Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
"You people claim that Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrates many narrations of Allah's Messenger (ﷺ). (Anyhow) with Allah will be our appointment. I was a poor man, and used to stick to Allah's Messenger (ﷺ) contented with what will fill my stomach, and the Muhajirin (emigrants) used to be busy trading in the markets, and the Ansar used to be busy looking after their properties. One-day I heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, 'Who will spread his Rida' (a garment covering the upper part of the body) till I finished my speech and then fold it, (i.e. wrap it over your body), in which case he will never forget anything he had heard from me." So I spread my garment which I was wearing; and by Him Who sent Muhammad with the Truth, ever since, I have never forgotten whatever I heard from him (the Prophet)" (See, Hadith No. 119, Vol. 1)
ہم سے علی بن عبداللہ مدینی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے کہا ‘ مجھ سے زہری نے ‘ انہوں نے اعرج سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا کہ
تم سمجھتے ہو کہ ابوہریرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات زیادہ حدیث بیان کرتے ہیں ‘اللہ کے حضور میں سب کو جانا ہے ۔ بات یہ تھی کہ میں ایک مسکین شخص تھا اور پیٹ بھرنے کے بعد ہر وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتا تھا لیکن مہاجر ین کو بازار کے کارو بار مشغول رکھتے تھے اور انصار کو اپنے مالوں کی دیکھ بھال مصروف رکھتی تھی ۔ میں ایک دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھا اور آپ نے فرمایا کہ کون اپنی چادر پھیلائے گا ‘ یہاں تک کہ میں اپنی بات پوری کر لوں اور پھر وہ اپنی چادر سمیٹ لے اور اس کے بعد کبھی مجھ سے سنی ہوئی کوئی بات نہ بھولے ۔ چنانچہ میں نے اپنی چادر جو میرے جسم پر تھی ‘ پھیلادی اور اس ذات کی قسم جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا تھا پھر کبھی میں آپ کی کوئی حدیث جو آپ سے سنی تھی ‘ نہیں بھولا ۔
Narrated Muhammad bin Al-Munkadir:
I saw Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ swearing by Allah that Ibn Sayyad was the Dajjal. I said to Jabir, "How can you swear by Allah?" Jabir said, "I have heard `Umar رضی اللہ عنہ swearing by Allah regarding this matter in the presence of the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) did not disapprove of it."
ہم سے حماد بن حمید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبیداللہ بن معاذ نے ‘ کہا ہم سے ہمارے والد حضرت معاذ بن حسان نے بیان کیا ‘ ان سے شعبہ بن حجاج نے بیان کیا ‘ ان سے سعد بن ابراہیم نے ‘ ان سے محمد بن المنکدر نے بیان کیا ‘
میں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ ابن الصیاد کے واقعہ پر اللہ کی قسم کھا تے تھے ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ اللہ کی قسم کھا تے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا تے دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر کوئی انکار نہیں فرمایا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Horses may be used for three purposes: For a man they may be a source of reward (in the Hereafter); for another, a means of protection; and for another, a source of sin. The man for whom they are a source of reward, is the one who keeps them for Allah's Cause and ties them with long ropes and lets them graze in a pasture or garden. Whatever those long ropes allow them to eat of that pasture or garden, will be written as good deeds for him and if they break their ropes and run one or two rounds, then all their footsteps and dung will be written as good deeds for him, and if they pass a river and drink from it though he has had no intention of watering them, even then, that will be written as good deeds for him. So such horses are a source of reward for that man. For the man who keeps horses for his livelihood in order not to ask others for help or beg his bread, and at the same time he does not forget Allah's right of what he earns through them and of their backs (that he presents it to be used in Allah's Cause), such horses are a shelter for him (from poverty). For the man who keeps them just out of pride and for showing off, they are a source of sin." Then Allah's Messenger (ﷺ) was asked about donkeys. He said, "Allah has not revealed anything to me regarding them except this comprehensive Verse: "Then anyone who has done good, equal to the weight of an atom (or a small ant) shall see it, and any one who has done evil, equal to the weight of an atom (or a small ant) shall see it." (99.7-8)
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے زید بن اسلم نے ‘ ان سے ابی صالح السمان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھوڑے تین طرح کے لوگوں کے لیے ہیں ۔ ایک شخص کے لیے ان کا ر کھنا کا ر ثواب ہے ‘ دوسرے کے لیے برابر برابر نہ عذاب نہ ثواب اور تیسرے کے لیے وبال جان ہیں ۔ جس کے لیے وہ اجبر ہیں یہ وہ شخص ہے جس نے اسے اللہ کے راستے کے لیے باندھ کر رکھا اور اس کی رسی چراہ گاہ میں دراز کر دی تو وہ گھوڑا جتنی دور تک چراہ گاہ میں گھوم کر چرے گا وہ مالک کی نیکیوں میں ترقی کا ذریعہ ہو گا اور اگر گھوڑے نے اس دراز رسی کو بھی تڑوا لیا اور ایک یا دو دوڑ اس نے لگائی تو اس کے نشانات قدم اور اس کی لید بھی مالک کے لیے باعث اجر و ثواب ہو گی اور اگر گھوڑا کسی نہر سے گزر ا اور اس نے نہر کا پانی پی لیا ‘ مالک نے اسے پلانے کا کوئی ارادہ نہیں کیا تھا تب بھی مالک کے لیے یہ اجر کا باعث ہو گا اور ایسا گھوڑا اپنے مالک کے لیے ثواب ہوتا ہے اوردوسرا شخص برابر برابر والا ہوتا ہے جو گھوڑے کو اظہار بے نیازی یا اپنے بچاؤ کی غرض سے باندھتا ہے اور اس کی پشت اور گردن پر اللہ کے حق کو بھی نہیں بھولتا تو یہ گھوڑا اس کے لیے نہ عذاب ہے نہ ثواب اور تیسرا وہ شخص ہے جو گھوڑے کو فخر اور ریا کے لیے باندھتا ہے تو یہ اس کے لیے وبال جان ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گدھوں کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ میں مجھ پر اس جامع اور نادر آیت کے سوا اور کچھ نہیں نازل فرمایا ہے ۔ ” پس جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی بھلائی کرے گا وہ اسے دیکھے گا اور جو کوئی ایک ذرہ برابر بھی برائی کرے گا وہ اسے دیکھے گا “ ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
A woman asked the Prophet ﷺ. Hadrat Mansur bin Abdur Rehaman bin Shibah has reported from Hadrat `Aisha رضی اللہ عنہا : A woman asked the Prophet (ﷺ) about the periods: How to take a bath after the periods. He said, "Take a perfumed piece of cloth and clean yourself with it." She said,' "How shall I clean myself with it, O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) said, "Clean yourself" She said again, "How shall I clean myself, O Allah's Messenger (ﷺ)?" The Prophet (ﷺ) said, "Clean yourself with it." Then I knew what Allah's Messenger (ﷺ) meant. So I pulled her aside and explained it to her.
ہم سے یحییٰ بن جعفر بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے منصور بن صفیہ نے ‘ ان سے کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
ایک خاتون نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا اور ہم سے محمد نے بیان کیا یعنی ابن عقبہ نے ‘ کہا ہم سے فضیل بن سلیمان النمیری نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے منصور بن عبدالرحمٰن بن شیبہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کی والدہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ ایک عورت نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حیض کے متعلق پوچھا کہ اس سے غسل کس طرح کیا جائے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مشک لگا ہوا ایک کپڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کر ۔ اس عورت نے پوچھا ‘ یا رسول اللہ ! میں اس سے پاکی کس طرح حاصل کروں گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کرو ۔ انہوں نے پھر پوچھا کہ کس طرح پاکی حاصل کروں ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی جواب دیا کہ پاکی حاصل کرو ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا منشا سمجھ گئی اور اس عورت کو میں نے اپنی طرف کھینچ لیا اور انہیں طریقہ بتایا کہ پاکی سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ اس کپڑے کو خون کے مقاموں پر پھیرتاکہ خون کی بدبو رفع ہو جائے ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
Um Hufaid bint Al-Harith bin Hazn presented the Prophet (ﷺ) with some butter, dried yoghurt (curd milk) and mastigures as a gift. The Prophet (ﷺ) then asked for a meal (mastigures etc. to be put) and it was eaten over his table cloth, but the Prophet (ﷺ) did not eat of it, as he had aversion to it. But if it had been illegal to eat, it would not have been eaten over his table cloth nor would he have ordered that (mastigures meat) to be eaten.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عوانہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابو بشر نے ‘ ان سے سعید بن جبیر نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ
ام حفید بنت حارث بن حزن نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھی اور پنیر اور بھنا ہوا سانڈا ہدیہ میں بھیجاآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیزیں قبول فرما لیں اور آپ کے دسترخوان پر انہیں کھایا گیا لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( سانڈے کو ) ہاتھ نہیں لگا یا ‘ جیسے آپ کو پسند نہ ہو اور اگر وہ حرام ہوتا تو آپ کے دسترخوان پر نہ کھایا جاتا اور نہ آپ کھانے کے لیے کہتے ۔
Narrated Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said, "Whoever has eaten garlic or onion, should keep away from us, or should keep away from our mosque and should stay at home." Ibn Wahb said, "Once a plate full of cooked vegetables was brought to the Prophet (ﷺ) at Badr. Detecting a bad smell from it, he asked about the dish and was informed of the kinds of vegetables in contained. He then said, "Bring it near," and so it was brought near to one of his companions who was with him. When the Prophet (ﷺ) saw it, he disliked eating it and said (to his companion), "Eat, for I talk in secret to ones whom you do not talk to." Ibn-e-Ofair has reported from Ibn-e-Wahab: A casserole containing vegetables. But Laith and Abu Sufyan did not mention casserole from Younus, so I don't know whether it is Zuhri's saying or a part of the Hadith.
ہم سے احمد بن صالح نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا ‘ کہا مجھے یونس نے خبر دی ‘ انہیں ابن شہاب نے کہا کہ مجھ کو عطاء بن ابی رباح نے خبر دی ‘ انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص کچی لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے دور رہے یا ( یہ فرمایا کہ ) ہماری مسجد سے دور رہے اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے ( یہاں تک کہ وہ بو رفع ہو جائے ) اور آپ کے پاس ایک طباق لایا گیا جس میں سبزیاں تھیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں بو محسوس کی ‘ پھر آپ کو اس میں رکھی ہوئی سبزیوں کے متلعق بتایا گیا تو آپ نے اپنے بعض صحابی کی طرف جو آپ کے ساتھ تھے اشارہ کر کے فرمایا کہ ان کے پاس لے جاؤ لیکن جب ان صحابی نے اسے دیکھا تو انہوں نے بھی اسے کھانا پسند نہیں کیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر ان سے فرمایا کہ تم کھا لو کیونکہ میں جس سے سرگوشی کرتا ہوں تم اس سے نہیں کرتے ۔ ( آپ کی مراد فرشتوں سے تھی ) سعید بن کثیر بن عفیر نے جو حضرت امام بخاری رحمہ اللہ کے شیخ ہیں ‘ عبداللہ بن وہب سے اس حدیث میں یوں روایت کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہانڈی لائی گئی جس میں ترکاریاں تھیں اور لیث وابوصفوان عبداللہ بن سعید اموی نے بھی اس حدیث کو یو نس سے روایت کیا لیکن انہوں نے ہانڈی کا قصہ نہیں بیان کیا ‘ اب میں نہیں جانتا کہ ہانڈی کا قصہ حدیث میں داخل ہے یا زہری نے بڑھا دیا ہے ۔
Narrated Jubair bin Mut`im رضی اللہ عنہ :
A lady came to Allah's Messenger (ﷺ) and she talked to him about something, and he gave her some order. She said, "O Allah's Messenger (ﷺ)! If I should not find you?" He said, "If you should not find me, then go to Abu Bakr." Ibrahim bin Sa`d said, "As if she meant the death (of the Prophet).
مجھ سے عبیداللہ بن سعد بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے میرے والد اور چچا نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور ان سے ان کے والد نے ‘ انہیں محمد بن جبیر نے خبر دی اور انہیں ان کے والد جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ
ایک خاتون رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک حکم دیا ۔ انہوں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! اگر میں آپ کو نہ پاؤں تو پھر کیا کروں گی ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مجھے نہ پا نا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس جانا ۔ حمیدی نے ابراہیم بن سعد سے یہ اضافہ کیا کہ غالباً خاتون کی مراد وفات تھی ۔ امام بخاری نے کہا کہ حمیدی نے اس روایت میں ابراہیم بن سعد سے اتنا بڑھایا ہے کہ آپ کو نہ پاؤں ‘ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کی وفات ہو جائے ۔
Narrated Humaid bin 'Abdur-Rahman:
He heard Mu'awiya رضی اللہ عنہ talking to a group of people from Quraish at Al-Madina, and on mentioning Ka'b Al-Ashbar, he said, "He was one of the most truthful of those who used to talk about the people of the Scripture, yet we used to detect certain faults in his information."
ابو الیمان امام بخاری کے شیخ نے بیان کیا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں حمید بن عبدالرحمٰن نے خبر دی ‘
انہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ مدینے میں قریش کی ایک جماعت سے حدیث بیان کر رہے تھے ۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے کعب احبار کا ذکر کیا اور فرمایا جتنے لوگ اہل کتاب سے احادیث نقل کرتے ہیں ان سب میں کعب احبار بہت سچے تھے اور باوجود اس کے کبھی کبھی ان کی بات جھوٹ نکلتی تھی ۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ کعب احبار جھوٹ بولتے تھے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The people of the Book used to read the Torah in Hebrew and then explain it in Arabic to the Muslims. Allah's Messenger (ﷺ) said (to the Muslims). "Do not believe the people of the Book, nor disbelieve them, but say, 'We believe in Allah and whatever is revealed to us, and whatever is revealed to you.' "
مجھ سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عثمان بن عمر نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کوعلی بن المبارک نے خبر دی ‘ انہوں نے کہا ہم سے یحییٰ بن ابی کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
اہل کتاب توریت عبرانی زبان میں پڑھتے تھے اور اس کی تفسیر مسلمانوں کے لیے عربی میں کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل کتاب کی نہ تصدیق کرو اور نہ ان کی تکذیب کرو کیونکہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل ہو ااور جو ہم سے پہلے تم پر ناز ل ہوا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
"Why do you ask the people of the scripture about anything while your Book (Qur'an) which has been revealed to Allah's Messenger (ﷺ) is newer and the latest? You read it pure, undistorted and unchanged, and Allah has told you that the people of the scripture (Jews and Christians) changed their scripture and distorted it, and wrote the scripture with their own hands and said, 'It is from Allah,' to sell it for a little gain. Does not the knowledge which has come to you prevent you from asking them about anything? No, by Allah, we have never seen any man from them asking you regarding what has been revealed to you!"
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو ابن شہاب نے خبر دی ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
تم اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں کیوں پوچھتے ہو جب کہ تمہاری کتاب جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی وہ تازہ بھی ہے اور محفوظ بھی اور تمہیں اس نے بتا بھی دیا کہ اہل کتاب نے اپنا دین بدل ڈالا اور اللہ کی کتاب میں تبدیلی کر دی اور اسے اپنے ہاتھ سے از خود بنا کر لکھا اور کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ دنیا کا تھوڑا سا مال کما لیں ۔ تمہارے پاس ( قرآن و حدیث کا ) جو علم ہے وہ تمہیں ان سے پوچھنے سے منع کرتا ہے ۔ واللہ ! میں تو نہیں دیکھتا کہ اہل کتاب میں سے کوئی تم سے اس کے بارے میں پوچھتا ہو جو تم پر نازل کیا گیا ہو ۔
Narrated Jundab bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Recite (and study) the Qur'an as long as you are in agreement as to its interpretation and meanings, but when you have differences regarding its interpretation and meanings, then you should stop reciting it (for the time being.) (See Hadith No 581, Vol. 6)
ہم سے اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبدالرحمٰن بن مہدی نے خبر دی ‘ انہیں سلام بن ابی مطیع نے ‘ انہیں ابو عمران الجونی نے ‘ ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ جب تمہارے دل ملے رہیں قرآن پڑھو اور جب تم میں اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ ۔
Narrated Jundab bin `Abdullah رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Recite (and study) the Qur'an as long as your hearts are in agreement as to its meanings, but if you have differences as regards its meaning, stop reading it then." Hadrat Jundab رضی اللہ عنہ has reported it from prophet ﷺ .
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عبدالصمد بن عبدالوارث نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ہمام بن یحییٰ بصریٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو عمران جونی نے اور ان سے جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک تمہارے دلوں میں اتحاد واتفاق ہو قرآن پڑھو اور جب اختلاف ہو جائے تو اس سے دور ہو جاؤ اور یزید بن ہارون واسطی نے ہارون اعور سے بیان کیا ‘ ان سے ابو عمران نے بیان کیا ‘ ان سے جندب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ۔
Narrated Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما :
When the time of the death of the Prophet (ﷺ) approached while there were some men in the house, and among them was `Umar bin Al-Khatttab رضی اللہ عنہ , the Prophet (ﷺ) said, "Come near let me write for you a writing after which you will never go astray." `Umar رضی اللہ عنہ said, "The Prophet (ﷺ) is seriously ill, and you have the Qur'an, so Allah's Book is sufficient for us." The people in the house differed and disputed. Some of them said, "Come near so that Allah's Messenger (ﷺ) may write for you a writing after which you will not go astray," while some of them said what `Umar رضی اللہ عنہ said. When they made much noise and differed greatly before the Prophet, he said to them, "Go away and leave me." Ibn `Abbas رضی اللہ عنہما used to say, "It was a great disaster that their difference and noise prevented Allah's Messenger (ﷺ) from writing that writing for them.
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ہشام نے خبر دی ‘ انہیں معمر نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں عبیداللہ بن عبداللہ نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت قریب آیا تو گھر میں بہت سے صحابہ موجود تھے ، جن میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بھی تھے اس وقت آپ نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس وقت آپ نے فرمایا کہ آؤ میں تمہارے لیے ایک ایسا مکتوب لکھ دوں کہ اس کے بعد تم کبھی گمراہ نہ ہو ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تکلیف میں مبتلا ہیں ‘ تمہارے پاس اللہ کی کتاب ہے اور یہی ہمارے لیے کافی ہے ۔ گھر کے لوگوں میں بھی اختلاف ہو گیا اور آپس میں بحث کرنے لگے ۔ ان میں سے بعض نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ( لکھنے کا سامان ) کر دو ۔ وہ تمہارے لیے ایسی چیز لکھ دیں گے کہ اس کے بعد تم گمراہ نہیں ہو گے اور بعض نہ وہی بات کہی جو عمر رضی اللہ عنہ کہہ چکے تھے ۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوگ اختلاف وبحث زیادہ کرنے لگے تو آپ نے فرمایا کہ میرے پاس سے ہٹ جاؤ ۔ عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کہا کرتے تھے کہ سب سے بھاری مصیبت تو وہ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور اس نوشت لکھوانے کے درمیان حائل ہوئے ‘ یعنی جھگڑا اور شور ۔ ( والخیر فیما وقع ) ۔
Narrated Ata:
I heard Jabir bin `Abdullah رضی اللہ عنہ in a gathering saying, "We, the companions of Allah's Messenger (ﷺ) assumed the state of Ihram to perform only Hajj without `Umra." Jabir رضی اللہ عنہ added, "The Prophet (ﷺ) arrived (at Mecca) on the fourth of Dhul-Hijja. And when we arrived (in Mecca) the Prophet (ﷺ) ordered us to finish the state of Ihram, saying, "Finish your lhram and go to your wives (for sexual relation)." Jabir رضی اللہ عنہ added, "The Prophet did not oblige us (to go to our wives) but he only made that legal for us. Then he heard that we were saying, "When there remains only five days between us and the Day of `Arafat he orders us to finish our Ihram by sleeping with our wives in which case we will proceed to `Arafat with our male organs dribbling with semen?' (Jabir رضی اللہ عنہ pointed out with his hand illustrating what he was saying). Allah's Messenger (ﷺ) stood up and said, 'You (People) know that I am the most Allah-fearing, the most truthful and the best doer of good deeds (pious) from among you. If I had not brought the Hadi with me, I would have finished my Ihram as you will do, so finish your Ihram. If I had formerly known what I came to know lately, I would not have brought the Hadi with me.' So we finished our Ihram and listened to the Prophet (ﷺ) and obeyed him." (See Hadith No. 713, Vol. 2)
ہم سے مکی بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ ان سے ابن جریج نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء نے بیان کیا ‘ ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے ( دوسری سند ) حضرت امام ابوعبداللہ بخاری نے کہا کہ محمد بن بکر برقی نے بیان کیا ‘ان سے ابن جریج نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھے عطاء نے خبر دی ‘
انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ اس وقت اور لوگ بھی ان کے ساتھ تھے ‘ انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خالص حج کا احرام باندھا اس کے ساتھ عمرہ کا نہیں باندھا ۔ عطاء نے بیان کیا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ۴ذی الحجہ کی صبح کو آئے اور جب ہم بھی حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم حلال ہو جائیں اور آپ نے فرمایا کہ حلا ل ہو جاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ ۔ عطاء نے بیان کیا اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے کہ ان پر یہ ضروری نہیں قرار دیا بلکہ صرف حلال کیا ‘پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ ہم میں یہ بات ہو رہی ہے کہ عرفہ پہنچنے میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور پھر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اپنی عورتوں کے پاس جانے کا حکم دیا ہے ‘ کیا ہم عرفات اس حالت میں جائیں کہ مذی یا منی ہمارے ذکر سے ٹپک رہی ہو ۔ عطاء نے کہا کہ جابر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ اس طرح مذی ٹپک رہی ہو ‘ اس کو ہلا یا ۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا ‘ تمہیں معلوم ہے کہ میں تم میں اللہ سے سب سے زیادہ ڈرنے والا ہوں ‘ تم میں سب سے زیادہ سچا ہوں اور سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میرے پاس ہدی ( قربانی کا جانور ) نہ ہوتا تو میں بھی حلال ہو جاتا ‘ پس تم بھی حلال ہو جاؤ ۔ اگر مجھے وہ بات پہلے سے معلوم ہو جاتی جو بعد میں معلوم ہوئی تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا ۔ چنانچہ ہم حلال ہو گئے اور ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی اور آپ کی اطاعت کی ۔
Narrated `Abdullah Al Muzam:
The Prophet (ﷺ) said, "Perform (an optional) prayer before Maghrib prayer." (He repeated it thrice) and the third time he said, "Whoever wants to offer it can do so," lest the people should take it as a Sunna (tradition). (See Hadith No. 277, Vol. 2)
ہم سے ابو معمر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبدالوارث بن سعید نے بیان کیا ‘ ان سے حسین بن ذکوان معلم نے ‘ ان سے عبیداللہ بن بریدہ نے ‘ کہا مجھ سے عبداللہ بن مغفل مزنی نے بیان کیا
ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مغرب کی نماز سے پہلے بھی نماز پڑھو اور تیسری مرتبہ میں فرمایا کہ جس کا جی چاہے کیونکہ آپ پسند نہیں کرتے تھے کہ اسے لوگ لازمی سنت بنا لیں ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
After the slanderers had given a forged statement against her, Allah's Messenger (ﷺ) called `Ali bin Abi Talib and Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ when the Divine Inspiration was delayed. He wanted to ask them and consult them about the question of divorcing me. Usama رضی اللہ عنہ gave his evidence that was based on what he knew about my innocence, but `Ali رضی اللہ عنہ said, "Allah has not put restrictions on you and there are many women other than her. Furthermore you may ask the slave girl who will tell you the truth." So the Prophet (ﷺ) asked Barira (my salve girl), "Have you seen anything that may arouse your suspicion?" She replied, "I have not seen anything more than that she is a little girl who sleeps, leaving the dough of her family (unguarded) that the domestic goats come and eat it." Then the Prophet (ﷺ) stood on the pulpit and said, "O Muslims! Who will help me against the man who has harmed me by slandering my wife? By Allah, I know nothing about my family except good." The narrator added: Then the Prophet (ﷺ) mentioned the innocence of `Aisha رضی اللہ عنہا . Abu Osama has also reported the same from Hisham.
ہم سے عبد العزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابراہیم بن سعد نے ‘ ان سے صالح بن کیسان نے ‘ ان سے ابن شہاب نے ‘ کہا کہ مجھ سے عروہ بن مسیب اور علقمہ بن وقاص اور عبیداللہ بن عبداللہ نے بیان کیا اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہ
جب تہمت لگا نے والوں نے ان پر تہمت لگائی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی بن ابی طالب ‘ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کو بلایا کیونکہ اس معاملہ میں وحی اس وقت تک نہیں آئی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہل خانہ کو جدا کرنے کے سلسلہ میں ان سے مشورہ لینا چاہتے تھے تو اسامہ رضی اللہ عنہ نے وہی مشورہ دیا جو انہیں معلوم تھا یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اہل خانہ کی برات کا لیکن علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر کوئی پابندی تو عائد نہیں کی ہے اور اس کے سوا اور بہت سی عورتیں ہیں ‘ باندی سے آپ دریافت فر ما لیں ‘ وہ آپ سے صحیح بات بتادے گی ۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم نے کوئی ایسی بات دیکھی ہے جس سے شبہ ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اس کے سوا اور کچھ نہیں دیکھا کہ وہ کم عمر لڑکی ہیں ‘ آٹا گوندھ کر بھی سو جاتی ہیں اور پڑوس کی بکری آ کر اسے کھا جاتی ہے ( یعنی کم عمری کی وجہ سے مزاج میں بے پروائی ہے ) اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور فرمایا ‘ اے مسلمانو ! میرے معاملے میں اس سے کون نمٹے گا جس کی اذیتیں اب میرے اہل خانہ تک پہنچ گئی ہیں ۔ اللہ کی قسم ! میں نے ان کے بارے میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں جانا ہے ۔ پھر آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کی پاک دامنی کاقصہ بیان کیا اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے بیان کیا ۔
Narrated Aisha رضی اللہ عنہا :
Allah's Messenger (ﷺ) addressed the people, and after praising and glorifying Allah, he said, "What do you suggest me regarding those people who are abusing my wife? I have never known anything bad about her." The sub-narrator, `Urwa, said: When `Aisha رضی اللہ عنہا was told of the slander, she said, "O Allah's Apostle! Will you allow me to go to my parents' home?" He allowed her and sent a slave along with her. An Ansari man said, "Subhanaka! It is not right for us to speak about this. Subhanaka! This is a great lie!"
ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن زکریا نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے عروہ اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطاب کیا اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا ‘ تم مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دیتے ہو جو میرے اہل خانہ کو بد نام کرتے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں مجھے کوئی بری بات کبھی نہیں معلوم ہوئی ۔ عروہ سے روایت ہے ‘ انہوں نے ہم سے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو جب اس واقعہ کا علم ہوا ( کہ کچھ لوگ انہیں بد نام کر رہے ہیں ) تو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ ! کیا مجھے آپ اپنے والد کے گھر جانے کی اجازت دیں گے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دی اور ان کے ساتھ غلام کو بھیجا ۔ انصار میں سے ایک صاحب ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا سبحانک مایکون لنا ان نتکلم بھذا سبحانک ھذا بھتان عظیم تیری ذات پاک ہے اے اللہ ! ہمارے لیے مناسب نہیں کہ ہم اس طرح کی باتیں کریں تیری ذات پاک ہے ‘یہ تو بہت بڑا بہتان ہے ۔