It was narrated that Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ said:
I said: Messenger of Allah, which of the deeds (takes one) nearer to Paradise? He (the Holy Prophet) replied: Prayer at its proper time, I said: What next, Messenger of Allah? He replied: Kindness to the parents. I said: What next? He replied: Jihad in the cause of Allah.
ہم سے محمد بن ابی عمر المکی نے بیان کیا، کہا ہم سے مروان الفزاری نے بیان کیا,ابو یعفور ( عبد الرحمان بن عبید بن نسطانس ) نے ولید بن عیزار کے حوالے سے ابو عمرو شیبانی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی !کون سا عمل جنت سے زیادہ قریب ( کردیتا ) ہے ؟ فرمایا : ’’نمازیں اپنے اپنے اوقات پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! اور کیا ؟ فرمایا : ’’ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘
It was heard from Abu 'Amr Shaibani that, pointing towards the house of Abdullah:
He said: The owner of this house told me that he asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Which of the deeds are liked by Allah? He (the Holy Prophet) observed: Prayer at its proper time. I (again) said: What next? He replied: Then goodness to the parents. I (again) said: What then? He replied: Then Jihad in the cause of Allah. He ('Abdullah) said: This is what I was told (by the Holy Prophet). Had I questioned further, he would have made additions for me.
عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ولید بن عیزار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو عمرو شیبانی کو کہتے ہوئے سنا کہ مجھے اس گھر کے مالک نے حدیث سنائی ( اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا )
انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کو کون سا عمل زیادہ پسند ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ نماز کو اس کے وقت پر پڑھنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا ۔ ‘ ‘ میں نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ پھر اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ‘ ‘ ( ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے مجھے یہ باتیں بتائیں اور اگر میں مزید سوال کرتا تو آ پ مجھے مزید بتاتے ۔
This hadith has been transmitted by Muhammad bin Bashshar, Muhammad bin Ja'far Shu'ba with this chain of narrators, with the addition:
He pointed towards the house of 'Abdullah, but he did not mention his name for us.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا,شعبہ سے ان کے ایک شاگر د محمد بن جعفر نے اسی سند سے یہی روایت بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا
ابو عمرو شیبانی نے عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا لیکن ہمارے سامنے ان کانام نہ لیا ۔
It is reported on the authority of 'Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah observed: The best of' the deeds or deed is the (observance of) prayer at its proper time and kindness to the parents.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا، حسن بن عبید اللہ سے,ابو عمرو شیبانی سے ان کے ایک شاگرد حسن بن عبید اللہ نے یہی روایت بیان کی کہ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے نبی اکرمﷺ سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : ’’سب سے افضل اعمال ( یاعمل ) وقت پر نماز پڑھنا اور والدین سے حسن سلوک کرنا ہیں ۔ ‘ ‘
It was narrated that Abdullah رضی اللہ عنہ said:
I asked the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ): Which sin is the gravest in the eye of Allah? He (the Holy Prophet ﷺ) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He has created you. He (the reporter) said: I told him (the, Holy Prophet ﷺ): Verily it is indeed grave. He (the reporter) said: I asked him what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he shall join you in food. He (the reporter) said: I asked (him) what the next (gravest sin) was. He (the Holy Prophet ﷺ) observed: Then (the next gravest sin) is that you commit adultery with the wife of your neighbour.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ان سے اسحاق نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا، اور عثمان نے کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا,منصور نے ابو وائل سے ، انہوں نے عمروبن شرحبیل سےاور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : ’’اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک بناؤ جبکہ تمہیں اسی ( اللہ ) نے پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ میں نے عرض کی : واقعی یہ بہت بڑا ( گناہ ) ہے ، کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’یہ کہ تم اس ڈر سے اپنے بچے کو قتل کرو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے پوچھا : پھر کون سا ؟ فرمایا : ’’ پھر یہ کہ اپنے پڑوسی کی بیوی کے ساتھ زنا کرو ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ :
A man said: Messenger of Allah, which offence is the most grievous in the eye of Allah? He (the Holy Prophet) replied: That you associate a partner with Allah (despite the fact) that He created you. He (the man) said: What next? He (the Holy Prophet) replied: That you kill your child out of fear that he would join you in food. He (the inquirer) said (again): What next? He (the Holy Prophet) replied: That you commit adultery with the wife of your neighbour. And the Almighty and Exalted Lord testified it (with this verse): All those who call not unto another god along with Allah, and slay not any soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice, nor commit fornication, and he who does this shall meet a requital of sin (xxv. 68).
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم سب نے جریر کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے جریر نے بیان کیا،( منصور کے بجائے ) اعمش نے ابو وائل سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک آدمی نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !اللہ کے ہاں سب سے بڑا گناہ کون سا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ م اللہ کے ساتھ کوئی شریک ( بنا کر ) پکارو ، حالانکہ اسی ( اللہ ) نے تمہیں پیدا کیا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا؟فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنے بچے کو اس ڈر سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا ۔ ‘ ‘ اس نے پوچھا : پھر کون سا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ یہ کہ تم اپنی پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو ۔ ‘ ‘ اللہ تعالیٰ نے اس ( بات ) کی تصدیق میں یہ آیت نازل فرمائی : ’’ جو لوگ اللہ کےساتھ کسی اور کو معبود ( بنا کر ) نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے ( قتل کرنا ) اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے ، حق کے بغیر قتل نیہں کرتے اور جو زنا نہیں کرتے ( وہی رحمٰن کے مومن بندےہیں ۔ ) اور جو ان ( کاموں ) کا ارتکاب کرے گا ، وہ سخت گنا ہ ( کی سزا ) سے دو چار ہو گا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of 'Abdur-Rahman bin Abu Bakra that his father said:
We were in the company of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he observed: Should I not inform you about the most grievous of the grave sins? (The Holy Prophet) repeated it three times, and then said: Associating anyone with Allah, disobedience to parents, false testimony or false utterance. The Prophet was reclining, then he sat up, and he repeated it so many times that we wished that he should become silent.
مجھ سے عمرو بن محمد بن بکیر بن محمد الناقد نے بیان کیا، ہم سے اسماعیل بن اوعلیہ نے بیان کیا، انہیں سعید الجریر ی کی سند سے، ہم سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اپنے والد کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہ
ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے تو آپ نے فرمایا : ’’ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں ؟ ( آپ نے یہ تین بار کہا ) پھر فرمایا : ’’ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا اور جھوٹی گواہی دینا ( یافرمایا : جھوٹ بولنا ) ‘ ‘ رسول اللہﷺ ( پہلے ) ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ، پھر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور اس بات کو دہراتے رہے حتی کہ ہم نے ( دل میں ) کہا : کاش! آپ مزید نہ دہرائیں ۔
It was narrated from Anas رضی اللہ عنہ :
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) about the major sins. He (the Holy Prophet ﷺ) observed: Associating anyone with Allah, disobedience to parents, killing a person and false utterance.
مجھ سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا,خالد بن حارث نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں عبید اللہ بن ابی بکر نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے
نبی ﷺ سے کبیرہ گناہوں کے بارے میں خبر دی ، آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، والدین کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو ( ناحق ) قتل کرنا اور جھوٹ بولنا ۔ ‘ ‘
Ubaidullah bin Abu Bakr said: I heard Anas bin Malik رضی اللہ عنہ saying:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) talked about the major sins, or he was asked about the major sins. Upon this he observed: Associating anyone with Allah, killing of a person, disobedience to parents. He (the Prophet ﷺ further) said: Should I not inform you about the gravest of the major sins, and (in this connection) observed: False utterance or false testimony. Shu'ba said. It was most probably false testimony .
ہم سے محمد بن الولید بن عبدالحمید نے بیان کیامحمد بن جعفر نے کہا : ہم سے شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھ سے عبید اللہ بن ابی بکر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے بڑے گناہوں کا تذکرہ فرمایا ( یاآپ سے بڑے گناہوں کے بارے میں سوال کیا گیا ) تو آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ، کسی کو ناحق قتل کرنا اور والدین کی نافرمانی کرنا ۔ ‘ ‘ ( پھر ) آپ نے فرمایا : ’’ کیا تمہیں کبیرہ گناہوں میں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ ‘ ‘ فرمایا : ’’جھوٹ بولنا ( یا فرمایا : جھوٹی گواہی دینا ) ‘ ‘ شعبہ کاقول ہے : میرا ظن غالب یہ ہے کہ وہ ’’ جھوٹی گواہی ‘ ‘ ہے ۔
It is reported on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Avoid the seven noxious things. It was said (by the hearers): What are they, Messenger of Allah? He (the Holy Prophet) replied: Associating anything with Allah, magic, killing of one whom God has declared inviolate without a just cause, consuming the property of an orphan, and consuming of usury, turning back when the army advances, and slandering chaste women who are believers, but unwary.
مجھ سے ہارون بن سعید الایلی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا, مجھ سے سلیمان بن بلال نے، ثور بن زید سے، ابو الغیث کی سند سے,حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ سات تباہ کن گناہوں سے بچو ۔ ‘ ‘ پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول! وہ کون سے ہیں ؟ فرمایا : ’’ اللہ کے ساتھ شرک ، جادو ، جس جان کا قتل اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے اسے ناحق قتل کرنا ، یتیم کا مال کھانا ، سود کھانا ، لڑائی کے دن دشمن کو پشت دکھانا ( بھاگ جانا ) اور پاک دامن ، بے خبر مومن عورتوں پر الزام تراشی کرنا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of 'Abdullah bin Amr bin al-'As رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: Abusing one's parents is one of the major sins. They (the hearers) said: Messenger of Allah, does a man abuse his parents too? He (the Holy Prophet) replied: Yes, one abuses the father of another man, who in turn abuses his father. One abuses his mother and he in turn abuses his (the former's) mother.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا،( یزید بن عبد اللہ ) ابن ہاد نے سعد بن ابراہیم سے ، انہوں نے حمید بن عبد الرحمان سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ آدمی کا اپنےوالدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔ ‘ ‘ ( صحابہ ) کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! کیا کوئی آدمی اپنے والدین کو گالی دیتا ہے ؟ فرمایا : ’’ہاں! انسان کسی کے باپ کوگالی دیتا ہے تو وہ ا س کے باپ کو گالی دیتا ہے ۔ جب یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتاہے ۔ ‘ ‘
This hadith has also been transmitted on the authority of Sa'd bin Ibrahim with this chain of narrators.
شعبہ اور سفیان نے بھی سعد بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ہے
It Is narrated on the authority of Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ), observed: He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise. A person (amongst his hearers) said: Verily a person loves that his dress should be fine, and his shoes should be fine. He (the Holy Prophet) remarked: Verily, Allah is Graceful and He loves Grace. Pride is disdaining the truth (out of self-conceit) and contempt for the people.
ہم سے محمد بن المثنی، محمد بن بشار اور ابراہیم بن دینار نے بیان کیا,یحییٰ بن حماد نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابان بن تغلب سے حدیث سنائی ، انہوں نے فضیل بن عمرو فقیمی سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی کریمﷺ سے روایت کی ،
آپ نے فرمایا : ’’ جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ، وہ جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘ ایک آدمی نے کہا : انسان چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہوں اور اس کے جوتے اچھے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اللہ خود جمیل ہے ، وہ جمال کو پسند فرماتا ہے ۔ تکبر ، حق کو قبول نہ کرنا اورلوگوں کو حقیر سمجھنا ہے ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of 'Abdullah bin Mas'ud:
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: None shall enter the Fire (of Hell) who has in his heart the weight of a mustard seed of Iman and none shall enter Paradise who has in his heart the weight of a mustard seed of pride.
ہم سے منجاب بن الحارث تمیمی اور سوید بن سعید نے بیان کیا، ان دونوں نے علی بن مشعر سے کہا, ہم سے ابن مشار نے بیان کیا,اعمش نے ابراہیم نخعی سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر میں ایمان ہے ، آگ میں داخل نہ ہو گا اور کوئی انسان جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہے ، جنت میں داخل نہ ہو گا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of 'Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: He who has in his heart the weight of a mustard seed of pride shall not enter Paradise.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا،( یحییٰ کے بجائے ) شعبہ کے ایک اور شاگرد ابو داؤد نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایسا شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں ذرہ برابر تکبر ہو گا ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ that Waki رضی اللہ عنہ told (him):
The Messenger of Allah had observed and Ibn Numair asserted: I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: He who dies associating anything with Allah would enter the Fire (of Hell). 'Abdullah b. Mas'ud said: I say that he who died without associating anything with Allah entered Paradise.
عبد اللہ بن نمیر اور وکیع نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( وکیع نے کہا : عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نےکہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ اور عبد اللہ بن نمیر نے کہا : عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ) آپ فرما رہے تھے : ’’جو شخص اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ اور میں ( عبد اللہ ) نے کہا : جو اس حالت میں مرا کہ وہ اللہ کے شرک نہ کرتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا ۔
It is narrated on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ :
A man came to the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Messenger of Allah, what are the two things quite unavoidable? He replied: He who dies without associating anyone with Allah would (necessarily) enter Paradise and he who dies associating anything with Allah would enter the (Fire of) Hell.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا, ہم سے ابو معاویہ نے العمش کی سند سے بیان کیا,ابو سفیان نےحضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور پوچھا : اے اللہ کے رسول ! واجب کرنے والی دو باتیں کون سی ہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ جو کسی چیز کو اللہ کے ساتھ شریک نہ کرتا ہوا مرا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ کے ساتھ کسی چیز کو ٹھہراتے ہوئے مرا ، و ہ دوزخ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ یعنی توحید جنت کو واجب کر دیتی ہے اور شرک دوزخ کو ۔
It is narrated on the authority of Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
I heard the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) saying: He who met Allah without associating anything with Allah entered Paradise and he who met Him associating (anything) with Him entered Fire.
ابو ایوب غیلانی سلیمان بن عبید اللہ او رحجاج بن شاعر نے کہا : ہمیں عبد الملک بن عمرو نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں قرہ نے ابو زبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی کہ
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ جو کوئی اس حالت میں اللہ سے ملے کہ وہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا تھا ، وہ جنت میں داخل ہو گا اور جو اللہ سے اس حالت میں ملا کہ اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک ٹھہراتا تھا ، وہ آگ میں داخل ہو گا ۔ ‘ ‘ ابو ایوب کی حدیث کے الفاظ میں : ابوزبیر نے ( حدثنا جابر’’ جابر نے ہمیں حدیث سنائی ‘ ‘ کے بجائے ) عن جابر ’’جابرسے روایت ہے ‘ ‘ کے الفاظ سے حدیث بیان کی ۔
It was narrated from Jabir رضی اللہ عنہ :
The Prophet of Allah ﷺ said something similar (as no. 270).
( قرہ کے بجائے ) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی
بے شک اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ...... ( آگے ) سابقہ روایت کے مانند ہے ۔
I heard Abu Dharr رضی اللہ عنہ narrating that:
The Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he observed: Gabriel came to me and gave me the tidings: Verily he who died amongst your Ummah without associating anything with Allah would enter Paradise. I (the narrator) said: Even if he committed adultery and theft. He (the Holy Prophet) said: (Yes), even if he committed adultery and theft.
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا, ہم سے محمد بن جعفر نے واصل الاحداب کی سند سے بیان کیا,معرور بن سوید نےکہا ,میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ کو نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ
آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ میرے پاس جبرئیل آئے اور مجھے خوش خبری دی کہ آپ کی امت کا جو فرد اس حالت میں مرے گا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا ، وہ جنت میں داخل ہوگا ۔ ‘ ‘ میں ( ابو ذر ) نے کہا : چاہے اس نے زنا کیاہو اور چوری کی ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ اگرچہ اس نے زنا کیا ہو اور چوری کی ہو ۔ ‘ ‘