The Book Pertaining to the Remembrance of Allah, Supplication, Repentance and Seeking Forgiveness
كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ
Chapter 49
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, thus stated: I am near to the thought of My servant as he thinks about Me, and I am with him as he remembers Me. And if he remembers Me in his heart, I also remember him in My Heart, and if he remembers Me in assembly I remember him in assembly, better than his (remembrance), and if he draws near Me by the span of a palm, I draw near him by the cubit, and if he draws near Me by the cubit I draw near him by the space (covered by) two hands. And if he walks towards Me, I rush towards him.
ہم سے قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے بیان کیا اور قتیبہ نے کہا , جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرے بارے میں میرا بندہ جو گمان کرتا ہے میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں ۔ جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں اور اگر وہ مجھے ( بھری ) مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ان کی مجلس سے اچھی مجلس میں اسے یاد کرتا ہوں ، اگر وہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب جاتا ہوں اور اگر وہ ایک ہاتھ میر قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبارئی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں ، اگر وہ میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے تو میں دوڑتا ہوا اس کے پاس جاتا ہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters, but there is no mention of these words:
He draws near Me by the space of a hand, I draw near him by the space (covered) by two hands.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، اور انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ
" اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی پوری لمبائی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں ۔ "
It was narrated that Hammam bin Munabbih said: "This is what Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrated to us from the Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) "and he mentioned a number of ahadith, including the following:
"Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said that Allah thus stated: When My servant draws close to me by the span of a palm, I draw close to him by the space of a cubit, and when he draws close to Me by the space of a cubit, I draw close to him by the space (covered) by two hands, and when he draws close to Me by the space (covered by) two hands, I go in hurry towards him.
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, ہمیں معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے متعدد احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا : " اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " جب بندہ ایک بالشت ( بڑھ کر ) میرے پاس آتا ہے تو میں ایک ہاتھ ( بڑھ کر ) اس کے پاس جاتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ ( بڑھ کر ) میرے پاس آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر ( بڑھ کر ) اس کے پاس جاتا ہوں اور اگر وہ دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر بڑھ کر میرے پاس آتا ہے تو میں اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں ، اس سے زیادہ تیزی سے آتا ہوں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was travelling along the path leading to Mecca that he happened to pass by a mountain called Jumdan. He said: Proceed on, it is Jumdan, Mufarradun have gone ahead. They (the Companions of the Holy Prophet) said: Allah's Messenger, who are Mufarradun? He said: They are those males and females who remember Allah much.
ہم سے امیہ بن بسطام العیشی نے بیان کیا، کہا ہم سے یزید نے، ان سے ابن زرعی نے بیان کیا، ہم سے روح بن قاسم نے بیان کیا، ان سے العلا کی سند سے، اپنے والد کی سند سے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے ایک راستے پر چلے جا رہے تھے کہ آپ کا ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ہوا جس کو جمدان کہا جاتا ہے ، آپ نے فرمایا : " چلتے رہو ، یہ جُمدان ہے ۔ مفردون 0لوگوں سے الگ ہو کر تنہا ہو جانے والے ) بازی لے گئے ۔ " لوگوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! مفردون سے کیا مراد ہے؟ فرمایا : " کثرت سے اللہ کو یاد کرنے والے ( مرد ) اور اللہ کو یاد کرنے والی ( عورتیں ۔ ) "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There are ninety-nine names of Allah; he who commits them to memory would get into Paradise. Verily, Allah is Odd (He is one, and it is an odd number) and He loves odd number. And in the narration of Ibn 'Umar (the words are): He who enumerated them.
عمرو ناقد ، زُہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ عمرو کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابوزناد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں ، جس نے ان کی حفاظت کی وہ جنت میں داخل ہو جائے گا اور اللہ وتر ( طاق ) ہے ، وتر کو پسند کرتا ہے ۔ " اور ابن ابی عمر کی روایت میں ہے : " جس نے ان کو شمار کیا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily, there are ninety-nine names for Allah, i.e. hundred excepting one. He who enumerates them would get into Paradise. And Hammam has made this addition on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ who reported it from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he said: He is Odd (one) and loves odd number.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے ابن سیرین سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، نیز ( ایوب نے ) ہمام بن منبہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ کے ننانوے ، ایک کم سو نام ہیں ، جس نے ان ( سب ) کو شمار کیا وہ جنت میں داخل ہو گا ۔ "" اور ہمام نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مزید یہ بیان کیا "" بےشک وہ ( اللہ ) طاق ہے ، طاق ہی کو پسند کرتا ہے ۔ ""
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When one of you makes supplication, he should supplicate with a will and should not say: O Allah, confer upon me if Thou likest, for there is none to coerce Allah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے ابن الیہ کی سند سے بیان کیا، ابوبکر نے کہا: ہم سے اسماعیل بن اولیاء نے روایت کی ہے, عبدالعزیز بن صُہیب نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تک تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو قطعیت کے ساتھ ( اصرار کرتے ہوئے ) دعا کرے اور یہ نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے دے دے ، کیونکہ اللہ کو مجبور کرنے والا کوئی نہیں ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When one of you makes a supplication (to his Lord) one should not say: O Allah, grant me pardon, if Thou so likest, but one should beg one's (Lord) with a will and full devotion, for there is nothing so great in the eye of Allah which He cannot grant.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، کہا: ہم سے اسماعیل، یعنی ابن جعفر نے بیان کیا، ان کی سند سے, العلاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص دعا کرے تو یہ نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، بلکہ وہ پختگی اور اصرار سے سوال کرے اور بڑی رغبت کا اظہار کرے ، کیونکہ دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز بڑی نہیں ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: None of you should say to Allah (like this): O Allah, grant me mercy, if thou so likest. The supplication (of his) should (be permeated with) conviction (that it would be accepted by the Lord), for Allah is the Doer of (everything) He likes to do, and there is none to force Him (to do or not to do this or that).
ہم سے اسحاق بن موسیٰ الانصاری نے بیان کیا، ہم سے انس بن عیاض نے بیان کیا، ان سے حارث نے جو عبدالرحمٰن بن ابی ذباب کے بیٹے ہیں، انہوں نے بیان کیا کہ , عطاء بن میناء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص اس طرح نہ کہے : اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھے بخش دے ، اے اللہ! اگر تو چاہے تو مجھ پر رحم فرما ۔ وہ دعا میں پختگی اور قطعیت سے کام لے کیونکہ اللہ جو چاہے وہی کرتا ہے ، کوئی نہیں جو اسے مجبور کر سکے ۔ "
Anas (bin Malik) رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying. None of you should make a request for death because of the trouble in which he is involved, but if there is no other help to it, then say: O Allah, keep me alive as long as there is goodness in life for me and bring death to me when there is goodness in death for me.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن اُلیّہ نے, عبدالعزیز نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کسی نقصان ( مصیبت ) کی وجہ سے ، جو اس پر نازل ہو ، موت کی تمنا نہ کرے ۔ اگر اسنے لامحالہ موت مانگنی بھی ہو تو یوں کہے : اے اللہ! مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو اور مجھے وفات دے جب موت میرے لیے بہتر ہو ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters, but with a small variation of wording.
ہم سے ابن ابی خلف نے بیان کیا، ہم سے روح نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، ہم سے عفان نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، یعنی ان دونوں سے ابن سلمہ نے, ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انہوں نے کہا : " کسی نقصان کی وجہ سے جو اسے پہنچے ۔ " ( نازل ہو نہیں کہا ۔ )
Nadr bin Anas reported:
When Anas رضی اللہ عنہ was alive, that he said: Had Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) not stated this.. None should make a request for death, I would have definitely done that.
مجھ سے حمید بن عمر نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الواحد نے بیان کیا, عاصم نے ہمیں نضر بن انس سے حدیث بیان کی کہ
حضرت انس رضی اللہ عنہ ان دنوں زندہ تھے ۔ ( نضر نے ) کہا : انس رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ ہوتا : " تم میں سے کوئی شخص موت کی تمنا نہ کرے " تو میں موت کی تمنا کرتا ۔
Abu Hazim reported:
I visited Khabbab رضی اللہ عنہ who had seven cauteries on his stomach and he said: Had Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) not forbidden us to call for death, I would have done so.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبداللہ بن ادریس نے اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے قیس بن ابی حازم سے روایت کی کہ انہوں نے کہا
ہم حضرت خباب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، اس وقت ان کے پیٹ پر ( علاج کے لئے ) سات جگہ ( تپتی ہوئی دھات سے ) داغ لگائے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا : اگر یہ نہ ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں موت کی دعا سے منع فرمایا تھا ، تو میں اس ( موت ) کی دعا کرتا ۔
This hadith has been transmitted on the authority of Isma'il through other chains of narrators.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, سفیان بن عیینہ ، جریر بن عبدالحمید ، وکیع ، عبداللہ بن نمیر ، معتمر بن سلیمان اور ابواسامہ سب نے اسماعیل سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت کی ۔
Hammam bin Munabbih said:
Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrated to us ahadith from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and out of these one is that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: None amongst you should make a request for death, and do not call for it before it comes, for when any one of you dies, he ceases (to do good) deeds and the life of a believer is not prolonged but for goodness
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا
یہ احادیث ہمیں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ ( بھی ) تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص ہرگز موت کی تمنا نہ کرے ، نہ موت آنے سے پہلے اس کے لیے دعا کرے کیونکہ جب تم میں سے کوئی شخص مر گیا تو اس کا عمل منقطع ہو گیا ( مزید عمل کی مہلت ختم ہو گئی ) اور مومن کی عمر اس کی بھلائی ہی میں اضافہ کرتی ہے ۔ "
Ubida bin Samit رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who loves to meet Allah, Allah also loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah also abhors to meet him.
ہم سے حداب بن خالد نے بیان کیا, ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملنے کو محبوب رکھے ، اللہ اس سے ملنے کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of 'Ubada bin Samit رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who loves to meet Allah, Allah loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. I ('A'isha رضی اللہ عنہا) said: Allah's Apostle, so far as the feeling of aversion against death is concerned, we all have this feeling. Thereupon he (the Holy Prophet) said: It is not that (which you construe), but (this) that when a believer (at the time of death) is given the glad tidings of the mercy of Allah, His Pleasure, and of Paradise, he loves to meet Allah, and Allah also loves to meet him, and when an unbeliever is given the news of the torment at the Hand of Allah, and Hardship to be imposed by Him, he dislikes to meet Allah and Allah also abhors to meet him.
ہم سے محمد بن عبداللہ الرازی نے بیان کیا, خالد بن حارث بجیمی نے کہا : ہمیں سعید نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے زُرارہ سے ، انہوں نے سعد بن ہشام سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند فرماتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ " میں نے کہا : اللہ کے نبی! کیا اس سے موت کی ناپسندیدگی مراد ہے؟ ہم میں سے ہر شخص ( طبعا ) موت کو ناپسند کرتا ہے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات نہیں ہے ، لیکن جب مومن کو اللہ کی رحمت ، اس کی رضامندی اور جنت کی بشارت دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور کافر کو جب اللہ کے عذاب اور اس کی ناراضی کی خبر دی جاتی ہے تو وہ اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ بھی اس ( ناشکرے اور متکبر ) سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ "
This hadith has been reported on the authority of Qatida with the same chain of transmitters.
اور ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا, محمد بن بکر نے کہا , ہمیں سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who loves to meet Allah, Allah also loves to meet him, and who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. There is death before (one is able to) meet Allah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, علی بن مسہر نے زکریا سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے شریح بن بانی سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے ۔ " ( ملاقات کا معاملہ اس کے بعد آئے گا ۔ )