It is narrated o the authority of Abu Dharr رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) observed: Three are the (persons) with whom Allah would neither speak on the Day of Resurrection, nor would look at them nor would absolve the and there is a painful chastisement for them. The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) repeated it three times. Abu Dharr رضی اللہ عنہ remarked: They failed and they lost; who are these persons, Messenger of Allah? Upon this he (the Holy Prophet) observed: They are: the dragger of lower garment, the recounter of obligation the seller of goods by false oath.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن المثنی اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے شعبہ کی سند سے، علی بن مدر سی کے کی سند سے بیان کیا,ابو زرعہ سے خرشہ بن حر سے انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’ تین ( قسم کے لوگ ) ہیں اللہ ان سے گفتگو نہیں کرے گا ، نہ قیامت کے روز ان کی طرف سے دیکھے گا اور نہ انہیں ( گناہوں سے ) پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا ۔ ‘ ‘ ابو ذر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے اسے تین دفعہ پڑھا ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ نےکہا : ناکام ہو گئے اور نقصان سے دو چار ہوئے ، اے اللہ کے رسول ! یہ کون ہیں ؟ فرمایا : ’’ اپنا کپڑا ( ٹخنوں سے ) نیچے لٹکانےوالا ، احسان جتانے والا اور جھوٹی قسم سے اپنے سامان کی مانگ بڑھانے والا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Dharr رضی اللہ عنہ who narrates:
The Prophet ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Three are the persons with whom Allah would not speak on the Day of Resurrection: the bestower of gift who does not give anything but by laying obligation on him, the seller of goods who sells them by taking false oath and one who hangs low his lower garment.
مجھ سے ابوبکر بن خلاد الباہلی نے بیان کیا، ہم سے یحییٰ نے بیان کیا اور وہ القطان ہیں,سفیان نے کہا , ہمیں سلیمان اعمش نے سلیمان بن مسہر سے حدیث سنائی ، انہوں نے خرشہ بن حر سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’تین ( قسم کے لوگ ) ہیں ، قیامت کے دن اللہ ان سےبات نہیں کرے گا : منان ، یعنی جو احسان جتلانے کے لیے کسی کو کوئی چیز دیتا ہے ۔ وہ جو جھوٹی قسم کے ذریعے سے اپنے سامان کی مانگ بڑھاتا ہے اور جو اپنا تہبند ( ٹخنوں سے نیچے ) لٹکاتا ہے ۔ ‘ ‘
Bishr bin Khalid has narrated this hadith on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters with this addition:
Allah shall neither speak nor look at nor absolve then, and there is a tormenting punishment for them.
مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا، یعنی ہم سے ابن جعفر نے بیان کیا,( سفیان کے بجائے ) شعبہ نے سلیمان بن اعمش سے یہی روایت انہی کی سند سے بیان کی کہ
آپﷺ نے فرمایا : ’’ تین ( لوگوں ) سے اللہ گفتگو نہیں کرے گا ، نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہو گا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Three (are the persons) with whom Allah would neither speak, nor would He absolve them on the Day of Resurrection. Abu Mu'awiya added: He would not look at them and there is grievous torment for them: the aged adulterer, the liar king and the proud destitute.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے ، انہون نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تین ( قسم کے لوگ ) ہیں جن سے اللہ قیامت کے دن بات نہیں کرے گا اور نہ ان کو پاک فرمائے گا ( ابو معاویہ ) نے کہا : نہ ان کی طرف دیکھے گا ) اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے : بوڑھا زانی ، جھوٹا حکمران اور تکبر کرنے والا عیال دار محتاج ۔ ‘ ‘
Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrated on the authority of Abu Bakr رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Three are the persons with whom Allah would neither speak on the Day of Resurrection, nor would He look towards them, nor would purify them (from sins), and there would be a tormenting chastisement for them: a person who in the waterless desert has more water (than his need) and he refuses to give it to the traveller and a person who sold a commodity to another person in the afternoon and took an oath of Allah that he had bought it at such and such price and he (the buyer) accepted it to be true though it was not a fact, and a person who pledged allegiance to the Imam but for the sake of the world (material gains). And if the Imam bestowed on him (something) out of that (worldly riches) he stood by his allegiance and if he did not give him, he did not fulfil the allegiance.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب دونوں نے کہا کہ ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( اور یہ الفاظ ابوبکر کی حدیث کے ہیں ) انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین ( قسم کے لوگ ) ہیں جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بات نہیں کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے ۔ ( ایک ) وہ آدمی جو بیابان میں ضرورت سے زائد پانی رکھتا ہے لیکن وہ مسافر کو اس سے روکتا ہے ، ( دوسرا ) وہ جس نے کسی آدمی کے ساتھ عصر کےبعد ( عین انسانوں کےاعمال اللہ کے حضور پیش کیے جانے کے وقت ) سامان کا سودا کیا اور اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے یہ سامان اتنی رقم میں لیا ہے جبکہ اس نے اتنے کا نہیں لیا ۔ اور خریدار اس کی بات مان لیتا ہے ۔ اور ( تیسرا ) وہ آدمی جس نے حکمران کی بیعت کی اور صرف دنیا کے لیے کی ( دین کی سربلندی مقصود نہ تھی ۔ ) اگر اس نے اسے اس ( دنیا ) میں سے کچھ دے دیا تو ( اس نے ) وفا کی اور اگر نہیں دیا تو وفادار نہ رہا ۔ ‘ ‘
A similar report was narrated from Al-A'mash with this chain, except that he said:
"He offered for sale a commodity to another person."
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا,جریر اور عبثر دونوں نے اپنی اپنی سند سے اعمش سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ، البتہ جریر کی روایت میں ( ’’سوداکیا ‘ ‘ کے بجائے ) یہ الفاظ ہیں
’’ ایک آدمی جس نے دوسرے آدمی کے ساتھ سامان کا بھاؤ کیا ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
He (the Messenger of Allah ﷺ) observed: Three are the persons with whom Allah would neither speak (on the Day of Resurrection) nor would He look at them, and there would be a painful chastisement for them, a person who took an oath on the goods of a Muslim in the afternoon and then broke it. The rest of the hadith is the same as narrated by A'mash.
مجھ سے عمرو ناقد نے بیان کیا، ہم سے سفیان نے بیان کیا,عمرو نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( انہوں ( ابو صالح ) نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں ( ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ ) نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے مرفوعاً روایت کی )
آپ نے فرمایا : ’’تین ( قسم کے لوگ ) ہیں جن سے اللہ بات کرےگا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ، ایک آدمی جس نے عصر کے بعد مسلمان کے مال کے لیے قسم اٹھائی اور اس کا حق مار لیا ۔ ‘ ‘ حدیث کاباقی حصہ اعمش کی حدیث جیسا ہے ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who killed himself with steel (weapon) would be the eternal denizen of the Fire of Hell and he would have that weapon in his hand and would be thrusting that in his stomach for ever and ever, he who drank poison and killed himself would sip that in the Fire of Hell where he is doomed for ever and ever; and he who killed himself by falling from (the top of) a mountain would constantly fall in the Fire of Hell and would live there for ever and ever.
وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے ابو صالح سےاور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اپنے آپ کو لوہے ( کے ہتھیار ) سے قتل کیا تو وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا وہ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے جہنم کی آگ میں رہے گا ، اسے اپنے پیٹ میں گھونپتا رہے گا ۔ جس نے زہر پی کر خودکشی کی ، وہ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے جہنم کی آگ میں اسے گھونٹ گھونٹ پیتا رہے گا اورجس نے اپنے آپ کو کو پہاڑ سے گرا کر خود کشی کی ، وہ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے جہنم کی آگ میں پہاڑ سے گرتا رہے گا ۔ ‘ ‘
This hadith has been narrated by another chain of transmitters.
جریر ، عبثر بن قاسم اور شعبہ سےبھی ، سابقہ سند کے ساتھ ، مذکورہ بالا روایت بیان کی گئی ہے ۔ شعبہ کی روایت میں ہے : سلیمان ( اعمش ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے ذکوان سے سنا ، ( انہوں نے ابو صالح ذکوان سے اپنے سماع کی وضاحت کی ہے
Thabit bin Dahhak رضی اللہ عنہ reported:
He pledged allegiance to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) under the Tree, and verily the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who took an oath of a religion other than Islam, in the state of being a liar, would became so, as he professed. He who killed himself with a thing would be tormented on the Day of Resurrection with that very thing. One is not obliged to offer votive offering of a thing which is not in his possession.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا,معاویہ بن سلام دمشقی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت کی کہ ابو قلابہ نے انہیں خبر دی کہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے ان کو خبر دی کہ انہوں نے ( حدیبیہ کے مقام پر ) درخت کے نیچے رسول اللہ ﷺ سے بیعت کی اور یہ کہ
آپﷺ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب پر ہونے کی پختہ قسم کھائی اور ( جس بات پر اس نے قسم کھائی اس میں ) وہ جھوٹا تھا تو وہ ویسا ہی ہے جیسا اس نے کہا ( اس کاعمل ویسا ہی ہے ۔ ) او رجس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا قیامت کے دن اس کو اسی چیز سے عذاب دیا جائے گا ۔ اور کسی شخص پر اس چیز کی نذر پوری کرنا لازم نہیں جس کا وہ مالک نہیں ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Thabit b. al-Dahhak that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observes: None is obliged to give votive offering (of a thing) which is not in his possession and the cursing of a believer is tantamount to killing him, and he who killed himself with a thing in this world would be tormented with that (very thing) on the Day of Resurrection, and he who made a false claim to increase (his wealth), Allah would make no addition but that of paucity, and he who perjured would earn the wrath of God
مجھ سے ابو غسان المسمعی نے بیان کیا، معاذ نے جو ابن ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے سابقہ سند کے ساتھ حدیث سنائی کہ حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’ جس چیز کا انسان مالک نہیں ہے ، اس کےبارے میں ( مانی ہوئی ) نذر اس کے ذمے نہیں ہے ۔ مومن پر لعنت بھیجنا ( گناہ کے اعتبار سے ) اس کے قتل کے مترادف ہے اور جس نے کسی چیز سے اپنے آپ کو قتل کیا ، قیامت کے دن اسی چیز سے اس کو عذاب دیا جائے گا ، اور جس نے ( مال میں ) اضافے کے لیے جھوٹا دعویٰ کیا ، اللہ تعالیٰ اس ( کے مال ) کی قلت ہی میں اضافہ کرے گا اور جس نے ایسی قسم جو فیصلے کے لیے ناگزیر ہو ، جھوٹی کھائی ( اس کا بھی یہی حال ہو گا ۔ ) ‘ ‘
It is narrated on the authority of Thabit bin Dahhak رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who took deliberately a false oath on a religion other than Islam would become that which he had professed. And he who killed himself with anything Allah would torment him with that in the Fire of Hell.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم، اسحاق بن منصور اور عبد الوارث بن عبد الصمد نے بیان کیا، ان سب نے عبد الصمد بن عبد الوارث کی سند سے،شعبہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے اور انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، نیز سفیان ثوری نے بھی خالدحذاء سے ، انہوں نے ابو قلابہ سے ارو انہوں نے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے جان بوجھ کر اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی تو وہ اپنے قول کے مطابق ( اسی مذہب سے ) ہو گا اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے قتل کیا ، اللہ اس کو جہنم کی آگ میں اسی چیز سے عذاب دے گا ۔ ‘ ‘ یہ سفیان کی بیان کردہ حدیث ہے ۔ اور شعبہ کی روایت یوں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اسلام کے سوا کسی اور ملت میں ہونے کی جھوٹی قسم کھائی ( اس روایت میں ’’جان بوجھ کر ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ) تو وہ اسی طرح ہے جس طرح اس نے کہا ہے اور جس نے اپنے آپ کو کسی چیز سے ذبح کر ڈالا ، اسے قیامت کے دن اسی چیز سے ذبح کیا جائے گا ۔ ‘ ‘
It was narrated that Abu HUrairah رضی اللہ عنہ :
"We were present at (the battle of) Hunain with the Messenger of Allah ﷺ, he said of a man who claimed to be a Muslim: 'This is one of the people of the fire.' When the fighting began, that man fought fiercely, then he was wounded and it was said: 'O Messenger of Allah, the man of whom you said that he is one of the people of fire fought fiercely today, and he has died.' The Messenger of Allah said: 'To the fire.' Some of the Muslims could hardly believe it, and while they were like that, it was said: 'He has not died, but he is badly wounded.' That night, he could no longer bear the pain, so he killed himself. The prophet ﷺ was informed of that and he said: 'Allah Akbar! I bear witness that I am the Allah's slave and His Messenger.' Then he ordered Bilal to call out to the people: No one will enter Paradise but a Muslim soul, and Allah will support this religion even by means of an evildoer."
ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا، سب نے عبد الرزاق کی سند سے بیان کیا، کہا, ہم سے عبد الرزاق نے بیان کیا، ہمیں معمر نے، زہری کی سند سے, ابن المسیب کی ,حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ ﷺ کی معیت میں جنگ حنین میں شریک ہوئے تو آپﷺ نے ایک آدمی کے بارے میں ، جسے مسلمان کہا جاتا تھا ، فرمایا : ’’ یہ جہنمیوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ جب ہم لڑائی میں گئے تو اس آدمی نے بڑی زور دار جنگ لڑی جس کی وجہ سے اسے زخم لگ گئے اس پر آپ کی خدمت میں عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول ! و ہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی فرمایا تھا : ’’ وہ جہنمیوں میں سے ہے ‘ ‘ اس نے تو آج بڑی شدید جنگ لڑی ہے اور وہ مرچکا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آگ کی طرف ( جائے گا ۔ ) ‘ ‘ بعض مسلمان آپ کے اس فرمان کو بارے میں شک و شبہ میں مبتلا ہونے لگے ، ( کہ ایسا جانثار کیسے دوزخی ہو سکتا ہے ۔ ) لوگ اسی حالت میں تھے کہ بتایا گیا : وہ مرانہیں ہے لیکن اسے شدید زخم لگےہیں ۔ جب رات پڑی تو وہ ( اپنے ) زخموں پر صبر نہ کر سکا ، اس نے خود کشی کر لی ۔ آپ اس کی اطلا دی گئی تو آپ نے فرمایا : ’’ اللہ سب سے بڑا ہے ، میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں - ‘ ‘ پھر آپ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیاتو انہوں نے لوگوں میں اعلان کیا : ’’ یقیناً اس جان کے سوا کوئی جنت میں داخل نہ ہو گا جو اسلام پر ہے اور بلاشبہ اللہ برے لوگوں سے بھی اس دین کی تائید کراتا ہے ۔ ‘ ‘
It is reported on the authority of Sahl bin Sa'd al-Sa'idi رضی اللہ عنہ :
There was an encounter between the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and the polytheists, and they fought (against one another). At the conclusion of the battle the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) bent his steps towards his army and they (the enemies) bent their steps towards their army. And there was a person (his name was Quzman and he was one of the hypocrites) among the Companions of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) who did not spare a detached (fighter of the enemy) but pursued and killed him with the sword. They (the Companions of the Holy Prophet) said: None served us better today than this man Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) remarked: Verily he is one of the denizens of Fire. One of the people (Muslims) said: I will constantly shadow him. Then this man went out along with him. He halted whenever he halted, and ran along with him whenever he ran. He (the narrator) said: The man was seriously injured. He (could not stand the pain) and hastened his own death. He placed the blade of the sword on the ground with the tip between his chest and then pressed himself against the sword and killed himself. Then the man (following him) went to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: I bear testimony that verily thou art the Messenger of Allah, He (the Holy Prophet) said: What is the matter? He replied: The person about whom you just mentioned that he was one among the denizens of Fire and the people were surprised (at this) and I said to them that I would bring (the news about him) and consequently I went out in search of him till I (found him) to be very seriously injured. He hastened his death. He placed the blade of the sword upon the ground and its tip between his chest and then pressed himself against that and killed himself. Thereupon the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) remarked: A person performs the deeds which to the people appear to be the deeds befitting the dweller of Paradise, but he is in fact one of the denizens of Hell. And verily a person does an act which in the eyes of public is one which is done by the denizens of Hell, but the person is one among the dwellers of Paradise.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے یعقوب نے جو کہ ابن عبدالرحمٰن القاری ہیں جو زندہ عرب ہیں، ہم سے ابوحازم کی سند سے بیان کیا کہ ,حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ اور مشرکوں کا آمنا سامنا ہوا اور جنگ شروع ہو گئی ، پھر رسول اللہ ﷺ اپنی لشکر گاہ کی طرف پلٹے او ر فریق ثانی اپنی لشکر گاہ کی طرف مڑا ۔ رسو ل اللہ ﷺ کا ساتھ دینے والوں میں سےایک آدمی تھا جودشمنوں ( کی صفوں ) سے الگ رہ جانے والوں کو نہ چھوڑتا ، ان کا تعاقب کرتا اور انہیں اپنی تلوار کا نشانہ بنا دیتا ، لوگوں نے کہا : آج ہم نے میں سے فلاں نے جو کردکھایا کسی اور نے نہیں کیا ، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لیکن واقعہ یہ ہے کہ یہ شخص اہل جہنم میں سے ہے ۔ ‘ ‘ لوگوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا : میں مستقل طور پر اس کے ساتھ رہوں گا ۔ سہل رضی اللہ عنہ نے کہا : وہ آدمی اس کے ہمراہ نکلا ۔ جہاں وہ ٹھہرتا وہیں یہ ٹھہر جاتا اور جب وہ اپنی رفتار تیز کرتا تو اس کے ساتھ یہ بھی تیز چل پڑتا ۔ ( آخر کار ) وہ آدمی شدید زخمی ہو گیا ، اس نے جلد مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ ( تلوار کا دستہ ) زمیں پر رکھا اور اس کی دھار اپنی چھاتی کے درمیان رکھی ، پھر اپنی تلوار سے اپنا پورا وزن ڈال کر خودکشی کر لی ۔ وہ ( پیچھا کرنے والا ) آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کی : میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں ۔ آپ نے پوچھا : ’’ کیا ہوا ؟ ‘ ‘ تو اس نے کہا ، وہ آدمی جس کے بارے میں آپ نے ابھی بتایا تھا کہ و ہ دوزخی ہے اور لوگوں سے اسے غیر معمولی بات سمجھا تھا ۔ اس پر میں نے ( لوگوں سے ) کہا : میں تمہارے لیے اس کا پتہ لگاؤں لگا ۔ میں اس کے پیچھے نکلا یہاں تک کہ وہ شدید زخمی ہو گیا اور اس نے جلدی مر جانا چاہا تو اس نے اپنی تلوار کا اوپر کا حصہ ( دستہ ) زمین پر اور اس کی دھار چھاتی کے درمیان رکھی ، پھر اس پر اپنا پورا بوجھ ڈال دیا اور خود کو مار ڈالا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی جنتیون کے سے کام کرتا ہے ، حالانکہ وہ دوزخی ہوتا ہے اور لوگوں کو نظر آتا ہے کہ کوئی آدمی دوزخیوں کے سے کام کرتا ہے حالانکہ ( انجام کار ) وہ جنتی ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
It is reported on the authority of Hasan:
A person belonging to the people of the past suffered from a boil, when it pained him, he drew out an arrow from the quiver and pierced it. And the bleeding did not stop till he died. Your Lord said: I forbade his entrance into Paradise. Then he (Hasan) stretched his hand towards the mosque and said: By God, Jundab رضی اللہ عنہ transmitted this hadith to me from the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) in this very mosque.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا جو کہ محمد بن عبداللہ بن الزبیر ہیں,شیبان نے بیان کیا کہ میں نےحسن ( بصری ) کو کہتے ہوئے سنا
’’ تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی تھا ، اسے پھوڑا نکلا ، جب اس نے اسے اذیت دی تو اس نے اپنے ترکش سے ایک تیر نکالا او راس پھوڑے کو چیر دیا ، خون بند نہ ہو ا ، حتی کہ وہ مر گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میں نے اس پر جنت حرام کر دی ہے ۔ ‘ ‘ ( کیونکہ اس نے خودکشی کےلیے ایسا کیا تھا ۔ ) پھر حسن نے مسجد کی طرف سے اپناہاتھ اونچا کیا او رکہا : ہاں ، اللہ کی قسم ! یہ حدیث مجھے جندب رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺ سے ( روایت کرتے ہوئے ) اسی مسجد میں سنائی تھی ۔
It is reported on the authority of Hasan:
Jundab bin 'Abdullah al-Bajali رضی اللہ عنہ narrated this hadith in this mosque which we can neither forget and at the same time we have no apprehension that Jundab رضی اللہ عنہ could attribute a lie to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He (the Holy Prophet) observed: A person belonging to the people of the past suffered from a boil, and then the rest of the hadith was narrated.
ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا,( شیبان کے بجائے ) جریر نے بیان کیا کہ میں نے حسن کو کہتے ہوئے سنا
’’ ہمیں جندب بن عبد اللہ بجلی رضی اللہ عنہ نے اسی مسجد میں یہ حدیث سنائی ، نہ ہم بھولے ہیں اور نہ ہمیں یہ خدشہ ہے کہ جندب نے رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھا ہے ۔ جندب رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ : ’’تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک آدمی کو پھوڑا نکلا .... ‘ ‘ پھر اسی ( سابقہ حدیث ) جیسی حدیث بیان کی ۔
It is narrated on the authority of 'Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ :
When it was the day of Khaibar a party of Companions of the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came there and said: So and so is a martyr, till they happened to pass by a man and said: So and so is a martyr. Upon this the Messenger of Allah remarked: Nay, not so verily I have seen him in the Fire for the garment or cloak that he had stolen from the booty, Then the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Umar son of Khattab, go and announce to the people that none but the believers shall enter Paradise. He ('Umar bin Khattab) narrated: I went out and proclaimed: Verily none but the believers would enter Paradise.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے ہاشم بن القاسم نے بیان کیا، کہا ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے سماک الحنفی ابو زمل نے بیان کیا، انہوں نے کہا,حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا , مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا
خیبر ( کی جنگ ) کا دن تھا ، نبی ﷺ کے کچھ صحابہ آئے اور کہنے لگے : فلاں شہید ہے ، فلاں شہید ہے ، یہاں تک کہ ایک آدمی کا تذکرہ ہوا تو کہنے لگے : وہ شہید ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہرگز نہیں ، میں نے اسے ایک دھاری دار چادر یا عبا ( چوری کرنے ) کی نبا پر آگ میں دیکھا ہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اے خطاب کے بیتے ! جاکر لوگوں میں ا علان کر دو کہ جنت میں مومنوں کے سوا کوئی داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ انہوں نے کہا : میں باہر نکلا اور ( لوگوں میں ) اعلان کیا : متنبہ رہو! جنت میں مومنوں کے سوا اور کوئی داخل نہ ہو گا ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
We went to Khaibar along with the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and Allah granted us victory. We plundered neither gold nor silver but laid our hands on goods, corn and clothes, and then bent our stops to a valley; along with the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) there was a slave who was presented to him by one Rifa'a b. Zaid of the family of Judham, a tribe of Dubayb. When we got down into the valley the slave of the Messenger of Allah stood up and began to unpack the saddle-bag and was suddenly struck by a (stray) arrow which proved fatal. We said: There is a greeting for him, Messenger of Allah, as he is a martyr. Upon this the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) remarked: Nay, not so. By Him in Whose hand is the life of Muhammad, the small garment which he stole from the booty on the day of Khaibar but which did not (legitimately) fall to his lot is burning like the Fire (of Hell) on him. The people were greatly perturbed (on hearing this). A person came there with a lace or two laces and said: Messenger of Allah, I found (them) on the day of Khaibar. He (the Holy Prophet) remarked: This is a lace of fire or two laces of fire.
مجھ سے ابو الطاہر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابن وہب نے مالک بن انس کی سند سے، ثور بن زید الدعلی کی سند سے، ابن کے مؤکل سالم ابی الغیث کی سند سے بیان کیا, متّی ہاں، ابوہریرہ کی سند سے، ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، اور یہ ان کی حدیث ہے, عبد العزیز، یعنی ابن محمد نے، ہم سے ثور کی سند سے، ابو العزیز کی سند سے,غیث،حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا
ہم نبی ﷺ کی معیت میں خیبر کی طرف نکلے ، اللہ نے ہمیں فتح عنایت فرمائی ، غنیمت میں ہمیں سنا یا چاندی نہ ملا ، غنیمت میں سامان ، غلہ اور کپڑے ملے ، پھر ہم وادی ( القری ) کی طر ف چل پڑے ۔ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کا ایک غلام تھا جو جذام قبیلے کے ایک آدمی نے ، جسے رفاعہ بن زید کہا جاتا تھا اور ( جذام کی شاخ ) بنو صبیب سے اس کا تعلق تھا ، آپ کو ہبہ کیا تھا ۔ جب ہم نے اس وادی میں پڑاؤ کیا تو رسول اللہ ﷺ کہ ( یہ ) غلام آپ کا پالان کھولنے کے لیے اٹھا ، اسے ( دور سے ) تیر کا نشانہ بنایا گیا اور اسی اس کی موت واقع ہو گئی ۔ ہم نے کہا : اے اللہ کے رسول ! اسے شہادت مبارک ہو ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ہرگز نہیں ! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( ﷺ ) کی جان ہے ! اوڑھنے کی وہ چادر اس پر آگ کے شعلے برسا رہی ہے جو اس نے خیبر کے دن اس کے تقسیم ہونے سے پہلے اٹھائی تھی ۔ ‘ ‘ یہ سن کر لوگ خوف زدہ ہو گئے ، ایک آدمی ایک یا دوتسمے لے آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول ! خیبر کے دن میں نے لیے تھے ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’آگ کا ایک تسمہ ہے یا آگ کے دو تسمے ہیں ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ :
Tufail son of Amr al-Dausi came to the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Do you need strong, fortified protection? The tribe of Daus had a fort in the pre-Islamic days. The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) declined this offer, since it (the privilege of protecting the Holy Prophet) had already been reserved for the Ansar. When the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) migrated to Medina, Tufail son of Amr also migrated to that place, and there also migrated along with him a man of his tribe. But the climate of Medina did not suit him, and he fell sick. He felt very uneasy. So he took hold of an iron head of an arrow and cut his finger-joints. The blood streamed forth from his hands, till he died. Tufail son of Amr saw him in a dream. His state was good and he saw him with his hands wrapped. He (Tufail) said to him: What treatment did your Allah accord to you? He replied. Allah granted me pardon for my migration to the Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ): He (Tufail) again said: What is this that I see you wrapping up your hands? He replied: I was told (by Allah): We would not set right anything of yours which you damaged yourself. Tufail narrated this (dream) to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Upon this he prayed: O Allah I grant pardon even to his hands.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ابو بکر نے کہا: ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، ہم سے زید نے، حجاج الصوف کی سند سے ابو الزبیر , حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
طفیل بن عمرو دوسی نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا آپ کو ایک مضبوط قلعے اور تحفظ کی ضرورت ہے ؟ ( روایت کرنےوالے نے کہا : یہ ایک قلعہ تھا جو جاہلیت کے دور مین بنو دوس کی ملکیت تھا ) آپ نے اس ( کو قبول کرنے ) سے انکار کر دیا ۔ کیونکہ یہ سعادت اللہ نے انصار کے حصے میں رکھی تھی ، پھر جب نبی ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے تو طفیل بن عمرو بھی ہجرت کر کے آپ کے پاس آ گئے ، ان کے ساتھ ان کی قوم کے ایک آدمی نے بھی ہجرت کی ، انہوں نے مدینہ کی آب و ہوا ناموافق پائی تو وہ آدمی بیمار ہوا اور گھبرا گیا ، اس نے اپنے چوڑے پھل والے تیر لیے اور ان سے اپنی انگلیوں کے اندرونی طرف کے جوڑ کاٹ ڈالے ، اس کے دونوں ہاتھوں سے خون بہا حتی کہ وہ مر گیا ۔ طفیل بن عمرو نے اسے خواب میں دیکھا ، انہوں نے دیکھا کہ اس کی حالت اچھی تھی اور ( یہ بھی ) دیکھا کہ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈھانپنے ہوئے تھے ۔ طفیل نے ( عالم خواب میں ) اس سے کہا : تمہارے رب نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ اس نے کہا : اس نے اپنے نبی کی طرف میری ہجرت کے سبب مجھے بخش دیا ۔ انہوں نے پوچھا : میں تمہیں دونوں ہاتھ ڈھانپے ہوئے کیوں دیکھ رہا ہوں ؟ اس نے کہا : مجھ سے کہا گیا : ( اپنا ) جو کچھ تم نے خود ہی خراب کیا ہے ، ہم اسے درست نہیں کریں گے ۔ طفیل نے یہ خواب رسول اللہ ﷺ کو سنایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اے اللہ ! اس کے دونوں ہاتھ کو بھی بخش دے ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily Allah would make a wind to blow from the side of the Yemen more delicate than silk and would spare none but cause him to die who, in the words of Abu 'Alqama, has faith equal to the weight of a grain; while Abdul-'Aziz said: having faith equal to the weight of a dust particle.
ہم سے احمد بن عبدہ الذہبی نے بیان کیا,عبدالعزیز بن محمد اور ابو علقمہ فروی نے کہا : ہمیں صفوان بن سلیم نے عبد اللہ بن سلمان کے واسطے سے ان کےوالد ( سلمان ) سے حدیث سنائی ، انہو ں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ بے شک اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا بھیجے گا جو ریشم سےزیادہ نرم ہو گی اور کسی ایسے شخص کو نہ چھوڑے گی جس کے دل میں ( ابو علقمہ نے کہا : ایک دانے کے برابر اور عبد العزیز نے کہا : ایک ذرے کے برابر بھی ) ایمان ہو گا مگر اس کی روح قبض کر لے گی ۔ ‘ ‘ ( ایک ذرہ بھی ہو لیکن ایمان ہوتو نفع بخش ہے ۔ )