Abu Dharr رضی اللہ عنہ said:
I came to the Apostle (ﷺ ) and he was asleep with a white mantle over him. I again came, he was still asleep, I came again and he had awakened. I sat by his side and (the Holy Prophet) observed: There is none among the bondsmen who affirmed his faith in La illaha ill-Allah there is no God but Allah) and died in this state and did not enter Paradise. I (Abu Dharr) said: Even if he committed adultery and theft? He (the Holy Prophet) replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. I (again said): Even if he committed adultery and theft? He replied: (Yes) even though he committed adultery and theft. (Th Holy Prophet repeated it three times) and said for the fourth time: In defiance of Abu Dharr. Abu Dharr then went out and he repeated (these words): In defiance of Abu Dharr.
مجھ سے زہیر بن حرب اور احمد بن خراش نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حسین المعلم نے بیان کیا، وہ بریدہ کے ایک والد کی سند سے۔ کہ یحییٰ بن یعمر,ابو اسود دیلی نے بیان کیا کہ حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے اس سے حدیث بیان کی کہ
میں نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ ایک سفید کپڑا اوڑھے ہوئے سو رہے تھے ۔ میں پھر حاضر خدمت ہوا تو ( ابھی ) آپ سو رہے تھے ، میں پھر ( تیسری دفعہ ) آیا تو آپ بیدار ہو چکے تھے ۔ میں آپ کے پاس بیٹھ گیا ، آپ نے فرمایا : ’’ کوئی بندہ نہیں جس نے لا إله إلا الله کہا اور پھر اسی پر مرا مگر وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘ آپ نے جواب دیا : ’’اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘ میں نے پھر کہا : اگرچہ اس نے زنا کیا ہواور چوری کی ہو ؟ آپ نے فرمایا : ’’اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کا ارتکاب کیا ہو ۔ ‘ ‘ آپ نے تین دفعہ یہی جواب دیا ، پھر چوتھی مرتبہ آپ نے فرمایا : ’’چاہے ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو ۔ ‘ ‘ ابو اسود نے کہا : ابو ذر ( آپ کی مجلس سے ) نکلے تو کہتے جاتے تھے : چاہے ابو ذر کی ناک خاک آلود ہو ۔
It is narrated on the authority of Miqdad bin Aswad رضی اللہ عنہ that he said:
Messenger of Allah, you just see (here is a point): If I encountered a person amongst the infidels (in the battlefield) and he attacked me and struck me and cut off one of my hands with the sword. Then he (in order to protect himself from me) took shelter of a tree and said: I become Muslim for Allah's sake. Messenger of Allah, can I kill him after he had uttered this? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do not kill him. I (the narrator) said: Messenger of Allah, he cut off my hand and uttered this after amputating it; should I then kill him? The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Don't kill him, for I you kill him, verily he would be in a position where you had been before killing him and verily you would be in a position where he had been before uttering (kalima).
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے لیث ایچ نے بیان کیا اور ہم سے محمد بن رومہ نے بیان کیا اور الفاظ بھی اسی طرح ہیں,ليث نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے روایت کی کہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ نے عبید اللہ بن عدی بن خیار کو خبر دی کہ
انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے بتائیے کہ اگرکافروں میں سے کسی شخص سے میرا سامنا ہو ، وہ مجھے سے جنگ کرے اور میرے ایک ہاتھ تلوار کی ضرب لگائے اور اسے کاٹ ڈالے ، پھر مجھ سے بچاؤ کے لیے کسی درخت کی آڑ لے اور کہے : میں نے اللہ کے لیے اسلام قبول کر لیا تو اے اللہ کے رسول ! کیا یہ کلمہ کہنے کے بعد میں اسے قتل کردوں ؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’اسے قتل نہ کرو ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ ک ےرسول ! اس نے میرا ہاتھ کاٹ دیا اور اسے کاٹ ڈالنے کے بعد یہ کلمہ کہے تو کیا میں اسے قتل کر دوں ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے قتل نہ کرو ۔ اگر تم نے اسے قتل کر دیا تو وہ تمہارے اس مقام پر ہو گا جس پر تم اسے قتل کرنے سےپہلے تھے اور تم اس جگہ ہو گے جہاں وہ کلمہ کہنے سے پہلے تھا ۔ ‘ ‘
The same hadith has been transmitted by the same chain of narrators:
The hadith transmitted by Auza'i and Ibn Juraij contains these words: I embraced Islam for Allah's sake. and in the hadith narrated by Ma'mar the words are: I knelt down to kill him, that he said; There is no god but Allah.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، انہوں نے کہا,امام مسلم رضی اللہ عنہ نے معمر ، اوزاعی اور ابن جریج کی الگ الگ سندوں کےساتھ زہری سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی ،
اوزاعی اور ابن جریج کی روایت میں ( لیث کی ) سابقہ حدیث کی طرح أسلمت لله ’’میں اللہ کے لیے اسلام لے آیا ‘ ‘ کے الفاظ ہیں جبکہ معمر کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’جب میں نے چاہا کہ اسے قتل کر دوں تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ ‘ ‘ ( دونوں کا حاصل ایک ہے ۔ )
It is narrated by Miqdad, and he was an ally of Bin Zuhra and was of those who participated in the Battle of Badr along with the Messenger of Allah, that he said:
Messenger of Allah, here is a point: If I happened to encounter a person amongst the infidels (in the battle). Then he narrated a hadith similar to the one transmitted by Laith.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا,یونس نے ابن شہاب نے خبر دی ، انہوں نےکہا : مجھے عطاء بن یزید لیثی جندعی نے بیان کیا کہ عبید اللہ بن عدی بن خیار نے اسے خبر دی کہ حضرت مقداد بن عمرو ( ابن اسود ) کندی رضی اللہ عنہ نے ، جو بنو زہریہ کے حلیف تھے اور ان لوگوں میں شامل تھے جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ( غزوہ ) بدر میں شرکت کی تھی ، عرض کی
اے اللہ کے رسول! بتائیے اگر کافروں میں سے ایک آدمی سے میرا سامنا ہو جائے ..... آگے ایسے ہی ہے جیسے لیث کی ( روایت کردہ ) سابقہ حدیث ہے ۔
It is narrated on the authority of Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent us in a raiding party. We raided Huraqat of Juhaina in the morning. I caught hold of a man and he said: There is no god but Allah, I attacked him with a spear. It once occurred to me and I talked about it to the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ). The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Did he profess There is no god but Allah, and even then you killed him? I said: Messenger of Allah, he made a profession of it out of the fear of the weapon. He (the Holy Prophet) observed: Did you tear his heart in order to find out whether it had professed or not? And he went on repeating it to me till I wished I had embraced Islam that day. Sa'd said: By Allah, I would never kill any Muslim so long as a person with a heavy belly, i. e., Usama, would not kill. Upon this a person remarked: Did Allah not say this: And fight them until there is no more mischief and religion is wholly for Allah? Sa'd said: We fought so that there should be no mischief, but you and your companions wish to fight so that there should be mischief.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو خالد احمر نے حدیث سنائی اور ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے ابو معاویہ سے اور ان دونوں ( ابو معاویہ اور ابو خالد ) نے اعمش سے ، انہوں نے ابو ظبیان سے اور انہوں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( حدیث کے الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں ) کہا
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک چھوٹے لشکر میں ( جنگ کے لیے ) بھیجا ، ہم نے صبح صبح قبیلہ جہینہ کی شاخ حرقات پر حملہ کیا ، میں ایک آدمی پر قابو پا لیا تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا لیکن میں نے اسے نیزہ مار دیا ، اس بات سے میرے دل میں کھٹکا پیدا ہوا تو میں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا اس نے لا إله إلا الله کہا اور تم نے اسے قتل کر دیا ؟ ‘ ‘ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس نے اسلحے کے ڈر سے کلمہ پڑھا ، آپ نے فرمایا : ’’ تو نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں معلوم ہو جاتا کہ اس نے ( دل سے ) کہا ہے یا نہیں ۔ ‘ ‘ پھر آپ میرے سامنے مسلسل یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نےتمنا کی کہ ( کاش ) میں آج ہی اسلام لایا ہوتا ( اور اسلام لانے کی وجہ سے اس کلمہ گو کے قتل کے عظیم گناہ سے بری ہو جاتا ۔ ) ابو ظبیان نے کہا : ( اس پر ) حضرت سعد رضی اللہ عنہ کہنے لگے : اور میں اللہ کی قسم ! کسی اسلام لانے والے کو قتل نہیں کروں گا جب تک ذوالبطین ، یعنی اسامہ اسے قتل کرنے پر تیار نہ ہوں ۔ ابو ظبیان نے کہا : اس پر ایک آدمی کہنے لگا : کیااللہ کا یہ فرمان نہیں : ’’ اور ان سے جنگ لڑو حتی کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سارا اللہ کا ہو جائے ۔ ‘ ‘ تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ہم فتنہ ختم کرنے کی خاطر جنگ لڑتے تھے جبکہ تم اور تمہارے ساتھی فتنہ برپا کرنے کی خاطر لڑنا چاہتے ہو ۔
It is narrated on the authority of Usama bin Zaid رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ﷺ sent us to Huraqat, a tribe of Juhaina. We attacked that tribe early in the morning and defeated them and I and a man from the Ansar caught hold of a person (of the defeated tribe). When we overcame him, he said: There is no god but Allah. At that moment the Ansari spared him, but I attacked him with my spear and killed him. The news had already reached the Apostle (peace be upon him), so when we came back he (the Apostle) said to me: Usama رضی اللہ عنہ, did you kill him after he had made the profession: There is no god but Allah? I said. Messenger of Allah, he did it only as a shelter. The Prophet observed: Did you kill him after he had made the profession that there is no god but Allah? He (the Holy Prophet ﷺ) went on repeating this to me till I wished I had not embraced Islam before that day.
ہم سے یعقوب الدورقی نے بیان کیا، ہم سے ہشیم نے بیان کیا،حصین نے کہا : ہمیں ابو ظبیان نے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ
رسول اللہ ﷺ نے ہمیں جہینہ کی شاخ ( یا آبادی ) حرقہ کی طرف بھیجا ، ہم نے ان لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کیا اور انہیں شکست دے دی ، جنگ دوران میں ایک انصاری اور میں ان میں سے ایک آدمی تک پہنچ گئے جب ہم نے اسے گھیر لیا ( اور وہ حملے کی زد میں آ گیا ) تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ انہوں نے کہا : انصاری اس پر حملہ کرنے سے رک گیا اور میں نے اپنا نیزہ مار کر اسے قتل کر دیا ۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کابیان ہے کہ جب ہم واپس آئے تویہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچ گئی ، اس پر آپ نے مجھ سے فرمایا : ’’ اے اسامہ ! کیا تو نے اس کے لا إله إلاالله کہنے کے بعد اسے قتل کر دیا؟ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! وہ تو ( اس کلمے کے ذریعے سے ) محض پناہ حاصل کرنا چاہتا تھا ۔ کہا : تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا تو نے اسے لا إله إلا الله کہنے کے بعد قتل کر دیا ؟ ‘ ‘ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ بار بار یہ بات دہراتے رہے یہاں تک کہ میں نے آرزو کی ( کاش ) میں آج کے دن سے پہلے مسلمان نہ ہوا ہوتا ۔
It is narrated by Safwan bin Muhriz that Jundab bin 'Abdullah al-Bajali رضی اللہ عنہ during the stormy days of Ibn Zubair sent a message to 'As'as bin Salama:
Gather some men of your family so that I should talk to them. He ('As'as) sent a messenger to them (to the members of his family). When they had assembled, Jundab came there with a yellow hooded cloak on him, He said: Talk what you were busy in talking. The talk went on by turns, till there came his (Jundab's) turn. He took off the hooded cloak from his head and said: I have come to you with no other intention but to narrate to you a hadith of your Apostle: Verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) sent a squad of the Muslims to a tribe of the polytheists. Both the armies confronted one another. There was a man among the army of polytheists who (was so dashing that), whenever he intended to kill a man from among the Muslims, he killed him. Amongst the Muslims too was a man looking forward to (an opportunity of) his (the polytheist's) unmindfulness. He (the narrator) said: We talked that he was Usama b, Zaid. When he raised his sword, he (the soldier of the polytheists) uttered: There is no god but Allah, but he (Usama b. Zaid) killed him. When the messenger of the glad tidings came to the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) he asked him (about the events of the battle) and he informed him about the man (Usama) and what he had done He (the Prophet of Allah) called for him and asked him why he had killed him. He (Usama) said: Messenger of Allah, he struck the Muslims and killed such and such of them. And he even named some of them. (He continued): I attacked him and when he saw the sword he said: There is no god but Allah. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Did you kill him? He (Usama) replied in the affirmative. He (the Holy Prophet) remarked: What would you do with: There is no god but Allah, when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (Usama) said: Messenger of Allah, beg pardon for me (from your Lord). He (the Holy Prophet) said: What would you do with: There is no god but Allah when he would come (before you) on the Day of Judgment? He (the Holy Prophet) added nothing to it but kept saying: What would you do with: There is no god but Allah, when he would come (before you) on the Day of Judgment?
ہم سے احمد بن الحسن بن خراش نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے معتمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ خالد عتباج میرے بھتیجے ہیں,صفوان بن محرز نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے فتنے کے زمانے میں جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے عسعس بن سلامہ کو پیغام بھیجا اور کہا
میرے لیے اپنے ساتھیوں میں ایک نفری ( نفرتیں سے دس تک کی جماعت ) جمع کرو تاکہ میں ان سے بات کروں : چنانچہ عسعس نے اپنے ان ساتھیوں کی جانب ایک قاصد بھیجا جب و ہ جمع ہو گئے تو جندب ایک زرد رنگ کی لمبی ٹوپی پہنے ہوئےآئے اور کہا : جو باتیں تم کر رہے تھے ، وہ کرتے رہو ۔ یہاں تک کہ بات چیت کا دور چل پڑا ۔ جب بات ان تک پہنچی ( ان کے بولنے کی باری آئی ) تو انہوں نے اپنے سر سےلمبی ٹوپی اتار دی اور کہا : میں تمہارے پاس آیاتھا اور میرا ارادہ یہ نہ تھا کہ تمہیں تمہارے نبی سے کوئی حدیث سناؤں ( لیکن اب یہ ضروری ہو گیا ہے ) رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کا ایک لشکر مشرکین کی ایک قوم کی طرف بھیجا اور ان کے آمنا سامنا ہوا ۔ مشرکوں کا ایک آدمی تھا ، وہ جب مسلمانوں کے کسی آدمی پر حملہ کرنا چاہتا تو اس پر حملہ کرتا اور اسے قتل کر دیتا ۔ اور مسلمانوں کا ایک آدمی تھا جو اس ( مشرک ) کی بے دھیانی کا متلاشی تھا ، ( جندب بن عبد اللہ نے ) کہا : ہم ایک دوسرےسے کہتے تھے کہ وہ اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں ۔ جب ان کی تلوار مارنے کی باری آئی تو اس نے لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ لیکن انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ فتح کی خوش خبری دینے والا نبی ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ نے اس سے ( حالات کے متعلق ) پوچھا ، اس نے آپ کو حالات بتائے حتی کہ اس آدمی ( حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ) کی خبر بھی دے دی کہ انہوں کیا کیا ۔ آپ نے انہیں بلا کر پوچھا اور فرمایا : ’’ تم نے اسے کیوں قتل کیا ؟ ‘ ‘ ا نہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اس نے مسلمانوں کو بہت ایذا پہنچائی تھی اور فلاں فلاں کو قتل کیا تھا ، انہوں نے کچھ لوگوں کے نام گنوائے ، ( پھر کہا : ) میں اس پر حملہ کیا ، اس نے جب تلوار دیکھی تو لا إله إلا الله کہہ دیا ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کیا تم نے اسے قتل کر دیا؟ ‘ ‘ ( اسامہ رضی اللہ عنہ ) کہا ، جی ہاں ! فرمایا : ’’قیامت کے دن جب لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( اسامہ رضی اللہ عنہ نے ) عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میرے لیے بخشش طلب کیجیے ۔ آپ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن ( تمہارے سامنے کلمہ ) لا إله إلاالله آئے گا تو اس کا کیا کرو گے ؟ ‘ ‘ ( جندب بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ ﷺ ان سے مزید کوئی بات نہیں کر رہے تھے ، یہی کہہ رہے تھے : ’’قیامت کے دن لا إله إلا الله ( تمہارے سامنے ) آئے گا تو اس کیا کرو گے ؟ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ :
The Prophet of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who said: He who took up arms against us is not of us.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، اور کہا کہ ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے جو القطان ہیں، بیان کیا، اور ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو ع نے سمع، ابن نمیر نے بیان کیا،عبید ا للہ اور امام مالک نےنافع سے اور انہو ں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں ہے ۔ ‘ ‘
Iyas bin Salama narrated from his father:
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who draws the sword against us is not of us.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے مصعب نے جو ابن مقدام ہیں، انہوں نے ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا,ایاس بن سلمہ نے اپنے والد سے ، انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ،
آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نےہم پر تلوار سونتی ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Musa Ash'ari رضی اللہ عنہ :
The prophet ﷺ said: He who took up arms against us is not of us.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن براد اشعری اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو اسامہ نے بریدہ سے، انہوں نے ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا,حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف اسلحہ اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who took up arms against us is not of us and he who acted dishonestly towards us is not of us.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ہم سے یعقوب نے جو ابن عبدالرحمٰن القاری ہیں، بیان کیا، اور ہم سے ابو الاحواس محمد بن حیان نے بیان کیا، ہم سے ابن ع نے بیان کیا، ہم سے حازم نے بیان کیا، دونوں کی سند سے, سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے ہمارے خلاف ہتھیار اٹھایا ، وہ ہم میں سے نہیں اور جس نے ہمیں دھوکا دیا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) happened to pass by a heap of eatables (corn). He thrust his hand in that (heap) and his fingers were moistened. He said to the owner of that heap of eatables (corn): What is this? He replied: Messenger of Allah, these have been drenched by rainfall. He (the Holy Prophet) remarked: Why did you not place this (the drenched part of the heap) over other eatables so that the people could see it? He who deceives is not of me (is not my follower).
مجھ سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے بیان کیا، کہا, ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا,علاء نےاپنے والد عبدالرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ غلے کی ایک ڈھیری کے پاس سے گزرے توآپ نے اپنا ہاتھ اس میں داخل کیا ، آپ کی انگلیوں نے نمی محسوس کی تو آپ نے فرمایا : ’’ غلے کے مالک! یہ کیا ہے ؟ ‘ ‘ اس نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اس پر بارش پڑ گئی تھی ۔ آپ نے فرمایا : ’’ توتم نے اسے ( بھیگے ہوئے غلے ) کو اوپر کیوں نہ رکھا تاکہ لو گ اسے دیکھ لیتے ؟ جس نے دھوکا کیا ، وہ مجھ سے نہیں ۔ ‘ ‘ ( ان لوگوں میں سے نہیں جنہیں میرے ساتھ وابستہ ہونے کا شرف حاصل ہے ۔ )
It is narrated on the authority of Abdullah bin Mas'ud:
The Prophet observed: He is not one of us (one among the Ummah of Islam) who beat the cheeks or tore the front opening of the shirt or uttered the slogans of (the days of) Jahiliya (ignorance). Ibn Numair and Abu Bakr said (instead of the word au (or) it is wa [and] the words are) and tore and uttered (the slogans) of Jahiliya without alif .
یحییٰ بن یحییٰ اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو معاویہ اور وکیع نے حدیث بیان کی ، نیز ( محمد بن عبد اللہ ) ابن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، ان سب ( ابو معاویہ ، وکیع اور ابن نمیر ) نے اعمش سے ، انہوں نے عبد اللہ بن مرہ سے ، انہو ں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے رخسار پیٹے یا گریبان چاک کیا یا اہل جاہلیت کی طرح پکارا ، وہ ہم میں سے نہیں ۔ ‘ ‘ یہ یحییٰ کی حدیث ہے ( جو انہوں نے ابو معاویہ کے واسطے سے بیان کی ۔ ) البتہ ( محمد ) ابن نمیر اور ابو بکر بن ابی شیبہ ( جنہوں نے ابو معاویہ او روکیع دونوں سے روایت کی ) نے ’’او ‘ ‘ کے بجائے الف کے بغیر ’و ‘ ( ’’یا ‘ ‘ کےبجاےئ’’اور ‘ ‘ ) کہا ہے ۔
This hadith has been narrated by A'mash with the same chain of narrators and the transmitters said:
He tore and called.
,ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے جریر ایچ نے بیان کیا، ان سے اسحاق بن ابراہیم نے اور ہم سے علی بن خشرم نے بیان کیا، عیسیٰ نے اعمش سے اسی ( سابقہ ) سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا
’’ اور گریبان چاک کیا اور پکارا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Burda bin Abu Musa رضی اللہ عنہ that
Abu Musa رضی اللہ عنہ was afflicted with grave pain and he became unconscious and his head was in the lap of a lady of his household. One of the women of his household walled. He (Abu Musa رضی اللہ عنہ ) was unable (because of weakness) to say anything to her. But when he was a bit recovered he said: I have no concern with one with whom the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has no concern, Verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has no concern with that woman who wails loudly, shaves her hair and tears (her garment in grief).
ہم سے الحکم بن موسیٰ قنطاری نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن حمزہ نے، وہ عبدالرحمٰن بن یزید بن جبیر کی سند سے کہ ,قاسم بن مخیمرہ نے بیان کیا کہ مجھے ابو بردہ بن ابی موسیٰ ( اشعری ) نے بیان کیا ، انہوں نے فرمایا : ’’ حضرت ابو موسیٰ ( اشعری ) نے بیان کیا
انہوں نے فرمایا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ایسے شدید بیمار ہوئے کہ ان پر غشی طاری ہو گئی ، ا ن کا سر ان کے اہل خانہ میں سے ایک عورت کی گود میں تھا ، ( اس موقع پر ) ان کے اہل میں سے ایک عورت چیخنے لگی ، حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ( شدید کمزوری کی وجہ سے ) اسے کوی جواب نہ دے سکے ۔ جب افاقہ ہوا تو کہنے لکے : میں اس بات سے بری ہوں جس سے رسول اللہ ﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے چلا کر ماتم کرنےوالی ، سر منڈانے و الی اور گریبان چاک کرنے والی ( عورتون ) سے لا تعلقی کا اظہار فرمایا تھا ۔
It is narrated on the authority of Abu Burda :
Abu Musa رضی اللہ عنہ fell unconscious and his wife Umm Abdullah came there and wailed loudly. When he felt relief he said: Don't you know? -and narrated to her: Verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: I have no concern with one who shaved her hair, lamented loudly and tore (her clothes in grief).
ہم سے عبد بن حمید اور اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے جعفر بن عون نے بیان کیا، ہم سے ابو عمیس نے بیان کیا، انہوں نے کہا,ابو صخرہ نے عبد الرحمن بن یزید اور ابوبردہ بن ابی موسیٰ سے ( حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ) ذکر کیا ، ان دونوں نے کہا
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ پرغشی طاری ہو ئی اور ان کی بیوی ام عبد اللہ چیختے ہوئے رونے کی آواز نکالتی آئیں ، کہا : پھر انہیں افاقہ ہوا تو اسے حدیث سناتے ہوئے بولے : کیا تو نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میں اس سے بری ہوں جو ( غم کے اظہار کے لیے ) سرمونڈتے ، چیخے چلائے اور کپڑے پھاڑے ۔ ‘ ‘
This hadith was also narrated from Rabi bin Hirash from Abu Musa رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ, but in the Hadith of 'Iyad Al-Ashari (a narrator) it says: "He is not one of us..." and not, "I disavow myself..."
امام مسلم رضی اللہ عنہ نے تین دیگر سندوں سے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت بیان کی جن میں عیاض اشعری نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کی زوجہ سے ، انہوں نے ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول ا للہ ﷺ سے روایت کی او رباقی دو سندوں میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے صفوان بن محرز اور ربعی بن حراش ہیں جبکہ عیاض اشعری کی حدیث میں : ’’بری ہوں ‘ ‘ کے بجائے : ’’ ہم میں سے نہیں ‘ ‘ کےالفاظ ہیں ۔
It is reported from Hudhaifa رضی اللہ عنہ that news reached him (the Holy Prophet ﷺ):
A certain man carried tales. Upon this Hudhaifa رضی اللہ عنہ remarked: I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: The tale-bearer shall not enter Paradise.
مجھ سے شیبان بن فرخ اور عبداللہ بن محمد بن اسماء الذھبی نے بیان کیا، کہا: ہم سے مہدی نے بیان کیا جو ابن میمون ہیں، انہوں نے ہم سے واصل الاحدب نے بیان کیا,ابووائل نےحضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے حدیث روایت کی کہ ان کو پتہ چلا کہ
ایک آدمی ( لوگوں کی باہمی ) بات چیت کی چغلی کھاتا ہے توحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے ، آپ فرماتے تھے : ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔
It is reported on the authority of Hammam b, al-Harith
A man used to carry tales to the governor. We were sitting in the mosque. the people said: He is one who carries tales to the governor. He (the narrator) said: Then he came and sat with us. Thereupon Hudhaifa رضی اللہ عنہ remarked: I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: The beater of false tales would never enter heaven.
ہم سے علی بن حجر السعدی اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے جریر نے بیان کیا,منصور نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
ایک آدمی ( لوگوں کی ) باتیں حاکم تک پہنچاتا تھا ، ہم مسجد میں بیٹھے ہوئےتھے تو لوگوں نے کہا : یہ ان میں سے ہے جو باتیں حاکم تک پہنچاتے ہیں ۔ ( ہمام نے ) نےکہا : وہ شخص آیا اور ہمارے پاس بیٹھ گیا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Hammam bin al-Harith:
We were sitting with Hudhaifa رضی اللہ عنہ in the mosque. A man came and sat along with us. It was said to Hudhaifa رضی اللہ عنہ that he was the man who carried tales to the ruler. Hudhaifa رضی اللہ عنہ remarked with the intention of conveying to him: I have heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: The tale-bearer will not enter Paradise.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ اور وکیع نے بیان کیا,اعمش نے ابراہیم سے اور انہوں نے ہمام بن حارث سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ہم حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے تو ایک آدمی آکر ہمارے پاس بیٹھ گیا ۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بتایا گیاکہ یہ شخص ( لوگوں کی ) باتیں حکمران تک پہنچاتا ہے تو حذیفہ رضی اللہ عنہ نے اسے سنانے کی غرض سے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے : ’’ چغل خور جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘