It is reported on the authority of Jabir bin Abdullah رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) observed: The callousness of heart and sternness is in the East and faith is among the people of the Hijaz.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن حارث المخزومی نے بیان کیا، ابن جریج کی سند سے انہوں نے کہامجھ سے ابو الزبیر نے بیان کیاحضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ دلوں کی سختی اور جفا ( اکھڑپن ) مشرق میں ہے اور ایمان اہل حجاز میں ہے ۔
It was narrated that Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
The Messenger of Allah (ﷺ) observed: You shall not enter Paradise so long as you do not affirm belief (in all those things which are the articles of faith) and you will not believe as long as you do not love one another. Should I not direct you to a thing which, if you do, will foster love amongst you: (i. e.) give currency to (the practice of paying salutation to one another by saying) as-salamu alaikum.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ اور وکیع نے اعمش سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم جنت میں داخل نہیں ہو گے یہاں تک کہ تم مومن ہو جاؤ ، اور تم مو من نہیں ہو سکتے یہاں تک کہ ایک دوسرے سے محبت کرو ۔ کیا تمہیں ایسی چیز نہ بتاؤں کہ جب تم اس پر عمل کرو تو ایک دوسرے کے ساتھ محبت کرنے لگو ، آپس میں سلام عام کرو ۔ ‘ ‘
Zuhair b. Harb said: Jarir reported on the authority of A'mash with this chain of transmitters that the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) observed: By him in Whose hand is my life, you shall not enter Paradise unless you believe. The rest of the hadith is the same as narrated by Abd Mu'awiya and Waki'.
( ابو معاویہ اور وکیع کے بجائے ) جریر نے اعمش سے ان کی اسی سند سے حدیث سنائی ، کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! تم جب تک ایمان نہیں لاؤ گے ، جنت میں داخل نہیں ہو سکو گے ... ‘ ‘ جس طرح ابو معاویہ اور و کیع کی حدیث ہے ۔
It was narrated on the authority of Tamim ad-Dari رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) observed: Al-Din is a name of sincerity and well wishing. Upon this we said: For whom? He replied: For Allah, His Book, His Messenger and for the leaders and the general Muslims.
ہم سے محمد بن عباد المکی نے بیان کیا، انہوں نے کہاسفیان بن عیینہ نے کہا : میں نے سہیل سے کہا کہ عمرو نے ہمیں قعقاع کے واسطے سے آپ کے والد سے حدیث سنائی ( سفیان نے کہا : ) مجھے امید تھی کہ وہ ( مجھے خود روایت سنا کر ) ایک راوی کم کر دے گا ( چنانچہ سہیل نےکہا ) میں نے اسی سے یہ روایت سنی جس سے میرے والد سے سنی ، وہ شام میں ان کا دوست تھا ۔ ( محمد بن عباد نے کہا ) پھر سفیان نے ہمیں سہیل کے واسطے سے عطاء بن یزید کی حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سےروایت سنائی کہ
بنی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ دین خیر خواہی کا نام ہے ۔ ‘ ‘ ہم ( صحابہ رضی اللہ عنہ ) نے پوچھا : کس کی ( خیر خواہی؟ ) آپ نے فرمایا : ’’ اللہ کی ، اس کی کتاب کی ، اس کے رسول کی ، مسلمانوں کے امیروں کی اور عام مسلمانون کی ( خیرخواہی ۔ ) ‘ ‘
Muhammad bin Hatim رضی اللہ عنہ and others narrate the same hadith of the Apostle (ﷺ) on the authority of Tamim ad-Dari رضی اللہ عنہ .
مجھ سے محمد بن حاتم نے بیان کیا، ہم سے ابن مہدی نے بیان کیا,سفیان ثوری نے سہیل بن ابی صالح سے ، انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت تمیم داری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسو ل اللہ رضی اللہ عنہ سے سابقہ حدیث کے مانند روایت کی ۔
A similar hadith was narrated from Tamim ad-Dari رضی اللہ عنہ , from the Messenger of Allah (ﷺ).
مجھ سے امیہ بن بسطام نے بیان کیا، ہم سے یزید نے بیان کیا، یعنی ہمیں ابن زری نے بیان کیا، اور وہ ہمیں روح بن قاسم نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں سہیل نے عطاء سے اس وقت سن کر روایت کی جب وہ ابو صالح کو حدیث بیان کر رہے تھے ، ( کہا : ) تمیم داری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ( کہا : ) رسو ل اللہ ﷺ سے روایت ہے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند.
It is narrated on the authority of Jarir رضی اللہ عنہ :
He observed I gave pledge of allegiance to the Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) on the observance of prayer, payment of Zakat, and sincerity and well-wishing for every Muslim.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبداللہ بن نمیر اور ابو اسامہ نے بیان کیا، وہ اسماعیل بن ابی خالد کی سند سے، انہوں نےقیس ( بن ابی حازم ) نے حضرت جریر ( بن عبد اللہ ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز قائم کرنے ، زکاۃ ادا کرنے اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔
Sufyan narrated on the authority of Ziyad b. 'Ilaqa that he heard Jarir bin 'Abdullah رضی اللہ عنہ saying:
I pledged allegiance to the Messenger of Allah ﷺ on sincerity and well-wishing for every Muslim.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور ابن نمیر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا,زیاد بن علاقہ ( کوفی ) سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے
میں نے نبی ﷺ سے ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی ۔
It is narrated on the authority of Jarir رضی اللہ عنہ that he observed:
I owed allegiance to the Messenger of Allah ( ﷺ) on hearing ( is commands) and obeying (them) and the Prophet) instructed me (to act) as lay in my power, and sincerity and goodwill for every Muslim.
سریج بن یونس اور یعقوب دورقی نے کہا : ہشیم نےہمیں سیار کے واسطے سے شعبی سے حدیث سنائی اور انہوں نے حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا :
میں نے نبی اکرمﷺ سے ( اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ) سننے اور اطاعت کرنے پر بیعت کی ۔ رسو ل اللہ ﷺ نے ساتھ یہ کہلوایا : ’’ جہاں تک تمہارے بس میں ہو گا ۔ ‘ ‘ اور ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی پر ۔ یعقوب نے اپنی روایت میں کہا : ہمیں سیار نے حدیث سنائی ۔ ( یعقوب نے براہ راست سیار سے بھی یہ روایت سنی اور ہشیم کے واسطے سے بھی ، لفظ وہی تھے ۔ )
Abu Huraira reported:
The Messenger of Allah observed: The fornicator who fornicates is not a believer so long as he commits it and no thief who steals is a believer as long as he commits theft, and no drunkard who drinks wine is a believer as long as he drinks it. 'Abdul-Malik b. Abi Bakr' narrated this on the authority of Abu Bakr b. Abdur-Rahman b. Harith and then said: Abu Huraira made this addition: No plunderer who plunders a valuable thing that attracts the attention of people is a believer so long as he commits this act.
مجھ سے حرملہ بن یحییٰ بن عبداللہ بن عمران التجیبی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، انہوں نے کہا,مجھ سے یونس بن ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور سعید بن مسیب سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
بلاشبہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کرر ہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب شراب پی رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے بیان کیا کہ عبد الملک بن ابی بکر بن عبد الرحمٰن نے مجھےخبر دی کہ ( اس کے والد ) ابوبکر ان کے سامنے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ سب باتیں روایت کرتے ، پھرکہتے : اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ان میں یہ بات بھی شامل کرتے تھے کہ ’’کسی بڑی قدر و قیمت والی چیز کو ، جس کی وجہ سے لوگ لوٹنے والے کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے ہوں ، وہ نہیں لوٹتا کہ جب لوٹ رہا ہو تو وہ مومن ہو ۔ ‘ ‘
Abdul-Malik bin Shu'aib narrated this hadith on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ that he observed:
The Messenger of Allah said that a fornicator does not fornicate, and then narrated the hadith like this, and he also made mention of plundering too, but did not mention of a thin having value. Ibn Shihab said: Sa'id b. al-Musayyib and Abu Salama narrated this hadith on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ a hadith like that of Abu Bakr رضی اللہ عنہ with the exception of (the mention) of plundering.
اور مجھ سے عبدالملک بن شعیب بن لیث بن سعد نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، میرے دادا سے، انہوں نے کہا,نہوں نے مجھ سے بیان کیا,عقیل بن خالد نے حدیث سنائی کہ ابن شہاب ( زہری ) نےکہا : مجھے ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ
آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا ..... ‘ ‘ پھر گزشتہ حدیث کی طرح بیان کیا جس میں لوٹ کا ذکر تو ہے ، لیکن ’’قدر و منزلت والی چیز ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ۔ ابن شہاب ( زہری ) نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح حدیث سنائی جس طرح ابوبکر کی روایت ہے لیکن اس میں ’’لوٹ ‘ ‘ کا ذکر نہیں ہے.
A Hadith similar to that of 'Uquail Muhammad bin Az-Zuhri was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the prophet ﷺ (in which) he mention "plunder" but he did not mention" that which is precious."
اوزاعی نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن مسیب ، ابو سلمہ اور ابوبکر بن عبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام سے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نےزہری سے حدیث بیان کی اور اس میں ’’لوٹ ‘ ‘ کا تذکرہ کیا لیکن ’’قدر وقیمت والی چیز ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔
Humaid bin 'Abdur-Rehman narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ, from the prophet ﷺ (the same as no.202).
مجھ سے حسن بن علی الحلوانی نے بیان کیا، کہا ہم سے یعقوب بن ابراہیم نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن المطلب نے بیان کیا,صفوان بن سلیم نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام عطاء بن یسار سے اور حمید بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہو ں ںے نبی ﷺ سے یہ روایت بیان کی ۔
Al-'Ala' bin Abdul-Rehman the same (the same as. 202) narrating from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ , from the prophet ﷺ.
قتیبہ بن سعید ‘ عبد العزیز دراوردی ‘ علاء بن عبدالرحمٰن نے ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ ، انہوں نے نبی ﷺ سے ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ from the prophet:
A fornicator who fornicates is not a believer as long as he commits fornication, and no one who steals is a believer as long as he commits theft, and no one who drinks wine is a believer as long as he drinks it, and repentance may be accepted after that.
معمر نے ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، ان سب ( صفوان ، علاء اور معمر ) کی روایات ( 205 ۔ 207 ) امام زہری کی روایت ( 204 ) کے مانند ہیں ، البتہ علاء اور صفوان کی بیان کردہ حدیث روایت ( 205 ، 206 ) میں ’’ جس کی طرف سے لوگ نظر اٹھاتے ہیں ‘ ‘ کے ا لفاظ موجود نہیں ۔ اور ہمام کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’مومن لوگ ( اس چیز کی قدر و قیمت کی بنا پر ) اس کی طرف سے اپنی نظریں اٹھاتے ہیں اور وہ ( لوٹتے وقت ) مومن نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ اور معمر نے یہ اضافہ بھی کیا ہے : اور تم میں سے کوئی خیانت نہیں کرتا کہ جب خیانت کررہا ہو تو وہ مومن ہو ، لہٰذا تم ( ان تمام کاموں سے ) بچو ، تم بچو.
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ :
The prophet ﷺ said: "No adulterer is a believers at the time he is committing adultery; no thief is a believer at the time he is stealing; no drinking of wine is a believer at the time he is drinking it; but repentance may be acceptance may be accepted afterwards."
مجھ سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا,شعبہ نے سلیمان سے ، انہوں نے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی ﷺ نے فرمایا : ’’ زانی زنا نہیں کرتا کہ جب زنا کر رہا ہو تا ہے تو مومن ہو ، چور چوری نہیں کرتا کہ جب چوری کر رہا ہو تو وہ مومن ہو ، شرابی شراب نہیں پیتا کہ جب وہ پی رہا ہو تو مومن ہو ۔ اور ( ان کو ) بعد میں توبہ کا موقع دیا جاتا ہے ۔ ‘ ‘
It was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ and attributed to the prophet ﷺ:
No adulterter is a believer at the time he is committing adultery," then he mentioned a Hadith similar to that of Shobah.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا,سفیان نے ( سلیمان ) اعمش کے حوالے سے خبر دی کہ ذکوان نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے نبی ﷺ سے بیان کیا ، فرمایا :
’’زانی زنا نہیں کرتا کہ جب وہ زنا کر رہا ہو ..... ‘ ‘ آگے ( سفیان نے ) شعبہ کی حدیث کے مانند بیان کیا
It is narrated on the authority of Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ :
The Prophet observed: There are four characteristics, whoever has them all is a pure hypocrite, and whoever has one of its characteristics, he has one of the characteristics of hypocrisy, until he gives it up: When he speaks he lies, when he makes a covenant he betrays it, when he makes a promise he breaks it, and when he disputes he resorts to obscene speech. In the narration of Sufyan (one of the narrators) it is: And if he has one of them, he has one of the characteristics of hypocrisy.
عبد اللہ بن نمیر اور سفیان نے اعمش سے ، انہوں نے نے عبد اللہ بن مرہ سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ چار عادتیں ہیں جس میں وہ ( چاروں ) ہوں گی ، وہ خالص منافق ہو گا اور جس کسی میں ان میں سے ایک عادت ہو گی تو اس میں نفاق کی ایک عادت ہو گی یہاں تک کہ اس سے باز آ جائے ۔ ( وہ چار یہ ہیں : ) جب بات کرے تو جھوٹ بولے اور جب معاہدہ کرے تو توڑ ڈالے ، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب جھگڑا کرے تو گالی دے ۔ ‘ ‘ البتہ سفیان کی روایت میں خلقة کے بجائے خصلةکا لفظ ہے ( معنی وہی ہیں ۔ )
It is reported on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) said: Three are the signs of a hypocrite: when he spoke he told a lie, when he made a promise he acted treacherously against it, when he was trusted he betrayed.
ہم سے یحییٰ بن ایوب اور قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، اور لفظ یحییٰ ہے، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل بن جعفر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے ابو سہیل نافع بن مالک بن ابی عامر نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، جب وعدہ کرے تو ( اس کی ) خلاف ورزی کرے اور جب اسے ( کسی چیز کا ) امین بنایا جائے تو ( اس میں ) خیانت کرے ۔ ‘ ‘
Abu Huraira reported that:
The Messenger of Allah (may peace and blessings be upon him) observed: There are three characteristics of a hypocrite: when he spoke he told a lie, when he made promise he acted treacherously, and when he was trusted he betrayed.
ہم سے ابوبکر بن اسحاق نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، انہوں نے بیان کیا,محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں حرقہ کے آزاد کردہ غلام علاء بن عبد الرحمن بن یعقوب نے اپنے والد سے خبر دی اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے ، وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور امین بنایا جائے تو خیانت کرے