Abu'l-Hayyaj al-Asadi told that 'Ali (bin Abu Talib رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) said to him:
Should I not send you on the same mission as Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent me? Do not leave an image without obliterating it, or a high grave without levelling It.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے اس نے بیان کیا اور باقی دو نے کہا کہ وکیع نے سفیان سے ، انھوں نے حبیب بن ابی ثابت سے ، انھوں نے ابو وائل سے اور انھوں نے ابو الہیاج اسدی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا
کیا میں تمھیں اس ( مہم ) پر روانہ نہ کروں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے روانہ کیا تھا؟ ( وہ یہ ہے ) کہ تم کسی تصویر یا مجسمے کو نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا اور کسی بلند قبر کو نہ چھوڑنا مگر اسے ( زمین کے ) برابر کردینا ۔
This hadith has been reported by Habib with the same chain of transmitters and he said: (Do not leave) a picture without obliterating it.
مجھ سے ابوبکر بن خلاد باہلی نے بیان کیا, یحییٰ القطان نے کہا : ہمیں سفیان نے حبیب سے اسی سند کے ساتھ ( سابقہ حدیث کے مانند ) حدیث بیان کی اور انھوں نے ( لا تدع تمثالا الا طمسته کے بجائے ) ولا صورة الا طمستها ( کوئی تصویر نہ چھوڑنا مگر اسے مٹا دینا ) کہا ہے ۔
Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) forbade that the graves should be plastered or they be used as sitting places (for the people), or a building should be built over them.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, حفص بن غیاث نے ابن جریج سے ، انھوں نے ابو زبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس بات سے ) منع فرمایا کہ قبر پر چونا لگایا جائے اور اس پر بیٹھا جائے اور اس پر عمارت بنائی جائے ۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Jabir bin 'Abdullah رضی اللہ تعالیٰ عنہ .
مجھ سے ہارون بن عبداللہ نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا حجاج بن محمد اور عبدالرزاق نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔ ۔ ۔ آگے اس ( پچھلی حدیث ) کے مانند ہے ۔
Jabir رضی اللہ تعالیٰ عنہ said:
He was forbidden to plaster graves.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن علیہء نے بیان کیا, ایوب نے ابو زبیر سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
قبروں کوچونا لگانے سے منع کیا گیا ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: It is better that one of you should sit on live coals which would burn his clothing and come in contact with his skin than that he should sit on a grave.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا, جریر نے سہیل سے ، انہوں نے اپنے والد ( ابوصالح ) سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی انگارے پر ( اس طرح ) بیٹھ جائے کہ وہ اس کے کپڑوں کو جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے ، اس کے حق میں اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی قبر پر بیٹھے ۔ "
A hadith like this has been narrated by Suhail with the same chain of transmitters.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا عبدالعزیز اور سفیان دونوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت بیا ن کی ۔
Abu Marthad al-Ghanawi رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not sit on the graves and do not pray facing towards them.
مجھ سے علی بن حجر السعدی نے بیان کیا، ہم سے ولید بن مسلم نے بیان کیا، ابن جابر کی سند سے, بسر بن عبیداللہ نے حضرت و اثلہ ( بن اسقع بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قبروں پر نہ بیٹھو اور نہ ان کی طرف ( رخ کرکے ) نماز پڑھو ۔ "
Abu Marthad al-Ghanawi رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Do not pray facing towards the graves, and do not sit on them.
اور ہم سے حسن بن ربیع البجلی نے بیان کیا، ہم سے ابن المبارک نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن یزید نے، وہ بسر بن عبید اللہ کی سند سے, ابو ادریس خولانی نے حضرت و اثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اور حضرت ابو مرثد غنوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " قبروں کی طرف ( رخ کرکے ) نماز نہ پڑھو اور نہ ان پر بیٹھو ۔ "
Abbad bin 'Abdullah bin Zubair reported:
'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا ordered the bier of Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ تعالیٰ عنہ to be brought into the mosque so that she should pray for him. The people disapproved this (act) of hers. She said: How soon the people have forgotten that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) offered not the funeral prayer of Suhail bin al-Baida' رضی اللہ تعالیٰ عنہا but in a mosque.
مجھ سے علی بن حجر السعدی اور اسحاق بن ابراہیم الحنظلی نے بیان کیا، اور لفظ اسحاق کا ہے، علی نے کہا، انہوں نے ہم سے بیان کیا، اور انہوں نے کہا کہ ہمیں اسحاق نے خبر دی, عبدالعزیز بن محمد نے عبدالواحد بن حمزہ سے اور انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی کہ
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حکم دیا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد میں سے گزارا جائے ( تاکہ ) وہ بھی ان کا جنازہ ادا کرسکیں ۔ آپ کی بات پر لوگوں نے اعتراض کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : لوگ کس قدر جلد بھول گئے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( بدری صحابی ) سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نماز جنازہ مسجد ہی میں ادا کی تھی ۔
Abbad bin 'Abdullah bin Zubair reported on the authority of 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا :
When Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ تعالیٰ عنہ died, the wives of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent message to bring his bier into the mosque so that they should offer prayer for him. They (the participants of the funeral) did accordingly, and it was placed in front of their apartments and they offered prayer for him. It was brought out of the door (known as) Bab al-Jana'iz which was towards the side of Maqa'id, and the news reached them (the wives of the Holy Prophet) that the people bad criticised this (i. e. offering of funeral prayer in the mosque) saying that it was not desirable to take the bier inside the mosque. This was conveyed to 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہ. She said: How hastily the people criticise that about which they know little. They criticise us for carrying the bier in the mosque. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) offered not the funeral prayer of Suhail bin Baida' رضی اللہ تعالیٰ عنہ but in the innermost part of the mosque.
اور مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے بہز نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا,موسیٰ بن عقبہ نے عبدالواحد سے اور انھوں نے عباد بن عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ
جب حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ ان کے جنازے کو مسجد میں سے گزار کرلے جائیں تا کہ وہ بھی ان کی نماز جنازہ ادا کرسکیں تو انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے ایسا ہی کیا ، اس جنازے کو ان کے حجروں کے سامنے روک ( کررکھ ) دیا گیا ( تاکہ ) وہ نماز جنازہ پڑھ لیں ۔ ( پھر ) اس ( جنازے ) کو باب الجنائز سے ، جو مقاعد کی طرف ( کھلتا ) تھا ، باہر نکالا گیا ۔ اس کے بعد ان ( ازواج ) کو یہ بات پہنچی کہ لوگوں نے معیوب سمجھا ہے اور کہا ہے : جنازوں کو مسجد میں نہیں لایا جاتا تھا ۔ یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا تک پہنچی تو انھوں نے فرمایا : لوگوں نےاس کام کو معیوب سمجھنے میں کتنی جلدی کی جس کا انھیں علم نہیں!انھوں نے ہماری اس بات پر اعتراض کیا ہے کہ جنازہ مسجد میں لایاجائے ، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سہیل بن بیضاء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جنازہ مسجد کے اندر ہی پڑھا تھا ۔
Abu Salama bin 'Abdul-Rahman reported:
When Sa'd bin Abu Waqqas رضی اللہ تعالیٰ عنہ died 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا said: Bring it (the bier) into the mosque so that I offer prayer for him. But, this act of hers was disapproved. She said: By Allah, the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) offered prayer in the mosque for the two sons of Baida', viz, for Suhail and his brother.
مجھ سے ہارون بن عبداللہ اور محمد بن رافع نے بیان کیا، اور یہ قول ابن رافع سے ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابن ابی فدائک نے بیان کیا، اور ہم سے الضحاک نے بیان کیا، جس کا مطلب ہے کہ ابن عثمان نے ابو النضر کی سند سے بیان کیا, حضرت ابوسلمہ بن عبدالرحمن سے روایت ہے کہ
جب حضر ت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ان کو مسجد میں لاؤ تاکہ میں بھی انکی نماز جنازہ ادا کرسکوں ۔ ان کی اس بات پر اعتراض کیا گیا تو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دو بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی ( سہل ) رضوان اللہ عنھم اجمعین کا جنازہ مسجد میں ہی پڑھا تھا ۔
A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا reported:
(that whenever it was her turn for Allah's Messenger ﷺ to spend the night with her) he would go out towards the end of the night to al-Baqi' and say: Peace be upon you, abode of a people who are believers. What you were promised would come to you tomorrow, you receiving it after some delay; and God willing we shall join you. O Allah, grant forgiveness to the inhabitants of Baqi' al-Gharqad. Qutaiba did not mention his words: would come to you .
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی ، یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث سنائی ۔ ۔ ۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں حدیث سنائی ۔ ۔ ۔ اسماعیل بن جعفر نے شریک سے ، انھوں نے عطاء بن یسار سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے کہا
۔ ۔ ۔ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باری ان کے پاس ہوتی تو ۔ ۔ ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے آخری حصے میں بقیع ( کے قبرستان میں ) تشریف لے جاتے اور فرماتے : " اے ایمان رکھنے والی قوم کے گھرانے!تم پر اللہ کی سلامتی ہو ، کل کے بارے میں تم سے جس کا وعدہ کیا جاتا تھا ، وہ تم تک پہنچ گیا ۔ تم کو ( قیامت ) تک مہلت دے دی گئی اور ہم بھی ، اگر اللہ نے چاہا تم سے ملنے والے ہیں ۔ اے اللہ!بقیع غرقد ( میں رہنے ) والوں کو بخش دے ۔ " قتیبہ نے ( اپنی روایت ) میں " واتاكم " ( تم تک پہنچ گیا ) نہیں کہا ۔ ۔ ۔
Muhammad bin Qais said (to the people):
Should I not narrate to you (a hadith of the Holy Prophet) on my authority and on the authority of my mother? We thought that he meant the mother who had given him birth. He (Muhammad b. Qais) then reported that it was 'A'isha رضی اللہ تعالیٰ عنہا who had narrated this: Should I not narrate to you about myself and about the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم )? We said: Yes. She said: When it was my turn for Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) to spend the night with me, he turned his side, put on his mantle and took off his shoes and placed them near his feet, and spread the corner of his shawl on his bed and then lay down till he thought that I had gone to sleep. He took hold of his mantle slowly and put on the shoes slowly, and opened the door and went out and then closed it lightly. I covered my head, put on my veil and tightened my waist wrapper, and then went out following his steps till he reached Baqi'. He stood there and he stood for a long time. He then lifted his hands three times, and then returned and I also returned. He hastened his steps and I also hastened my steps. He ran and I too ran. He came (to the house) and I also came (to the house). I, however, preceded him and I entered (the house), and as I lay down in the bed, he (the Holy Prophet) entered the (house), and said: Why is it, O 'A'isha, that you are out of breath? I said: There is nothing. He said: Tell me or the Subtle and the Aware would inform me. I said: Messenger of Allah, may my father and mother be ransom for you, and then I told him (the whole story). He said: Was it the darkness (of your shadow) that I saw in front of me? I said: Yes. He gave me a nudge on the chest which I felt, and then said: Did you think that Allah and His Apostle would deal unjustly with you? She said: Whatsoever the people conceal, Allah will know it. He said: Gabriel came to me when you saw me. He called me and he concealed it from you. I responded to his call, but I too concealed it from you (for he did not come to you), as you were not fully dressed. I thought that you had gone to sleep, and I did not like to awaken you, fearing that you may be frightened. He (Gabriel) said: Your Lord has commanded you to go to the inhabitants of Baqi' (to those lying in the graves) and beg pardon for them. I said: Messenger of Allah, how should I pray for them (How should I beg forgiveness for them)? He said: Say, Peace be upon the inhabitants of this city (graveyard) from among the Believers and the Muslims, and may Allah have mercy on those who have gone ahead of us, and those who come later on, and we shall, God willing, join you.
مجھ سے ہارون بن سعید العیلی نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا عبداللہ بن وہب نے ہمیں حدیث سنائی اور کہا : ابن جریج نے عبداللہ بن کثیر بن مطلب سے روایت کی ، انھوں نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب ( المطلبی ) کو کہتے ہوئے سنا کہ ,میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ حدیث بیان کررہی تھیں ، انھوں نے کہا : کیا میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اپنی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟ہم نے کہا : کیوں نہیں ۔ ۔ ۔ اور حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی ، کہا : قریش کے ایک فرد عبداللہ نے محمد بن قیس بن مخرمہ بن مطلب سے روایت کی کہ
ایک دن انھوں نے کہا؛کیا میں تمھیں اپنی اور اپنی ماں کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟کہا : ہم نے سمجھا کہ ان کی مراد اپنی اس ماں سے ہے جس نے انھیں جنم دیا ( لیکن انھوں نے ) کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : کیا میں تمھیں اپنی طرف سے اور ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے حدیث نہ سناؤں؟ہم نے کہا : کیوں نہیں!کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : ( ایک دفعہ ) جب میری ( باری کی ) رات ہوئی جس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تھے ، آپ ( مسجد سے ) لوٹے ، اپنی چادر ( سرہانے ) رکھی ، اپنے دونوں جوتے اتار کر اپنے دونوں پاؤں کے پاس رکھے اور اپنے تہبند کا ایک حصہ بستر پر بچھایا ، پھر لیٹ گئے ۔ آپ نے صرف اتنی دیر انتظار کیا کہ آپ نے خیال کیا میں سو گئی ہوں ، تو آپ نے آہستہ سے اپنی چادر اٹھائی ، آہستہ سے اپنے جوتے پہنے اور آہستہ سے دروازہ کھولا ، نکلے ، پھر آہستہ سے اس کو بند کردیا ۔ ( یہ دیکھ کر ) میں نے بھی اپنی قمیص سر سے گزاری ( جلدی سے پہنی ) اپنا دوپٹا اوڑھا اور اپنی آزار ( کمر پر ) باندھی ، پھر آپ کے پیچھے چل پڑی حتیٰ کہ آپ بقیع ( کے قبرستان میں ) پہنچے اور کھڑے ہوگئے اور آپ لمبی دیر تک کھڑے رہے ، پھر آپ نے تین دفعہ ہاتھ اٹھائے ، پھر آپ پلٹے اور میں بھی واپس لوٹی ، آپ تیز ہوگئے تو میں بھی تیز ہوگئی ، آپ تیز تر ہوگئے تو میں بھی تیز تر ہوگئی ۔ آپ دوڑ کر چلے تو میں نے بھی دوڑنا شروع کردیا ۔ میں آپ سے آگے نکل آئی اور گھر میں داخل ہوگئی ۔ جونہی میں لیٹی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں داخل ہوگئے اور فرمایا : " عائشہ! تمھیں کیا ہوا کانپ رہی ہو؟سانس چڑھی ہوئی ہے ۔ " میں نے کہا کوئی بات نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم مجھے بتاؤ گی یا پھر وہ مجھے بتائے گا جو لطیف وخبیر ہے ( باریک بین ہے اور انتہائی باخبر ) ہے ۔ " میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں!اور میں نے ( پوری بات ) آپ کو بتادی ۔ آپ نے فرمایا : " تو وہ سیاہ ( ہیولا ) جو میں نے اپنے آگے دیکھا تھا ، تم تھیں؟ " میں نے کہا : ہاں ۔ آپ نے میرے سینے کو زور سے دھکیلا جس سے مجھے تکلیف ہوئی ۔ پھر آپ نے فرمایا : " کیا تم نے یہ خیال کیا کہ اللہ تم پر زیادتی کرے گا اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ؟ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگ ( کسی بات کو ) کتنا ہی چھپا لیں اللہ اس کوجانتا ہے ، ہاں ۔ آپ نے فرمایا : " جب تو نے ( مجھے جاتے ہوئے ) دیکھاتھا اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے پاس آئے تھے ۔ انھوں نے ( آکر ) مجھے آواز دی اور اپنی آواز کو تم سے مخفی رکھا ، میں نے ان کو جواب دیا تو میں نے بھی تم سے اس کو مخفی رکھا اور وہ تمہارے پاس اندر نہیں آسکتے تھے تم کپڑے اتار چکیں تھیں اور میں نے خیال کیا کہ تم سوچکی ہو تو میں نے تمھیں بیدار کرنا مناسب نہ سمجھا اور مجھے خدشہ محسوس ہواکہ تم ( اکیلی ) وحشت محسوس کروگی ۔ تو انھوں ( جبرئیل علیہ السلام ) نے کہا : آپ کا رب آپ کو حکم دیتاہے کہ آپ اہل بقیع کے پاس جائیں اور ان کے لئے بخشش کی دعا کریں ۔ " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے پوچھا : اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں ان کے حق میں ( دعا کے لئے ) کیسے کہوں؟آپ نے فرمایا : " تم کہو ، مومنوں اور مسلمانوں میں سے ان ٹھکانوں میں رہنے والوں پر سلامتی ہو ، اللہ تعالیٰ ہم سے آگے جانے والوں اور بعد میں آنے والوں پر رحم کرے ، اور ہم ان شاء اللہ ضرور تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ "
Sulaiman bin Buraida رضی اللہ تعالیٰ عنہ narrated on the authority of his father:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to teach them when they went out to the graveyard. One of the narrators used to say this in the narration transmitted on the authority of Abu Bakr: Peace be upon the inhabitants of the city (i. e. graveyard). In the hadith transmitted by Zuhair (the words are): Peace be upon you, the inhabitants of the city, among the believers, and Muslims, and God willing we shall join you. I beg of Allah peace for us and for you.
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں محمد بن عبد اللہ اسدی نے سفیان سے حدیث سنائی ، انھوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے اور انھوں نے ا پنے والد ( بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا
جب وہ قبرستان جاتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو تعلیم دیا کرتے تھے تو ( سیکھنے کے بعد ) ان کا کہنے والا کہتا : ابو بکر کی روایت میں ہے : " سلامتی ہو مسلمانوں اور مومنوں کے ٹھکانوں میں رہنے والوں پر " اورزہیر کی روایت میں ہے؛ " مسلمانوں اور مومنوں کے ٹھکانے میں رہنے والو تم پر ۔ ۔ ۔ اور ہم ان شاء اللہ ضرور ( تمہارے ساتھ ) ملنے والے ہیں ، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے اور تمھارے لئے عافیت مانگتا ہوں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
Allah's Messenger, ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: I sought permission to beg forgiveness for my mother, but He did not grant it to me. I sought permission from Him to visit her grave, and He granted it (permission) to me.
ہم سے یحییٰ بن ایوب اور محمد بن عباد نے بیان کیا، اور یہ قول یحییٰ سے ہے، انہوں نے کہا مروان بن معاویہ نے یزید ، یعنی ابن کیسان سے ، انھوں نے ابو حازم سےاور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنے رب سے اپنی ماں کے استغفار کی اجازت مانگی تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی اور میں نے اس سے ان کی قبر کی زیارت کی اجازت مانگی تو مجھے اجازت دے دی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
The Apostle of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) visited the grave of his mother and he wept, and moved others around him to tears, and said: I sought permission from my Lord to beg forgiveness for her but it was not granted to me, and I sought permission to visit her grave and it was granted to me so visit the graves, for that makes you mindful of death.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے انہوں نےمحمد بن عبید نے یزید بن کیسان سے ، انھوں نے ابو حازم سے اور اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ماں کی قبر کی زیارت کی ، آپ روئے اور اپنے اردگرد والوں کو بھی رلایا ، پھر فرمایا : " میں نے اپنے رب سے اجازت مانگی کہ میں ان کے لئے بخشش کی طلب کروں تو مجھے اجازت نہیں دی گئی اور میں نے اجازت مانگی کہ میں ان کی قبر کی زیارت کروں تو اس نے مجھے اجازت دے دی ، پس تم بھی قبروں کی زیارت کیاکرو کیونکہ وہ تمھیں موت کی یاددلاتی ہیں ۔ "
Ibn Buraida reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I forbade you to visit graves, but you may now visit them; I forbade you to eat the flesh of sacrificial animals after three days, but you way now keep it as along as you feel inclined; and I forbade you nabidh except in a water-skin, you may drink it from all kinds of water-skins, but you must not drink anything intoxicating.
ابو بکر بن ابی شیبہ ، محمد بن عبداللہ بن نمیر اور محمد بن مثنی نے ہمیں حدیث سنائی ۔ ۔ ۔ الفاظ ابو بکر اور ابن نمیر کے ہیں ۔ ۔ ۔ انھوں نے کہا : ہمیں محمد بن فضیل نے ابو سنان سے ، جو ضرار بن مرہ ہیں ، حدیث سنائی ، انھوں نے محارب بن دثار سے ، انھوں نے ابن بریدہ سے ، اور انھوں نے اپنے والد ( حضرت بریرہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے تمھیں قبروں کی زیارت سے منع کیا تھاتو ( اب ) تم ان کی زیارت کیا کرو ۔ اور میں نے تمھیں تین دن سے اوپر قربانیوں کے گوشت ( رکھنے ) سے منع کیا تھا ( اب ) تم جب تک چاہو رکھ سکتے ہو اور میں نے تمھیں مشکیزوں کے سوا کسی اور برتن میں نبیذ پینے سے منع کیا تھا ، اب تم ہر قسم کے برتنوں میں سے پی سکتے ہولیکن کوئی نشہ آورچیز نہ پیو ۔ "" ابن نمیر نے اپنی روایت میں کہا : عبداللہ بن بریدہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ۔ ( انھوں نے ابن بریدہ کے نام ، عبداللہ کی صراحت کی ۔ )
Abdullah bin Buraidah narrated from his father from the prophet ﷺ -a Hadith similar to that of Sinan (no. 2260).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا,ابو خیثمہ نے زبید الیامی سے ، انھوں نے محارب بن دثار سے ، انھوں نے ابن بریدہ سے ، انھوں نے ، میرا خیال ہے اپنے والدسےشک ابو خیثمہ کی طرف سے ہے ۔ ۔ ۔ اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ( اسی طرح ) سفیان نے علقمہ بن مرثد سے ، انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ( اسی طرح ) معمر نے عطاء خراسانی سے روایت کی ، انھو ں نے کہا : مجھے عبداللہ بن بریدہ نے اپنے والد سے حدیث سنائی اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ان سب ( زبید ، سفیان اور معمر ) نے ابو سنان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Jabir bin Samura رضی اللہ تعالیٰ عنہ reported:
(The dead body) of a person who had killed himself with a broad-headed arrow was brought before the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), but he did not offer prayers for him.
ہم سے عون بن سلام الکوفی نے بیان کیا، کہا ہم سے زہیر نے سماک کی سند سے بیان کیا, حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا جس نے اپنے آپ کو ایک چوڑے تیر سے قتل کرڈالا تھا تو آپ نے ( خود ) اس کی نماز جنازہ نہیں پڑھی ۔ ( دوسروں کو پڑھنے کا حکم دیا جس طرح ابتداء میں آپ دوسروں کو مقروض کا جنازہ پڑھنے کا حکم دیتے تھے ۔ )