Back to Sahih Bukhari

Holding Fast to the Qur'an and Sunnah

كتاب الاعتصام بال والسنة

Chapter 98

Hadith 7310
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، ذَكْوَانَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ذَهَبَ الرِّجَالُ بِحَدِيثِكَ، فَاجْعَلْ لَنَا مِنْ نَفْسِكَ، يَوْمًا نَأْتِيكَ فِيهِ تُعَلِّمُنَا مِمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ اجْتَمِعْنَ فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا فِي مَكَانِ كَذَا وَكَذَا ‏"‏‏.‏ فَاجْتَمَعْنَ فَأَتَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَعَلَّمَهُنَّ مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ مَا مِنْكُنَّ امْرَأَةٌ تُقَدِّمُ بَيْنَ يَدَيْهَا مِنْ وَلَدِهَا ثَلاَثَةً، إِلاَّ كَانَ لَهَا حِجَابًا مِنَ النَّارِ ‏"‏‏.‏ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ اثْنَيْنِ قَالَ فَأَعَادَتْهَا مَرَّتَيْنِ ثُمَّ قَالَ ‏"‏ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ وَاثْنَيْنِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id رضی اللہ عنہ :

A woman came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Men (only) benefit by your teachings, so please devote to us from (some of) your time, a day on which we may come to you so that you may teach us of what Allah has taught you." Allah's Messenger (ﷺ) said, "Gather on such-and-such a day at suchand- such a place." They gathered and Allah's Messenger (ﷺ) came to them and taught them of what Allah had taught him. He then said, "No woman among you who has lost her three children (died) but that they will screen her from the Fire." A woman among them said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If she lost two children?" She repeated her question twice, whereupon the Prophet (ﷺ) said, "Even two, even two, even two!" (See Hadith No. 341, Vol. 2)

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن الاصبہانی نے ‘ ان سے ابوصالح ذکوان نے اور ان سے ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا یا رسول اللہ ! آپ کی تمام احادیث مرد لے گئے ‘ ہمارے لیے بھی آپ کوئی دن اپنی طرف سے مخصوص کر دیں جس میں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں وہ تعلیمات دیں جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھائی ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں فلاں دن فلاں فلاں جگہ جمع ہو جاؤ ۔ چنانچہ عورتیں جمع ہوئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے اور انہیں اس کی تعلیم دی جو اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سکھا یا تھا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ تم میں سے جو عورت بھی اپنی زندگی میں اپنے تین بچے آگے بھیج دے گی ۔ ( یعنی ان کی وفات ہو جائے گی ) تو وہ اس کے لیے دوزخ سے رکاوٹ بن جائیں گے ۔ اس پر ان میں سے ایک خاتون نے کہا ‘ یا رسول اللہ ! دو ؟ انہوں نے اس کلمہ کو دو مرتب دہرایا ‘ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ ہاں دو ‘ دو ‘ دو بھی یہی درجہ رکھتے ہیں ۔

Hadith 7311
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ لاَ يَزَالُ طَائِفَةٌ مِنْ أُمَّتِي ظَاهِرِينَ حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ وَهُمْ ظَاهِرُونَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "A group of my follower swill remain predominant (victorious) till Allah's Order (the Hour) comes upon them while they are still predominant (victorious).

Urdu

ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ ان سے اسماعیل نے ‘ ان سے قیس نے ‘ ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میری امت کا ایک گروہ ہمیشہ غالب رہے گا ( اس میں علمی و دینی غلبہ بھی داخل ہے ) یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ غالب ہی رہیں گے ۔

Hadith 7312
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي حُمَيْدٌ، قَالَ سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ، يَخْطُبُ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏ "‏ مَنْ يُرِدِ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهْهُ فِي الدِّينِ، وَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَيُعْطِي اللَّهُ، وَلَنْ يَزَالَ أَمْرُ هَذِهِ الأُمَّةِ مُسْتَقِيمًا حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ، أَوْ حَتَّى يَأْتِيَ أَمْرُ اللَّهِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Humaid:

I heard Muawiya bin Abi Sufyan رضی اللہ عنہ delivering a sermon. He said, "I heard the Prophet (ﷺ) saying, "If Allah wants to do a favor to somebody, He bestows on him, the gift of understanding the Qur'an and Sunna. I am but a distributor, and Allah is the Giver. The state of this nation will remain good till the Hour is established, or till Allah's Order comes."

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے یونس نے ‘ ان سے ابن شہاب نے انہیں حمید نے خبر دی ‘ کہا کہ

میں نے معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ خطبہ دے رہے تھے ‘ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ جس کے ساتھ خیر کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں تو صرف تقسیم کرنے والا ہوں اور دیتا اللہ ہے اور اس امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا ‘ یہاں تک کہ قیامت ہو جائے یا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا کہ ) یہاں تک کہ اللہ کا حکم آ پہنچے ۔

Hadith 7313
Sahih
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ـ رضى الله عنهما ـ يَقُولُ لَمَّا نَزَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏{‏قُلْ هُوَ الْقَادِرُ عَلَى أَنْ يَبْعَثَ عَلَيْكُمْ عَذَابًا مِنْ فَوْقِكُمْ‏}‏ قَالَ ‏"‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ‏"‏‏.‏ ‏{‏أَوْ مِنْ تَحْتِ أَرْجُلِكُمْ‏}‏ قَالَ ‏"‏ أَعُوذُ بِوَجْهِكَ ‏"‏‏.‏ فَلَمَّا نَزَلَتْ ‏{‏أَوْ يَلْبِسَكُمْ شِيَعًا وَيُذِيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ‏}‏ قَالَ ‏"‏ هَاتَانِ أَهْوَنُ أَوْ أَيْسَرُ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہما :

When the (following) Verse was revealed to Allah's Messenger (ﷺ): 'Say: He has power to send torment on you from above,'..(6.65) he said, "O Allah! I seek refuge with Your Face (from that punishment)." And when this was revealed: '..or from beneath your feet.' (6.65) he said, "O Allah! I seek refuge with Your Face (from that)." And when this Verse was revealed: '..or to cover you with confusion in partystrife, and make you to taste the violence of one another,'...(6.65) he said: "These two warnings are easier (than the previous ones).

Urdu

ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے بیان کیا ‘ ان سے عمر بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ آیت نازل ہوئی کہ ” کہو کہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر تمہارے اوپر سے عذاب بھیجے ۔ ” تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے با عظمت و بزرگ منہ کی پناہ مانگتا ہوں ” تمہارے پاؤں کے نیچے سے “ ( عذاب بھیجے ) تو اس پر پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ میں تیرے مبارک منہ کی پناہ مانگتا ہوں ‘ پھر جب یہ آیت نازل ہوئی کہ ” یا تمہیں فرقوں میں تقسیم کر دے اور تم میں سے بعض کو بعض کا خوف چکھائے “ تو آپ نے فرمایا کہ یہ دونوں آسان و سہل ہیں ۔

Hadith 7314
Sahih
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ بْنُ الْفَرَجِ، حَدَّثَنِي ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ إِنَّ امْرَأَتِي وَلَدَتْ غُلاَمًا أَسْوَدَ، وَإِنِّي أَنْكَرْتُهُ‏.‏ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏"‏ هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ ‏"‏‏.‏ قَالَ نَعَمْ‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَمَا أَلْوَانُهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ حُمْرٌ‏.‏ قَالَ ‏"‏ هَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ ‏"‏‏.‏ قَالَ إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا‏.‏ قَالَ ‏"‏ فَأَنَّى تُرَى ذَلِكَ جَاءَهَا ‏"‏‏.‏ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِرْقٌ نَزَعَهَا‏.‏ قَالَ ‏"‏ وَلَعَلَّ هَذَا عِرْقٌ نَزَعَهُ ‏"‏‏.‏ وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ فِي الاِنْتِفَاءِ مِنْهُ‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

A bedouin came to Allah's Messenger (ﷺ) and said, "My wife has delivered a black boy, and I suspect that he is not my child." Allah's Messenger (ﷺ) said to him, "Have you got camels?" The bedouin said, "Yes." The Prophet said, "What color are they?" The bedouin said, "They are red." The Prophet (ﷺ) said, "Are any of them Grey?" He said, "There are Grey ones among them." The Prophet (ﷺ) said, "Whence do you think this color came to them?" The bedouin said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! It resulted from hereditary disposition." The Prophet (ﷺ) said, "And this (i.e., your child) has inherited his color from his ancestors." The Prophet (ﷺ) did not allow him to deny his paternity of the child.

Urdu

ہم سے اصبغ بن الفرج نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ ان سے یونس بن یزید نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

ایک اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میری بیوی کے یہاں لڑکا پیدا ہوا ہے جس کو میں اپنا نہیں سمجھتا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تمہارے پاس اونٹ ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہیں ۔ دریافت کیا کہ ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ کہا کہ سرخ ہیں ۔ پوچھا کہ ان میں کوئی خاکی بھی ہے ؟ انہوں نے کہ ہاں ان میں خاکی بھی ہیں ۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ پھر کس طرح تم سمجھتے ہو کہ اس رنگ کا پیدا ہوا ؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ ! کسی رگ نے یہ رنگ کھینچ لیا ہو گا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ممکن ہے اس بچے کا رنگ بھی کسی رگ نے کھینچ لیا ہو ؟ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو بچے کے انکار کرنے کی اجازت نہیں دی ۔

Hadith 7315
Sahih
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ أَفَأَحُجَّ عَنْهَا قَالَ ‏"‏ نَعَمْ حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ ‏"‏‏.‏ قَالَتْ نَعَمْ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ فَاقْضُوا الَّذِي لَهُ، فَإِنَّ اللَّهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

A woman came to the Prophet (ﷺ) and said, "My mother vowed to perform the Hajj but she died before performing it. Should I perform the Hajj on her behalf?" He said, "Yes! Perform the Hajj on her behalf. See, if your mother had been in debt, would you have paid her debt?" She said, "Yes." He said, "So you should pay what is for Him as Allah has more right that one should fulfill one's obligations to Him. "

Urdu

ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابو بشر نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ

ایک خاتون رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ میری والدہ نے حج کرنے کی نذر مانی تھی اور وہ ( ادائےگی سے پہلے ہی ) وفات پاگئیں ۔ کیا میں ان کی طرف سے حج کر لو ں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں ان کی طرف سے حج کر لو ۔ تمہارا کیا خیال ہے ‘ اگر تمہاری والدہ پر قرض ہوتا تو تم اسے پورا کرتیں ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس قرض کو بھی پورا کر جو اللہ تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس قرض کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے ۔

Hadith 7316
Sahih
حَدَّثَنَا شِهَابُ بْنُ عَبَّادٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ قَيْسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لاَ حَسَدَ إِلاَّ فِي اثْنَتَيْنِ رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالاً فَسُلِّطَ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً فَهْوَ يَقْضِي بِهَا وَيُعَلِّمُهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "Do not wish to be like anybody except in two cases: The case of a man whom Allah has given wealth and he spends it in the right way, and that of a man whom Allah has given religious wisdom (i.e., Qur'an and Sunna) and he gives his verdicts according to it and teaches it." (to others i.e., religious knowledge of Qur'an and Sunna (Prophet's Traditions)). "

Urdu

ہم سے شہاب بن عباد نے بیان کیا ، کہا ہم سے ابراہیم بن حمید نے بیان کیا ، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے ، ان سے قیس بن ابی حازم نے ، ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، رشک دو ہی آدمیوں پر ہو سکتا ہے ، ایک وہ جیسے اللہ نے مال دیا اور اسے ( مال کو ) راہ حق میں لٹانے کی پوری طرح توفیق ملی ہوتی ہے اور دوسراوہ جسے اللہ نے حکمت دی ہے اور اس کے ذریعہ فیصلہ کرتا ہے اور اس کی تعلیم دیتا ہے ۔

Hadith 7317, 7318
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، قَالَ سَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ عَنْ إِمْلاَصِ الْمَرْأَةِ ـ هِيَ الَّتِي يُضْرَبُ بَطْنُهَا فَتُلْقِي جَنِينًا ـ فَقَالَ أَيُّكُمْ سَمِعَ مِنَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِيهِ شَيْئًا فَقُلْتُ أَنَا‏.‏ فَقَالَ مَا هُوَ قُلْتُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ‏"‏‏.‏ فَقَالَ لاَ تَبْرَحْ حَتَّى تَجِيئَنِي بِالْمَخْرَجِ فِيمَا قُلْتَ‏. فَخَرَجْتُ فَوَجَدْتُ مُحَمَّدَ بْنَ مَسْلَمَةَ فَجِئْتُ بِهِ، فَشَهِدَ مَعِي أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم يَقُولُ ‏"‏ فِيهِ غُرَّةٌ عَبْدٌ أَوْ أَمَةٌ ‏"‏‏.‏ تَابَعَهُ ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُرْوَةَ عَنِ الْمُغِيرَةِ‏.‏
English

Narrated Al-Mughira bin Shu`ba رضی اللہ عنہ :

`Umar bin Al-Khattab رضی اللہ عنہ asked (the people) about the Imlas of a woman, i.e., a woman who has an abortion because of having been beaten on her `Abdomen, saying, "Who among you has heard anything about it from the Prophet?" I said, "I did." He said, "What is that?" I said, "I heard the Prophet saying, 'Its Diya (blood money) is either a male or a female slave.' " `Umar رضی اللہ عنہ said, "Do not leave till you present witness in support of your statement." So I went out, and found Muhammad bin Maslama رضی اللہ عنہ. I brought him, and he bore witness with me that he had heard the Prophet (ﷺ) saying, "Its Diya (blood money) is either a male slave or a female slave." Similarly, Ibn-e-Abu Zinad, hisfather, Urwah bin Zubair has reported from Hadrat Mogheerah bin Shibah رضی اللہ عنہ.

Urdu

ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابومعاویہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کے املاص کے متعلق ( صحابہ سے ) پوچھا ۔ یہ اس عورت کو کہتے ہیں جس کے پیٹ پر ( جبکہ وہ حاملہ ہو ) مار دیا گیا ہو اور اس کا ناتمام ( ادھورا ) بچہ گر گیا ہو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں کوئی حدیث سنی ہے ؟ میں نے کہا کہ میں نے سنی ہے ۔ پوچھا کیا حدیث ہے ؟ میں نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایسی صورت میں ایک غلام یا باندی تاوان کے طور پر ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم اب چھوٹ نہیں سکتے یہاں تک کہ تم نے جو حدیث بیان کی ہے اس سلسلے میں نجات کا کوئی ذریعہ ( یعنی کوئی شہادت کہ واقعی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث فرمائی تھی ) لاؤ ۔پھر میں نکلا تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ مل گئے اور میں نے انہیں لایا اور انہوں نے میرے ساتھ گواہیت دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ اس میں ایک غلام یا باندی کی تاوان ہے ۔ ہشام بن عروہ کے ساتھ اس حدیث کو ابن ابی الزناد نے بھی اپنے باپ سے ‘ انہوں نے عروہ سے ‘ انہوں نے مغیرہ سے روایت کیا ۔

Hadith 7319
Sahih
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رضى الله عنه عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لاَ تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تَأْخُذَ أُمَّتِي بِأَخْذِ الْقُرُونِ قَبْلَهَا، شِبْرًا بِشِبْرٍ وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ ‏"‏‏.‏ فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَفَارِسَ وَالرُّومِ‏.‏ فَقَالَ ‏"‏ وَمَنِ النَّاسُ إِلاَّ أُولَئِكَ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "The Hour will not be established till my followers copy the deeds of the previous nations and follow them very closely, span by span, and cubit by cubit (i.e., inch by inch)." It was said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Do you mean by those (nations) the Persians and the Byzantines?" The Prophet said, "Who can it be other than they?"

Urdu

ہم سے احمد بن یونس نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا ‘ ان سے مقبری نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک میری امت اس طرح پچھلی امتوں کے مطابق نہیں ہو جائے گی جیسے بالشت بالشت کے اور ہاتھ ہاتھ کے برابر ہوتا ہے ۔ پوچھا گیا یا رسول اللہ ! اگلی امتوں سے کون مراد ہیں ‘ پارسی اور نصرانی ؟ آپ نے فرمایا پھر اور کون ۔

Hadith 7320
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الصَّنْعَانِيُّ ـ مِنَ الْيَمَنِ ـ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏"‏ لَتَتْبَعُنَّ سَنَنَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ شِبْرًا شِبْرًا وَذِرَاعًا بِذِرَاعٍ، حَتَّى لَوْ دَخَلُوا جُحْرَ ضَبٍّ تَبِعْتُمُوهُمْ ‏"‏‏.‏ قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى قَالَ ‏"‏ فَمَنْ ‏"‏‏.‏
English

Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :

The Prophet (ﷺ) said, "You will follow the ways of those nations who were before you, span by span and cubit by cubit (i.e., inch by inch) so much so that even if they entered a hole of a mastigure, you would follow them." We said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! (Do you mean) the Jews and the Christians?" He said, "Whom else?"

Urdu

ہم سے محمد بن عبد العزیز نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یمن کے ابو عمر صنعانی بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے سے پہلی امتوں کی ایک ایک بالشت اور ایک ایک گز میں اتباع کرو گے ۔ یہاں تک کہ اگر وہ کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم اس میں بھی ان کی اتباع کرو گے ۔ ہم نے پوچھا یا رسول اللہ ! کیا یہود و نصاریٰ مراد ہیں ؟ فرمایا پھر اور کون ۔

Hadith 7321
Sahih
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ لَيْسَ مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا إِلاَّ كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْهَا ـ وَرُبَّمَا قَالَ سُفْيَانُ مِنْ دَمِهَا ـ لأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ أَوَّلاً ‏"‏‏.‏
English

Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) said, "None is killed unjustly, but the first son of Adam will have a part of its burden." Sufyan said, "..a part of its blood because he was the first to establish the tradition of murdering"

Urdu

ہم سے عبداللہ بن زبیر حمیدی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان نے ‘ کہا ہم سے اعمش نے ‘ ان سے عبداللہ بن مروہ نے ‘ ان سے مسروق نے اور ان سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جو شخص بھی ظلم کے ساتھ قتل کیا جائے گا اس کے ( گناہ کا ) ایک حصہ آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے ( قابیل ) پر بھی پڑے گا ۔ بعض اوقات سفیان نے اس طرح بیان کیا کہ ” اس کے خون کا “ ۔ کیونکہ اسی نے سب سے پہلے ناحق خون کی بری رسم قائم کی ۔

Hadith 7322
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّلَمِيِّ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا، بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَلَى الإِسْلاَمِ، فَأَصَابَ الأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَقِلْنِي بَيْعَتِي‏.‏ فَأَبَى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي‏.‏ فَأَبَى ثُمَّ جَاءَهُ فَقَالَ أَقِلْنِي بَيْعَتِي‏.‏ فَأَبَى فَخَرَجَ الأَعْرَابِيُّ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏ "‏ إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ، تَنْفِي خَبَثَهَا، وَيَنْصَعُ طِيبُهَا ‏"‏‏.‏
English

Narrated Jabir bin 'Abdullah As-Salami رضی اللہ عنہ :

A bedouin gave the Pledge of allegiance for embracing Islam to Allah's Messenger (ﷺ), and then he got an attack of fever in Medina and came to Allah's Messenger (ﷺ): and said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Cancel my pledge." Allah's Messenger (ﷺ) refused to do so. The bedouin came to him again and said, "Cancel my pledge," but he refused again, and then again, the bedouin came to him and said, "Cancel my pledge," and Allah's Messenger (ﷺ) refused. The bedouin finally went away, and Allah's Messenger (ﷺ) said, "Medina is like a pair of bellows (furnace), it expels its impurities while it brightens and clears its good.'

Urdu

ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ انہوں نے محمد بن منکدر سے ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ سے کہ

ایک گنوار ( قیس بن ابی حازم یا قیس بن حاز م یا اور کوئی ) نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی ‘ پھر مدینہ میں اس کو تپ آنے لگی ۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ کہنے لگا یا رسول اللہ ! میری بیعت فسخ کر دیجئیے ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر انکار کیا ۔ اس کے بعد وہ مدینہ سے نکل کر اپنے جنگل کو چلا گیا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی طرح ہے جو اپنی میل کچیل کو دور کر دیتی ہے اور کھرے پاکیزہ مال کو رکھ لیتی ہے ۔

Hadith 7323
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنْتُ أُقْرِئُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَلَمَّا كَانَ آخِرَ حَجَّةٍ حَجَّهَا عُمَرُ فَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بِمِنًى، لَوْ شَهِدْتَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَتَاهُ رَجُلٌ قَالَ إِنَّ فُلاَنًا يَقُولُ لَوْ مَاتَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ لَبَايَعْنَا فُلاَنًا‏.‏ فَقَالَ عُمَرُ لأَقُومَنَّ الْعَشِيَّةَ فَأُحَذِّرَ هَؤُلاَءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَغْصِبُوهُمْ‏.‏ قُلْتُ لاَ تَفْعَلْ فَإِنَّ الْمَوْسِمَ يَجْمَعُ رَعَاعَ النَّاسِ يَغْلِبُونَ عَلَى مَجْلِسِكَ، فَأَخَافُ أَنْ لاَ يُنْزِلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا فَيُطِيرُ بِهَا كُلُّ مُطِيرٍ، فَأَمْهِلْ حَتَّى تَقْدَمَ الْمَدِينَةَ دَارَ الْهِجْرَةِ وَدَارَ السُّنَّةِ، فَتَخْلُصُ بِأَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالأَنْصَارِ فَيَحْفَظُوا مَقَالَتَكَ، وَيُنَزِّلُوهَا عَلَى وَجْهِهَا‏.‏ فَقَالَ وَاللَّهِ لأَقُومَنَّ بِهِ فِي أَوَّلِ مَقَامٍ أَقُومُهُ بِالْمَدِينَةِ‏.‏ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم بِالْحَقِّ وَأَنْزَلَ عَلَيْهِ الْكِتَابَ، فَكَانَ فِيمَا أُنْزِلَ آيَةُ الرَّجْمِ‏.‏
English

Narrated Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہما :

I used to teach Qur'an to 'Abdur-Rahman bin Auf رضی اللہ عنہ . When Umar رضی اللہ عنہ performed his last Hajj, 'Abdur-Rahman said (to me) at Mina, "Would that you had seen Chief of the believers today! A man came to him and said, "So-and-so has said, "If Chief of the Believers died, we will give the oath of allegiance to such-and-such person,' 'Umar رضی اللہ عنہ said, 'I will get up tonight and warn those who want to usurp the people's rights.' I said, 'Do not do so, for the season (of Hajj) gathers the riffraff mob who will form the majority of your audience, and I am afraid that they will not understand (the meaning of) your saying properly and may spread (an incorrect statement) everywhere. You should wait till we reach Medina, the place of migration and the place of the Sunna (the Prophet's Traditions). There you will meet the companions of Allah's Messenger (ﷺ) from the Muhajirin and the Ansar who will understand your statement and place it in its proper position' 'Umar رضی اللہ عنہ said, 'By Allah, I shall do so the first time I stand (to address the people) in Medina.' When we reached Medina, 'Umar رضی اللہ عنہ (in a Friday Khutba-sermon) said, "No doubt, Allah sent Muhammad with the Truth and revealed to him the Book (Quran), and among what was revealed, was the Verse of Ar-Rajm (stoning adulterers to death).'" (See Hadith No. 817,Vol. 8)

Urdu

ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبد الواحد بن زیاد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے معمربن راشد نے بیان کیا ‘ ان سے زہری نے ‘ ان سے عبیداللہ بن عبداللہ نے ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ

میں عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کو ( قرآن مجید ) پڑھا یا کرتا تھا ۔ جب وہ آخری حج آیا جو عمر رضی اللہ عنہ نے کیا تھا تو عبدالرحمٰن نے منیٰ میں مجھ سے کہا کاش تم امیرالمؤمنین کو آج دیکھتے جب ان کے پاس ایک شخص آیا اور کہا کہ فلاں شخص کہتا ہے کہ اگر امیرالمؤمنین کا انتقال ہو جائے تو ہم فلاں سے بیعت کر لیں گے ۔ یہ سن کر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں آج سہ پہر کو کھڑے ہو کر لوگوں کو خطبہ سناؤں گا اور ان کو ڈراؤں کا جو ( عام مسلمانوں کے حق کو ) غصب کرنا چاہتے ہیں اور خود اپنی رائے سے امیر منتخب کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ میں نے عرض کیا کہ آپ ایسا نہ کریں کیونکہ موسم حج میں ہر طرح کے ناواقف اور معمولی لوگ جمع ہو جاتے ہیں ۔ یہ سب کثرت سے آپ کی مجلس میں جمع ہو جائیں گے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ آپ کی بات کا صحیح مطلب نہ سمجھ کر کچھ اور معنیٰ نہ کر لیں اور اسے منہ در منہ اڑاتے پھریں ۔ اس لیے ابھی توقف کیجئے ۔ جب آپ مدینے پہنچیں جو دار الہجرت اور دار السنہ ہے تو وہاں آپ کے مخاطب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ‘ مہاجرین و انصار خالص ایسے ہی لوگ ملیں گے وہ آپ کی بات کو یاد رکھیں گے اور اس کا مطلب بھی ٹھیک بیان کریں گے ۔ اس پر امیرالمؤمنین نے کہا کہ واللہ ! میں مدینہ پہنچ کر جو پہلا خطبہ دوں گا اس میں اس کا بیان کروں گا ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر ہم مدینے آئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن دوپہر ڈھلے بر آمد ہوئے اور خطبہ سنایا ۔ انہوں نے کہا اللہ پاک نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا رسول بنا کر بھیجا اور آپ پر قرآن اتارا ۔ اس قرآن میں رجم کی آیت بھی تھی ۔

Hadith 7324
Sahih
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، قَالَ كُنَّا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُمَشَّقَانِ مِنْ كَتَّانٍ فَتَمَخَّطَ فَقَالَ بَخْ بَخْ أَبُو هُرَيْرَةَ يَتَمَخَّطُ فِي الْكَتَّانِ، لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لأَخِرُّ فِيمَا بَيْنَ مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم إِلَى حُجْرَةِ عَائِشَةَ مَغْشِيًّا عَلَىَّ، فَيَجِيءُ الْجَائِي فَيَضَعُ رِجْلَهُ عَلَى عُنُقِي، وَيُرَى أَنِّي مَجْنُونٌ، وَمَا بِي مِنْ جُنُونٍ، مَا بِي إِلاَّ الْجُوعُ‏.‏
English

Narrated Muhammad:

We were with Abu Huraira رضی اللہ عنہ کwhile he was wearing two linen garments dyed with red clay. He cleaned his nose with his garment, saying, "Bravo! Bravo! Abu Huraira رضی اللہ عنہ is cleaning his nose with linen! There came a time when I would fall senseless between the pulpit of Allah's Messenger (ﷺ) and `Aisha's dwelling whereupon a passerby would come and put his foot on my neck, considering me a mad man, but in fact, I had no madness, I suffered nothing but hunger."

Urdu

ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے حماد بن زید نے ‘ ان سے ایوب سختیانی نے ‘ ان سے محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ

ہم ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھی اور ان کے جسم پر کتان کے دو کپڑے گیرو میں رنگے ہوئے تھے ۔ انہوں نے ان ہی کپڑوں میں ناک صاف کی اور کہا واہ واہ دیکھو ابوہریرہ کتان کے کپڑوں میں ناک صاف کرتا ہے ‘ اب ایسا مالدار ہو گیا حالانکہ میں نے اپنے آپ کو ایک زمانہ میں ایسا پایا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر اور عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ کے درمیان بیہوش ہو کر گڑ پڑتا تھا اور گزرنے والا میری گردن پر یہ سمجھ کر پاؤں رکھتا تھا کہ میں پاگل ہو گیا ہوں ‘ حالانہ مجھے جنون نہیں ہوتا تھا ‘ بلکہ صرف بھوک کی وجہ سے میری یہ حالت ہو جاتی تھی ۔

Hadith 7325
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، قَالَ سُئِلَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم قَالَ نَعَمْ وَلَوْلاَ مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنَ الصِّغَرِ، فَأَتَى الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ كَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّى ثُمَّ خَطَبَ، وَلَمْ يَذْكُرْ أَذَانًا وَلاَ إِقَامَةً، ثُمَّ أَمَرَ بِالصَّدَقَةِ فَجَعَلَ النِّسَاءُ يُشِرْنَ إِلَى آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ، فَأَمَرَ بِلاَلاً فَأَتَاهُنَّ، ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم‏.‏
English

Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :

"Did you offer the Id prayer with the Prophet?" He said, "Yes, had it not been for my close relation to the Prophet, I would not have performed it (with him) because of my being too young The Prophet (ﷺ) came to the mark which is near the home of Kathir bin As-Salt and offered the Id prayer and then delivered the sermon. I do not remember if any Adhan or Iqama were pronounced for the prayer. Then the Prophet (ﷺ) ordered (the women) to give alms, and they started stretching out their hands towards their ears and throats (giving their ornaments in charity), and the Prophet (ﷺ) ordered Bilal رضی اللہ عنہ to go to them (to collect the alms), and then Bilal رضی اللہ عنہ returned to the Prophet.

Urdu

ہم سے محمد بن کثیر نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو سفیان ثوری نے خبر دی ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن عابس نے بیان کیا ‘ کہا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ

کیا آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں گئے ہیں ؟ کہا کہ ہاں میں اس وقت کم سن تھا ۔ اگر آنخصرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مجھ کو اتنا نزدیک کا رشتہ نہ ہوتا اور کم سن نہ ہوتا تو آپ کے ساتھ کبھی نہیں رہ سکتا تھا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکل کر اس نشان کے پاس آئے جو کثیر بن صلت کے مکان کے پاس ہے اور وہاں آپ نے نمازعید پڑھائی پھر خطبہ دیا ۔ انہوں نے اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا ‘ پھر آپ نے صدقہ دینے کا حکم دیا تو عورتیں اپنے کانوں اور گردنوں کی طرف ہاتھ بڑھانے لگیں زیوروں کا صدقہ دینے کے لیے ۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا ۔ وہ آئے اور صدقہ میں ملی ہوئی چیزوں کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس گئے ۔

Hadith 7326
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ يَأْتِي قُبَاءً مَاشِيًا وَرَاكِبًا‏.‏
English

Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :

The Prophet (ﷺ) used to go to the Quba' mosque, sometimes walking, sometimes riding.

Urdu

ہم سے ابونعیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قباء میں تشریف لاتے تھے ‘ کبھی پیدل اور کبھی سواری ( راجع : ۱۹۱۱ )

Hadith 7327, 7328
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ادْفِنِّي مَعَ صَوَاحِبِي وَلاَ تَدْفِنِّي مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي الْبَيْتِ، فَإِنِّي أَكْرَهُ أَنْ أُزَكَّى‏.وَعَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عُمَرَ، أَرْسَلَ إِلَى عَائِشَةَ ائْذَنِي لِي أَنْ أُدْفَنَ مَعَ صَاحِبَىَّ فَقَالَتْ إِي وَاللَّهِ‏.‏ قَالَ وَكَانَ الرَّجُلُ إِذَا أَرْسَلَ إِلَيْهَا مِنَ الصَّحَابَةِ قَالَتْ لاَ وَاللَّهِ لاَ أُوثِرُهُمْ بِأَحَدٍ أَبَدًا‏.‏
English

Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :

`Abdullah bin Az-Zubair رضی اللہ عنہما , "Bury me with my female companions (i.e. the wives of the Prophet) and do not bury me with the Prophet (ﷺ) in the house, for I do not like to be regarded as sanctified (just for being buried there)." Narrated Hisham's father: `Umar رضی اللہ عنہ sent a message to `Aisha رضی اللہ عنہا , saying, "Will you allow me to be buried with my two companions (the Prophet (ﷺ) and Abu Bakr رضی اللہ عنہ ) ?" She said, "Yes, by Allah." though it was her habit that if a man from among the companions (of the Prophet (ﷺ) ) sent her a message asking her to allow him to be buried there, she would say, "No, by Allah, I will never give permission to anyone to be buried with them."

Urdu

ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ

انہوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے کہا تھا کہ مجھے انتقال کے بعد میری سو کنوں کے ساتھ دفن کرنا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجرہ میں دفن مت کرنا کیونکہ میں پسند نہیں کرتی کہ میری آپ کی اور بیویوں سے زیادہ پاکی بیان کی جائے ۔ اور ہشام سے روایت ہے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں آدمی بھیجا کہ مجھے اجازت دیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ دفن کیا جاؤں ۔ انہوں نے کہا کہ ہاں اللہ کی قسم ‘ میں ان کو اجازت دیتی ہوں ۔ راوی نے بیان کیا کہ پہلے جب کوئی صحابی ان سے وہاں دفن ہونے کی اجازت مانگتے تو وہ کہلادیتی تھیں کہ نہیں ! اللہ کی قسم میں ان کے ساتھ کسی اور کو دفن نہیں ہونے دوں گی ۔

Hadith 7329
Sahih
حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلاَلٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم كَانَ يُصَلِّي الْعَصْرَ فَيَأْتِي الْعَوَالِيَ وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ‏.‏ وَزَادَ اللَّيْثُ عَنْ يُونُسَ، وَبُعْدُ الْعَوَالِي أَرْبَعَةُ أَمْيَالٍ أَوْ ثَلاَثَةٌ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) used to perform the `Asr prayer and then one could reach the `Awali (a place in the outskirts of Medina) while the sun was still quite high. Narrated Yunus: The distance of the `Awali (from Medina) was four or three miles.

Urdu

ہم سے ایوب بن سلمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوبکر بن اویس نے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے بیان کیا کہ مجھے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھ کر ان گاؤں میں جاتے جو مدینہ کی بلندی پر واقع ہیں وہاں پہنچ جاتے اور سورج بلند رہتا ۔ عوالی مدینہ کا بھی یہی حکم ہے اور لیث نے بھی اس حدیث کو یونس سے روایت کیا ۔ اس میں اتنا زیادہ ہے کہ یہ گاؤں مدینہ سے تین چار میل پر واقع ہیں ۔

Hadith 7330
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، عَنِ الْجُعَيْدِ، سَمِعْتُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ، يَقُولُ كَانَ الصَّاعُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم مُدًّا وَثُلُثًا بِمُدِّكُمُ الْيَوْمَ، وَقَدْ زِيدَ فِيهِ‏.‏ سَمِعَ الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ الْجُعَيْدَ
English

Narrated As-Sa'ib bin Yazid:

The Sa' (a kind of measure) during the lifetime of the Prophet (ﷺ) used to be equal to the one Mudd (another kind of measure) and one third of a Mudd which we use today, but the Sa' of today has become large.That is, during the time of Hazrat Umar bin Abdul Aziz, it became four mudd.

Urdu

ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے قاسم بن مالک نے بیان کیا ‘ ان سے جعید نے ‘ انہوں نے سائب بن یزید سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں صاع تمہارے وقت کی مد سے ایک مداور ایک تہائی مد کا ہوتا تھا ‘پھر صاع کی مقدار بڑھ گئی یعنی حضرت عمر بن عبد العزیز کے زمانہ میں وہ چار مد کا ہو گیا ۔

Hadith 7331
Sahih
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ ‏ "‏ اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِي مِكْيَالِهِمْ، وَبَارِكْ لَهُمْ فِي صَاعِهِمْ وَمُدِّهِمْ ‏"‏ يَعْنِي أَهْلَ الْمَدِينَةِ‏.‏
English

Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :

Allah's Messenger (ﷺ) said, "O Allah! Bestow Your Blessings on their measures, and bestow Your Blessings on their Sa' and Mudd." He meant those of the people of Medina.

Urdu

ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا ‘ ان سے امام مالک نے ‘ ان سے اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے اللہ ! ان مدینہ والوں کے پیمانہ میں انہیں برکت دے اور ان کے صاع اور مد میں انہیں برکت دے ۔ آپ کی مراد اہل مدینہ ( کے صاع ومد ) سے تھی ۔ ( مدنی صاع اور مد کو بھی تاریخی عظمت حاصل ہے )