Back to Sahih Muslim

The Book of Faith

كتاب الْإِيمَانِ

Chapter 1

Hadith 233
Sahih
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمُرَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، ح وَحَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ سَوَّادٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ أَنَّ أَبَا يُونُسَ مَوْلَى أَبِي هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَا أَنْزَلَ اللهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ بَرَكَةٍ إِلَّا أَصْبَحَ فَرِيقٌ مِنَ النَّاسِ بِهَا كَافِرِينَ، يُنْزِلُ اللهُ الْغَيْثَ فَيَقُولُونَ: الْكَوْكَبُ كَذَا وَكَذَا وَفِي حَدِيثِ الْمُرَادِيِّ: «بِكَوْكَبِ كَذَا وَكَذَا».
English

It is reported on the authority of Abu Huraira رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌:

The Messenger of Allah (may peace and blessing be upon him) observed: Allah does not shower His blessings from the heaven that in the morning a group of men disbelieve it (to be a blessing from Allah). Allah sends down rain, but they (the disbelievers) say: Such and such star (is responsible for that).

Urdu

مجھ سے محمد بن سلمہ مرادی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن الحارث نے، کہا ہم سے عمرو بن سواد نے، کہا ہم سے عبداللہ بن وہب نے، کہا ہم سے عمرو بن الحارث نے بیان کیا کہ ابو یونس، موکل, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

آپ ﷺ نے فرمایا : ’’اللہ تعالیٰ آسمان سے برکت ( بارش ) نازل نہیں کرتا مگر لوگوں کا ایک گروہ ، اس کے سبب سے کافر ہو جاتا ہے ، بارش اللہ تعالیٰ اتارتا ہے ( لیکن ) یہ لوگ کہتے ہیں : فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔ ) ‘ ‘ اور مرادی کی روایت کے یہ ا لفاظ ہیں : ’’فلاں فلاں ستارے کے باعث ( اتری ہے ۔

Hadith 234
Sahih
وَحَدَّثَنِي عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو زُمَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَصْبَحَ مِنَ النَّاسِ شَاكِرٌ وَمِنْهُمْ كَافِرٌ، قَالُوا: هَذِهِ رَحْمَةُ اللهِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَقَدْ صَدَقَ نَوْءُ كَذَا وَكَذَا قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ} [الواقعة: 75]، حَتَّى بَلَغَ: {وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ.
English

It is reported on the authority of Ibn 'Abbas رضی ‌اللہ ‌عنہ :

There was (once) a downpour during the life of the Apostle ﷺ Upon this the Apostle (ﷺ) observed: Some people entered the morning with gratitude and some with ingratitude (to Allah). Those who entered with gratitude said: This is the blessing of Allah, and those who entered with ingratitude said: Such and such asterism was right. It was upon this that the verse was revealed: I swear by the setting of the stars to the end and make your provision that you should disbelieve it.

Urdu

ہم سے عباس بن عبدالعظیم الانباری نے بیان کیا، کہا ہم سے النذر بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ نے جو ابن عمار ہیں، انہوں نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو زمیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا,حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے دور میں لوگوں کو بارش سے نوازا گیا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں میں سے کچھ شکر گزار ہو گئے ہیں اور کچھ کافر ( ناشکرے ) ، ( بعض ) لوگوں نے کہا : یہ اللہ کی رحمت ہے اور بعض نے کہا : فلاں فلاں نوء ( ایک ستارے کا غروب اور اس کے سبب سے دوسرے کی بلندی ) سچی نکلی ۔ ‘ ‘ ( ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) فرماتے ہیں ، اس پر یہ آیت نازل ہوئی : ’’میں ستاروں کے گرنے کی جگہوں کی قسم کھاتا ہوں ۔ ‘ ‘ ( سے لے کر ) اس آیت تک : ’’ اور تم اپنا حصہ یہ رکھتے ہو کہ تم اس کی تکذیب کرتے ہو ۔ ‘ ‘

Hadith 235
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَبْرٍ، قَالَ سَمِعْتُ أَنَسًا، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‏  ‏ آيَةُ الْمُنَافِقِ بُغْضُ الأَنْصَارِ وَآيَةُ الْمُؤْمِنِ حُبُّ الأَنْصَارِ ‏ ‏ 
English

It is reported on the authority of Anas that the Messenger of Allah (may peace and blessings Be upon him) observed:

Urdu

انس ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌منافق ‌كی ‌نشانی ‌یہ ‌ہے ‌كہ ‌انصار ‌سے ‌دشمنی ‌ركھے ‌اور ‌مومن ‌كی ‌نشانی ‌یہ ‌ہے ‌كہ ‌انصار ‌سے ‌محبت ‌ركھے ‌. ‌

Hadith 236
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «حُبُّ الْأَنْصَارِ آيَةُ الْإِيمَانِ، وَبُغْضُهُمْ آيَةُ النِّفَاقِ».
English

It was narrated from Anas رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌:

The prophet ﷺ said: The sign of a hypocrite is the hatred against the Ansar and the sign of a believer is the love for the Ansar.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا,خالد بن حارث نے کا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ

نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انصار سے محبت کرنا ایمان کی نشانی ہے او ران سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 237
Sahih
وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَنْصَارِ: «لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ، مَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللهُ» قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِعَدِيٍّ: سَمِعْتَهُ مِنَ الْبَرَاءِ؟، قَالَ: إِيَّايَ حَدَّثَ.
English

Al-Bara رضی ‌اللہ ‌عنہ reported from the Messenger (ﷺ) :

He remarked with regard to the Ansar: None but the believer loves them, none but the hypocrite hates them. He who loves them loves Allah and he who hates them hates Allah. I (the narrator) said: Did you hear this hadith from al-Bara' رضی ‌اللہ ‌عنہ ? He said: He narrated it to me.

Urdu

شعبہ نے عدی بن ثابت سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو نبی اکرم ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ

آپ نے انصار کے بارے میں فرمایا : ’’ ان سے محبت نہیں کرتا مگر وہی جو مومن ہےاور ان سے بغض نہیں رکھتا مگر وہی جو منافق ہے ۔ جس سے ان سے محبت کی ، اللہ اس سے محبت کرتا ہے او رجس نے ان سے بغض رکھا اللہ اس سے بغض رکھتا ہے ۔ ‘ ‘ شعبہ نے کہا : میں عدی سے پوچھا : کیا تم نے یہ روایت براء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنی ہے ؟ توانہوں نے جواب دیا : انہوں نے یہ حدیث مجھی کو سنائی تھی ۔

Hadith 238
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ، يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ».
English

It is reported on the authority of Abu Huraira رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The Messenger of Allah (ﷺ) said: A person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب نے، یعنی ابن عبدالرحمٰن القاری نے، ہم سے سہیل کی سند سے، وہ اپنے والد سے، وہ حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی ایسا آدمی انصار سے بغض نہیں رکھے گا جو اللہ تعالیٰ اور قیامت پر ایمان رکھتا ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 239
Sahih
وَحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، كِلَاهُمَا عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ رَجُلٌ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ.
English

It is narrated on the authority of Abu Sa'id Khudri ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌:

The Messenger of Allah observed: The person who believes in Allah and the Last Day never nurses a grudge against the Ansar.

Urdu

ہم سے عثمان بن محمد بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے جریر، ایچ، نے بیان کیا، ان سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ان دونوں نے الاعضاء کی سند سے بیان کیا، وہ ابو کی سند سےصالح،حضرت ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی شخص انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا جو اللہ تعالیٰ اورآخرت کےدن پر ایمان رکھتا ہو.

Hadith 240
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرٍّ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ، إِنَّهُ لَعَهْدُ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيَّ: «أَنْ لَا يُحِبَّنِي إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضَنِي إِلَّا مُنَافِقٌ».
English

It was narrated that Zirr reported:

'Ali observed: By Him Who split up the seed and created something living, the Apostle (may peace and blessings be upon him) gave me a promise that no one but a believer would love me, and none but a hypocrite would nurse grudge against me.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، وکیع نے اور ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، انہیں الاعمش کی سند سے، ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، اور اس کا تلفظ یہ ہے کہ ہم سے احب ابو معاویہ نے بیان کیا, الاعمش نے عدی بن ثابت سے زر کی سند سے کہا

حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑ اور روح کو تخلیق کیا ! نبی امی ﷺنے مجھے بتا دیا تھا کہ ’’ میرے ساتھ مومن کے سوا کوئی محبت نہیں کرے گا اور منافق کے سوا کوئی بغض نہیں رکھے گا ۔ ‘ ‘

Hadith 241
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ الْمِصْرِيُّ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ وَأَكْثِرْنَ الِاسْتِغْفَارَ، فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ» فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ جَزْلَةٌ: وَمَا لَنَا يَا رَسُولَ اللهِ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ: «تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ، وَمَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَغْلَبَ لِذِي لُبٍّ مِنْكُنَّ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ وَالدِّينِ؟ قَالَ: أَمَّا نُقْصَانُ الْعَقْلِ: فَشَهَادَةُ امْرَأَتَيْنِ تَعْدِلُ شَهَادَةَ رَجُلٍ فَهَذَا نُقْصَانُ الْعَقْلِ، وَتَمْكُثُ اللَّيَالِيَ مَا تُصَلِّي، وَتُفْطِرُ فِي رَمَضَانَ فَهَذَا نُقْصَانُ الدِّينِ.
English

It is narrated on the authority of 'Abdullah bin Umar ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌:

The Messenger of Allah observed: O womenfolk, you should give charity and ask much forgiveness for I saw you in bulk amongst the dwellers of Hell. A wise lady among them said: Why is it, Messenger of Allah, that our folk is in bulk in Hell? Upon this the Prophet observed: You curse too much and are ungrateful to your spouses. I have seen none lacking in common sense and failing in religion but (at the same time) robbing the wisdom of the wise, besides you. Upon this the woman remarked: What is wrong with our common sense and with religion? He (the Holy Prophet) observed: Your lack of common sense (can be well judged from the fact) that the evidence of two women is equal to one man, that is a proof of the lack of common sense, and you spend some nights (and days) in which you do not offer prayer and in the month of Ramadan (during the days) you do not observe fast, that is a failing in religion.

Urdu

ہم سے محمد بن رومہ بن المہاجر المصری نے بیان کیا,لیث نے ابن ہادلیثی سے خبر دی کہ عبد اللہ بن دینار نےحضرت عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ

آپ نے فرمایا : ’’اے عورتوں کی جماعت ! تم صدقہ کیا کرو ، اور زیادہ سے زیادہ استغفار کیا کرو ، کیونکہ میں نے دوزخیوں میں اکثریت تمہاری دیکھی ہے ۔ ‘ ‘ ان میں سے ایک دلیر اورسمجھ دار عورت نے کہا : اللہ کے رسول! ہمیں کیا ہے ، دوزخ میں جانے والوں کی اکثریت ہماری ( کیوں ) ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ تم لعنت بہت بھیجتی ہو اور خاوند کا کفران ( نعمت ) کرتی ہو ، میں نے عقل و دین میں کم ہونے کے باوجود ، عقل مند شخص پر غالب آنے میں تم سے بڑھ کر کسی کو نہیں دیکھا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا؟ اے اللہ کے رسول ! عقل و دین میں کمی کیا ہے ؟ آپ نےفرمایا : ’’ عقل میں کمی یہ ہے کہ دوعورتوں کی شہادت ایک مرد کے برابر ہے ، یہ توہوئی عقل کی کمی اور وہ ( حیض کے دوران میں ) کئی راتیں ( اور دن ) گزارتی ہے کہ نماز نہیں پڑھتی اور رمضان میں بے روزہ رہتی ہے تویہ دین میں کمی ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 242
Sahih
وَحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Abu Tahir with this chain of transmitters.

Urdu

مجھے ابو الطاہر نے ابن وہب نے بکر بن مدر سے اور ابن الحاد کی سند سے اس روایت سے روایت کیا ہے۔

Hadith 243
Sahih
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

A hadith like this as narrated by Ibn 'Umar has also been transmitted by Abu Sa'id al-Khudri. A hadith like this as narrated by Ibn 'Umar has also been transmitted by Abu Huraira.

Urdu

عیاض بن عبد اللہ نےحضرت ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اورانہوں نے نبی اکرمﷺ سے اور ( سعید ) مقبری نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی روایت ہے ۔ باب : 35 ۔ نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا نمازاسلام کا رکن ہے ۔ اس کا ترک پچھلی احادیث میں ذکر کیے گئے متعدد گناہوں سے زیادہ سنگین ہے ۔ اس پر جس کفر کا اطلاق کیا گیا وہ ان کے کفر سے بڑا کفر ہے ، پھر بھی اس سے توبہ اور آیندہ نماز کی پابندی سے انسان اچھا مسلمان بن جاتا ہے ، اسے دوبارہ اسلام لانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جو نماز کا منکر ہے اسے ازسرنو اسلام لانے کی ضرورت ہے ۔

Hadith 244
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ - وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: يَا وَيْلِي - أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ.
English

It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The messenger of Allah ﷺ said: When, the son of Adam recites the Ayat of Sajdah (prostration) and then falls down in prostration, the Satan goes into seclusion and weeps and says: Alas, and in the narration of Abu Kuraib the words are: Woe unto me, the son of Adam was commanded to prostrate, and he prostrated and Paradise was entitled to him and I was commanded to prostrate, but I refused and am doomed to Hell.

Urdu

حضرت ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہو ں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب ابن آدم سجدے کی آیت تلاوت کر کے سجدہ کرتا ہے تو شیطان روتے ہوئے وہاں سے ہٹ جاتا ہے ، وہ کہتا ہے : ہائے اس کی ہلاکت ! ( اور ابوکریب کی روایت میں ہے ، ہائے میری ہلاکت! ) ابن آدم کو سجدے کا حکم ملا تو اس نے سجدہ کیا ، اس پر اسے جنت مل گئی اور مجھے سجدے کا حکم ملا تو میں نے انکار کیا ، سو میرے لیے آگ ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 245
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ، مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: فَعَصَيْتُ فَلِيَ النَّارُ.
English

A'mash narrated this hadith with the same chain of transmitters, with this change of words:

He (the Satan) said: I disobeyed and I am doomed to Hell.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے ہم سے بیان کیا,وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ۔ فرق یہ ہے کہ

وکیع نے ( فأبيت..... ’’ میں نے انکار کیا ‘ ‘ کے بجائے ) فعصيت فعلي النار ’’ میں نے نافرمانی کی تو میرے لیے جہنم ( مقدر ) ہوئی ‘ ‘ کہا ۔

Hadith 246
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى التَّمِيمِيُّ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، كِلَاهُمَا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ.
English

It is narrated on the authority of Jabir رضی ‌اللہ ‌عنہ :

He heard the Apostle (may peace and blessings be upon him) saying. Verily between man and between polytheism and unbelief is the negligence of prayer.

Urdu

ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی اور عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ان دونوں نے جریر کی سند سے کہا: ہم سے جریر نے الاعمش کی سند سے بیان کیا,ابو سفیان سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ

میں نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ بے شک آدمی اورشرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز کا ترک ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 247
Sahih
) حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ، حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلَاةِ.
English

It is narrated on the authority of Abu Zubair that he heard Jabir b. 'Abdullah saying.

I heard the Messenger of Allah (ﷺ) observing this: Between man and polytheism and unbelief is the abandonment of salat.

Urdu

ہم سے ابو غسان مسمعی نے بیان کیا، کہا ہم سے ضحاک بن مخلد نے بیان کیا، انہوں نے ابن جریج کی سند سے کہا: مجھ سےابو زبیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا

میں نے رسول اللہ ﷺ کویہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ آدمی اور شرک و کفر کے درمیان ( فاصلہ مٹانے والا عمل ) نماز چھوڑنا ہے ۔ ‘ ‘ ( اس روایت میں إن’’بےشک ‘ ‘ کا لفظ نہیں ، باقی وہی ہے ۔ )

Hadith 248
Sahih
وَحَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ح، وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ زِيَادٍ، أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ، يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللهِ»، قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» قَالَ: ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: «حَجٌّ مَبْرُورٌ»، وَفِي رِوَايَةِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ: «إِيمَانٌ بِاللهِ وَرَسُولِهِ.
English

It was narrated that Abu Huraira رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said:

The Messenger of Allah ﷺ was asked about the best of deeds. He observed: Belief in Allah. He (the inquirer) said: What next? He (the Holy Prophet ﷺ) replied: Jihad (struggle to the utmost) in the cause of Allah. He (the inquirer) again said: What next? He (the Holy Prophet ﷺ) replied: Pilgrimage accepted into the grace of the Lord. In the. tradition narrated on the authority of Muhammad b. Ja'far (the words are) that he (the Holy Prophet) said: Belief in Allah and His Messenger.

Urdu

منصور بن ابی مزاحم اور محمد بن جعفر بن زیاد نے کہا : ہمیں ابراہیم بن سعد نے ابن شہاب سے حدیث سنائی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ

رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا : کون ساعمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ عز وجل پر ایمان لانا ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : پھر اس کے بعد کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے راستے میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : پھر کو ن سا ؟ فرمایا : ’’حج مبرور ( ایسا حج جو سراسرنیکی اور تقوے پر مبنی اور مکمل ہو ۔ ) ‘ ‘ محمد بن جعفر کی روایت میں ’’ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ۔

Hadith 249
Sahih
وَحَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

Muhammad bin Rafi and 'Abd bin Humaid, 'Abdur-Razzaq and Ma'mar and Zuhri have narrated a hadith like this on the authority of the same chain of transmitters.

Urdu

مجھ سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے عبد الرزاق کی سند سے ہمیں زہری سے اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی۔

Hadith 250
Sahih
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، ح وَحَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ - وَاللَّفْظُ لَهُ - حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ اللَّيْثِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الْإِيمَانُ بِاللهِ وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِهِ» قَالَ: قُلْتُ: أَيُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «أَنْفَسُهَا عِنْدَ أَهْلِهَا وَأَكْثَرُهَا ثَمَنًا» قَالَ: قُلْتُ: فَإِنْ لَمْ أَفْعَلْ؟ قَالَ: «تُعِينُ صَانِعًا أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ» قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ ضَعُفْتُ عَنْ بَعْضِ الْعَمَلِ؟ قَالَ: «تَكُفُّ شَرَّكَ عَنِ النَّاسِ فَإِنَّهَا صَدَقَةٌ مِنْكَ عَلَى نَفْسِكَ».
English

It was narrated that Abu Dharr رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said:

I said: Messenger of Allah ﷺ, which of the deeds is the best? He (the Holy Prophet ﷺ) replied: Belief in Allah and Jihad in His cause. I again asked: Who is the slave whose emancipation is the best? He (the Holy Prophet) replied: One who is valuable for his master and whose price is high. I said: If I can't afford to do it? He (the Holy Prophet) replied: Help an artisan or make anything for the unskilled (labourer). I (Abu Dharr) said: Messenger of Allah, you see that I am helpless in doing some of these deeds. He (the Holy Prophet) replied: Desist from doing mischief to the people. That is the charity of your person on your behalf.

Urdu

مجھ سے ابو الربیع الزہرانی نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا,ہشام بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انہوں نے ابو مراوح لیثی سے اور انہون نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا

میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! کو ن سا عمل افضل ہے ؟ آپﷺ : ’’ اللہ پر ایمان لانا اور اس کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ کہا : میں ( پھر ) پوچھا : کون سی گردن ( آزادکرنا ) افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ جو اس کے مالکوں کی نظر میں زیادہ نفیس اور زیادہ قیمتی ہو ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے پوچھا : اگر میں یہ کام نہ کر سکوں تو ؟ آپ نے فرمایا : ’’ کسی کاریگر کی مدد کرو یا کسی اناڑی کا کام ( خود ) کر دو ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ غور فرمائیں اگر میں ایسے کسی کام کی طاقت نہ رکھتا ہوں تو؟ آپ نے فرمایا : ’’ لوگوں سے اپنا شر روک لو ( انہیں تکلیف نہ پہنچاؤ ) یہ تمہاری طرف سے خود تمہارے لیے صدقہ ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 251
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، قَالَ عَبْدٌ: أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَبِيبٍ مَوْلَى عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ: «فَتُعِينُ الصَّانِعَ أَوْ تَصْنَعُ لِأَخْرَقَ».
English

Muhammad b. Abu Rafi' narrated the hadith on the authority of Abu Dharr with a slight difference.

Urdu

( ہشام کے بجائے ) عروہ بن زبیر کے آزاد کردہ غلام حبیب نے سابقہ سند سے یہی روایت بیان کی ، فرق صرف یہ ہے کہ انہوں نے ( تعین صانعاکسی کاریگر کے بجائے ( فتعین الصانع ( الف لام کےساتھ ) کہا ہے ۔ ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، وہ الزہری کے مؤکل سے۔ عروہ بن الزبیر، عروہ بن الزبیر کی سند سے، ابو مراویح کی سند سے، ابوذر کی سند سے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمت نازل ہوئی۔ اور اسی طرح اسے سلامتی عطا فرما، سوائے اس کے کہ اس نے کہا: "تو تم بنانے والے کی مدد کرو یا کسی ایسے شخص کے لیے کچھ بنا دو جو ایسا نہیں کرتا۔"

Hadith 252
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا» قَالَ: قُلْتُ ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» فَمَا تَرَكْتُ أَسْتَزِيدُهُ إِلَّا إِرْعَاءً عَلَيْهِ.
English

It is narrated on the authority of 'Abdullah b. Mas'ud رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌:

He observed. I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ) which deed was the best. He (the Holy Prophet) replied: Prayer at its appointed hour. I (again) said: Then what? He (the Holy Prophet) replied: Kindness to the parents. I (again) said: Then what? He replied: Earnest endeavour (Jihad) in the cause of Allah. And I would have not ceased asking more questions but out of regard (for his feelings).

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مشر نے بیان کیا( ابو اسحاق سلیمان بن فیروز کوفی ) شیبانی نے ولید بن عیزار سے ، انہوں نے سعد بن ایاس ابو عمرو شیبانی سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ

میں نے رسول اللہ سے پوچھا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں پوچھا : اس کے بعد کون ؟ فرمایا : ’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے مزید پوچھنا صرف اس لیے چھوڑ دیا کہ آپ پر گراں نہ گزرے ۔