It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ that the Messenger of Allah (ﷺ) said:
Faith has over seventy branches or over sixty branches, the most excellent of which is the declaration that there is no god but Allah, and the humblest of which is the, removal of what is injurious from the path: and modesty is the branch of faith.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا,سہیل نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے ابو صالح سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایمان کے ستر سے اوپر ( یا ساٹھ سے اوپر ) شعبے ( اجزاء ) ہیں ۔ سب سے افضل جز لااله الا الله کا اقرار ہے اور سب سے چھوٹا کسی اذیت ( دینے والی چیز ) کو راستے سے ہٹانا ہے اور حیابھی ایمان کی شاخوں میں سے ایک ہے ۔ ‘ ‘
Salim reported on the authority of his father:
The Prophet (ﷺ) heard a man censuring his brother regarding modesty. Upon this the Prophet remarked: Modesty is part of Iman (faith).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو نقید اور زہیر بن حرب نے بیان کیا,سفیان بن عیینہ نے زہری سے حدیث سنائی ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ
نبی اکرم ﷺ نے ایک آدمی سے سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( حیا سے مت روکو ) حیا ایمان میں سے ہے ۔ ‘ ‘
Zuhri has narrated this hadith with the addition of these words:
He (the Holy Prophet ﷺ) happened to pass by a mass of Ansar who was instructing his brother (about modesty).
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے زہری سے مذکورہ بالاسند کےساتھ خبر دی اور کہا کہ
آپ ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا ۔
It is narrated on the authority of 'Imran bin Husain رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) said: Modesty brings forth nothing but goodness. Bushair bin Ka'b said: It is recorded in the books of wisdom, there lies sobriety in it and calmness of mind in it, Imran said: I am narrating to you the tradition of the Messenger of Allah ( رضی اللہ عنہ) and you talk of your books.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، اور یہ قول ابن المثنیٰ کا ہے، انہوں نے کہا,ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے قتادہ کی سند سے کہا,ابو سوار بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ نبی ﷺ سے حدیث بیان کرتے تھے کہ
آپ ﷺ نے فرمایا : ’’ حیا سے خیر اور بھلائی ہی حاصل ہوتی ہے ۔ ‘ ‘ اس پر بشیر بن کعب نے کہا : حکمت اور ( دانائی کی کتابوں ) میں لکھا ہوا کہ اس ( حیا ) سے وقا ر ملتا ہے او رسکون حاصل ہوتا ہے ۔ اس پر عمران رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ’’میں تمہیں رسول ا للہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تو مجھے اپنے صحیفوں کی باتیں سنا تا ہے !
It is narrated on the authority of Qatada. We were sitting with 'Imran b. Husain in a company and Bushair Ibn Ka'b was also amongst us. 'Imran narrated to us that:
On a certain occasion the Messenger of Allah (ﷺ) said: Modesty is a virtue through and through, or said: Modesty is a goodness complete. Upon this Bushair Ibn Ka'b said: Verily we find in certain books or books of (wisdom) that it is God-inspired peace of mind or sobriety for the sake of Allah and there is also a weakness in it. Imran was so much enraged that his eyes became red and he said: I am narrating to you the hadith of the Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and you are contradicting it. He (the narrator) said: Imran reported the hadith, He (the narrator) said: Bushair repeated, (the same thing). Imran was enraged. He (the narrator) said: We asserted: Verily Bushair is one amongst us. Abu Nujaid! There is nothing wrong, with him (Bushair).
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا,حماد بن زید نے اسحاق بن سوید سے روایت کی کہ ابو قتادہ ( تمیم بن نذیر ) نے حدیث بیان کی ، کہا کہ ہم انپے ساتھیوں سمیت حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر تھے ، ہم میں بشیر بن کعب بھی موجود تھے ، اس روز حضرت عمران رضی اللہ عنہ نے ہمیں ایک حدیث سنائی ، کہاکہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ حیا بھلائی ہے پوری کی پوری ۔ ‘ ‘ ( انہوں نے کہا : یہ الفاظ فرمائے ) : ’’حیا پوری کی پوری بھلائی ہے ۔ ‘ ‘ تو بشیر بن کعب نے کہا : ہمیں کتابون یا حکمت ( کے مجموعوں ) میں یہ بات ملتی ہے کہ حیا سے اطمینان اور اللہ کے لیے وقار ( کا اظہار ) ہوتا ہے اور اس کی ایک قسم ضعیفی ( کمزور ) ہے ۔ حضرت عمران رضی اللہ عنہ سخت غصے میں آ گئے حتی کہ ان کی آنکھیں سرخ ہو گئیں اور فرمانے لگے : کیا میں دیکھ نہیں رہا کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور تم اس میں مقابلہ کر رہے ہو ؟ ابوقتادہ نے کہا : عمران نےدوبارہ حدیث سنائی اور بشیر نے پھر وہی کہا : اس پر عمران ( سخت ) غصے میں آ گئے ۔ ( ابو قتادہ نے ) کہا : تو ہم نے بار بار یہ کہنا شروع کر دیا : اے ابو نجید! ( حضرت عمران کی کنیت ) یہ ہم میں سے ( مسلمان اور حدیث کا طالب علم ) ہے ۔ اس ( کے عقیدے ) میں کوئی عیب یا نقص نہیں ہے ۔
Ishaq bin Ibrahim narrates this hadith of the Prophet on the authority of Imran b. Husain رضی اللہ عنہ , like the one narrated by Hammad bin Zaid.
نضر ( بن شمیل ) نے کہا : ہمیں ابو نعامہ عدوی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نےحجیر بن ریبع عدوی سےسنا ، وہ کہتے تھے : عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ۔ ( جس طرح ) حماد بن زید کی حدیث ہے ۔
It is narrated on the authority of Sufyan bin 'Abdulla al-Thaqafi رضی اللہ عنہ that he said:
I asked the Messenger of Allah ﷺ to tell me about Islam a thing which might dispense with the necessity of my asking anybody after you. In the hadith of Abu Usama the (words) are: other than you. He (the Holy Prophet ﷺ) remarked: Say I affirm my faith in Allah and then remain steadfast to it.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا,عبد اللہ بن نمیر ، جریر اور ابواسامہ نے ہشام بن عروہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت سفیان بن عبد اللہ ثقفی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! مجھے اسلام کے بارے میں ایسی پکی بات بتائیے کہ آپ کے بعد کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی ضرورت نہ رہے ( ابو اسامہ کی روایت میں ’’ آپ کےبعد ‘ ‘ کے بجائے ’’ آپ کے سوا ‘ ‘ کے الفاظ ہیں ) آپ نے ارشاد فرمایا : ’’ کہو : آمنت باللہ ( میں اللہ پر ایمان لایا ) ، پھر اس پر پکے ہو جاؤ ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of 'Abdullah bin 'Amr رضی اللہ عنہ :
A man asked the Messenger of Allah (ﷺ ) which of the merits (is superior) in Islam. He (the Holy Prophet ﷺ) remarked: That you provide food and extend greetings to one whom you know or do not know.
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا,لیث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابو خیر سے اور انہوں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : کون سا اسلام بہتر ہے ؟ آپ نے جواب دیا : ’’ تم لوگوں کو کھانا کھلاؤ اور ہر کسی کو ، خواہ تم اسے جانتے ہو یا نہیں جانتے ، سلام کہو ۔ ‘ ‘
Abdullah bin Amr bin al-As رضی اللہ عنہ is reported to have said:
Verily a person asked the Messenger of Allah (ﷺ) who amongst the Muslims was better. Upon this (the Holy Prophet ﷺ) remarked: From whose hand and tongue the Muslims are safe.
ہم سے ابو الطاہر احمد بن عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن سرح المصری نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا,عمرو بن حارث نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابوخیر سے روایت کی اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ فرما رہے تھے
ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : مسلمانوں میں سے بہتر کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان امن میں ہوں.
It is narrated on the authority of Jabir رضی اللہ عنہ :
He heard the (Holy Prophet ﷺ) say: A Muslim is he from whose hand and tongue the Muslims are safe.
ہم سب کو حسن حلوانی اور عبد بن حمید نے ابو عاصم کی سند سے بیان کیا، انہوں نے کہا, ہم کو عبد، ابو عاصم نے ابن جریج سے خبر دی کہ انہوں نے ابو الزبیر کو کہتے سنا,حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ کہتے ہوئے سنا : ’’ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں.
It is narrated on the authority of Abu Musa Ash'ari رضی اللہ عنہ :
I asked the Messenger of Allah which (attribute) of Islam is more excellent. Upon this he remarked: One in which the Muslims are safe, protected from the tongue and hand of (other Muslims).
یحییٰ بن سعید اموی نے کہا : ہمیں ابو بردہ ( برید ) بن عبداللہ بن ابی بردہ بن ابی موسیٰ اشعری نے ابو بردہ سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
میں نے رسو ل اللہ ﷺ سے عرض کی : کون سا اسلام افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ ( اس کا اسلام ) جس کی زبان سے اور ہاتھ سے مسلمان محفوظ رہیں
Ibrahim bin Sa'id al-Jauhari has narrated this hadith with the same words in addition to these:
The Messenger of Allah (ﷺ) was asked as to who amongst the Muslims is better, and the rest of the hadith was narrated like this.
ابراہیم بن سعید جوہری ‘ ابو اسامہ ‘ برید بن عبد اللہ اس روایت میں دوسری سند کے ساتھ یہ الفاظ ہیں
جس میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسا مسلمان افضل ہے؟تو آپﷺ نے اس طرح ذکر فرمایا-
It is reported on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet of Allah (ﷺ) said: There are three qualities for which anyone who is characterised by them will relish the sweetness of faith: he to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who loves a man for Allah's sake alone; and he who has as great an abhorrence of returning to unbelief after Allah has rescued him from it as he has of being cast into Hell.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم، محمد بن یحییٰ بن ابی عمر اور محمد بن بشار نے ثقفی کی سند سے بیان کیا، ہم سے ابن ابی عمر نے ایوب کی سند سے بیان کیا,ابو قلابہ نےحضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ
آپ نے فرمایا : ’’ جس شخص میں تین باتیں پائیں جائیں گی وہ ان کے ذریعے سے ایمان کی حلاوت پا لے گا : جسے اللہ اور اس کا رسول باقی ہر کسی سے بڑھ کر محبوب ہوں ، ( دوسری ) یہ کہ جس کسی سے بھی محبت کرے ، اللہ ہی کے لیے کرے اور ( تیسری ) یہ کہ اللہ نے جب اسے کفر سے بچا لیا ہے تو وہ دوبارہ کفر کی طرف پلٹنے سے وہ اس طرح نفرت کرے جیسی اس بات سے نفرت کرتا ہے کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے ۔ ‘ ‘
It is reported on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There are three qualities for which any one who is characterised by them will relish the savour of faith: that he loves man and he does not love him but for Allah's sake alone; he is to whom Allah and His Messenger are dearer than all else; he who prefers to be thrown into fire than to return to unbelief after Allah has rescued him out of it.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا,قتادہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تین باتیں جس میں بھی ہوں گی و ہ ایمان کا ذائقہ پا لے گا ( 1 ) جوشخص کسی انسان سے محبت کرتا ہے او راللہ کے سوا کسی اور کی خاطر اس سے محبت نہیں کرتا ۔ ( 2 ) جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول ﷺ باقی ہر کسی سے زیادہ پیارے ہیں ( 3 ) اور جب اللہ نے اسے کفر سے بچا لیا ہے تو آ گ میں ڈالا جانا ، اسے کفر میں دوبارہ لوٹنے سے زیادہ پسند ہے ۔ ‘ ‘
It was narrated that Anas رضی اللہ عنہ said:
"The messenger of Allah said..." a similar Hadith (as no. 166), except that he said: ".... then he returning to judaism or christianity.
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، کہا ہم سے نضر بن شمائل نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد نے بیان کیا,ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا...... ( پھر اسی طرح بیان کیا ) جیسے سابقہ راویوں نے بیان کیا ہے ، البتہ انہوں نے یہ ( الفاظ ) کہے : ’’اس کو پھر سے یہودی یا عیسائی ہو جانے سے ( آگ میں ڈالا جانا زیادہ پسند ہو ۔ ) ‘ ‘
It is reported on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: No bondsman believes, and, in the hadith narrated by Abdul Warith, no person believes, till I am dearer to him than the members of his household, his wealth and the whole of mankind.
مجھ سے زہیر بن حرب نے کہا,اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث دونوں نے عبد العزیز سے اور انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ کوئی بندہ ( اور عبد الوارث کی حدیث میں ہے کوئی آدمی ) اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اسے اس کے اہل و عیال ، مال اورسب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوں ۔ ‘ ‘
It is reported on the authority of Anas b. Malik that the Messenger of Allah said: None of you is a believer till I am dearer to him than his child, his father and the whole of mankind.
قتادہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص ( اس وقت تک ) مومن نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے لیے اس کی اولاد ، اس کے والد اور تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہوں ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ :
The Prophet (ﷺ) observed: None amongst you believes (truly) until he loves for his brother - or he said for his neighbour - that which he loves for himself.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا،شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ
آپﷺ نے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا یہاں تک کہ وہ اپنے بھائی کے لیے ( یا فرمایا : اپنے پڑوسی کے لیے بھی ) وہی پسند کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ :
The Prophet (may peace blessings be upon him) observed: By Him in whose Hand is my life, no, bondsman (truly) believes till he likes for his neighbour, or he (the Holy Prophet) said: for his brother, whatever he likes for himself.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا,حسن معلم نے قتادہ سے اور انہوں ن حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی ،
آپ نے فرمایا : ’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! کوئی بندہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک اپنے پڑوسی کے لیے ( یا فرمایا : اپنے بھائی کے لیے ) وہی پسند نہ کرے جو وہ اپنے لیے پسند کرتا ہے ۔ ‘ ‘
It is narrated on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah (ﷺ) observed: He will not enter Paradise whose neighbour is not secure from his wrongful conduct.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور علی بن حجر نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا: مجھ سے علاء نے اپنے والد سے بیان کیا,حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس کی ایذا رسانی سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہوں ، وہ جنت میں نہیں جائے گا ۔ ‘ ‘