Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
My mother said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Please invoke Allah on behalf of your servant." He said, "O Allah! Increase his wealth and children, and bestow Your Blessing on whatever You give him." a time of distress.
ہم سے عبداللہ بن ابی الاسود نے بیان کیا ، کہا ہم سے حرمی بن عمارہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
میری والدہ ( ام سلیم رضی اللہ عنہ ) نے کہا یا رسول اللہ ! انس رضی اللہ عنہ آپ کاخادم ہے اس کے لئے دعا فرما دیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس کے مال واولاد کو زیادہ کر اور جو کچھ تو نے اسے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) used to invoke Allah at the time of distress, saying, "La ilaha illal-lahu Al-`Azim, al- Halim, La ilaha illal-lahu Rabbu-s-samawati wal-ard wa Rabbu-l-arsh il-azim."
ہم سے مسلم بن ابراہیم نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا ، ان سے ابو العالیہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پریشانی کے وقت یہ دعا کرتے تھے لا إله إلا الله العظيم الحليم ، لا إله إلا الله رب السموات والأرض ، رب العرش العظيم ” اللہ کے سوا کوئی معبودنہیں جو بہت عظمت والا ہے اور برد بار ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمین کا رب اور بڑے بھاری عرش کارب ہے ۔ “
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) used to say at a time of distress, "La ilaha illal-lahu Rabbul-l-'arsh il-'azim, La ilaha illallahu Rabbu-s-samawati wa Rabbu-l-ard, Rabbu-l-'arsh-il-Karim." There is no worthy of worship saves Allah (Who is) Grand and Forbearing; there is no worthy of worship saves Allah, the Lord of the Great Throne; there is no worthy of worship saves Allah, the Lord of the heavens and the earth as well as the Lord of 6 the Prestigious Throne. Shobah has reported likewise from Qatadah.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن ابی عبداللہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، ان سے ابوالعالیہ نے اور ان سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم حالت پریشانی میں یہ دعا کیا کرتے تھے لا إله إلا الله العظيم الحليم ، لا إله إلا الله رب العرش العظيم ، لا إله إلا الله رب السموات ، ورب الأرض ، ورب العرش الكريم ” اللہ صاحب عظمت اور بردبار کے سوا کوئی معبود نہیں ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو عرش عظیم کا رب ہے ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے اور عرش عظیم کا رب ہے ۔ “ اور وہب نے بیان کیا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اس طرح بیان کیا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) used to seek refuge with Allah from the difficult moment of a calamity and from being overtaken by destruction and from being destined to an evil end, and from the malicious joy of enemies. Sufyan said, "This narration contained three items only, but I added one. I do not know which one that was."
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ، کہامجھ سے سمی نے بیان کیا ، ان سے ابوصالح نے اور ان سے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مصیبت کی سختی ، تباہی تک پہنچ جانے ، قضاء و قدر کی برائی اور دشمنوں کے خوش ہونے سے پناہ مانگتے تھے اور سفیان نے کہا کہ حدیث میں تین صفات کا بیان تھا ۔ ایک میں نے بھلا دی تھی اور مجھے یاد نہیں کہ وہ ایک کون سی صفت ہے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
When Allah's Messenger (ﷺ) was healthy, he used to say, "No prophet dies till he is shown his place in Paradise, and then he is given the option (to live or die)." So when death approached him(during his illness), and while his head was on my thigh, he became unconscious for a while, and when he recovered, he fixed his eyes on the ceiling and said, "O Allah! (Let me join) the Highest Companions (see Qur'an 4:69)," I said, "So, he does not choose us." Then I realized that it was the application of the statement he used to relate to us when he was healthy. So that was his last utterance (before he died), i.e. "O Allah! (Let me join) the Highest Companions."
ہم سے سعید بن عفیر نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے لیث بن سعد نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے عقیل نے ، ان سے ابن شہاب نے ، انہیں سعید بن مسیب اور عروہ بن زبیر نے بہت سے علم والوں کے سامنے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیمار نہیں تھے تو فرمایا کرتے تھے کہ جب بھی کسی نبی کی روح قبض کی جاتی تو پہلے جنت میں اس کا ٹھکانا دکھا دیا جاتا ہے ، اس کے بعد اسے اختیار دیا جاتا ہے ( کہ چاہیں دنیا میں رہیں یا جنت میں چلیں ) چنانچہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے اور سرمبارک میری ران پر تھا ۔ اس وقت آپ پر تھوڑی دیر کے لئے غشی طاری ہوئی ۔ پھر جب آپ کو اس سے کچھ ہوش ہوا تو چھت کی طرف ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگے ، پھر فرمایااللهم الرفيق الأعلى ” اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے ۔ “ میں نے سمجھ لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اب ہمیں اختیار نہیں کر سکتے ۔ میں سمجھ گئی کہ جو بات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صحت کے زمانے میں بیان فرمایا کرتے تھے ، یہ وہی بات ہے ۔ بیان کیا کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری کلمہ تھا جو آپ نے زبان سے ادا فرمایا کہاللهم الرفيق الأعلى ” اے اللہ ! رفیق اعلیٰ کے ساتھ ملا دے ۔
Narrated Qais:
I came to Khabbab رضی اللہ عنہ who had been branded with seven brands(1) and he said, "Had Allah's Messenger (ﷺ) not forbidden us to invoke (Allah) for death, I would have invoked (Allah) for it."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ، کہاکہ
میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے سات داغ ( کسی بیماری کے علاج کے لئے ) لگوائے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں ضرور اس کی دعا کرتا ۔
Narrated Qais:
I came to Khabbab رضی اللہ عنہ who had been branded with seven brands over his `Abdomen, and I heard him saying, "If the Prophet: had not forbidden us to invoke (Allah) for death, I would have invoked Allah for it."
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے بیان کیا ، ان سے قیس بن ابی حازم نے بیان کیا ، کہاکہ
میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا انہوں نے اپنے پیٹ پر سات داغ لگوا رکھے تھے ، میں نے سنا کہ وہ کہہ رہے تھے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا کرنے سے منع نہ کیا ہوتا تو میں اس کی ضرور دعا کر لیتا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said," None of you should long for death because of a calamity that had befallen him, and if he cannot, but long for death, then he should say, 'O Allah! Let me live as long as life is better for me, and take my life if death is better for me.' "
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو اسماعیل بن علیہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہمیں عبد العزیز بن صہیب نے بتایا اور ان سے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کسی تکلیف کی وجہ سے جو اسے ہونے لگی ہو ، موت کی تمنا نہ کرے ۔ اگر موت کی تمنا ضروری ہی ہو جائے تو یہ کہے کہ اے اللہ ! جب تک میرے لئے زندگی بہتر ہے مجھے زندہ رکھیو اور جب میرے لئے موت بہتر ہو تو مجھے اٹھا لیجیو ۔ “
Narrated As-Sa'ib bin Yazid رضی اللہ عنہ :
My aunt took me to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! My sister's son is sick." So he passed his hand over my head and invoked for Allah's blessing upon me and then performed the ablution. I drank from the water of his ablution and I stood behind him and looked at his Khatam (the seal of Prophethood) between his shoulders (and its size was) like the button of a tent.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے حاتم بن اسماعیل نے بیان کیا ، ان سے جعد بن عبد الرحمان نے بیان کیا کہ میں نے حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
میری خالہ مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میرا یہ بھانجا بیمار ہے ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور میرے لئے برکت کی دعا کی ۔ پھر آپ نے وضو کیا اور میں نے آپ کے وضو کا پانی پیا ۔ اس کے بعد میں آپ کی پشت کی طرف کھڑا ہو گیا اور میں نے مہر نبوت دیکھی جو دونوں شانوں کے درمیان میں تھی جیسے چھپر کھٹ کی گھنڈی ہوتی ہے یا حجلہ کا انڈہ ۔
Narrated Abu `Aqil:
His grandfather. `Abdullah bin Hisham رضی اللہ عنہ used to take him from the market or to the market (the narrator is in doubt) and used to buy grain and when Ibn Az-Zubair and Ibn `Umar رضی اللہ عنہم met him, they would say to him, "Let us be your partners (in trading) as the Prophet (ﷺ) invoked for Allah's blessing upon you." He would then take them as partners and he would Sometimes gain a whole load carried by an animal which he would send home.
ہم سے عبداللہ بن یوسف تنیسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا ہم سے سعید بن ابی ایوب نے بیان کیا ، ان سے ابوعقیل ( زہرہ بن معبد ) نے کہ
انہیں ان کے دادا عبداللہ بن ہشام رضی اللہ عنہ ساتھ لے کر بازار سے نکلتے یا بازار جاتے اور کھانے کی کوئی چیز خرید تے ، پھر اگر عبداللہ بن زبیر یا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم کی ان سے ملاقات ہو جاتی تو وہ کہتے کہ ہمیں بھی اس میں شریک کیجئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کے لئے برکت کی دعا فرمائی تھی ۔ بعض دفعہ تو ایک اونٹ کے بوجھ کا پورا غلہ نفع میں آ جاتا اور وہ اسے گھر بھیج دیتے تھے ۔
Narrated Mahmud bin Ar-Rabi رضی اللہ عنہ :
On whose face Allah's Messenger (ﷺ) had thrown water from his mouth, the water having been taken from their well while he was still a young boy (who has not yet attained the age of puberty).
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ، ان سے صالح بن کیسان نے ، ان سے ابن شہاب نے بیان کیا ، انہیں محمود بن ربیع رضی اللہ عنہ نے خبر دی
یہ محمود وہ بزرگ ہیں جن کے منہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت وہ بچے تھے ، انہیں کے کنوئیں سے پانی لے کر کلی کر لی تھی ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The boys used to be brought to the Prophet (ﷺ) and he used to invoke for Allah's blessing upon them. Once an infant was brought to him and it urinated on his clothes. He asked for water and poured it over the place of the urine and did not wash his clothes.
ہم سے عبدان نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بچوں کو لایا جاتا تو آپ ان کے لئے دعا کرتے تھے ۔ ایک مرتبہ ایک بچہ لایا گیا اور اس نے آپ کے کپڑے پر پیشاب کر دیا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی منگایا اور پیشاب کی جگہ پر اسے ڈالا ۔ کپڑے کو دھویا نہیں ۔
Narrated `Abdullah bin Tha`laba bin Su'air رضی اللہ عنہ :
whose eye Allah's Messenger (ﷺ) had touched, that he had seen Sa`d bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ offering one rak`a only for the witr prayer.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے عبداللہ بن ثعلبہ بن صعیر رضی اللہ عنہ نے خبردی
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھ یا منہ پر ہاتھ پھیرا تھا ۔ انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ایک رکعت وتر نماز پڑھتے دیکھا تھا ۔
Narrated Ka`b bin 'Ujra رضی اللہ عنہ :
I met me and said, "Shall I give you a present? Once the Prophet (ﷺ) came to us and we said, 'O Allah's Messenger (ﷺ) ! We know how to greet you; but how to send 'Salat' upon you? He said, 'Say: Allahumma Salli ala Muhammadin wa 'ala `Ali Muhammadin, kama sal-laita 'ala all Ibrahima innaka Hamidun Majid. Allahumma barik 'ala Muhammadin wa 'ala all Muhammadin, kama barakta 'ala all Ibrahima, innaka Hamidun Majid." O Allah! Bestow blessings on Hadrat Muhammad and Hadrat Muhammad's progeny as you did bestow on Hadrat Ibrahim's progeny. Undoubtedly, You are Praiseworthy and Glorious. O Allah Grant favours on Hadrat Muhammad and Hadrat Muhammad's progeny as You did grant on Hadrat Ibrahim's progeny. Verily, You are Praiseworthy and Glorious.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ، کہا ہم سے حکم بن عتبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے عبدالرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے سنا ، کہا کہ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور کہاکہ
میں تمہیں ایک تحفہ نہ دوں ؟ ( یعنی ایک عمدہ حدیث نہ سناؤں ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہم لو گوں میں تشریف لائے تو ہم نے کہا یا رسول اللہ ! یہ تو ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ ہم آپ کو سلام کس طرح کریں ، لیکن آپ پر درود ہم کس طرح بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو ۔ اللهم صل على محمد ، وعلى آل محمد ، كما صليت على آل إبراهيم ، إنك حميد مجيد ، اللهم بارك على محمد ، وعلى آل محمد ، كما باركت على آل إبراهيم ، إنك حميد مجيد ” اے اللہ ! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اپنی رحمت نازل کر اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم پر رحمت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔ اے اللہ ! محمد پر اور آل محمد پر بر کت نازل کر جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ، بلاشبہ تو تعریف کیا ہوا اور پاک ہے ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
We said, "O Allah's Messenger (ﷺ) This is (i.e. we know) the greeting to you; will you tell us how to send Salat on you?" He said, "Say: 'Allahumma Salli 'ala Muhammadin `Abdika wa rasulika kama sal-laita 'ala Ibrahima wa barik 'ala Muhammadin wa all Muhammadin kama barakta 'ala Ibrahima wa `Ali Ibrahim." O Allah! Bestow blessings on Hadra Muhammad, Your bondsman and Apostle as You did confer upon Hadrat Ibrahim and confer favours on Hadrat Muhammad as well as Hadrat Muhammad's progeny, as you did bestow on Hadrat Ibrahim Hadrat Ibrahim's progeny.
ہم سے ابراہیم بن حمزہ زبیری نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابن ابی حازم اور دراوردی نے بیان کیا ، ان سے یزید بن عبداللہ بن اسامہ نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن خباب نے بیان کیا اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نے کہا اے اللہ کے رسول ! آپ کو سلام اس طرح کیا جاتا ہے ، لیکن آپ پر درود کس طرح بھیجا جاتاہے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو اللهم صل على محمد عبدك ورسولك ، كما صليت على إبراهيم ، وبارك على محمد وعلى آل محمد ، كما باركت على إبراهيم وآل إبراهيم اے اللہ ! اپنی رحمت نازل کرحضرت محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر جو تیرے بندے ہیں اور تیرے رسول ہیں جس طرح تو نے رحمت نازل کی ابراہیم پر اور برکت بھیج محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) پر اور ان کی آل پر جس طرح برکت بھیجی تو نے ابراہم پر اور آل ابراہیم پر ۔
Narrated Ibn Abi `Aufa رضی اللہ عنہ :
Whenever somebody brought alms to the Prophet (ﷺ) the used to say, "Allahumma Salli 'Alaihi (O Allah! Send Your Salat (Grace and Honor) on him)." Once when my father brought his alms to him, he said, "O Allah! Send Your Salat (Grace and Honor) on the family of Abi `Aufa."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے یبان کیا ، ان سے عمرو بن مرہ نے اور ان سے ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی شخص اپنی زکوٰۃ لے کر آتا تو آپ فرماتے ” اللهم صل عليه “ ( اے اللہ ! اس پر اپنی رحمت نازل فرما ) میرے والد بھی اپنی زکوٰۃ لے کر آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! آل ابی اوفی پر اپنی رحمت نازل فرما ۔
Narrated Abu Humaid As-Saidi رضی اللہ عنہ :
The people said, "O Allah's Messenger (ﷺ) ! How may we send Salat on you?" He said, "Say: Allahumma Salli 'ala- Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyyatihi kama sal-laita 'ala `Ali Ibrahim; wa barik 'ala Muhammadin wa azwajihi wa dhurriyyatihi kamabarakta 'ala `Ali Ibrahim innaka hamidun majid." O Allah's Apostle! How should we invoke blessing for you? He said: Say: O Allah Bestow blessing on Hadrat Muhammad, his wives, and his progeny as You did confer on Hadrat Ibrahim's progeny. And grant Hadrat Muhammad, his wives and progeny favours as You did grant to Hadrat Ibrahim's progeny. You are, indeed, Praiseworthy and Glorious.
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے بیان کیا ، ان سے امام مالک نے ، ان سے عبداللہ بن ابی بکر نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عمرو بن سلیم زرقی نے بیان کیا کہ ہم کو ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم آپ پر کس طرح درود بھیجیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح کہو اللهم صل على محمد وأزواجه وذريته ، كما صليت على آل إبراهيم ، وبارك على محمد وأزواجه وذريته ، كما باركت على آل إبراهيم ، إنك حميد مجيد ” اے اللہ ! محمد اور آپ کی ازواج اور آپ کی اولاد پر اپنی رحمت نازل کر جیسا کہ تو نے ابرہیم اور آل ابراہیم پر رحمت نازل کی اور محمد اور ان کی ازواج اور ان کی اولاد پر برکت نازل کر ، جیسا کہ تو نے ابراہیم اور آل ابراہیم پر برکت نازل کی ۔ بلاشبہ تو تعریف کیا گیا شان وعظمت والا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
He heard the Prophet (ﷺ) saying, "O Allah! If I should ever abuse a believer, please let that be a means of bringing him near to You on the Day of Resurrection."
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ، کہا کہ مجھے یونس نے خبر دی ، انہیں ابن شہاب نے ، کہا کہ مجھ کو سعید بن مسیب نے خبر دی اور انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ ! میں نے جس مومن کو بھی برا بھلا کہا ہو تو اس کے لئے اسے قیامت کے دن اپنی قربت کا ذریعہ بنا دے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Once the people started asking Allah's Messenger (ﷺ) questions, and they asked so many questions that he became angry and ascended the pulpit and said, "I will answer whatever questions you may ask me today." I looked right and left and saw everyone covering his face with his garment and weeping. Behold ! There was a man who, on quarreling with the people, used to be called as a son of a person other than h is father. He said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Who is my father?" The Prophet (ﷺ) replied, "Your father is Hudhaifa." And then `Umar رضی اللہ عنہ got up and said, "We accept Allah as our Lord, and Islam as (our) religion, and Muhammad as (our) Apostle; and we seek refuge with Allah from the afflictions." Allah's Messenger (ﷺ) said, " I have never seen a day like today in its good and its evil for Paradise and the Hell Fire were displayed in front of me, till I saw them just beyond this wall." Qatada, when relating this Hadith, used to mention the following Verse:-- 'O you who believe! Ask not questions about things which, If made plain to you, May cause you trouble. (5.101)
ہم سے حفص بن عمر حوضی نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہشام دستوائی نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوا لات کئے اور جب بہت زیادہ کئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ناگواری ہوئی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا ، آج تم مجھ سے جو بات پوچھو گے میں بتاؤں گا ۔ اس وقت میں نے دائیں بائیں دیکھا تو تمام صحابہ سر اپنے کپڑوں میں لپیٹے ہوئے رو رہے تھے ، ایک صاحب جن کا اگر کسی سے جھگڑا ہوتا تو انہیں ان کے باپ کے سوا کسی اور کی طرف ( طعنہ کے طور پر ) منسوب کیا جاتا تھا ۔ انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! میرے باپ کون ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حذافہ ۔ اس کے بعد عمر رضی اللہ عنہ اٹھے اور عرض کیا ہم اللہ سے راضی ہیں کہ ہمارا رب ہے ، اسلام سے کہ وہ دین ہے ، محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ وہ سچے رسول ہیں ، ہم فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، آج کی طرح خیروشر کے معاملہ میں میں نے کوئی دن نہیں دیکھا ، میرے سامنے جنت اور دوزخ کی تصویر لائی گئی اور میں نے انہیں دیوار کے اوپر دیکھا ۔ قتادہ اس حدیث کو بیان کرتے وقت ( سورۃ المائدہ کی ) اس آیت کا ذکر کیا کرتے تھے ” اے ایمان والو ! ایسی چیزوں کے متعلق نہ سوال کرو کہ اگر تمہارے سامنے ان کا جواب ظاہرہو جائے تو تم کو برا لگے ۔ “
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to Abu Talha رضی اللہ عنہ , "Choose one of your boys to serve me." So Abu Talha رضی اللہ عنہ took me (to serve the Prophet (ﷺ) ) by giving me a ride behind him (on his camel). So I used to serve Allah's Messenger (ﷺ) whenever he stayed somewhere. I used to hear him saying, "O Allah! I seek refuge with you (Allah) from (worries) care and grief, from incapacity and laziness, from miserliness and cowardice, from being heavily in debt and from being overpowered by other men." I kept on serving him till he returned from (the battle of) Khaibar. He then brought Safiya رضی اللہ عنہا , the daughter of Huyay whom he had got (from the booty). I saw him making a kind of cushion with a cloak or a garment for her. He then let her ride behind him. When we reached a place called As-Sahba', he prepared (a special meal called) Hais, and asked me to invite the men who (came and) ate, and that was the marriage banquet given on the consummation of his marriage to her. Then he proceeded till the mountain of Uhud appeared, whereupon he said, "This mountain loves us and we love it." When he approached Medina, he said, "O Allah! I make the land between its (i.e., Medina's) two mountains a sanctuary, as the prophet Abraham made Mecca a sanctuary. O Allah! Bless them (the people of Medina) in their Mudd and the Sa' (units of measuring).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے عمرو بن ابی عمرو ، مطلب بن عبداللہ بن حنطب کے غلام نے بیان کیا ، انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا اپنے یہاں کے لڑکوں میں سے کوئی بچہ تلاش کر جو میرا کام کر دیا کرے ۔ چنانچہ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ مجھے اپنی سواری پر پیچھے بیٹھا کر لے گئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی گھر ہوتے تو میں آپ کی خدمت کیا کرتا تھا ۔ میں نے سنا کہ آنحضر ت صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا اکثر پڑھا کرتے تھے ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم والم سے ، عاجزی وکمزوری سے اور بخل سے اور بزدلی سے اور قرض کے بوجھ سے اور انسانوں کے غلبہ سے ۔ “ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرتا رہا ۔ پھر ہم خیبر سے واپس آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ام المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا کے ساتھ واپس ہوئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے لئے منتخب کیا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لئے عبا یا چادر سے پردہ کیا اور انہیں اپنی سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا ۔ جب ہم مقام صہبا پہنچے تو آپ نے ایک چرمی دسترخوان پر کچھ مالیدہ تیار کرا کے رکھوایا پھر مجھے بھیجا اور میں کچھ صحابہ کو بلا لایا اور سب نے اسے کھایا ، یہ آپ کی دعوت ولیمہ تھی ۔ اس کے بعد آپ آگے بڑھے اور احد پہاڑ دکھائی دیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔ آپ جب مدینہ منورہ پہنچے تو فرمایا ” اے اللہ ! میں اس شہر کے دونوں پہاڑو ں کے درمیانی علاقہ کو اس طرح حرمت والا قرار دیتا ہوں جس طرح ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا ۔ اے اللہ ! یہاں والوں کے مد میں اور ان کے صاع میں برکت عطا فرما ۔ “