Back to Sahih Muslim

The Book of Faith

كتاب الْإِيمَانِ

Chapter 1

Hadith 253
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ الْفَزَارِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَعْفُورَ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قُلْتُ: يَا نَبِيَّ اللهِ، أَيُّ الْأَعْمَالِ أَقْرَبُ إِلَى الْجَنَّةِ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ عَلَى مَوَاقِيتِهَا» قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: «بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: وَمَاذَا يَا نَبِيَّ اللهِ؟ قَالَ: «الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ».
English

It was narrated that Abdullah bin Mas'ud رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said:

I said: Messenger of Allah, which of the deeds (takes one) nearer to Paradise? He (the Holy Prophet) replied: Prayer at its proper time, I said: What next, Messenger of Allah? He replied: Kindness to the parents. I said: What next? He replied: Jihad in the cause of Allah.

Urdu

ہم سے محمد بن ابی عمر المکی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان الفزاری نے بیان کیا,ابو یعفور ( عبد الرحمان بن عبید بن نسطانس ) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابو عمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی !کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب ( کردیتا ) ہے ؟ فرمایا : ’’نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘

Hadith 254
Sahih
وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ الْعَيْزَارِ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ، قَالَ: حَدَّثَنِي صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ، وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَى اللهِ؟ قَالَ: «الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ» قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللهِ» قَالَ: حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي
English

It was heard from Abu 'Amr Shaibani that, pointing towards the house of Abdullah:

He said: The owner of this house told me that he asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ): Which of the deeds are liked by Allah? He (the Holy Prophet) observed: Prayer at its proper time. I (again) said: What next? He replied: Then goodness to the parents. I (again) said: What then? He replied: Then Jihad in the cause of Allah. He ('Abdullah) said: This is what I was told (by the Holy Prophet). Had I questioned further, he would have made additions for me.

Urdu

عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی ( اور عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے گھر کی طرف اشارہ کیا )

انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ ( ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آ پ مجھے مزید بتاتے ۔

Hadith 255
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَزَادَ: وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللهِ، وَمَا سَمَّاهُ لَنَا.
English

This hadith has been transmitted by Muhammad bin Bashshar, Muhammad bin Ja'far Shu'ba with this chain of narrators, with the addition:

He pointed towards the house of 'Abdullah, but he did not mention his name for us.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا,شعبہ سے ان کے ایک شاگر د محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا

ابو عمرو شیبانی نے عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کانام نہ لیا ۔

Hadith 256
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَفْضَلُ الْأَعْمَالِ - أَوِ الْعَمَلِ - الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ».
English

It is reported on the authority of 'Abdullah ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The Messenger of Allah observed: The best of' the deeds or deed is the (observance of) prayer at its proper time and kindness to the parents.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، حسن بن عبید اللہ سے,ابو عمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبید اللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی کہ

آپ نے فرمایا : ’’سب سے افضل اعمال ( یاعمل ) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں ۔ ‘ ‘

Hadith 257
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ إِسْحَاقُ: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، وَقَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قَالَ: قُلْتُ لَهُ: إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ».
English

It was narrated that Abdullah رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌said:

I asked the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌): Which sin is the gravest in the eye of Allah? He (the Holy Prophet ﷺ) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He has created you. He (the reporter) said: I told him (the, Holy Prophet ﷺ): Verily it is indeed grave. He (the reporter) said: I asked him what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he shall join you in food. He (the reporter) said: I asked (him) what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet ﷺ) observed: Then (the next gravest sin) is that you commit adultery with the wife of your neighbour.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسحاق نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا، اور عثمان نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا,منصور نے ابو وائل سے ، انہوں نے عمروبن شرحبیل سےاور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ’’اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جبکہ تمہیں اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : واقعی یہ بہت بڑا ( گناہ ) ہے ، کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو ۔ ‘ ‘

Hadith 258
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ جَرِيرٍ، قَالَ عُثْمَانُ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ، قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ عِنْدَ اللهِ؟ قَالَ: «أَنْ تَدْعُوَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مَخَافَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ» قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: «أَنْ تُزَانِيَ حَلِيلَةَ جَارِكَ» فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَهَا: {وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا.
English

It is narrated on the authority of Abdullah bin Mas'ud ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ :

A man said: Messenger of Allah, which offence is the most grievous in the eye of Allah? He (the Holy Prophet) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He created you. He (the man) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he would join you in food. He (the inquirer) said (again): What next? He (the Holy Prophet) replied: That you commit adultery with the wife of your neighbour. And the Almighty and Exalted Lord testified it (with this verse): All those who call not unto another god along with Allah, and slay not any soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice, nor commit fornication, and he who does this shall meet a requital of sin (xxv. 68).

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم سب نے جریر کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا،( منصور کے بجائے ) اعمش نے ابو وائل سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا

ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ م اللہ کے ساتھ کوئی شریک ( بنا کر ) پکارو ، حالانکہ اسی ( اللہ ) نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے اس ( بات ) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی : ’’ جو لوگ اللہ کےساتھ کسی اور کو معبود ( بنا کر ) نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے ( قتل کرنا ) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے ، حق کے بغیر قتل نیہں کرتے اور جو زنا نہیں کرتے ( وہی رحمٰن کے مومن بندےہیں ۔ ) اور جو ان ( کاموں ) کا ارتکاب کرے گا ، وہ سخت گنا ہ ( کی سزا ) سے دو چار ہو گا ۔ ‘ ‘

Hadith 259
Sahih
دَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُكَيْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» ثَلَاثًا «الْإِشْرَاكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَشَهَادَةُ الزُّورِ - أَوْ قَوْلُ الزُّورِ -» وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئًا، فَجَلَسَ فَمَا زَالَ يُكَرِّرُهَا حَتَّى قُلْنَا: لَيْتَهُ سَكَتَ.
English

It is narrated on the authority of 'Abdur-Rahman bin Abu Bakra that his father said:

We were in the company of the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he observed: Should I not inform you about the most grievous of the grave sins? (The Holy Prophet) repeated it three times, and then said: Associating anyone with Allah, disobedience to parents, false testimony or false utterance. The Prophet was reclining, then he sat up, and he repeated it so many times that we wished that he should become silent.

Urdu

مجھ سے عمرو بن محمد بن بکیر بن محمد الناقد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن اوعلیہ نے بیان کیا، انہیں سعید الجریر ی کی سند سے، ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہ

ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں ؟ ( آپ نے یہ تین بار کہا ) پھر فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ( یافرمایا : جھوٹ بولنا ) ‘ ‘ رسول اللہﷺ ( پہلے ) ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے حتی کہ ہم نے ( دل میں ) کہا : کاش! آپ مزید نہ دہرائیں ۔

Hadith 260
Sahih
وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْكَبَائِرِ، قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَقَوْلُ الزُّورِ».
English

It was narrated from Anas رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) about the major sins. He (the Holy Prophet ﷺ) observed: Associating anyone with Allah, disobedience to parents, killing a person and false utterance.

Urdu

مجھ سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا,خالد بن حارث نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں عبید اللہ بن ابی بکر نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے

نبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔ ‘ ‘

Hadith 261
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْوَلِيدِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، قَالَ: ذَكَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكَبَائِرَ - أَوْ سُئِلَ عَنِ الْكَبَائِرِ - فَقَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ» وَقَالَ: «أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِأَكْبَرِ الْكَبَائِرِ؟» قَالَ: قَوْلُ الزُّورِ - أَوْ قَالَ: شَهَادَةُ الزُّورِ - ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْبَرُ ظَنِّي أَنَّهُ شَهَادَةُ الزُّورِ.
English

Ubaidullah bin Abu Bakr said: I heard Anas bin Malik ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ saying:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) talked about the major sins, or he was asked about the major sins. Upon this he observed: Associating anyone with Allah, killing of a person, disobedience to parents. He (the Prophet ﷺ further) said: Should I not inform you about the gravest of the major sins, and (in this connection) observed: False utterance or false testimony. Shu'ba said. It was most probably false testimony .

Urdu

ہم سے محمد بن الولید بن عبدالحمید نے بیان کیامحمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے عبید اللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، انہوں نے کہا

رسول اللہ ﷺ نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا ( یاآپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا ) تو آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ‘ ‘ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ‘ ‘ فرمایا : ’’جھوٹ بولنا ( یا فرمایا : جھوٹی گواہی دینا ) ‘ ‘ شعبہ کاقول ہے : میرا ظن غالب یہ ہے کہ وہ ’’ جھوٹی گواہی ‘ ‘ ہے ۔

Hadith 262
Sahih
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوبِقَاتِ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللهُ إِلَّا بِالْحَقِّ، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ وَأَكْلُ الرِّبَا، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ الْمُحْصِنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ».
English

It is reported on the authority of Abu Huraira ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary.

Urdu

مجھ سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا, مجھ سے سلیمان بن بلال نے، ثور بن زید سے، ابو الغیث کی سند سے,حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ

رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘

Hadith 263
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مِنَ الْكَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَيْهِ» قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، وَهَلْ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ، وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ».
English

It is narrated on the authority of 'Abdullah bin Amr bin al-'As ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: Abusing one's parents is one of the major sins. They (the hearers) said: Messenger of Allah, does a man abuse his parents too? He (the Holy Prophet) replied: Yes, one abuses the father of another man, who in turn abuses his father. One abuses his mother and he in turn abuses his (the former's) mother.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا،( یزید بن عبد اللہ ) ابن ہاد نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آدمی کا اپنےوالدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ ( صحابہ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ فرمایا : ’’ہاں! انسان کسی کے باپ کوگالی دیتا ہے تو وہ ا س کے باپ کو گالی دیتا ہے ۔ جب یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتاہے ۔ ‘ ‘

Hadith 264
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، ح وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كِلَاهُمَا عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

This hadith has also been transmitted on the authority of Sa'd bin Ibrahim with this chain of narrators.

Urdu

شعبہ اور سفیان نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے

Hadith 265
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ، جَمِيعًا عَنْ يَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ الْفُقَيْمِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ» قَالَ رَجُلٌ: إِنَّ الرَّجُلَ يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ ثَوْبُهُ حَسَنًا وَنَعْلُهُ حَسَنَةً، قَالَ: «إِنَّ اللهَ جَمِيلٌ يُحِبُّ الْجَمَالَ، الْكِبْرُ بَطَرُ الْحَقِّ، وَغَمْطُ النَّاسِ».
English

It Is narrated on the authority of Abdullah bin Mas'ud رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), observed: He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise. A person (amongst his hearers) said: Verily a person loves that his dress should be fine, and his shoes should be fine. He (the Holy Prophet) remarked: Verily, Allah is Graceful and He loves Grace. Pride is disdaining the truth (out of self-conceit) and contempt for the people.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنی، محمد بن بشار اور ابراہیم بن دینار نے بیان کیا,یحییٰ بن حماد نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابان بن تغلب سے حدیث سنائی ، انہوں نے فضیل بن عمرو فقیمی سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کی ،

آپ نے فرمایا : ’’ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ خود جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند فرماتا ہے ۔ تکبر ، حق کو قبول نہ کرنا اورلوگوں کو حقیر سمجھنا ہے ۔ ‘ ‘

Hadith 266
Sahih
حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ، وَسُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ، كِلَاهُمَا عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ، قَالَ مِنْجَابٌ: أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ إِيمَانٍ، وَلَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ أَحَدٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةِ خَرْدَلٍ مِنْ كِبْرِيَاءَ».
English

It is narrated on the authority of 'Abdullah bin Mas'ud:

The Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) observed: None shall enter the Fire (of Hell) who has in his heart the weight of a mustard seed of Iman and none shall enter Paradise who has in his heart the weight of a mustard seed of pride.

Urdu

ہم سے منجاب بن الحارث تمیمی اور سوید بن سعید نے بیان کیا، ان دونوں نے علی بن مشعر سے کہا, ہم سے ابن مشار نے بیان کیا,اعمش نے ابراہیم نخعی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر میں ایمان ہے ، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے ، جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘

Hadith 267
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ.
English

It is narrated on the authority of 'Abdullah رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The Messenger of Allah ( صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ) observed: He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا،( یحییٰ کے بجائے ) شعبہ کے ایک اور شاگرد ابو داؤد نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایسا شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ۔ ‘ ‘

Hadith 268
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، وَوَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - قَالَ وَكِيعٌ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ»، وَقُلْتُ أَنَا: «وَمَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ».
English

It is narrated on the authority of Abdullah bin Mas'ud رضی ‌اللہ ‌عنہ that Waki رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌told (him):

The Messenger of Allah had observed and Ibn Numair asserted: I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saying: He who dies associating anything with Allah would enter the Fire (of Hell). 'Abdullah b. Mas'ud said: I say that he who died without associating anything with Allah entered Paradise.

Urdu

عبد اللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( وکیع نے کہا : عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا

رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ) آپ فرما رہے تھے : ’’جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ اور میں ( عبد اللہ ) نے کہا : جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔

Hadith 269
Sahih
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَأَبُو كُرَيْبٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا الْمُوجِبَتَانِ؟ فَقَالَ: «مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ».
English

It is narrated on the authority of Jabir ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌:

A man came to the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Messenger of Allah, what are the two things quite unavoidable? He replied: He who dies without associating anyone with Allah would (necessarily) enter Paradise and he who dies associating anything with Allah would enter the (Fire of) Hell.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا, ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے بیان کیا,ابو سفیان نےحضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ

ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو ٹھہراتے ہوئے مرا ، و ہ دوزخ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو ۔

Hadith 270
Sahih
وَحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْغَيْلَانِيُّ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ، وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا قُرَّةُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، حَدَّثَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنْ لَقِيَ اللهَ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَمَنْ لَقِيَهُ يُشْرِكُ بِهِ دَخَلَ النَّارَ» قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ: عَنْ جَابِرٍ.
English

It is narrated on the authority of Jabir bin Abdullah رضی ‌اللہ ‌عنہ :

I heard the Messenger of Allah ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ) saying: He who met Allah without associating anything with Allah entered Paradise and he who met Him associating (anything) with Him entered Fire.

Urdu

ابو ایوب غیلانی سلیمان بن عبید اللہ او رحجاج بن شاعر نے کہا : ہمیں عبد الملک بن عمرو نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں قرہ نے ابو زبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث سنائی کہ

میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو کوئی اس حالت میں اللہ سے ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ابو ایوب کی حدیث کے الفاظ میں : ابوزبیر نے ( حدثنا جابر’’ جابر نے ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ کے بجائے ) عن جابر ’’جابرسے روایت ہے ‘ ‘ کے الفاظ سے حدیث بیان کی ۔

Hadith 271
Sahih
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ.
English

It was narrated from Jabir رضی ‌اللہ ‌عنہ :

The Prophet of Allah ﷺ said something similar (as no. 270).

Urdu

( قرہ کے بجائے ) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی حدیث سنائی

بے شک اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ...... ( آگے ) سابقہ روایت کے مانند ہے ۔

Hadith 272
Sahih
وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، وَابْنُ بَشَّارٍ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ وَاصِلٍ الْأَحْدَبِ، عَنِ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ، يُحَدِّثُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِكَ لَا يُشْرِكُ بِاللهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ.
English

I heard Abu Dharr رضی ‌اللہ ‌عنہ narrating that:

The Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that he observed: Gabriel came to me and gave me the tidings: Verily he who died amongst your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I (the narrator) said: Even if he committed adultery and theft. He (the Holy Prophet) said: (Yes), even if he committed adultery and theft.

Urdu

ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا, ہم سے محمد بن جعفر نے واصل الاحداب کی سند سے بیان کیا,معرور بن سوید نےکہا ,میں نے حضرت ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ

آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جبرئیل آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ‘ ‘ میں ( ابو ذر ) نے کہا : چاہے اس نے زنا کیاہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘