for I noticed that Allah's Messenger (ﷺ) and his companions always avoided it."
ہم سے یحییٰ بن محمد بن سکن نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حبان بن ہلال ابو حبیب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہارون مقر ی نے بیان ، کہا ہم سے زبیر بن خر یت نے بیان کیا ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہاکہ
لوگوں کو وعظ ہفتہ میں صرف ایک دن جمعہ کو کیا کر ، اگر تم اس پر تیار نہ ہو تو دو مرتبہ اگر تم زیادہ ہی کرنا چاہتے ہو تو پس تین دن اور لوگوں کو اس قرآن سے اکتانہ دینا ، ایسا نہ ہو کہ تم کچھ لوگوں کے پاس پہنچو ، وہ اپنی باتوں میں مصروف ہوں اور تم پہنچتے ہی ان سے اپنی بات ( بشکل وعظ ) بیان کرنے لگو اور ان کی آپس کی گفتگو کو کاٹ دو کہ اس طرح وہ اکتا جائیں ، بلکہ ( ایسے مقام پر ) تمہیں خاموش رہنا چاہئے ۔ جب وہ تم سے کہیں تو پھر تم انہیں اپنی باتیں سناؤ ۔ اس طرح کہ وہ بھی اس تقریر کے خواہشمند ہوں اور دعا میں قافیہ بند ی سے پرہیز کرتے رہنا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کو دیکھا ہے کہ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "When anyone of you appeal to Allah for something, he should ask with determination and should not say, 'O Allah, if You wish, give me.', for nobody can force Allah to do something against His Will.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہ نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبد العزیز بن صہیب نے خبر دی ، ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تم میں سے کوئی دعا کرے تو اللہ سے قطعی طور پر مانگے اور یہ نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے عطا فرما کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "None of you should say: 'O Allah, forgive me if You wish; O Allah, be merciful to me if You wish,' but he should always appeal to Allah with determination, for nobody can force Allah to do something against His Will."
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے ابوالزناد نے ، ان سے اعرج نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے کہ ” یا اللہ ! اگر تو چاہے تو مجھے معا ف کر دے ۔ میرے مغفرت کر دے “ بلکہ یقین کے ساتھ دعا کرے کیونکہ اللہ پر کوئی زبردستی کرنے والا نہیں ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "The invocation of anyone of you is granted (by Allah) if he does not show impatience (by saying, "I invoked Allah but my request has not been granted.")
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم کو امام مالک نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، انہیں عبدالرحمٰن بن ازہر کے غلام ابوعبید نے اور انہیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بندہ کی دعا قبول ہوتی ہے جب تک کہ وہ جلدی نہ کرے کہ کہنے لگے کہ میں نے دعا کی تھی اور میری دعا قبول نہیں ہوئی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) raised his hands (in invocation) till I saw the whiteness of his armpits."
حضرت ابوعبداللہ امام بخاری نے کہا اور عبد العزیز بن عبداللہ اویسی نے کہا مجھ سے محمد بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے یحییٰ بن سعید اور شریک بن ابی نمر نے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ اتنے اٹھائے کہ میں نے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
While the Prophet (ﷺ) was delivering a sermon on a Friday, a man stood up and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Invoke Allah to bless us with rain." (The Prophet (ﷺ) invoked Allah for rain.) So, the sky became overcast and it started raining till one could hardly reach one's home. It kept on raining till the next Friday when the same man or another man got up and said (to the Prophet), "Invoke Allah to withhold the rain from us, for we have been drowned (with heavy rain )." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Let it rain around us and not on us." Then the clouds started dispersing around Medina and rain ceased to fall on the people of Medina.
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لئے بارش برسائے ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی ) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی ، یہ حال ہو گیا کہ ہمارے لئے گھر تک پہنچنا مشکل تھا ۔ یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش بند کر دے ہم تو ڈوب گئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے ۔ چنانچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی ۔
Narrated `Abdullah bin Zaid رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) went out to this Musalla (praying place) to offer the prayer of Istisqa.' He invoked Allah for rain and then faced the Qibla and turned his Rida' (upper garment) inside out.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عمرو بن یحییٰ نے بیان کیا ، ان سے عبادہ بن تمیم نے بیان کیا اور ان سے عبداللہ بن زید انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس عیدگاہ میں استسقاء کی دعا کے لئے نکلے اوربارش کی دعا کی ، پھر آپ قبلہ رخ ہو گئے اور اپنی چادر کو پلٹا ۔