The same hadith has been narrated by Zuhair bin Harb, Waki, Ishaq bin Mansur, Husain bin 'Ali.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا,مسعر ، ہشام اور شیبان سب نے قتادہ سے سابقہ سند کے ساتھ اسی حدیث کی طرح روایت کی ۔ ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا، انہیں مسعر اور ہشام نے، اور ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے حسین بن علی نے بیان کیا، انہوں نے ذی عائدہ سے اور شعبان سے۔ تمام قتادہ کے اختیار میں، اس کے مشابہ نشریات کے سلسلے کے ساتھ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Great and the Glorious Lord said (to angels): Whenever My bondsman intends to corn it an evil, do not record it against him, but if he actually commits it, then write it as one evil. And when he intends to do good but does not do it, then take it down is one act of goodness, but if he does it, then write down ten good deeds (in his record).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، اور یہ قول ابوبکر سے ہے، انہوں نے کہا: ہم سے سفیان نے بیان کیا، دوسرے دونوں نے کہا: ہم سے ابن عیینہ نے ابو الزناد سے بیان کیا،اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی برائی کا قصد کرے تو اس کو ( اس کے نامہ اعمال میں ) نہ لکھو ۔ اگر وہ اس کو کر گزرے تو اسے ایک برائی لکھو ۔ اور جب کسی نیکی کا قصد کرے تو اس کو ایک نیکی لکھ لو ، پھر اگر اس پر عمل کرے تو دس نیکیاں لکھو ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Allah, the Great and Glorious, said: Whenever my bondsman intends to do good, but does not do it, I write one good act for him, but if he puts it into practice I wrote from ten to seven hundred good deeds in favour of him. When he intends to commit an evil, but does not actually do it, do not record it. But if he does it, I write only one evil.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا, ہم سے اسماعیل، جو ابن جعفر ہیں، نے بیان کیا,علاء کے والد عبد الرحمن بن یعقوب نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے
رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے کہا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ کسی نیکی کا قصد کرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھوں گا ، پھر اگر وہ اسے کر لے تو میں اس کو دس سے سات سو گنا برس تک لکھوں گا اور جب میرا بندہ کسی برائی کا قصدکرے اور اس کو عمل میں نہ لائے تو اس میں اس بندے کے خلاف نہیں لکھوں گا ، پھر اگر وہ اس پر عمل کرے تو میں ایک برائی لکھوں گا ۔ ‘ ‘
Abu Huraira reported that Muhammad ﷺ:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), said: When it occurs to my bondsman that he should do a good deed but he actually does not do it, record one good to him, but if he puts it into practice, I make an entry of ten good acts in his favour. When it occurs to him to do evil, but he does not commit it, I forgive that. But if he commits it, I record one evil against his name. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed. The angels said: That bondsman of Yours intends to commit evil. though His Lord is more Vigilant than he. Upon this He (the Lord) said: Watch him; if he commits (evil), write it against his name but if he refrains from doing it, write one good deed or him, for he desisted from doing it for My sake. The Messenger of Allah said: He who amongst you is good of faith, all his good acts are multiplied from ten to seven hundred times (and are recorded in his name) and all the evils that he commits are recorded as such (i, e. without increase) till he meets Allah.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا,ہمام بن منبہ نے روایت کرتے ہوئے کہا : یہ وہ حدیثیں ہیں جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں محمد رسول اللہ ﷺ سے سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے ، کہا
رسو ل اللہ ﷺنے بتایا : ’’ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جب میرا بندہ ( دل میں ) یہ بات کرتا ہے کہ وہ نیکی کرے گا تو میں اس کے لیے ایک نیکی لکھ دیتا ہوں ، جب تک عمل نہ کرے ، پھر اگر اس کوعمل میں لے آئے تو میں اسے دس گناہ لکھ لیتا ہوں اور جب ( دل میں ) برائی کرنے کی بات کرتا ہے تو میں اسے معاف کر دیتا ہوں جب تک اس پر عمل نہ کرے ۔ جب وہ اس کو عمل میں لے آئے تو میں اسے اس کے برابر ( ایک ہی برائی ) لکھتا ہوں ۔ ‘ ‘ اور رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ فرشتوں نے کہا : اے رب ! یہ تیرا بندہ ہے ، برائی کرنا چاہتا ہے او راللہ اس کو خوب دیکھ رہا ہوتا ہے ، اللہ فرماتا ہے : اس پر نظر رکھو ، پس اگر وہ برائی کرے تو اس کے برابر ( ایک برائی ) لکھ لو اور اگر اس کو چھوڑ دے تو اس کے لیے اسے ایک نیکی لکھو ( کیونکہ ) اس نے میری خاطر اسے چھوڑا ہے ۔ ‘ ‘ اوررسو ل اللہﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے ایک انسان اپنے اسلام کو خالص کر لیتا ہے تو ہر نیکی جو وہ کرتا ہے ، دس گناہ سے لے کر سات سو گنا تک لکھی جاتی ہے اور ہر برائی جو وہ کرتا ہے ، اسے اس کے لیے ایک ہی لکھا جاتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ سے جاملتا ہے ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who intended to do good, but did not do it, one good was recorded for him, and he who intended to do good and also did it, ten to seven hundred good deeds were recorded for him. And he who intended evil, but did not commit it, no entry was made against his name, but if he committed that, it was recorded.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو خالد الاحمر نے بیان کیا، ہشام کی سند سے,ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا :
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر اس پر عمل نہیں کیا ، اس کے لیے ایک نیکی لکھی جاتی ہے او رجس نے کسی نیکی کا ارادہ کر کے اس پر عمل بھی کیا ، اس کے لیے دس سے سات سو گنا تک نیکیاں لکھی جاتی ہیں او رجس نے کسی برائی کا ارادہ کیا لیکن اس کا ارتکاب نہیں کیا تو وہ نہیں لکھی جاتی اور اگر اس کا ارتکاب کیا تو وہ لکھی جاتی ہے ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Ibn Abbas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) transmitted it from the Blessed and Great Lord: Verily Allah recorded the good and the evil and then made it clear that he who intended good but did not do it, Allah recorded one complete good in his favour, but if he intended it and also did it, the Glorious and Great Allah recorded ten to seven hundred virtues and even more to his credit. But it he intended evil, but did not commit it, Allah wrote down full one good in his favour. If he intended that and also committed it, Allah made an entry of one evil against him.
ہم سے شیبان بن فرخ نے بیان کیا,عبدالوارث نے جعد ابو عثمان سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا , ہمیں ابو رجاء عطاردی نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی
انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی ( ان احادیث میں سے جنہیں وہ رسو ل اللہ ﷺ اپنے رب عزو جل سے روایت کرتے ہیں ) آپ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے نیکیاں اوربرائیاں لکھی ہیں ، پھر ان کی تفصیل بتائی ہے کہ جس نے کسی نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی نہیں کی تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھ دی ۔ اور اگر نیکی کا ارادہ کیا ، پھر وہ نیکی کر ڈالی تو اللہ عزوجل نے اسے اپنے ہاں دس سے سات سو گنا ( یا ) اس سے زیادہ گنا تک لکھ لیا ۔ اور اگر اس نے برائی کا ارادہ کیا ، پھر اس کا ارتکاب نہ کیا تو اللہ نے اسے اپنے ہاں ایک پوری نیکی لکھی ۔ اور اگر اس نے ( برائی کا ) ارادہ کیا اور اس کو کر ڈالا تو اللہ نے ایک برائی لکھی ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated with another chain of transmitters with the addition of these words:
Allah would even wipe out (the evil committed by a man) and Allah does not put to destruction anyone except he who is doomed to destruction.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا,جعفر بن سلیمان نے جعد ابوعثمان سے عبد الوارث کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا
’’یا اللہ نے اسے مٹا دیا او راللہ کے ہاں صرف وہی ہلاک ہوتا ہے جو ( خود ) ہلاک ہونے والا ہے ( کہ اللہ کے اس قدر فضل و کرم کے باوجود تباہی سے بچ سکا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Some people from amongst the Companions of the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to him and said: Verily we perceive in our minds that which every one of us considers it too grave to express. He (the Holy Prophet) said: Do you really perceive it? They said: Yes. Upon this he remarked: That is the faith manifest.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا,سہیل نے اپنے والد سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ حاضر ہوئے اور آپ سے پوچھا : ہم اپنے دلوں میں ایسی چیزیں محسوس کرتے ہیں کہ ہم میں سے کوئی ان کو زبان پر لانا بہت سنگین سمجھتا ہے ، آپ نے پوچھا : ’’ کیا تم نے واقعی اپنے دلوں میں ایسا محسوس کیا ہے ؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ یہی صریح ایمان ہے ۔ ‘ ‘
The same hadith has been transmitted by Muhammad bin 'Amr, Abu Bakr bin Ishaq, Abu'l-Jawwab, A'mash and Abu Huraira رضی اللہ عنہ .
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا، شعبہ شعبہ، ہجری سے، مجھ سے محمد بن عمرو بن جبلہ بن ابی رواد نے بیان کیا اور مجھ سے ابوبکر نے ابن اسحاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو ہم سے الجواب نے عمار بن رزاق کی سند سے بیان کیا اوراعمش نے ابو صالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے بنی ﷺ سے یہ حدیث روایت کی ۔
It is narrated on the authority of 'Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ :
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was asked about evil prompting, to which he replied: It is pure faith.
ہم سے یوسف بن یعقوب الصفر نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے علی بن عثم نے سائر بن الخمس کی سند سے، مغیرہ کی سند سے، ابراہیم کی سند سے، علقمہ کی سند سے,حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ( رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ
نبی ﷺ سے وسوسے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’یہی تو خالص ایمان ہے ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Men will continue to question one another till this is propounded: Allah created all things but who created Allah? He who found himself confronted with such a situation should say: I affirm my faith in Allah.
ہم سے ہارون بن معروف اور محمد بن عباد نے بیان کیا اور یہ الفاظ ہارون کے لیے ہیں، انہوں نے کہا,سفیان نے ہشام سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنےوالد ( عروہ ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگ ہمیشہ ایک دوسرے سے ( فضول ) سوالات کرتے رہیں گے یہاں تک کہ یہ سوال بھی ہو گا کہ اللہ نے سب مخلوق کو پیدا کیا ہے تو پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ جو شخص ایسی کوئی چیز دل میں پائے تو کہے : میں اللہ پر ایمان لایا ہوں ۔ ‘ ‘
This hadith has been transmitted by Mahmud bin Ghailan by another chain of transmitters (and the words are):
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Satan will come to everyone of you and say: Who created the heaven, who created the earth? (And the man) replies: It is Allah, Then the remaining part of the hadith was narrated as mentioned above and the words 'His prophets were added to it.
ہم سے محمود بن غیلان نے بیان کیا، ہم سے ابو النضر نے بیان کیا،ابو سعید مؤدب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ
رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آتا ہے او رکہتا ہے : آسمان کو کس نے پیدا کیا ؟ زمین کو کس نے پیدا کیا تو وہ ( جواب میں ) کہتا ہے اللہ نے ..... ‘ ‘ پھر اوپر والی روایت کی طرح بیان کی ’’اور اس کے رسولوں پر ( ایمان لایا ) ‘ ‘ کے الفاظ کا اضافہ کیا ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ﷺ observed: The Satan comes to everyone. of you and says: Who created this and that? till he questions: Who created your Lord? When he comes to that, one should seek refuge in Allah and keep away (from such idle thoughts).
مجھ سے زہیر بن حرب اور عبد بن حمید سب نے یعقوب کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا,ابن شہاب کے بھتیجے ( محمد بن عبد اللہ بن مسلم ) نے اپنے چچا ( محمد بن مسلم زہری ) سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کسی کے پاس شیطان آ کر کہتا ہے کہ فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ یہاں تک کہ اس سے کہتا ہے : تمہارےرب کو کس نے پیدا کیا ؟ جب بات یہاں تک پہنچے تو وہ اللہ سے پناہ مانگے او ر ( مزید سوچنے سے ) رک جائے ۔ ‘ ‘
This hadith is transmitted by Urwa bin Zubair on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ (and the words are):
The Satan comes to the bondsman (of Allah) and says: Who created this and that? The remaining part of the hadith is the same.
مجھ سے عبدالملک بن شعیب بن لیث نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، میرے دادا نے کہا,عقیل بن خالد نے کہاکہ ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بندے کے پاس شیطان آتا ہے او رکہتا ہے : فلاں فلاں چیز کو کس نے پیدا کیا ؟ حتی کہ اس سے کہتا ہے : تیرے رب کو کس نے پیدا کیا ؟ سوجب بات یہاں تک پہنچے تو اللہ کی پناہ مانگے اور رک جائے ۔ ‘ ‘ ( یہ حدیث ) ابن شہاب کے بھتیجے کی بیان کردہ حدیث کے مانند ہے ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: People will constantly ask you questions pertaining to knowledge till they would say: Allah created us, but who created Allah? he (the narrator) says: he (Abu Huraira) was (at the time of narrating this hadith) catching hold of the hand of a man and he said: Allah and the Messenger told the truth. Two persons have already put me this question, and this is the third one, or he said: One man has put me this question and he is the second one.
عبد الوارث بن عبد ا لصمد کے دادا عبد الوارث بن سعید نے ایوب سے ، انہوں نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نےحضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نبی ﷺ سے روایت کی
آپ نے فرمایا : ’’لوگ تم سے ہمیشہ علم کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ یہ کہیں گے : اللہ نے ہمیں پیدا کیا ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابن سیرین نے کہا : اس وقت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ایک آدمی کا ہاتھ پکڑ ے ہوئے تھے تو کہنے لگے : اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ۔ مجھ سے دو ( آدمیوں ) نے ( یہی ) سوال کیا تھا اور یہ تیسرا ہے ( یا کہا : ) مجھ سے ایک ( آدمی ) نے ( پہلے یہ ) سوال کیا تھا او ریہ دوسرا ہے ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ that he said:
The people will constantly, and the rest of the hadith is the same as that transmitted by 'Abdul-Warith with the exception that there is no mention of the Messenger of Allah in that, but he observed at the end of the hadith: Allah and His Messenger told the truth.
مجھ سے زہیر بن حرب اور یعقوب الدرقی نے بیان کیا، انہوں نے کہا,اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے محمد سے روایت کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
’’ لوگ ہمیشہ سوال کرتے رہیں گے .... ‘ ‘ باقی حدیث عبد الوارث کی حدیث کی مانند ہے ۔ تاہم انہوں نے سند میں نبی کریمﷺ کا ذکر نہیں کیا ، لیکن آخر میں یہ کہا ہے : ’’ اللہ اور اس کے رسول سے سچ فرمایا ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to me: they (the people) till constantly ask you, Abu Huraira, (about different things pertaining to religion) the they would say: Well, there is Allah, but after all who created Allah? He (Abu Huraira) narrated: Once we were in the mosque that some of the Bedouins came there and said: Well, there is Allah, but who created Allah? He (the narrator) said: I took hold of the pebbles in my fist and flung at them and remarked: Stand up, stand up (go away) my friend (the Holy Prophet) told the truth.
ہم سے عبداللہ بن الرومی نے بیان کیا، کہا ہم سے النذر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے جو ابن عمار ہیں، کہا ہم سے یحییٰ نے بیان کیا,ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ابو ہریرہ ! لوگ ہمیشہ تم سے سوال کرتے رہیں گے حتی کہ کہیں گے : یہ ( ہر چیز کا خالق ) اللہ ہے تو اللہ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نےکہا : پھر ( ایک دفعہ ) جب میں مسجد میں تھا تو میرے پاس کچھ بدو آئے اور کہنے لگے : اےابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ! یہ اللہ ہے ، پھر اللہ کو کس نے پیدا کیا ہے ؟ ( ابو سلمہ نے ) کہا : تب انہوں نے مٹھی میں کنکر پکڑے اور ان پر پھینکے اور کہا : اٹھو اٹھو ! ( یہاں سے جاؤ ) میرے خلیل ( نبی اکرم ﷺ ) نے بالکل سچ فرمایا تھا ۔
Yazid bin al-Asamm said:
I heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ saying that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: people will certainly ask you about everything till they will propound: Allah created every thing, but who created Allah?
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے کثیر بن ہشام نے بیان کیا، ہم سے جعفر بن برقان نے بیان کیا،یزید بن اصم نے کہا
میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ یقیناً لوگ تم سے ہر چیز کے بارے میں سوال کریں گے یہاں تک کہ کہیں گے : اللہ نے ہر چیز کو پیدا کیا ، پھر اس کو کس نے پیدا کیا؟ ‘ ‘
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ transmitted it from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ):
The Great and Glorious Allah said: Verily your people would constantly question about this and that till they would say: Well, it is Allah Who created the creation, but who created Allah?
ہم سے عبداللہ بن عامر بن زرارہ الحدرمی نے بیان کیا,محمد بن فضیل نے مختار بن فلفل سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسو ل اللہ ﷺ سے روایت کی
آپ نے کہا : ’’ اللہ عز وجل نے فرمایا : ’’ آپ کی امت کے لوگ کہتے رہیں گے : یہ کیسے ہے ؟ وہ کیسے ہے؟ یہاں تک کہ کہیں گے : یہ اللہ ہے ، اس نے مخلوق کو پیدا کیا ، پھر اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا ؟ ‘ ‘
This hadith has been narrated by another chain of transmitters with the exception that Ishaq made no mention of this:
Allah said: Verily your people.
اسحق بن ابراہیم نے کہا : ہمیں جریر نے خبر دی ، نیز ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حسن بن علی نے زائدہ سے حدیث سنائی اور ان دونوں ( جریر اور زائدہ ) نے مختار سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، تاہم اسحاق کی روایت میں یہ الفاظ نہیں ہیں
’’ اللہ عزوجل نے فرمایا : بے شک آپ کی امت ....... ‘ ‘