Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Abu Bakr As-Siddiq رضی اللہ عنہ had never broken his oaths till Allah revealed the expiation for the oaths. Then he said, "If I take an oath to do something and later on I find something else better than the first one, then I do what is better and make expiation for my oath."
ہم سے محمد بن مقاتل ابوالحسن مروزی نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ، کہا ہم کو ہشام بن عروہ نے خبر دی ، انہیں ان کے والد نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی اپنی قسم نہیں توڑتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کاکفارہ اتارا ۔ اس وقت انہوں نے کہا کہ اب اگر میں کوئی قسم کھاؤں گا اور اس کے سوا کوئی چیز بھلائی کی ہو گی تو میں وہی کام کروں گا جس میں بھلائی ہو اور اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔
Narrated `Abdur-Rahman bin Samura رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "O `Abdur-Rahman bin Samura! Do not seek to be a ruler, because if you are given authority for it, then you will be held responsible for it, but if you are given it without asking for it, then you will be helped in it (by Allah): and whenever you take an oath to do something and later you find that something else is better than the first, then do the better one and make expiation for your oath."
ہم سے ابونعمان محمد بن فضل سدوسی نے بیان کیا ، کہا ہم سے جریر بن حازم نے بیان کیا ، کہا ہم سے امام حسن بصری نے بیان کیا ، کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اے عبدالرحمٰن بن سمرہ ! کبھی کسی حکومت کے عہدہ کی درخواست نہ کرنا کیونکہ اگر تمہیں یہ مانگنے کے بعد ملے گا تو اللہ پاک اپنی مدد تجھ سے اٹھالے گا ۔ تو جان ، تیرا کام جانے اور اگر وہ عہدہ تمہیں بغیر مانگے مل گیا تو اس میں اللہ کی طرف سے تمہاری اعانت کی جائے گی اور جب تم کوئی قسم کھا لو اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دے دو اور وہ کام کرو جو بھلائی کا ہو ۔
Narrated Abu Burdah's father (Hadrat Abu Musa Ashari) رضی اللہ عنہ :
I went to the Prophet (ﷺ) along with a group of Al-Ash`ariyin in order to request him to provide us with mounts. He said, "By Allah, I will not provide you with mounts and I haven't got anything to mount you on." Then we stayed there as long as Allah wished us to stay, and then three very nice looking she-camels were brought to him and he made us ride them. When we left, we, or some of us, said, "By Allah, we will not be blessed, as we came to the Prophet (ﷺ) asking him for mounts, and he swore that he would not give us any mounts but then he did give us. So let us go back to the Prophet (ﷺ) and remind him (of his oath)." When we returned to him (and reminded him of the fact), he said, "I did not give you mounts, but it is Allah Who gave you. By Allah, Allah willing, if I ever take an oath to do something and then I find something else than the first, I will make expiation for my oath and do the thing which is better (or do something which is better and give the expiation for my oath).
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا ، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا ، ان سے غیلان بن جریر نے ، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ، ان سےابو بردہ ان کے والد نے بیان کیا کہ
میں اشعری قبیلہ کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سواری مانگی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ، میں تمہارے لئے سواری کا کوئی انتظام نہیں کر سکتا اور نہ میرے پاس کوئی سواری کا جانور ہے ۔ بیان کیا پھر جتنے دنوں اللہ نے چاہا ہم یونہی ٹھہرے رہے ۔ اس کے بعد تین اچھی قسم کی اونٹنیاں لائی گئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہمیں سواری کے لئے عنایت فرمایا ۔ جب ہم روانہ ہوئے تو ہم نے کہا یا ہم میں سے بعض نے کہا ، واللہ ! ہمیں اس میں برکت نہیں حاصل ہو گی ۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری مانگنے آئے تھے تو آپ نے قسم کھا لی تھی کہ آپ ہمارے لئے سواری کا انتظام نہیں کر سکتے ۔ اور اب آپ نے ہمیں سواری عنایت فرمائی ہے ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جانا چاہئے اور آپ کو قسم یاد دلانی چاہئے ۔ چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے تمہاری سواری کا کوئی انتظام نہیں کیا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا ہے اور میں ، واللہ ! کوئی بھی اگر قسم کھا لوں گا اور اس کے سوا کسی اور چیز میں بھلائی دیکھوں گا تو اپنی قسم کا کفارہ دے دوں گا ۔ جس میں بھلائی ہو گی یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ وہی کروں گا جس میں بھلائی ہو گی اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دوں گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "We (Muslims) are the last in the world, but will be foremost on the Day of Resurrection." Allah's Messenger (ﷺ) also said: "By Allah, if anyone of you insists on fulfilling an oath by which he may harm his family, he commits a greater sin in Allah's sight than that of dissolving his oath and making expiation for it."
مجھ سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم کو عبدالرزاق نے خبر دی ، کہا ہم کو معمر نے خبر دی ، ان سے ہمام بن منبہ نے بیان کیا کہ یہ وہ حدیث ہے جو ہم سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” ہم آخری امت ہیں اور قیامت کے دن جنت میں سب سے پہلے داخل ہوں گے ۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واللہ ( بسا اوقات ) اپنے گھر والوں کے معاملہ میں تمہارا اپنی قسموں پر اصرار کرتے رہنا اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ گناہ کی بات ہوتی ہے کہ ( قسم توڑ کر ) اس کا وہ کفارہ ادا کر دیا جائے جو اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کیا ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Anyone who takes an oath through which his family may be harmed, and insists on keeping it, he surely commits a sin greater (than that of dissolving his oath). He should rather compensate for that oath by making expiation."
مجھ سے اسحاق یعنی ابن ابراہیم نے بیان کیا ، کہا ہم سے یحییٰ بن صالح نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے معاویہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ نے ، ان سے عکرمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، وہ شخص جو اپنے گھر والوں کے معاملہ میں قسم پر اڑا رہتا ہے وہ اس سے بڑا گناہ کرتا ہے کہ اس قسم کا کفارہ ادا کر دے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) sent an army detachment and made Usama bin Zaid its commander. Some people criticized (spoke badly of) Usama's leadership. So Allah's Messenger (ﷺ) got up saying, "If you people are criticizing Usama's leadership, you have already criticized the leadership of his father before. But Waaimullah (i.e., By Allah), he (i.e. Zaid رضی اللہ عنہ ) deserved the leadership, and he was one of the most beloved persons to me; and now this (his son Usama رضی اللہ عنہ ) is one of the dearest persons to me after him." (See Hadith No. 765, Vol. 5)
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا ، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فوج بھیجی اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا ۔ بعض لوگوں نے ان کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا اگر تم لوگ اس کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کرتے ہو تو تم اس سے پہلے اس کے والد زید کے امیربنائے جانے پر بھی اعتراض کر چکے ہو اور خدا کی قسم ( وایم اﷲ ) زید ( رضی اللہ عنہ ) امیر بنائے جانے کے قابل تھے اور مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز تھے اور یہ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) ان کے بعد مجھے سب سے زیادہ عزیز تھے ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The oath of the Prophet (ﷺ) used to be: "No, by Him who turns the hearts."
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ، ان سے سفیان نے ، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے اور ان سے سالم نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم بس اتنی تھی کہ نہیں ، دلوں کے پھیرنے والے اللہ کی قسم ۔
Narrated Jabir bin Samura رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "If Caesar is ruined, there will be no Caesar after him; and if Khosrau is ruined, there will be no Khosrau, after him; and, by Him in Whose Hand my soul is, surely you will spend their treasures in Allah's Cause."
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا ، ان سے عبدالملک نے ، ان سے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب قیصر ہلاک ہو جائے گا تو پھر اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور جب کسریٰ ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "If Khosrau is ruined, there will be no Khosrau after him; and if Caesar is ruined, there will be no Caesar after him. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, surely you will spend their treasures in Allah's Cause."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، انہیں سعید بن مسیب نے خبر دی اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب کسریٰ ( بادشاہ ایران ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی کسریٰ نہیں پیدا ہو گا اور جب قیصر ( بادشاہ روم ) ہلاک ہو جائے گا تو اس کے بعد کوئی قیصر نہیں پیدا ہو گا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم ان کے خزانے اللہ کے راستے میں خرچ کرو گے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
The Prophet (ﷺ) said, "O followers of Muhammad! By Allah, if you knew what I know, you would weep much and laugh little."
مجھ سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو عبدہ نے خبر دی ، انہیں ہشام بن عروہ نے ، انہیں ان کے والد عروہ بن زبیر نے اور انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ، امت محمد ! واللہ ، اگر تم وہ جانتے جو میں جانتا ہوں تو زیادہ روتے اور کم ہنستے ۔
Narrated `Abdullah bin Hisham:
We were with the Prophet (ﷺ) and he was holding the hand of `Umar bin Al-Khattab. `Umar said to Him, "O Allah's Messenger (ﷺ)! You are dearer to me than everything except my own self." The Prophet (ﷺ) said, "No, by Him in Whose Hand my soul is, (you will not have complete faith) till I am dearer to you than your own self." Then `Umar said to him, "However, now, by Allah, you are dearer to me than my own self." The Prophet (ﷺ) said, "Now, O `Umar, (now you are a believer).
ہم سے یحییٰ بن سلیمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا ، انہوں نے کہا کہ مجھے حیوہ نے خبر دی ، کہا کہ مجھ سے ابوعقیل زہرہ بن معبد نے بیان کیا ، انہوں نے اپنے دادا عبداللہ بن ہشام سے سنا ، انہوں نے بیان کیا کہ
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور آپ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ، یا رسول اللہ ! آپ مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز ہیں ، سوا میری اپنی جان کے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ ( ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا ) جب میں تمہیں تمہاری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا پھر واللہ ! اب آپ مجھے میری اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ہاں ، عمر ! اب تیرا ایمان پورا ہوا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ and Zaid bin Khalid رضی اللہ عنہ :
Two men had a dispute in the presence of Allah's Messenger (ﷺ). One of them said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Judge between us according to Allah's Laws." The other who was wiser, said, "Yes, O Allah's Apostle! Judge between us according to Allah's Laws and allow me to speak." The Prophet (ﷺ) said, "Speak." He said, "My son was a laborer serving this (person) and he committed illegal sexual intercourse with his wife, The people said that my son is to be stoned to death, but I ransomed him with one-hundred sheep and a slave girl. Then I asked the learned people, who informed me that my son should receive one hundred lashes and will be exiled for one year, and stoning will be the lot for the man's wife." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Indeed, by Him in Whose Hand my soul is, I will judge between you according to Allah's Laws: As for your sheep and slave girl, they are to be returned to you." Then he scourged his son one hundred lashes and exiled him for one year. Then Unais Al-Aslami was ordered to go to the wife of the second man, and if she confessed (the crime), then stone her to death. She did confess, so he stoned her to death.
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ، کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ، ان سے ابن شہاب نے ، ان سے عبیداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ، انہیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
دو آدمیوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں اپنا جھگڑا پیش کیا ۔ ان میں سے ایک نے کہا کہ ہمارے درمیان آپ کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیں ۔ دوسرے نے ، جو زیادہ سمجھ دار تھا کہا کہ ٹھیک ہے ، یا رسول اللہ ! ہمارے درمیان کتاب اللہ کے مطابق فیصلہ کر دیجئیے اور مجھے اجازت دیجئیے کہ اس معاملہ میں کچھ عرض کروں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کہو ۔ ان صاحب نے کہا کہ میرا لڑکا اس شخص کے یہاں ” عسیف “ تھا ۔ عسیف اجیر کو کہتے ہیں ۔ ( اجیر کے معنی مزدور کے ہیں ) اور اس نے اس کی بیوی سے زنا کر لیا ۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اب میرے لڑکے کو سنگسار کیا جائے گا ۔ اس لئے ( اس سے نجات دلانے کے لئے ) میں نے سو بکریوں اور ایک لونڈی کا انہیں فدیہ دے دیا پھر میں نے دوسرے علم والوں سے اس مسئلہ کو پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ میرے لڑکے کی سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگائے جائیں اور ایک سال کے لئے شہر بدر کر دیا جائے ، سنگساری کی سزا صرف اس عورت کو ہو گی ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں تمہارا فیصلہ کتاب اللہ کے مطابق کروں گا ۔ تمہاری بکریاں اور تمہاری لونڈی تمہیں واپس ہو گی اور پھر آپ نے اس کے لڑکے کو سو کوڑے لگوائے اور ایک سال کے لئے جلاوطن کر دیا ۔ پھر آپ نے انیس اسلمی سے فرمایا کہ مدعی کی بیوی کو لائے اور اگر وہ زنا کا اقرار کرے تو اسے سنگسار کر دے ۔ اس عورت نے زنا کا اقرار کر لیا اور سنگسار کر دی گئی ۔
Narrated Abu Bakra:
The Prophet (ﷺ) said, "Do you think if the tribes of Aslam, Ghifar, Muzaina and Juhaina are better than the tribes of Tamim, 'Amir bin Sa'sa'a, Ghatfan and Asad, they (the second group) are despairing and losing?" They (the Prophet's companions) said, "Yes, (they are)." He said, "By Him in Whose Hand my soul is, they (the first group) are better than them (the second group).
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا ، کہا ہم سے وہب نے بیان کیا ، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ، ان سے محمد بن ابی یعقوب نے ، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بھلا بتلاؤ اسلم ، غفار ، مزینہ اور جہینہ کے قبائل اگر تمیم ، عامر بن صعصعہ ، غطفان اور اسد والوں سے بہتر ہوں تو یہ تمیم اور عامر اور غطفان اور اسد والے گھاٹے میں پڑے اور نقصان میں رہے یا نہیں ۔ صحابہ نے عرض کیا ، جی ہاں بیشک ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ( وہ پہلے جن قبائل کا ذکر ہوا ) ان ( تمیم وغیرہ ) سے بہتر ہیں ۔
Narrated Abu Humaid As-Sa`idi رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) employed an employee (to collect Zakat). The employee returned after completing his job and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! This (amount of Zakat) is for you, and this (other amount) was given to me as a present." The Prophet (ﷺ) said to him, "Why didn't you stay at your father's or mother's house and see if you would be given presents or not?" Then Allah's Messenger (ﷺ) got up in the evening after the prayer, and having testified that none has the right to be worshipped but Allah and praised and glorified Allah as He deserved, he said, "Now then ! What about an employee whom we employ and then he comes and says, 'This amount (of Zakat) is for you, and this (amount) was given to me as a present'? Why didn't he stay at the house of his father and mother to see if he would be given presents or not? By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, none of you will steal anything of it (i.e. Zakat) but will bring it by carrying it over his neck on the Day of Resurrection. If it has been a camel, he will bring it (over his neck) while it will be grunting, and if it has been a cow, he will bring it (over his neck), while it will be mooing; and if it has been a sheep, he will bring it (over his neck) while it will be bleeding." The Prophet (ﷺ) added, "I have preached you (Allah's Message)." Abu Humaid said, "Then Allah's Messenger (ﷺ) raised his hands so high that we saw the whiteness of his armpits." Hadrat Abu Humaid says: Hadrat Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ heard this Hadith from the prophet ﷺ along with me, you can also ask him about it.
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، انہیں زہری نے ، کہا کہ مجھے عروہ ثقفی نے خبر دی ، نہیں ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عامل مقررکیا ۔ عامل اپنے کام پورے کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا ، یا رسول اللہ ! یہ مال آپ کا ہے اور یہ مال مجھے تحفہ دیا گیا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تم اپنے ماں باپ کے گھر ہی میں کیوں نہیں بیٹھے رہے اور پھر دیکھتے کہ تمہیں کوئی تحفہ دیتا ہے یا نہیں ۔ اس کے بعد آپ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے ، رات کی نماز کے بعد اور کلمہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق ثنا کے بعد فرمایا امابعد ! ایسے عامل کو کیا ہو گیا ہے کہ ہم اسے عامل بناتے ہیں ۔ ( جزیہ اور دوسرے ٹیکس وصول کرنے کے لئے ) اور وہ پھر ہمارے پاس آ کر کہتا ہے کہ یہ تو آپ کا ٹیکس ہے اور مجھے تحفہ دیا گیا ہے ۔ پھر وہ اپنے ماں باپ کے گھر کیوں نہیں بیٹھا اور دیکھتاکہ اسے تحفہ دیا جاتا ہے یا نہیں ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، اگر تم میں سے کوئی بھی اس مال میں سے کچھ بھی خیانت کرے گا تو قیامت کے دن اسے اپنی گردن پر اٹھائے گا ۔ اگر اونٹ کی اس نے خیانت کی ہو گی تو اس حال میں لے کر آئے گا کہ آواز نکل رہی ہو گی ۔ اگر گائے کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں اسے لے کر آئے گا کہ گائے کی آواز آ رہی ہو گی ۔ اگر بکری کی خیانت کی ہو گی تو اس حال میں آئے گا کہ بکری کی آواز آ رہی ہو گی ۔ بس میں نے تم تک پہنچا دیا ۔ حضرت ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا ہاتھ اتنی اوپر اٹھایا کہ ہم آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھنے لگے ۔ ابوحمید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے ساتھ یہ حدیث زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ، تم لوگ ان سے بھی پوچھ لو ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Abu-l-Qasim (the Prophet) said, "By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if you know that which I know, you would weep much and laugh little."
مجھ سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی ، انہیں معمر نے ، انہیں ہمام بن منبہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ابو القاسم (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم )نے فرمایا اس ذات کی قسم ! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم بھی آخرت کی وہ مشکلات جانتے جو میں جانتا ہوں تو تم زیادہ روتے اور کم ہنستے ۔
Narrated Abu Dhar رضی اللہ عنہ :
I reached him (the Prophet (ﷺ) ) while in the shade of the Ka`ba; he was saying, "They are the losers, by the Lord of the Ka`ba! They are the losers, by the Lord of the Ka`ba!" I said (to myself ), "What is wrong with me? Is anything improper detected in me? What is wrong with me? Then I sat beside him and he kept on saying his statement. I could not remain quiet, and Allah knows in what sorrowful state I was at that time. So I said, ' Who are they (the losers)? Let My father and mother be sacrificed for you, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "They are the wealthy people, except the one who does like this and like this and like this (i.e., spends of his wealth in Allah's Cause).
ہم سے عمر بن حفص نے بیان کیا ، کہا ہم سے ہمارے والد نے ، کہا ہم سے اعمش نے ، ان سے معرور نے ، ان سے ابوذر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تو آپ کعبہ کے سایہ میں بیٹھے ہوئے فرما رہے تھے کعبہ کے رب کی قسم ! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ کعبہ کے رب کی قسم وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں ۔ میں نے کہا کہ حضور ، میری حالت کیسی ہے ، کیا مجھ میں ( بھی ) کوئی ایسی بات نظر آئی ہے ؟ میری حالت کیسی ہے ؟ پھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے جا رہے تھے ، میں آپ کو خاموش نہیں کرا سکتا تھا اور اللہ کی مشیت کے مطابق مجھ پر عجیب بےقراری طاری ہو گئی ۔ میں نے پھر عرض کی ، میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ، یا رسول اللہ ! وہ کون لوگ ہیں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جن کے پاس مال زیادہ ہے ۔ لیکن اس سے وہ مستثنیٰ ہیں ۔ جنہوں نے اس میں سے اس اس طرح ( یعنی دائیں اور بائیں بے دریغ مستحقین پر ) راہ خدا میں خرچ کیا ہو گا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "(The Prophet) Solomon once said, 'Tonight I will sleep with ninety women, each of whom will bring forth a (would-be) cavalier who will fight in Allah's Cause." On this, his companion said to him, "Say: Allah willing!" But he did not say Allah willing. Solomon then slept with all the women, but none of them became pregnant but one woman who later delivered a halfman. By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, if he (Solomon) had said, 'Allah willing' (all his wives would have brought forth boys) and they would have fought in Allah's Cause as cavaliers. "
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا ، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ، کہا ہم سے ابوالزناد نے بیان کیا ، ان سے عبدالرحمٰن اعرج نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سلیمان علیہ السلام نے ایک دن کہا کہ آج میں رات میں اپنی نوے بیویوں کے پاس جاؤں گا اور ہر ایک کے یہاں ایک گھوڑ سوار بچہ پیدا ہو گا جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ۔ اس پر ان کے ساتھ نے کہا کہ انشاءاللہ ۔ لیکن سلیمان علیہ السلام نے انشاءاللہ نہیں کہا ۔ چنانچہ وہ اپنی تمام بیویوں کے پاس گئے لیکن ایک عورت کے سوا کسی کو حمل نہیں ہوا اور اس سے بھی ناقص بچہ پیدا ہوا اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ! اگر انہوں نے انشاءاللہ کہہ دیا ہوتا تو ( تمام بیویوں کے یہاں بچے پیدا ہوتے ) اور سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے ہوتے ۔
Narrated Al-Bara 'bin `Azib رضی اللہ عنہ :
A piece of silken cloth was given to the Prophet (ﷺ) as a present and the people handed it over amongst themselves and were astonished at its beauty and softness. Allah's Messenger (ﷺ) said, "Are you astonished at it?" They said, "Yes, O Allah's Messenger (ﷺ)!" He said, "By Him in Whose Hand my soul is, the handkerchiefs of Sa`d رضی اللہ عنہ in Paradise are better than it." Shobah,s and Israil's reports from Abu Ishaq don't have '' وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ'' .
ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ریشم کا ایک ٹکڑا ہدیہ کے طور پر آیا تو لوگ اسے دست بدست اپنے ہاتھوں میں لینے لگے اور اس کی خوبصورتی اور نرمی پرحیرت کرنے لگے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ تمہیں اس پر حیرت ہے ؟ صحابہ نے عرض کی جی ہاں ، یا رسول اللہ ! آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی اچھے ہیں ۔ شعبہ اور اسرائیل نے ابواسحاق سے الفاظ ” اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے “ کا ذکر نہیں کیا ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
Hind bint `Utba bin Rabi`a said, "O Allah 's Apostle! (Before I embraced Islam), there was no family on the surface of the earth, I wish to have degraded more than I did your family. But today there is no family whom I wish to have honored more than I did yours." Allah's Messenger (ﷺ) said, "I thought similarly, by Him in Whose Hand Muhammad's soul is!" Hind said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (My husband) Abu Sufyan is a miser. Is it sinful of me to feed my children from his property?" The Prophet said, "No, unless you take it for your needs what is just and reasonable."
ہم سے یحییٰ بن بکیر نے بیان کیا ، کہا ہم سے لیث بن سعد نے ، انہوں نے یونس سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، کہا مجھ سے عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ
ہند بنت عتبہ بن ربیعہ ( معاویہ رضی اللہ عنہ کی ماں ) نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ساری زمین پر جتنے ڈیرے والے ہیں ( یعنی عرب لوگ جو اکثر ڈیروں اور خیموں میں رہا کرتے تھے ) میں کسی کا ذلیل و خوار ہونا مجھ کو اتنا پسند نہیں تھا جتنا آپ کا ۔ یحییٰ بن بکیر راوی کو شک ہے ( کہ ڈیرے کا لفظ بہ صیغہ مفرد کہا یا بہ صیغہ جمع ) اب کوئی ڈیرہ والا یا ڈیرے والے ان کو عزت اور آبرو حاصل ہونا مجھ کو آپ کے ڈیرے والوں سے زیادہ پسند نہیں ہے ( یعنی اب میں آپ کی اور مسلمانوں کی سب سے زیادہ خیرخواہ ہوں ) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابھی کیا ہے تو اور بھی زیادہ خیرخواہ بنے گی ۔ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے ۔ پھر ہند کہنے لگی یا رسول اللہ ! ابوسفیان تو ایک بخیل آدمی ہے مجھ پر گناہ تو نہیں ہو گا اگر میں اس کے مال میں سے ( اپنے بال بچوں کو کھلاؤں ) آپ نے فرمایا نہیں اگر تو دستور کے موافق خرچ کرے ۔
Narrated `Abdullah bin Masud رضی اللہ عنہ :
While Allah's Messenger (ﷺ) was sitting, reclining his back against a Yemenite leather tent he said to his companions, "Will you be pleased to be one-fourth of the people of Paradise?" They said, 'Yes.' He said "Won't you be pleased to be one-third of the people of Paradise" They said, "Yes." He said, "By Him in Whose Hand Muhammad's soul is, I hope that you will be one-half of the people of Paradise."
مجھ سے احمد بن عثمان نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے شریح بن مسلمہ نے بیان کیا ، انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم نے بیان کیا ، ان سے ان کے والد نے بیان کیا ، ان سے ابواسحاق نے ، کہا کہ میں نے عمرو بن میمون سے سنا ، کہا کہ مجھ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب یمنی چمڑے کے خیمہ سے پشت لگائے ہوئے بیٹھے تھے تو آپ نے اپنے صحابہ سے فرمایا کیا تم اس پر خوش ہو کہ تم اہل جنت کے ایک چوتھائی رہو ؟ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ کیا تم اس پر خوش نہیں ہو کہ تم اہل جنت کے ایک تہائی حصہ پاؤ ۔ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ، پس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! مجھے امید ہے کہ جنت میں آدھے تم ہی ہو گے ۔