A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
When the Messenger of Allah (ﷺ) died, he was covered with a Yamani wrapper.
ہم سے زہیر بن حرب، حسن حلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا کہ یعقوب کون ہے؟ ہم سے میرے والد ابراہیم بن سعد نے روایت کی, صالح ( بن کیسان ) نے ابن شہاب ( زہری سے روایت کی ، انھیں ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے خبردی کہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو ئے تو آپ کو دھاری دار یمنی چادر سے ڈھا نپا گیا ۔
The same was narrated from Az-Zuhri with this chain.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں معمر اور شہاب نے ( ابن شہاب ) زہری سے اسی سند کے ساتھ بالکل اسی طرح حدیث روایت کی ۔
Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one day in the course of his sermon made mention of a person among his Companions who had died and had been wrapped in a shroud not long (enough to cover his whole body) and was buried during the night. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reprimanded (the audience) that a person was buried during the night (in a state that) funeral prayer could not be offered (over him by the Messenger of Allah). (And this is permissible only) when it becomes a dire necessity for a man. The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) also said: When any one of you shrouds his brother, he should shroud him well.
ہم سے ہارون بن عبداللہ اور حجاج بن شعر نے بیان کیا، کہا: ہم سے حجاج بن محمد نے بیان کیا، کہا: ابن جریج نے کہا: مجھے ابو الزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے سنا, حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کر تے ہیں کہ
ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا ، آپ نے اپنے اصحاب میں سے ایک آدمی کا تذکرہ فر ما یا جو فوت ہوا تو اس کو معمولی ( کپڑے میں ) کفن دیا گیا اور رات ہی کو دفن کر دیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی بھی آدمی کو رات کو دفن کرنے سے ڈانٹ کر روکا یہاں تک کہ اس کی ( شان شایان طریقے سے ) نماز جنازہ ادا کی جا ئے اولاًیہ کہ کو ئی انسان اس پر مجبور ہو جا ئے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جب تم میں سے کو ئی شخص اپنے بھا ئی کو کفن دے تو اسے اچھا کفن دے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Make haste at a funeral; if the dead person was good, it is a good state to which you are sending him on; but if he was otherwise it is an evil of which you are ridding yourselves.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے ابن عیینہ کی سند سے بیان کیا، ہم سے ابوبکر نے بیان کیا, سفیان بن عیینہ نے زہری سے انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فر ما یا جنا زے ( کو لے جا نے ) میں جلدی کرو ، اگر وہ ( میت ) نیک ہے تو جس کی طرف تم اس کو لے جا رہے ہو وہ خیرہے اگر وہ اس کے سوا ہے تو پھر وہ شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتاردو گے ۔
It was narrated from Abu Hurairah from the prophet ﷺ (a similar hadith as no. 2186) except that in the Hadith of Mamar it says:
"I know only that he attributed it to the prophet ﷺ.
مجھے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے عبد الرزاق کی سند سے بیان کیا,معمر اور محمد بن ابی حفصہ دو نوں نے زہری سے ، انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہی حدیث ) روایت کی ، لیکن معمر کی حدیث میں ہے انھوں نے کہا : میں اس کے سوا اور کچھ نہیں جا نتا کہ
انھوں ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اس حدیث کو مرفوع ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) بیان کیا ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger as saying: Hasten at a funeral, for if (the dead person) is good, you would (soon) bring him close to the good. And if it is otherwise, it is an evil of which you are ridding yourselves.
مجھ سے ابو الطاہر، ہرملہ بن یحییٰ اور ہارون بن سعید العیلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انہوں نے بیان کیا، اور دو نے کہا: ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، اور مجھے نص بن یزید نے بیان کیا۔ ابن شہاب کی روایت سے کہا: ابو امامہ بن سہل بن حنیف نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے : " جنا زے میں جلدی کرو اگر ( میت ) نیک ہے تو تم نے اسے بھلا ئی کے قریب کر دیا اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار دو گے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who attends the funeral till the prayer is offered for (the dead), for him is the reward of one qirat, and he who attends (and stays) till he is buried, for him is the reward of two qirats. It was said: What are the qirats? He said: They are equivalent to two huge mountains. Two other narrators added: Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ used to pray and then depart (without waiting for the burial of the dead). When the tradition of Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reached him, he said: We have lost many qirats.
ابو طا ہر حرملہ یحییٰ اور ہارون بن سعید ایلی ۔ ۔ ۔ اس روایت کے الفا ظ ہارون اور حرملہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ میں سے ہارون نے کہا : ہمیں حدیث سنا ئی اور دو سرے دو نوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، انھوں نے نے کہا : مجھے یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی کہا : مجھے عبد الرحمان بن ہر مزا عرج نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جو شخص جنا زے میں شریک رہا یہاں تک کہ نماز جنا زہ ادا کر لی گئی تو اس کے لیے ایک قیراط ہے اور جو اس ( جنازے ) میں شریک رہاحتیٰ کہ اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں ۔ "" پوچھا گیا : دو قیراط سے کہا مراد ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" دو بڑے پہاڑوں کے مانند ۔ ابو طا ہر کی حدیث یہاں ختم ہو گئی ۔ دوسرے دو اساتذہ نے اضافہ کیا : ابن شہاب نے کہا : سالم بن عبد اللہ بن عمرنے کہا : کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نماز جنازہ پڑھ کر لو ٹ آتے تھے جب ان کو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث پہنچی تو انھوں نے نے کہایقیناًہم نے بہت سے قیراطوں میں نقصان اٹھا یا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ through another chain of narrators up to these words:
Two great mountains. No mention is made of what followed (these words) ; and in the hadith transmitted by 'Abdul- A'la (the words are): till (the burial) is complete. In the hadith transmitted by 'Abdur-Razzaq (the words are): till he is placed in the grave.
اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبد الاعلیٰ اور عبد الررزاق نے معمر سے انھوں ںے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں ے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ روایت ) ان الفاظ
" دو عظیم پہاڑوں تک بیان کی اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا ۔ اور عبد لاعلیٰ کی حدیث میں ہے ۔ یہاں تک کہ اس ( کے دفن ) سے فراغت ہو جا ئے ۔ " اور عبد الررزاق کی حدیث میں ہے : " یہاں تک کہ اس کو لحد میں رکھ دیا جا ئے ۔
A hadith similar to that of Mamar (no. 2190) was narrated from Abu Hurirah from the prophet ﷺ, and he said:
"Whoever follows (the funeral) until (the deceased) is buried."
اور مجھ سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے میرے دادا کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سےعقیل بن خالد نے ابن شہاب سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : مجھے کئی لو گوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث سنا ئی اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جس طرح معمر کی حدیث ہے اور کہا
اور جو اس کو دفن کیے جا نے تک اس کے ساتھ رہا ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who offered prayer over the dead, but did not follow the bier, for him is the reward of one qirat, and he who followed it, for him is the reward of two qirats. It was asked what the qirats were. He said: The smaller amongst the two is equivalent to Uhud.
اور مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے بہز نے بیان کیا، مجھ سے وہیب نے بیان کیا, سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روا یت کی
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےفر ما یا : " جس نے نماز جنازہ ادا کی اور اس کے پیچھے ( قبر ستان ) نہیں گیا تو اس کے لیے ایک قیراط ( اجر ) ہے اور اگر وہ اس کے پیچھے گیا تو اس کے لیے دو قیراط ہیں ۔ پو چھا گیا : دو قیراط کیا ہیں؟ فر ما یا : " ان دو نوں میں سے چھوٹا اُحد پہاڑ کے مانند ہے ۔
Nafi' narrated that it was said to Ibn 'Umar that
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported to have heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who follows the bier, for him is the reward of one qirat. Ibn 'Umar said: Abu Huraira narrated it too often. So he sent (a messenger to) 'A'isha to ascertain (the fact). She ('A'isha) testified Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ . Ibn 'Umar said: We missed so many qirats.
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یزید بن کیسان نے بیان کیا, ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی
آپ نے فر ما یا : " جس نے نماز جنازہ ادا کی تو اس کے لیے قیراط ہے اور جو اس کے ساتھ گیا حتیٰ کہ اسے قبر میں اتاردیا گیا تو ( اس کے لیے ) دو قیراط ہیں ۔ ( ابو حازم نے ) کہا میں نے کہا : اے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ قیراط کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : احد پہاڑ کے مانند ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who offers prayer for the dead, for him is (the reward of) one qirat; and he who follows the bier till it is placed in the grave, for him (is the reward of) two qirats. I (Abu Hazim, one of the narrators) said: Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ , what is a qirat? He said: It is like the hill of Uhud.
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا، ان سے جریر نے، یعنی ہم سے ابن حازم نے بیان کیا۔نا فع نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا
" جو شخص جنازے کے پیچھے چلا تو اس کے لیے قیراط اجرہے اس پر ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں کثرت سے احادیث سنا ئی ہیں اس کے بعد انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پا س پیغا م بھیجا اور ان سے پو چھا تو انھوں نے حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق فر ما ئی اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یقیناً ہم نے بہت سے قیراطوں ( کے حصول ) میں کو تا ہی کی ۔
Dawud bin 'Amir bin Sa'd bin Abu Waqqas reported on the authority of his father:
While he was sitting along with 'Abdullah bin 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ , Khabbab رضی اللہ تعالیٰ عنہ , the owner of Maqsura, said: Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ , do you hear what Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ says that he heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) say: He who goes out with the bier when taken out from its residence and offers prayer for it and he then follows it till it is buried, he would have two qirats of reward, each qirat being equivalent to Uhud; and he who, after having offered prayer, (directly) came back would have his reward (as great) as Uhud ? Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ sent Khabbab to 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا in order to ask her about the words of Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ (and also told him) to come back to him (Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ) and inform him what 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said. (In the meanwhile) Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ took up a handful of pebbles and turned them over in his hand till the messenger (Khabbab) came back to him and told (him) that 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا testified (the statement of) Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ . Ibn 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ threw the pebbles he had in his hand on the ground and then said: We missed a large number of qirats.
مجھ سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، مجھ سے عبداللہ بن یزید نے بیان کیا، مجھ سے حیا نے بیان کیا، مجھ سے ابو صخر نے بیان کیا، ان سے یزید بن عبداللہ بن ق سیط نے بیان کیا کہ انہوں نے ان سے داودبن عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد ( عامر ) سے حدیث بیان کی کہ
وہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پا س بیٹھے ہو ئے تھے کہ صاحب مقصود خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آکر کہا : اے عبد اللہ بن عمر!کیا آپ نے ہمیں سنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا کہتے ہیں ؟ بلا شبہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا ہے ۔ جو شخص جنازے کے ساتھ اس کے گھر سے نکا اور اس کی نماز جنا زہ ادا کی پھر اس کے ساتھ رہا حتیٰ کے اس کو دفن کر دیا گیا تو اس کے لیے بطور اجر دو قیرا ط ہیں ہر قیراط اُحد ( پہاڑ ) کے مانند ہے اور جس نے اس کی نماز جنازہ اداکی اور لو ٹ آیا اس کا اجر احد پہاڑ جیسا ہے ( یہ بات سنکر ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خباب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس بھیجا ( تا کہ ) وہ ان سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے بارے میں دریافت دریافت کریں اور پھر واپس آکر ان کو بتا ئیں کہ انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کیا کہا ۔ ( اس دوران میں ) ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد کی کنکریوں سے ایک مٹھی بھرلی اور ان کواپنے ہاتھ میں الٹ پلٹ کرنے لگے یہاں تک کہ پیام رساں ان کے پاس واپس آگیا اس نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہاہے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا ہے اس پر ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ کنکریاں جو ان کے ہاتھ میں تھیں زمین پر دے ماریں پھر کہا یقیناًہم نے بہت قیراطوں ( کے حصول ) میں کو تا ہی کی ۔
Thauban, the freed slave of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who offered prayer for the dead, for him is the reward of one qirat, and he who attended its burial, he would have two qirats as his reward. And qirat is equivalent to Uhud.
اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن سعید نے بیان کیا, شعبہ نے کہا : ہمیں قتادہ نے سالم بن ابی جعد سے حدیث سنا ئی انھوں نے معدان ابن ابی طلحہ یعمری سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام ثوبان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس نے نماز جنا زہ پڑھی اس کے لیے ایک قیراط ہے اور اگر وہ اس کے دفن میں شامل ہوا تو اس کے لیے دو قیرا ط ہیں ( ایک ) قیرا ط احد ( پہاڑ ) کے ما نند ہے ۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters. And in the hadith transmitted by Sa'id and Hisham, (the words are):
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about qirat, and he said: It is equivalent to Uhud.
مجھ سے ابن بشار نے بیان کیا، معاذ بن ہشام سعید اور ابان نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ سابقہ حدیث کے مانند روایت کی سعید اور ہشام کی حدیث میں ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قیراط کے بارے میں دریافت کیا گیا تو آپ نے فر ما یا : " احد ( پہاڑ ) کے مانند ۔
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: If a company of Muslims numbering one hundred pray over a dead person, all of them interceding for him, their intercession for him will be accepted.
ہم سے حسن بن عیسیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن مبارک نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا اسلام بن ابی مطیع نے ایوب سے انھوں نے ابو قلابہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دودھ شریک بھا ئی عبداللہ بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کو ئی بھی ( مسلمان ) مرنے والا جس کی نماز جناز ہ مسلمانو کی ایک جماعت جن کی تعداد سو تک پہنچی ہو ادا کرے وہ سب اس کی سفارش کریں تو اس کے بارے میں ان کی سفارش قبول کر لی جا تی ہے ۔ ( سلام نے ) کہا میں نے یہ حدیث شعیب بن حجاب کو بیان کی تو انھوں نے کہا مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ۔
Abdullah bin 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
His son died in Qudaid or 'Usfan. He said to Kuraib to see as to how many people had gathered there for his (funeral). He (Kuraib) said: So I went out and I informed him about the people who had gathered there. He (Ibn 'Abbas رضی اللہ تعالیٰ عنہ) said: Do you think they are forty? He (Kuraib) said: Yes. Ibn 'Abbas then said to them: Bring him (the dead body) out for I have heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If any Muslim dies and forty men who associate nothing with Allah stand over his prayer (they offer prayer over him), Allah will accept them as intercessors for him.
ہارون بن معروف ہارون بن سعید ایلی اور ولید بن شجاع میں سے ولید نے کہا : مجھے حدیث سنا ئی اور دوسرے دو نوں نے کہا : ہمیں حدیث سنا ئی ابن وہب نے انھوں نے کہا : مجھے ابو صخر نے شر یک بن عبد اللہ بن ابی نمر سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م کریب سے اور انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت کی کہ
قدید یا عسفان میں ان کے ایک بیٹے کا انتقال ہو گیا تو انھوں نے کہا : کریب !دیکھو اس کے ( جنازے کے ) لیے کتنے لو گ جمع ہو چکے ہیں ۔ میں با ہر نکلا تو دیکھا کہ اس کی خا طر ( خاصے ) لو گ جمع ہو چکے ہیں تو میں نے ان کو اطلا ع دی ۔ انھوں نے پو چھا تو کہتے ہو کہ وہ چا لیس ہوں گے ؟ انھوں نے جواب دیا : ہاں ۔ تو انھوں نے فر ما یا : اس ( میت ) کو ( گھر سے ) باہر نکا لو کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فر ما تے ہو ئے سنا ہے : جو بھی مسلمان فوت ہو جا تا ہے اور اس کے جنا زے پر ( ایسے ) چالیس آدمی ( نماز ادا کرنے کے لیے ) کھڑے ہو جا تے ہیں جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہر اتے تو اللہ تعا لیٰ اس کے بارے میں ان کی سفارش کو قبول فر ما لیتا ہے ۔ ابن معروف کی روا یت میں ہے انھوں نے شریک بن ابی نمر سے انھوں نے کریب سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ ( اس سند میں شریک کے والد اور ابو نمر کے بیٹے عبد اللہ کا نام لیے بغیر داداکی طرف منسوب کرتے ہو ئے شریک بن ابی نمر کہا گیا ہے ۔ )
Anas bin Malik رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
There passed a bier (being carried by people) and it was lauded in good terms. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. 'Umar رضی اللہ تعالیٰ عنہ said: May my father and mother be ransom for you! There passed a bier and it was praised in good terms, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. And there passed a bier and it was condemned in bad words, and you said: It has become certain, it has become certain, it has become certain. Upon this the Messenger of Allah (way peace be upon him) said: He whom you praised in good terms, Paradise has become certain for him, and he whom you condemned in bad words, Hell has become certain for him. You are Allah's witnesses in the earth, you are Allah's witnesses in the earth, you are Allah's witnesses in the earth.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور علی بن حجر السعدی نے ابن اُلیّہ کی سند سے بیان کیا، اور لفظ میرا ہے حیا نے کہا، ہم سے ابن اُلیّہ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیاعبد العزیز بن صہیب نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
ایک جنازہ گزرا تو اس کی اچھی صفت بیان کی گئی اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ، اس کے بعد ایک اور جنازہ گزرا تو اس کی بری صفت بیان کی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی اس پرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ پر میرے ماں باپ فدا ہوں! ایک جنازہ گزرا اور اس کی اچھی صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا : " واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی ۔ ایک اور جنازہ گزرا اور اس کی بری صفت بیان کی گئی تو آپ نے فر ما یا واجب ہو گئی واجب ہو گئی واجب ہو گئی " ( اس کا مطلب کیا ہے؟ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کی تم لو گوں نےاچھی صفت بیان کی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی اور جس کی تم نے بری صفت بیان کی اس کے لیے آگ واجب ہو گئی تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو تم زمین میں اللہ کے گواہ ہو ۔
It was narrated that Anas said:
"A funeral passed by the Messenger of Allah ﷺ..." and he narrated a hadith similar to that of Abdul Aziz is more complete.
مجھ سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، مجھ سے حماد یعنی ابن زید نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن سلیمان نے بیان کیا۔ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا ۔ ۔ ۔ اس کے بعد انھوں نے انس سے عبد العزیز کی ( سابقہ ) حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی البتہ عبد العزیز کی حدیث زیادہ مکمل ہے ۔
Qatada bin Rib'i رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Whenever a bier passed before him, he said: He is the one to find relief and the one with (the departure of him) other will find relief. They said: Apostle of Allah, who is al-Mustarih and al-Mustarah? Upon this he said: The believing servant finds relief from the troubles of the world, and in the death of a wicked person, the people, towns, trees and animals find rellef.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, امام مالک بن انس نے محمد بن عمرو بن حلحلہ سے ، انھوں نے معبد بن کعب بن مالک سے اور انھوں نے حضرت قتادہ بن ربعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے ایک جنازہ گزرا تو آپ نے فر ما یا : " آرام پانے والا ہے یا اس سے آرام ملنے والا ہے ۔ انھوں ( صحابہ ) نے پو چھا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آرام پانے والا یا جس سے آرام ملنے والا ہے سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فر ما یا : " بندہ مومن دنیا کی تکا لیف سے آرام پا تا ہے اور فاجر بندے ( کے مرنے ) سے لو گ شہر درخت اور حیوانات آرام پاتے ہیں ۔