Narrated Um Khalid bint Khalid رضی اللہ عنہما :
I heard the Prophet (ﷺ) seeking refuge with Allah from the punishment of the grave.
ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ، کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے ام خالد بنت خالد بن سعید رضی اللہ عنہما سے سنا ( موسیٰ نے ) بیان کیا کہ میں نے کسی سے نہیں سنا کہ ان کی بیان کی ہوئی حدیث سے مختلف کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہو ، انہوں نے بیان کیا کہ
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے ۔
Narrated Mus`ab:
Sa`d رضی اللہ عنہ used to recommend five (statements) and mentioned that the Prophet (ﷺ) I used to recommend it. (It was) "O Allah! I seek refuge with You from miserliness; and seek refuge with You from cowardice; and seek refuge with You from being sent back to geriatric old age; and I seek refuge with You from the affliction of this world (i.e., the affliction of Ad-Dajjal etc.); and seek refuge with You from the punishment of the grave."
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ، ان سے مصعب بن سعد بن ابی وقاص نے کہ
سعد رضی اللہ عنہ پانچ باتوں کاحکم دیتے تھے او انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے ذکرکرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے پناہ مانگنے کا حکم کرتے تھے کہ اللهم إني أعوذ بك من البخل ، وأعوذ بك من الجبن ، وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر ، وأعوذ بك من فتنۃ الدنيا يعني فتنۃ الدجال وأعوذ بك من عذاب القبر ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ بدترین بڑھاپا مجھ پر آ جائے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں دنیا کے فتنہ سے ، اس سے مراد دجال کا فتنہ ہے اور تجھ سے پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Two old ladies from among the Jewish ladies entered upon me and said' "The dead are punished in their graves," but I thought they were telling a lie and did not believe them in the beginning. When they went away and the Prophet (ﷺ) entered upon me, I said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Two old ladies.." and told him the whole story. He said, "They told the truth; the dead are really punished, to the extent that all the animals hear (the sound resulting from) their punishment." Since then I always saw him seeking refuge with Allah from the punishment of the grave in his prayers.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریربن عبدالحمید نے بیان کیا ، ان سے ابووائل نے ، ان سے مسروق نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
مدینہ کے یہود یوں کی دو بوڑھی عورتیں میرے پاس آئیں اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ قبر والوں کو ان کی قبر میں عذاب ہو گا ۔ لیکن میں نے انہیں جھٹلایا اور ان کی تصدیق نہیں کر سکی ۔ پھر وہ دونوں عورتیں چلی گئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! دو بوڑھی عورتیں تھیں ، پھر میں آپ سے واقعہ کا ذکر کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے صحیح کہا ، قبر والوں کو عذاب ہو گا اور ان کے عذاب کو تمام چوپائے سنیں گے ۔ پھر میں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز میں قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگنے لگے تھے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Prophet used to say, "O Allah! I seek refuge with You from incapacity and laziness, from cowardice and geriatric old age, and seek refuge with You from the punishment of the grave, and I seek refuge with You from the afflictions of life and death."
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ، کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے اپنے والد سے سنا ، بیان کیا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل ، والجبن والهرم ، وأعوذ بك من عذاب القبر ، وأعوذ بك من فتنۃ المحيا والممات ” اے اللہ ! میں تیری پنا ہ مانگتا ہوں عاجزی سے ، سستی سے ، بزدلی سے اور بہت زیادہ بڑھاپے سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کی آزمائشوں سے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to say, "O Allah! I seek refuge with You from laziness and geriatric old age, from all kinds of sins and from being in debt; from the trial and affliction of the grave and from the punishment in the grave; from the affliction of the Fire and from the punishment of the Fire; and from the evil of the affliction of wealth; and I seek refuge with You from the affliction of poverty, and I seek refuge with You from the affliction of Al-Mesiah Ad-Dajjal. O Allah! Wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart from all the sins as a white garment is cleansed from the filth, and let there be a long distance between me and my sins, as You made East and West far from each other."
ہم سے معلی بن اسد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیاکہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہا کرتے تھے اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم ، والمأثم والمغرم ، ومن فتنۃ القبر وعذاب القبر ، ومن فتنۃ النار وعذاب النار ، ومن شر فتنۃ الغنى ، وأعوذ بك من فتنۃ الفقر ، وأعوذ بك من فتنۃ المسيح الدجال ، اللهم اغسل عني خطاياى بماء الثلج والبرد ، ونق قلبي من الخطايا ، كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس ، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے ، بہت زیادہ بڑھاپے سے ، گناہ سے ، قرض سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبرکے عذاب سے اور دوزخ کی آزمائش سے اور دوزخ کے عذاب سے اور مالدا ری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں محتاجی کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے ۔ اے اللہ ! مجھ سے میرے گناہوں کو برف اور اولے کے پانی سے دھودے اور میرے دل کو خطاؤں سے اس طرح پاک و صاف کر دے جس طرح تو نے سفید کپڑے کو میل سے پاک صاف کر دیا اور مجھ میں اور میرے گناہوں میں اتنی دوری کر دے جتنی مشرق اورمغرب میں دوری ہے ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to say, "O Allah! I seek refuge with You from worry and grief, from incapacity and laziness, from cowardice and miserliness, from being heavily in debt and from being overpowered by (other) men." (See Hadith No. 374)
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے عمرو بن ابی عمرو نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہتے تھے اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن ، والعجز والكسل ، والجبن والبخل ، وضلع الدين ، وغلبۃ الرجال ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں غم والم سے ، عاجزی سے ، سستی سے ، بزدلی سے ، بخل ، قرض چڑھ جانے اور لوگوں کے غلبہ سے ۔ “
Narrated Sa`d bin Abi Waqqas رضی اللہ عنہ :
He used to recommend these five (statements) and say that the Prophet (ﷺ) said so (and they are): "O Allah! I seek refuge with You from miserliness, and seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from being brought back to geriatric old age, and seek refuge with You from the afflictions of the world, and seek refuge with You from the punishment of the grave."
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہامجھ سے غندر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا ، ان سے مصعب بن سعد نے بیان کیا اور ان سے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہ
وہ ان پانچ باتوں سے پناہ مانگنے کا حکم دیتے تھے اور انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتے تھے کہ اللهم إني أعوذ بك من البخل ، وأعوذ بك من الجبن ، وأعوذ بك أن أرد إلى أرذل العمر ، وأعوذ بك من فتنۃ الدنيا ، وأعوذ بك من عذاب القبر ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ ناکارہ عمر میں پہنچا دیا جاؤں ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے ۔ “
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) used to seek refuge with Allah saying, "O Allah! I seek refuge with You from laziness, and seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from geriatric old age, and seek refuge with You from miserliness."
ہم سے اس حدیث کو ابو معمر نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ، ان سے عبد العزیز بن صہیب نے بیان کیا اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے اور کہتے تھے کہ اللهم إني أعوذ بك من الكسل ، وأعوذ بك من الجبن ، وأعوذ بك من الهرم ، وأعوذ بك من البخل ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں ناکارہ بڑھاپے سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے ۔ “
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Make us love Medina as You made us love Mecca, or more, and transfer the fever that is in it, to Al-Juhfa. O Allah! Bless our Mudd and our Sam' (kinds of measures).
ہم سے محمد بن یو سف فریابی نے بیان کیا ، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے ، ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللهم حبب إلينا المدينۃ ، كما حببت إلينا مكۃ أو أشد ، وانقل حماها إلى الجحفۃ ، اللهم بارك لنا في مدنا وصاعنا ” اے اللہ ! ہمارے دل میں مدینہ کی ایسی ہی محبت پیداکر دے جیسی تو نے مکہ کی محبت ہمارے دل میں پیدا کی ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کے بخار کو جحفہ میں منتقل کر دے ۔ اے اللہ ! ہمارے لئے ہمارے مداور صاع میں برکت عطا فرما ۔ “
Narrated 'Amir bin Sa`d that his father said:
"In the year of Hajjatal-Wada`, the Prophet (ﷺ) paid me a visit while I was suffering from an ailment that had brought me to the verge of death. I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! My sickness has reduced me to the (bad) state as you see, and I am a rich man, but have no heirs except one daughter. Shall I give 2/3 of my property in charity?' He said, 'No.' I said, 'Then 1/2 of it?' He said, 'Even 1/3 is too much, for, to leave your inheritors wealthy is better than to leave them in poverty, begging from people. And (know that) whatever you spend in Allah's Cause, you will get reward for it, even for the morsel of food which you put in your wife's mouth.' I said, 'O Allah's Messenger (ﷺ)! Will I be left behind my companions (in Mecca)?' He said, 'If you remain behind, whatever good deed you will do for Allah's Sake, will raise and upgrade you to a higher position (in Allah's Sight). May be you will live longer so that some people may benefit by you, and some e others (pagans) may get harmed by you. O Allah! Complete the migration of my companions and do not turn them on their heels; But (we pity) the poor Sa`d bin Khaula (not the above mentioned Sa`d) (died in Mecca)" Allah's Messenger (ﷺ) lamented (or pitied) for him as he died in Mecca. (See Hadith No. 693, Vol. 5)
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ، کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ، انہیں عامر بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع کے موقع پر میری عیادت کے لئے تشریف لائے ۔ میر ی اس بیماری نے مجھے موت سے قریب کر دیا تھا ۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ خود مشاہدہ فر مارہے ہیں کہ بیماری نے مجھے کہاں پہنچا دیا ہے اور میرے پاس مال و دولت ہے اور سوا ایک لڑکی کے اس کا اور کوئی وارث نہیں ، کیا میں اپنی دولت کا دو تہائی صدقہ کر دوں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ۔ میں نے عرض کیا پھر آدھی کا کر دوں ؟ فرمایا کہ ایک تہائی بہت ہے اگر تم اپنے وارثوں کو مالدار چھوڑو تو یہ اس سے بہتر ہے کہ انہیں محتاج چھوڑو اور وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھریں اور یقین رکھو کہ تم جو کچھ بھی خرچ کرو گے اور اس سے مقصود اللہ کی خوشنودی ہوئی تمہیں تو اس پر ثواب ملے گا ، یہاں تک کہ اگر تم اپنی بیوی کے منہ میں لقمہ رکھو ( تو اس پر بھی ثواب ملے گا ) میں نے عرض کیا میں اپنے ساتھیوں سے پیچھے چھوڑ دیا جاؤں گا ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم پیچھے چھوڑ دئیے جاؤ اور پھر کوئی عمل کرو جس سے مقصود اللہ کی رضا ہو تو تمہارا مرتبہ بلند ہو گا اور امید ہے کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور کچھ قومیں تم سے فائدہ اٹھا ئیں گی اور کچھ نقصان اٹھائیں گی ۔ اے اللہ ! میرے صحابہ کی ہجرت کو کامیاب فرما اور انہیں الٹے پاؤں واپس نہ کر ، البتہ افسوس سعد بن خولہ کا ہے ۔ سعد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر افسوس کا اظہار اس وجہ سے کیا تھا کہ ان کا انتقال مکہ معظمہ میں ہو گیا تھا ۔
Narrated Sa`d:
Seek refuge with Allah by saying the words which the Prophet (ﷺ) used to say while seeking refuge with Allah, "0 Allah! I seek refuge with You from cowardice, and seek refuge with You from miserliness, and seek refuge with You from reaching a degraded geriatric old age, and seek refuge with You from the afflictions of the world and from the punishment in the grave."
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو حسین بن علی جعفی نے خبر دی ، انہیں زائدہ بن قدامہ نے ، انہیں عبدالملک بن عمیر نے ، انہیں مصعب بن سعد نے اور ان سے ان کے والد نے بیان کیاکہ
ان کلمات کے ذریعہ اللہ کی پناہ مانگوجن کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگتے تھے اللهم إني أعوذ بك من الجبن ، وأعوذ بك من البخل ، وأعوذ بك من أن أرد إلى أرذل العمر ، وأعوذ بك من فتنۃ الدنيا ، وعذاب القبر ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں بزدلی سے ، تیری پناہ مانگتا ہوں بخل سے ، اس سے کہ ناکارہ عمر کو پہنچوں ، تیری پناہ مانگتا ہوں دنیا کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے ۔ “
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to say, "O Allah! I seek refuge with You from laziness from geriatric old age, from being in debt, and from committing sins. O Allah! I seek refuge with You from the punishment of the Fire, the afflictions of the grave, the punishment in the grave, and the evil of the affliction of poverty and from the evil of the affliction caused by Al-Masih Ad-Dajjal. O Allah! Wash away my sins with the water of snow and hail, and cleanse my heart from the sins as a white garment is cleansed of filth, and let there be a far away distance between me and my sins as You have set far away the East and the West from each other."
ہم سے یحییٰ بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے بیان کیا اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دعا کیا کرتے تھے کہاللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم ، اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنۃ النار وعذاب القبر ، وشر فتنۃ الغنى ، وشر فتنۃ الفقر ، ومن شر فتنۃ المسيح الدجال ، اللهم اغسل خطاياى بماء الثلج والبرد ، ونق قلبي من الخطايا ، كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس ، وباعد بيني وبين خطاياى كما باعدت بين المشرق والمغرب ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے ، ناکارہ عمر سے ، بڑھاپے سے ، قرض سے اور گناہ سے ۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے عذاب سے ، دوزخ کی آزمائش سے ، قبر کے عذاب سے ، مالداری کی بری آزمائش سے ، محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے ۔ اے اللہ ! میرے گناہوںکو برف اور اولے کے پانی سے دھودے اور میرے دل کو خطاؤں سے پاک کر دے ، جس طرح سفید کپڑا میل سے صاف کر دیا جاتا ہے اور میرے اور میرے گناہوں کے درمیان اتنا فاصلہ کر دے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب میں ہے ۔ “
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to seek refuge with Allah (by saying), "O Allah! I seek refuge with You from the affliction of the Fire and from the punishment in the Fire, and seek refuge with You from the affliction of the grave, and I seek refuge with You from the affliction of wealth, and I seek refuge with You from the affliction of poverty, and seek refuge with You from the affliction of Al-Masih Ad-Dajjal."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے سلام بن ابی مطیع نے بیان کیا ، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے ان کی خالہ ( ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ) نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پناہ مانگا کرتے تھے کہاللهم إني أعوذ بك من فتنۃ النار ومن عذاب النار ، وأعوذ بك من فتنۃ القبر ، وأعوذ بك من عذاب القبر ، وأعوذ بك من فتنۃ الغنى ، وأعوذ بك من فتنۃ الفقر ، وأعوذ بك من فتنۃ المسيح الدجال ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کی آزمائش سے ، دوزخ کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مالداری کی آزمائش سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں مسیح دجال کی آزمائش سے ۔ “
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) used to say, 'O Allah! I seek refuge with You from the affliction of the Fire, the punishment of the Fire, the affliction of the grave, the punishment of the grave, and the evil of the affliction of poverty. O Allah! I seek refuge with You from the evil of the affliction of Al-Masih Ad- Dajjal, O Allah! Cleanse my heart with the water of snow and hail, and cleanse my heart from all sins as a white garment is cleansed from filth, and let there be a far away distance between me and my sins as You made the East and West far away from each other. O Allah! I seek refuge with You from laziness, sins, and from being in debt."
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور ان سے ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلمیہ دعا کیا کرتے تھے ۔اللهم إني أعوذ بك من فتنۃ النار وعذاب النار ، وفتنۃ القبر وعذاب القبر ، وشر فتنۃ الغنى وشر فتنۃ الفقر ، اللهم إني أعوذ بك من شر فتنۃ المسيح الدجال ، اللهم اغسل قلبي بماء الثلج والبرد ، ونق قلبي من الخطايا كما نقيت الثوب الأبيض من الدنس ، وباعد بيني وبين خطاياي ، كما باعدت بين المشرق والمغرب ، اللهم إني أعوذ بك من الكسل ، والمأثم والمغرم ” اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں دوزخ کے فتنہ سے اور دوزخ کے عذاب سے اور قبر کی آزمائش سے اور قبر کے عذاب سے اور مال داری کی بری آزمائش سے اور محتاجی کی بری آزمائش سے اور مسیح دجال کی بری آزمائش سے ۔ اے اللہ ! میرے دل کو برف اور اولے کے پانی سے دھو دے اور میرے دل کو خطاؤں سے صاف کر دے جیسا کہ سفید کپڑے کو میل سے صاف کرتا ہے اور میرے اور میری خطاؤں کے درمیان اتنی دوری کر دے جتنی دوری مشرق و مغرب میں ہے ۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں سستی سے ، گناہ سے اور قرض سے ۔
Narrated Um Sulaim رضی اللہ عنہا :
She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Anas is your servant, so please invoke for Allah's blessing for him." The Prophet (ﷺ) said, "O Allah! Increase his wealth and offspring and bless (for him) whatever You give him." Hisham bin Zad states that he heard from Anas bin Malik رضی اللہ عنہ likewise.
مجھ سے محمد بن بشارنے بیان کیا ، کہا ہم سے غندر ( محمد بن جعفر ) نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، کہا کہ میں نے قتادہ سے سنا ، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! انس آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خادم ہے اس کے لئے اللہ سے دعا کیجئے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اللهم أكثر ماله ، وولده ، وبارك له فيما أعطيته اے اللہ ! اس کے مال واولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تو اسے دے اس میں برکت عطا فرما ۔ اور ہشام بن زید سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اسی طرح سنا ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
Um Sulaim رضی اللہ عنہا said (to the Prophet), "Anas رضی اللہ عنہ is your servant; so please invoke for Allah's blessings for him." He said "O Allah! Increase his wealth and offspring, and Bless (for him) whatever You give him."
ہم سے ابوزید سعید بن ربیع نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے قتادہ نے ، انہوں نے کہامیں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ
ام سلیم رضی اللہ عنہا نے عرض کیا کہ حضور ! انس رضی اللہ عنہ آپ کا خادم ہے اس کے لئے دعا فرمائیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااللهم أكثر ماله وولده ، وبارك له فيما أعطيته ” اے اللہ ! اس کے مال واولاد میں زیادتی کر اور جو کچھ تودے اس میں برکت عطا فرما ۔
Narrated Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) used to teach us the Istikhara for each and every matter as he used to teach us the Suras from the Holy Qur'an. (He used to say), "If anyone of you intends to do something, he should offer a two-rak`at prayer other than the obligatory prayer, and then say: 'O Allah I beseech You for the goodness through Your knowledge, and I request You for the power by Your Power, and ask You for Your great Bounty for You have Power whereas I don't, You know but I don't, and You know best the invisible things. O Allah! If according to Your knowledge, this matter is good for me regarding my religion, my economic condition and hereafter, or better regarding my worldly life or the Hereafter, decree it for me; and if this matter is unfavourable for me regarding my religion, worldly life and my hereafter, or he said: Unfavourable regarding worldly life and the life in the Hereafter, keep it away from me and keep me away from it, and destine that thing for me wherein lies my goodness wherever it may be, then make me pleased with it and then he mentioned his need.
ہم سے ابو مصعب مطرف بن عبداللہ نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی الموال نے بیان کیا ، ان سے محمد بن منکدر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیاکہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں تمام معاملات میں استخارہ کی تعلیم دیتے تھے ، قرآن کی سورت کی طرح ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) جب تم میں سے کوئی شخص کسی ( مباح ) کام کا ارادہ کرے ( ابھی پکا عزم نہ ہوا ہو ) تو دو رکعات ( نفل ) پڑھے اس کے بعد یوں دعا کرے ” اے اللہ ! میں بھلائی مانگتا ہوں ( استخارہ ) تیری بھلائی سے ، تو علم والا ہے ، مجھے علم نہیں اور تو تمام پوشید ہ باتوں کو جاننے والا ہے ، اے اللہ ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لئے بہتر ہے ، میرے دین کے اعتبار سے ، میری معاش اور میرے انجام کار کے اعتبار سے یا دعا میں یہ الفاظ کہے ” فی عاجل امری وآجلہ “ تو اسے میرے لئے مقدر کر دے اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لئے برا ہے میرے دین کے لئے ، میری زندگی کے لئے اور میرے انجام کار کے لئے یا یہ الفاظ فرمائے ” فی عاجل امری وآجلہ “ تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے اور میرے لئے بھلائی مقدر کر دے جہاں کہیں بھی وہ ہو اور پھر مجھے اس سے مطمئن کر دے ( یہ دعا کرتے وقت ) اپنی ضرورت کا بیان کر دینا چاہئے ۔
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) asked for some water and performed the ablution, and then raised his hands (towards the sky) and said, "O Allah! Forgive `Ubaid Abi 'Amir." I saw the whiteness of his armpits (while he was raising his hands) and he added, "O Allah! Upgrade him over many of Your human creatures on the Day of Resurrection."
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ، کہا ہم سے اسامہ نے بیان کیا ، ان سے برید بن عبداللہ نے ، ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی مانگا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا ، پھر ہاتھ اٹھا کر یہ دعا کی ۔ ” اے اللہ ! عبید ابوعامر کی مغفرت فرما ۔ “ میں نے اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بغل کی سفیدی دیکھی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ۔ ” اے اللہ ! قیامت کے دن اسے اپنی بہت سی انسانی مخلوق سے بلند مرتبہ عطا فرمائیو ۔ “
Narrated Abu Musa رضی اللہ عنہ :
We were in the company of the Prophet (ﷺ) on a journey, and whenever we ascended a high place, we used to say Takbir (in a loud voice). The Prophet (ﷺ) said, "O people! Be kind to yourselves, for you are not calling upon a deaf or an absent one, but You are calling an All-Hearer, and an All-Seer." Then he came to me as I was reciting silently, "La haul a wala quwwata illa bil-lah." He said, "O `Abdullah bin Qais! Say: La haul a walaquwata illa bil-lah, for it is one of the treasures of Paradise." Or he said, "Shall I tell you a word which is one of the treasures of Paradise? It is: La haul a wala quwwata illa bil-lah."
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے ابوایوب سختیانی نے بیان کیا ، ان سے ابوعثمان نہدی نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے جب ہم کسی بلند جگہ پر چڑھتے تو تکبیر کہتے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لوگو ! اپنے اوپر رحم کرو ، تم کسی بہرے غائب خدا کو نہیں پکارتے ہو تم تو اس ذات کو پکارتے ہو جو بہت زیادہ سننے والا ، بہت زیادہ دیکھنے والا ہے ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے ۔ میں اس وقت زیر لب کہہ رہا تھا ۔ ” لا حول ولا قوۃ إلا بالله “ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، عبداللہ بن قیس کہو ” لا حول ولا قوۃ إلا بالله “ کیونکہ یہ جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ، یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا میں تمہیں ایک ایسا کلمہ نہ بتا دوں جو جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے ۔ لا حول ولا قوۃ إلا بالله ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Whenever Allah's Messenger (ﷺ) returned from a Ghazwa or Hajj or `Umra, he used to say, "Allahu Akbar," three times; whenever he went up a high place, he used to say, There is no worthy of worship saves Allah, He is One and has no partnet, He is the kingdom, and all praiseis due to him, and He can do what He pleases, we are those who return, repent, worship,glorify our Lord.Allah has substantiated His bondsman and alone Vanquished the troops. Allah has promised to fight truthfully, help His servant and defeat all the armies. "La ilaha illal-lahu wahdahu la sharika lahu, lahu-l-mulk wa lahu-l-hamd, wa huwa'ala kulli Shai 'in qadir. Ayibuna ta'ibuna 'abiduna lirabbina hamidun. Sadaqa-l-lahu wa'dahu, wa nasara`Abdahu wa hazama-l-ahzaba wahdahu."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے نافع نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیاکہ
رسول اللہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی غزوہ یا حج یا عمرہ سے واپس ہوتے تو زمین سے ہر بلند چیز پر چڑھتے وقت تین تکبیر یں کہا کرتے تھے ۔ پھر دعا کرتے ” اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اس کے لئے بادشاہی ہے اور اسی کے لئے تمام تعریفیں ہیں اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے ۔ لوٹتے ہیں ہم توبہ کرتے ہوئے اپنے رب کی عبادت کرتے ہوئے اور حمد بیان کرتے ہوئے ۔ اللہ نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا ، اپنے بندہ کی مدد کی اور تنہا تمام لشکر کو شکست دی ۔