Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
The Jews brought a man and a woman who had committed illegal sexual intercourse, to the Prophet (ﷺ) and the Prophet (ﷺ) ordered them to be stoned to death, and they were stoned to death near the mosque where the biers used to be placed.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو ضمرہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یہودی ایک مرد اور ایک عورت کو لے کر آئے جنہوں نے زنا کیا تھا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے رجم کا حکم دیا اور انہیں مسجد کی ایک جگہ کے قریب رجم کیا گیا جہاں جنازے رکھے جاتے ہیں ۔
Narrated Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Mountain of Uhud came in sight of Allah's Messenger (ﷺ) who then said, "This is a mountain that loves us and is loved by us. O Allah! Abraham made Mecca a sanctuary and I make the area between its (Medina's) two mountains a sanctuary." Hadrat Sehl رضی اللہ عنہ has also reported from the prophet ﷺ the same about mount Ohud.
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے مطلب کے مولیٰ عمرونے اور ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ
احد پہاڑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( راستے میں ) دکھائی دیا تو آپ نے فرمایا کہ یہ وہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں ۔ اے اللہ ! ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں تیرے حکم سے اس کے دونوں پتھریلے کناروں کے درمیانی علاقہ کو حرمت والا قرار دیتا ہوں ۔ اس روایت کی متابعت سہل رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے احد کے متعلق کی ہے ۔
Narrated Sahl رضی اللہ عنہ :
The distance between the pulpit and the wall of the mosque on the side of the Qibla was just sufficient for a sheep to pass through.
ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابو غسان نے بیان کیا ‘ کہا مجھ سے ابوحازم نے بیان کیا ‘ ان سے سہل رضی اللہ عنہ نے کہ
مسجدنبوی کی قبلہ کی طرف دیوار اور منبر کے درمیان بکریوں کے گزرنے جتنا فاصلہ تھا ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Between my house and my pulpit there is a garden from one of the gardens of Paradise, and my pulpit is over my Lake-Tank. (Kauthar);
ہم سے عمر بن علی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے مالک نے بیان کیا ‘ ان سے خبیب بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا ‘ ان سے حفص بن عاصم نے بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ‘ میرے حجرہ اور میرے منبر کے درمیان کی زمین جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے اور میرا یہ منبر میرے حوض پر ہو گا ۔
Narrated `Abdullah رضی اللہ عنہ :
"The Prophet (ﷺ) arranged for a horse race, and the prepared horses were given less food for a few days before the race to win the race, and were allowed to run from Al-Hafya to Thaniyat-al- Wada`, and the unprepared horses were allowed to run between Thaniyat-al-Wada` and the mosque of Bani Zuraiq," `Abdullah رضی اللہ عنہ was one of those who participated in the race.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے جویریہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کی دوڑ کرائی اور وہ گھوڑے چھوڑے گئے جو گھوڑ دوڑ کیلئے تیار کئے گئے تھے تو ان کے دوڑ نے کا میدان مقام حفیاء سے ثنیۃ الوداع سے مسجد بنی زریق تک تھا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ بھی ان لوگوں میں تھے جنہوں نے مقابلے میں حصہ لیا تھا ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
I heard `Umar رضی اللہ عنہ (delivering a sermon) on the pulpit of the Prophet.
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا ‘ ان سے لیث نے ‘ ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ( دوسری سند ) اور مجھ سے اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم کو عیسیٰ اور ابن ادریس نے خبر دی اور ابن ابی غنیہ نے خبر دی ‘ انہیں ابو حیان نے ‘ انہیں شعبی نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ
میں نے عمر رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ( خطبہ دیتے ) سنا ۔
Narrated As-Sa'ib bin Yazid:
He heard `Uthman bin `Affan رضی اللہ عنہ delivering a sermon on the pulpit of the Prophet ﷺ.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سائب بن یزید نے خبر دی ‘
انہوں نے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر سے ہمیں خطاب کر رہے تھے ۔
Narrated `Aisha رضی اللہ عنہا :
This big copper vessel used to be put for me and Allah's Messenger (ﷺ) and we would take water from it together (on taking a bath) .
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عبد الاعلیٰ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ہشام بن حسان نے بیان کیا ‘ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے والد نے کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ
میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے یہ لگن رکھی جاتی تھی اور ہم دونوں اس سے ایک ساتھ نہاتے تھے ۔
Narrated Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) brought the Ansar and the Quraish people into alliance in my house at Medina, and he invoked Allah for one month against the tribe of Bani Sulaim in (the last rak`a of each compulsory) prayer.
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عباد بن عباد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے عاصم الاحوال نے بیان کیا اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار اور قریش کے درمیان میرے اس گھر میں بھائی چارہ کرایا جو مدینہ منورہ میں ہے ۔ اور آپ نے قبائل بنی سلیم کے لیے ایک مہینہ تک دعائے قنوت پڑھی جس میں ان کے لیے بددعا کی ۔
Narrated Abu Burda رضی اللہ عنہ :
When I arrived at Medina, `Abdullah bin Salam رضی اللہ عنہ met me and said to me, "Accompany me to my house so that I may make you drink from a bowl from which Allah's Messenger (ﷺ) used to drink, and that you may offer prayer in the mosque in which the Prophet (ﷺ) used to pray." I accompanied him, and he made me drink Sawiq and gave me dates to eat, and then I prayed in his mosque.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا ’کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے برید نے بیان کیا ‘ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
میں مدینہ منورہ آیا اور عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے میری ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ گھر چلو تو میں تمہیں اس پیالہ میں پلاؤں گا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا تھا اور پھر ہم اس نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھیں گے جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی تھی ۔ چنانچہ میں ان کے ساتھ گیا اور انہوں نے مجھے ستو پلا یا اور کھجور کھلائی اور میں نے ان کے نماز پڑھنے کی جگہ نماز پڑھی ۔
Narrated `Umar رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said to me, "Someone came to me tonight from my Lord while I was in the 'Aqiq (valley), and said to me, "Offer prayer in this blessed valley and say: 'Labbaik' for the (performance of) `Umra and Hajj." Haroon bin Ismail states that Ali bin Mubarak has narrated to us the phrase: ''عُمْرَةٌ فِي حَجَّةٍ'' Umrah in Hajj.
ہم سے سعید بن ربیع نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے علی بن مبارک نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن کثیر نے ‘ ان سے عکرمہ نے بیان کیا ‘ ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اور ان سے عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
مجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس رات ایک میرے رب کی طرف سے آنے والا آیا ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت وادی عقیق میں تھے اور کہا کہ اس مبارک وادی میں نماز پڑھئے اور کہئے کہ عمرہ اور حج ( کی نیت کرتا ہوں ) اور ہارون بن اسماعیل نے بیان کیا کہ ہم سے علی نے بیان کیا ( ان الفاظ کے ساتھ ) ” عمرۃ فی حجۃ “ ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
"The Prophet (ﷺ) fixed Qarn as the Miqat (for assuming the Ihram) for the people of Najd, and Al-Juhfa for the people of Sham, and Dhul-Hulaifa for the people of Medina." Ibn `Umar added, "I heard this from the Prophet, and I have been informed that the Prophet (ﷺ) said, 'The Miqat for the Yemenites is Yalamlam.' "When Iraq was mentioned, he said, "At that time it was not a Muslim country."
ہم سے محمد بن یوسف نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل نجد کے لیے مقام قرن ‘ حجفہ کو اہل شام کے لیے اور ذوالحلیفہ کو اہل مدینہ کے لیے میقات مقرر کیا ۔ بیان کیا کہ میں نے یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا اور مجھے معلوم ہوا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اہل یمن کے لیے یلملم ( میقات ) ہے اور عراق کا ذکر ہوا تو انہوں نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں عراق نہیں تھا ۔
Narrated `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہما :
The Prophet (ﷺ) had a dream in the last portion of the night when he was sleeping at Dhul-Hulaifa. (I n the dream) it was said to him, "You are in a blessed Batha' (i.e., valley).
ہم سے عبدالرحمٰن بن مبارک نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے فضیل نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا ‘ ان سے سالم بن عبداللہ نے ‘ ان سے ان کے والد عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کہ آپ مقام ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کئے ہوئے تھے ‘ خواب دکھایا گیا اور کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں ۔
Narrated Ibn `Umar رضی اللہ عنہما :
He heard the Prophet, after raising his head from the bowing in morning prayer, saying, "O Allah, our Lord! All the praises are for you." And in the last (rak`a) he said, "O Allah! Curse so-and-so and so--and-so." And then Allah revealed:-- 'Not for you (O Muhammad) is the decision, (but for Allah), whether He turns in mercy to them or punish them, for they are indeed wrongdoers.' (3.128)
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی ‘ کہا ہم کو معمر نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں سالم نے اور انہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ‘
انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز میں یہ دعا رکوع سے سر اٹھانے کے بعد پڑھتے تھے کہ ” اے اللہ ! ہمارے رب تیرے ہی لیے تمام تعریفیں ہیں ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ‘ اے اللہ ! فلاں اور فلاں کو اپنی رحمت سے دور کر دے “ اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل کی کہ آپ کو اس معاملہ میں کوئی اختیار نہیں ہے یا اللہ ! ان کی توبہ قبول کر لے یا انہیں عذاب دے کہ بلاشبہ وہ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں ۔
Narrated `Ali bin Abi Talib رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) came to him and Fatima the daughter of Allah's Messenger (ﷺ) at their house at night and said, "Won't you pray?" `Ali رضی اللہ عنہ replied, "O Allah's Messenger (ﷺ)! Our souls are in the Hands of Allah and when he wants us to get up, He makes us get up." When `Ali رضی اللہ عنہ said that to him, Allah's Messenger (ﷺ) left without saying anything to him. While the Prophet (ﷺ) was leaving, `Ali heard him striking his thigh (with his hand) and saying, "But man is quarrelsome more than anything else." (18.54) He (Imam Bukhari said) Who so comes to you at night is Tariq. Tariq is also a star. ''وَالثَّاقِبُ '' means: Luminous. It is said to the fire-maker ''أَثْقِبْ نَارَكَ'' i.e. make your fire.
ہم سے ابو الیمان نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو شعیب نے خبر دی ( دوسری سند ) امام بخاری نے کہا کہ اور مجھ سے محمد بن سلام بیکندی نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو عتاب بن بشیر نے خبر دی ‘ انہیں اسحاق ابن ابی راشد نے ‘ انہیں زہری نے ‘ انہیں زین العابدین علی بن حسین رضی اللہ عنہ نے خبر دی اور انہیں ان کے والد حسین بن علی رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ان کے اور فاطمہ بنت رسول اللہ علیم السلام والصلٰوۃ کے گھر ایک رات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ تم لوگ تہجد کی نماز نہیں پڑھتے ۔ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا ‘ یا رسول اللہ ! ہماری جانیں اللہ کے ہاتھ میں ہیں پس جب وہ ہمیں اٹھانا چاہے تو ہم کو اٹھا دے گا ۔ جوں ہی میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہا تو آپ پیٹھ موڑ کر واپس جانے لگے اور کوئی جواب نہیں دیا لیکن واپس جاتے ہوئے آپ اپنی ران پر ہاتھ مار رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ ” اور انسان بڑا ہی جھگڑالو ہے “ اگر کوئی تمہارے پاس رات میں آئے تو ” طارق “ کہلائے گا اور قرآن میں جو ” والطارق “ کا لفظ آیا ہے اس سے مراد ستارہ ہے اور ” ثاقب “ بمعنی چمکتا ہوا ۔ عرب لوگ آگ جلانے والے سے کہتے ہیں ۔ اثقب نارک یعنی آگ روشن کر ۔ اس سے لفظ ثاقب ہے ۔
Narrated Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
While we were in the mosque, Allah's Messenger (ﷺ) came out and said, "Let us proceed to the Jews." So we went out with him till we came to Bait-al-Midras. The Prophet (ﷺ) stood up there and called them, saying, "O assembly of Jews! Surrender to Allah (embrace Islam) and you will be safe!" They said, "You have conveyed Allah's message, O Aba-al-Qasim" Allah's Messenger (ﷺ) then said to them, "That is what I want; embrace Islam and you will be safe." They said, "You have conveyed the message, O Aba-al- Qasim." Allah's Messenger (ﷺ) then said to them, "That is what I want," and repeated his words for the third time and added, "Know that the earth is for Allah and I want to exile you from this land, so whoever among you has property he should sell it, otherwise, know that the land is for Allah and His Apostle."
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ ان سے لیث بن سعد نے بیان کیا ‘ ان سے سعید مقبری نے ‘ ان سے ان کے والد ابوسعید کیسان نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
ہم مسجدنبوی میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور فرمایا یہودیوں کے پاس چلو ۔ چنانچہ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوئے ۔ جب ہم ان کے مدرسہ تک پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر انہیں آوازدی اور فرمایا اے یہودیو ! اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے ۔ اس پر یہودیوں نے کہا کہ ابوالقاسم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کا حکم پہنچا دیا ۔ راوی نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ ان سے فرمایا کہ یہی میرا مقصد ہے ‘ اسلام لاؤ تو تم سلامت رہو گے ۔ انہوں نے کہا ابوالقاسم ! آپ نے پیغام خدا پہنچا دیا ۔ پھر آپ نے یہی بات تیسری بار کہی اور فرمایا ‘ جان لو کہ ساری زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ تمہیں اس جگہ سے باہر کر دوں ۔ پس تم میں سے جو کوئی اپنی جائیداد کے بدلے میں کوئی قیمت پاتا ہو تو اسے بیچ لے ورنہ جان لو کہ زمین اللہ اور اس کے رسول کی ہے ۔ ( تم کو یہ شہر چھوڑ نا ہو گا ) ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger (ﷺ) said, "Noah will be brought (before Allah) on the Day of Resurrection, and will be asked, 'Did you convey the message of Allah?" He will reply, 'Yes, O Lord.' And then Noah's nation will be asked, 'Did he (Noah) convey Allah's message to you?' They will reply, 'No warner came to us.' Then Noah will be asked, 'Who are your witnesses?' He will reply. '(My witnesses are) Muhammad and his followers.' Thereupon you (Muslims) will be brought and you will bear witness." Then the Prophet (ﷺ) recited: 'And thus We have made of you (Muslims) a just and the best nation, that you might be witness over the nations, and the Apostle a witness over you.' (2.143). Hadrat Abu Saeed رضی اللہ عنہ has reported similarly from the prophet ﷺ.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوصالح ( ذکوان ) نے بیان کیا ‘ ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قیامت کے دن نوح علیہ السلام کو لایا جائے گا اور ان سے پوچھا جائے گا ‘ کیا تم نے اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ عرض کریں گے کہ ہاں اے رب ! پھر ان کی امت سے پوچھا جائے گا کہ کیا انہوں نے تمہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا ؟ وہ کہیں گے کہ ہمارے پاس کوئی ڈرانے والا نہیں آیا ۔ اللہ تعالیٰ حضرت نوح علیہ السلام سے پوچھے گا ‘ تمہارے گواہ کون ہیں ؟ نوح علیہ السلام عرض کریں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی امت پھر تمہیں لایا جائے گا اور تم لوگ ان کے حق میں شہادت دو گے ‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی ” اور اسی طرح ہم نے تمہیں درمیانی امت بنایا “ کہا کہ وسط بمعنی عدل ( میانہ رو ) ہے ‘ تاکہ تم لوگوں کے لیے گواہ بنو اور رسول تم پر گواہ بنے ۔ اسحاق بن منصور سے جعفر بن عون نے روایت کیا ‘ کہا ہم سے اعمش نے بیان کیا ‘ ان سے ابوصالح نے ‘ ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حدیث بیان فرمائی ۔
Narrated Abu Sa`id Al-Khudri and Abu Huraira رضی اللہ عنہما :
Allah's Messenger (ﷺ) sent the brother of the tribe of Bani Adi Al-Ansari as governor of Khaibar. Then the man returned, bringing Janib (a good kind of date). Allah's Messenger (ﷺ) asked him, "Are all the dates of Khaibar like that?" He replied, "No, by Allah, O Allah's Messenger (ﷺ)! We take one Sa' of these (good) dates for two Sas of mixed dates." Allah's Messenger (ﷺ) then said, "Do not do so. You should either take one Sa of this (kind) for one Sa' of the other; or sell one kind and then buy with its price the other kind (of dates), and you should do the same in weighing."
ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا ‘ ان سے ان کے بھائی ابوبکرنے بیان کیا ‘ ان سے سلیمان بن بلال نے بیان کیا ‘ ان سے عبد المجید بن سہیل بن عبدالرحمٰن بن عوف نے بیان کیا ‘ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ‘ وہ ابو سعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی عدی الانصاری کے ایک صاحب سودابن عزیہ کو خیبر کا عامل بنا کر بھیجا تو وہ عمدہ قسم کی کھجور وصول کر کے لائے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ ! اللہ کی قسم ! ہم ایسی ایک صاع کھجور دو صاع ( خراب ) کھجور کے بدلے خرید لیتے ہیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایسا نہ کیاکرو بلکہ ( جنس کو جنس کے بدلے ) برابر برابر میں خریدو ‘ یا یوں کروں کہ ردی کھجور نقدی بیچ ڈالو پھر یہ کھجور اس کے بدلے خرید لو ‘ اسی طرح ہر چیز کو جو تول کر بکتی ہے اس کا حکم ان ہی چیزوں کا ہے جو ناپ کر بکتی ہیں ۔
Narrated `Amr bin Al-`As رضی اللہ عنہ :
He heard Allah's Messenger (ﷺ) saying, "If a judge gives a verdict according to the best of his knowledge and his verdict is correct (i.e. agrees with Allah and His Apostle's verdict) he will receive a double reward, and if he gives a verdict according to the best of his knowledge and his verdict is wrong, (i.e. against that of Allah and His Apostle) even then he will get a reward ." Then I (Yazeed bin Abdullah) narrated this Hadith to Abu Bakr bin Hazim, so he said: Abu Salamah has reported it from Hadrat Abu Hurairah رضی اللہ عنہ likewise. Hadrat Abu Salamah رضی اللہ عنہ has reported from the prophet ﷺ like it.
ہم سے عبداللہ بن یزید مقری مکی نے بیان کیا ‘ انہوں نے کہا ہم سے حیوہ بن شریح نے بیان کیا ‘ انہوں نے مجھ سے یزید بن عبداللہ بن الہاد نے بیان کیا ‘ ان سے محمد بن ابراہیم بن الحارث نے ‘ ان سے بسر بن سعید نے ‘ ان سے عمرو بن العاص کے مولیٰ ابو قیس نے ‘ ان سے عمر بن العاص رضی اللہ عنہ نے
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ‘ آپ نے فرمایا کہ جب حاکم کوئی فیصلہ اپنے اجتہاد سے کرے اور فیصلہ صحیح ہو تو اسے دہرا ثواب ملتا ہے اور جب کسی فیصلہ میں اجتہاد کرے اور غلطی کر جائے تو اسے اکہرا ثواب ملتا ہے ( اجتہاد کا ) بیان کیا کہ پھر میں نے یہ حدیث ابوبکر بن عمر وبن حزم سے بیان کی تو انہوں نے بیان کیا کہ مجھ سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے اسی طرح بیان کیا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ۔ اور عبد العزیز بن المطلب نے بیان کیا ‘ ان سے عبداللہ بن ابی ابکرنے بیان کیا ‘ ان سے ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح بیان فرمایا ۔
Narrated 'Ubaid bin `Umar:
Abu Musa رضی اللہ عنہ asked permission to enter upon `Umar رضی اللہ عنہ , but seeing that he was busy, he went away. `Umar رضی اللہ عنہ then said, "Didn't I hear the voice of `Abdullah bin Qais? Allow him to come in." He was called in and `Umar رضی اللہ عنہ said to him, "What made you do what you did." He replied, "We have been instructed thus by the Prophet" `Umar رضی اللہ عنہ said, "Bring proof (witness) for this, other wise I will do so-and-so to you." Then `Abdullah bin Qais went to a gathering of the Ansar who then said, "None but the youngest of us will give the witness for it." So Abu Sa`id Al-Khudri رضی اللہ عنہ got up and said, "We used to be instructed thus (by the Prophet)." `Umar رضی اللہ عنہ said, "This tradition of the Prophet (ﷺ) remained hidden from me. Business in the market kept me busy."
ہم سے مسدد بن مسر ہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے ابن جریج نے ‘ ان سے عطاء بن ابی رباح نے ‘ ان سے عبید بن عمیر نے بیان کیا کہ
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ سے ( ملنے کی ) اجازت چاہی اور یہ دیکھ کر کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مشغول ہیں آپ جلدی سے واپس چلے گئے ۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں ابھی عبداللہ بن قیس ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ ) کی آواز نہیں سنی تھی ؟ انہیں بلا لو ۔ چنانچہ انہیں بلا یاگیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ ایسا کیوں کیا ؟ ( جلدی واپس ہو گئے ) انہوں نے کہا کہ ہمیں حدیث میں اس کا حکم دیا گیا ہے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ ‘ ورنہ میں تمہارے ساتھ یہ ( سختی ) کروں گا ۔ چنانچہ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے انصار کی ایک مجلس میں گئے انہوں نے کہا کہ اس کی گواہی ہم میں سب سے چھوٹا دے سکتا ہے ۔ چنانچہ ابو سیعد خدری رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا کہ ہمیں دربار نبوی سے اس کا حکم دیا جاتا تھا ۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم مجھے معلوم نہیں تھا ‘ مجھے بازار کے کاموں خریدوفروخت نے اس حدیث سے غافل رکھا ۔