The Book Pertaining to the Remembrance of Allah, Supplication, Repentance and Seeking Forgiveness
كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ
Chapter 49
A hadith like this has been narrated on the authority of A'isha رضی اللہ عنہا through another chain of transmitters.
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے شُریح بن بانی نے حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، اسی ( گزشتہ روایت ) کے مانند ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who loves meeting Allah, Allah loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him. I (Shuraih b. Hani, one of the narrators) came to A'isha رضی اللہ عنہا and said to her: Mother of the faithful, I heard Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrate from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) which, if it is actually so, is a destruction to us. Thereupon she said: Those are in fact ruined who are ruined at the words of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). What are (the words which in your opinion would cause your destruction)? He said that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had stated: He who loves to meet Allah, Allah too loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah too abhors to meet him, and there is none amongst us who dons not hate death. Thereupon she said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) has in fact stated this, but it does not mean what you construe, but it implies (the time) when one loses the lustre of the eye, and there is rattling in the throat, shudder in the body and convulsion in fingers (at the time of death). (It is about this time) that it has been said: He who loves to meet Allah, Allah would love to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah would abhor to meet him
ہم سے سعید بن عمرو اشعثی نے بیان کیا, عبثر نے مطرف سے ، انہوں نے عامر سے ، انہوں نے شریح بن ہانی سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ۔ ( شریح بن ہانی نے ) کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوا اور عرض کی : ام المومنین! میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، اگر وہ اسی طرح ہے ( جس طرح وہ بیان کرتے ہیں ) تو ہم ہلاک ہو گئے ۔ تو انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے فرمایا : ہلاک ہونے والا واقعی وہی ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے ہلاک ہوا ، ( بتاؤ ) وہ کیا حدیث ہے؟ ( میں نے عرض کی : ) انہوں نے کہا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے " اور ہم میں ایسا کوئی نہیں جو موت کو ناپسند نہ کرتا ہو ، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا تھا ، لیکن ( مفہوم کے اعتبار سے ) جس طرف تم گئے ہو وہ بات اس طرح نہیں بلکہ ( وہ اس طرح ہے کہ ) جب نگاہ اوپر کی طرف اٹھ جاتی ہے اور سینے میں سانس اکھڑ رہی ہوتی ہے اور جلد پر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور انگلیاں ٹیڑھی ہو کر اکڑ جاتی ہیں تو اس وقت جو اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو ( اس وقت ) اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے ، اللہ بھی اس سے ملنا ناپسند کرتا ہے ۔
This hadith has been reported on the authority of Mutarrif with the same chain of transmitters.
اور مجھ سے اسحاق بن ابراہیم الحنظَلی نے کہا, جریر نے مطرف سے اسی سند کے ساتھ عبثر کی حدیث کے مانند خبر دی ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who loves to meet Allah, Allah too loves to meet him, and he who dislikes to meet Allah, Allah abhors to meet him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو عامر اشعری اور ابو کریب نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابو اسامہ نے بریدہ سے، ابو بردہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے کہا: حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ ﷺنے فرمایا : " جو شخص اللہ سے ملاقات کو پسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرے ، اللہ بھی اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger (may peace be upon him as saying that Allah thus stated: I live in the thought of My servant as he thinks of Me and with him as he calls Me.
ہم سے ابو کریب محمد بن علاء نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے، جعفر بن برقان کی سند سے بیان کیا, یزید بن اصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے ، میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے پکارتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, said: When My servant draws close to Me by the span of a palm, I draw close to him by the cubit and when he draws close to Me by the cubit, I draw close to him by the space (covered) by two armspans, and when he comes to me walking, I go in a hurry towards him.
ہم سے محمد بن بشار بن عثمان العبدی نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید اور ابن ابی عدی نے سلیمان تیمی سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : جب میرا بندہ ایک بالشت میرے قریب آتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب آتا ہوں اور جب وہ ایک ہاتھ میرے قریب آتا ہے تو میں دونوں ہاتھوں کی لمبائی کے برابر اس کے قریب آتا ہوں اور جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس جاتا ہوں ۔ "
Mu'tamar it from his father with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 6830), but he did not mention (the words):
"If he comes to me walking, I go to him at speed.
ہم سے محمد بن عبد الاعلٰی القیسی نے بیان کیا, معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور
" جب وہ چل کر میرے پاس آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس جاتا ہوں " ذکر نہیں کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, thus stated: I live in the thought of My servant as he thinks about Me, and I am with him, as he remembers Me. And if he remembers Me in his heart, I also remember him in My Heart, and if he remembers Me in assembly I remember him in the assembly, better than he (does that), and if he draws near Me by the span of a palm I draw near him by the cubit, and if he draws near Me by the cubit I draw near him by the space (covered by) two hands. And if he walks towards Me, I rush towards him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، اور یہ قول ابو کریب کا ہے، انہوں نے کہا: ہم سے ابو معاویہ نے اعمش کی سند سے بیان کیا۔ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل فرماتا ہے : میرا بندہ میرے بارے میں جو گمان کرتا ہے تو میں ( اس کو پورا کرنے کے لیے ) اس کے پاس ہوتا ہوں اور جب وہ مجھے یاد کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں ، اگر وہ مجھے اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں اسے اپنے دل میں یاد کرتا ہوں ۔ اگر وہ مجھے کسی مجلس میں یاد کرتا ہے تو میں ان لوگوں کی مجلس سے بہتر مجلس میں اس کو یاد کرتا ہوں اور اگر وہ ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں ، اگر وہ ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں پھیلے ہوئے دونوں ہاتھوں کی لمبائی جتنا ( فاصلہ ) اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور اگر وہ چل کر میری طرف آتا ہے تو میں دوڑ کر اس کے پاس آتا ہوں ۔ "
Abu Dharr رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, stated: He who comes with goodness, there are in store for him ten like those and even more than those: 'And he who comes with vice, ' it is only for that that he is called to account. I even forgive him (as I like) and he who draws close to Me by the span of a palm I draw close to him by the cubit, and he who draws close to Me by the cubit I draw close to him by the space (covered) by two hands, and he who walks towards Me I rush towards him, and he who meets Me in the state that his sins fill the earth, but not associating anything with Me, I would meet Him with the same (vastness) of pardon (on My behalf). This hadith has been transmitted on the authority of Waki'.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, وکیع نے کہا , ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوزر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل فرماتا ہے : جو شخص ایک نیکی لے کر آتا ہے ، اسے اس جیسی دس ملتی ہیں اور میں بڑھا ( بھی ) دیتا ہوں اور جو شخص برائی لے کر آتا ہے تو اس کا بدلہ اس جیسی ایک برائی ہے یا ( چاہوں تو ) معاف کر دیتا ہوں ، جو ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے تو میں ایک ہاتھ اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو ایک ہاتھ میرے قریب ہوتا ہے تو میں دو ہاتھوں کےپھیلاؤ جتنا اس کے قریب ہو جاتا ہوں اور جو میرے پاس چلتا ہوا آتا ہے ، میں اس کے پاس دوڑتا ہوا جاتا ہوں اور جو مجھ سے پوری زمین کی وسعت بھر گناہوں کے ساتھ ملاقات کرتا ہے ( اور ) میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہیں ٹھہراتا ، میں اتنی ہی مغفرت کے ساتھ اس سے ملاقات کرتا ہوں ۔ "" ( امام مسلم کے شاگرد ) ابراہیم نے کہا : ہم سے حسب بن بشر نے ، ان کو وکیع نے یہی حدیث بیان کی ۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of A'mash with the same chain of transmitters and he (further) said: There is for him ten like that (the good he performed) or more than that.
ہم سے ابو کریب نے بیان کیا, ابومعاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر انہوں نے کہا
" اس کے لیے اس جیسی دس نیکیاں ملتی ہیں ، یا میں ( اس سے بھی ) زیادہ دیتا ہوں ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) visited a person from amongst the Muslims in order to inquire (about his health) who had grown feeble like the chicken. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Did you supplicate for anything or beg of Him about that? He said: Yes. I used to utter (these words): Impose punishment upon me earlier in this world, what Thou art going to impose upon me in the Hereafter. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Hallowed be Allah, you have neither the power nor forbearance to take upon yourself (the burden of His Punishment). Why did you not say this: O Allah, grant us good in the world and good in the Hereafter, and save us from the torment of Fire. He (the Holy Prophet ﷺ) made this supplication (for him) and he was all right.
ہم سے ابو الخطاب زیاد بن یحییٰ الحسانی نے بیان کیا, محمد بن ابوعدی نے حمید سے ، انہوں نے ثابت سے اور انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں میں سے ایک ایسے شخص کی عیادت کی جو لاغر ہو کر چوزے کی طرح ہو گیا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " کیا تم اللہ تعالیٰ سے کسی چیز کی دعا کرتے تھے یا اس سے کچھ مانگتے تھے؟ " اس نے کہا : جی ہاں ، میں کہتا تھا : اے اللہ! تو مجھے آخرت میں جو سزا دینے والا ہے ابھی دنیا ہی میں دے دے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ پاک ہے! تم میں اس کی طاقت نہیں ہے ۔ ۔ یا ( فرمایا : ) تم اس کی استطاعت نہیں رکھتے ۔ تم نے یہ کیوں نہ کہا : اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے اللہ سے دعا فرمائی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
Humaid narrated it with this chain of narrators (a hadith similar to no. 6835), up to the words, "and save us from the torment of the fire," nd he did not mention the words that came after that.
ہم سے عاصم بن نضر تیمی نے روایت کی ہے, خالد بن حارث نے کہا : ہمیں حمید نے اسی سند کے ساتھ دعا کے ان الفاظ تک حدیث بیان کی : " ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا " اور اس سے اضافی بات بیان نہیں کی ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) visited a person from amongst his Companions who had grown as feeble as the chicken. The rest of the hadith is the same, but with this variation that he (the Holy Prophet) said: You have not power enough to undergo the torment imposed by Allah. And there is no mention of: He supplicated Allah for him and He cured him.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا, حماد نے کہا , ثابت نے ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں سے ایک شخص کی عیادت کے لیے تشریف لےگئے ، وہ چوزے کی طرح ( لاغر ) ہو گیا تھا ، اس کے بعد حمید کی حدیث کے ہم معنی ہے ، مگر انہوں نے اس طرح کہا : " تم میں اللہ کا عذاب برداشت کرنے کی طاقت نہیں " انہوں نے یہ بیان نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے اللہ سے دعا کی تو اس نے اس شخص کو شفا عطا فرما دی ۔
This hadith had been transmitted on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of narrators.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے سالم بن نوح العطار نے سعید بن ابی عروبہ کی سند سے بیان کیا, قتادہ نے انس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying Allah has mobile (squads) of angels, who have no other work (to attend to but) to follow the assemblies of Dhikr and when they find such assemblies in which there is Dhikr (of Allah) they sit in them and some of them surround the others with their wings till the space between them and the sky of the world is fully covered, and when they disperse (after the assembly of Dhikr is adjourned) they go upward to the heaven and Allah, the Exalted and Glorious, asks them although He is best informed about them: Where have you come from? They say: We come from Thine servants upon the earth who had been glorifying Thee (reciting Subhan Allah), uttering Thine Greatness (saying Allah o-Akbar) and uttering Thine Oneness (La ilaha ill Allah) and praising Thee (uttering al-Hamdu Lillah) and begging of Thee. Be would say: What do they beg of Me? They would say: They beg of Thee the Paradise of Thine. He (God) would say: Have they seen My Paradise? They said: No, our Lord. He would say: (What it would be then) if they were to see Mine Paradise? They (the angels) said: They seek Thine protection. He (the Lord) would say: Against what do they seek protection of Mine? They (the angels) would say: Our Lord, from the Hell-Fire. He (the Lord) would say: Have they seen My Fire? They would say: No. He (the Lord) would say: What it would be if they were to see My Fire? They would say: They beg of Thee forgiveness. He would say: I grant pardon to them, and confer upon them what they ask for and grant them protection against which they seek protection. They (the angels) would again say: Our Lord, there is one amongst them such and such simple servant who happened to pass by (that assembly) and sat there along with them (who had been participating in that assembly). He (the Lord) would say: I also grant him pardon, for they are a people the seat-fellows of whom are in no way unfortunate.
ہم سے محمد بن حاتم بن میمون نے بیان کیا، ہم سے بہز نے بیان کیا، ہم سے وہیب نے بیان کیا، ہم سے سہیل نے اپنے والد سے بیان کیا, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " اللہ تبارک و تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں جو ( اللہ کی زمین میں ) چکر لگاتے رہتے ہیں ، وہ اللہ کے ذکر کی مجلسیں تلاش کرتے ہیں ، جب وہ کوئی ایسی مجلس پاتے ہیں جس میں ( اللہ کا ) ذکر ہوتا ہے تو ان کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں ، وہ ایک دوسرے کو اپنے پروں سے اس طرح ڈھانپ لیتے ہیں کہ اپنے اور دنیا کے آسمان کے درمیان ( کی وسعت کو ) بھر دیتے ہیں ۔ جب ( مجلس میں شریک ہونے والے ) لوگ منتشر ہو جاتے ہیں تو یہ ( فرشتے ) بھی اوپر کی طرف جاتے ہیں اور آسمان پر چلے جاتے ہیں ، کہا : تو اللہ عزوجل ان سے پوچھتا ہے ، حالانکہ وہ ان کے بارے میں سب سے زیادہ جاننے والا ہے : تم کہاں سے آئے ہو؟ وہ کہتے ہیں : ہم زمین میں ( رہنے والے ) تیرے بندوں کی طرف سے ( ہو کر ) آئے ہیں جو تیری پاکیزگی بیان کر رہے تھے ، تیزی بڑائی کہہ رہے تھے اور صرف اور صرف تیرے ہی معبود ہونے کا اقرار کر رہے تھے اور تیری حمد و ثنا کر رہے تھے اور تجھی سے مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : وہ آپ سے آپ کی جنت مانگ رہے تھے ۔ فرمایا : کیا انہوں نے میری جنت دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : پروردگار! ( انہوں نے ) نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر انہوں نے میری جنت دیکھی ہوتی کیا ہوتا! ( کس الحاح و زاری سے مانگتے! ) وہ کہتے ہیں : اور وہ تیری پناہ مانگ رہے تھے ، فرمایا : وہ کس چیز سے میری پناہ مانگ رہے تھے؟ انہوں نے کہا : تیری آگ ( جہنم ) سے ، اے رب! فرمایا : کیا انہوں نے میری آگ ( جہنم ) دیکھی ہے؟ انہوں نے کہا : اے رب! نہیں ( دیکھی ) ، فرمایا : اگر وہ میری جہنم دیکھ لیتے تو ( ان کا کیا حال ہوتا! ) وہ کہتے ہیں : وہ تجھ سے گناہوں کی بخشش مانگ رہے تھے ، تو وہ فرماتا ہے : میں نے ان کے گناہ بخش دیے اور انہوں نے جو مانگا میں نے انہیں عطا کر دیا اور انہوں نے جس سے پناہ مانگی میں نے انہیں پناہ دے دی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : وہ ( فرشتے ) کہتے ہیں : پروردگار! ان میں فلاں شخص بھی موجود تھا ، سخت گناہ گار بندہ ، وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے ساتھ بیٹھ گیا تھا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : تو اللہ ارشاد فرماتا ہے : میں نے اس کو بھی بخش دیا ۔ یہ ایسے لوگ ہیں کہ ان کی وجہ سے ان کے ساتھ بیٹھ جانے والا بھی محروم نہیں رہتا ۔ "
Qatada asked Anas رضی اللہ عنہ :
which Supplication Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) frequently made. He said: The supplication that he (the Prophet made very frequently is this: O Allah, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell-Fire. He (Qatada) said that whenever Anas رضی اللہ عنہ had to supplicate he made this very supplication, and whenever he (intended) to make another supplication he (inserted) this very supplication in that.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن علیہ نے, عبدالعزیز بن صہیب نے کہا : قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سی دعا کثرت سے مانگا کرتے تھے؟ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم کثرت سے جو دعا مانگا کرتے تھے وہ یہ تھی کہ آپ کہے : "" اے اللہ! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما ، آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ ۔ "" کہا : حضرت انس رضی اللہ عنہ جب کوئی ایک دعا مانگنا چاہتے تو یہی دعا مانگتے اور جب بڑی دعا مانگنا چاہتے تو اس میں یہ دعا بھی مانگتے ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to supplicate (in these words): Our Lord, grant us the good in this world and the good in the Hereafter and save us from the torment of Hell Fire.
ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا, ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( دعا فرماتے ہوئے یہ ) کہا کرتے تھے : " اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھی اچھائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اچھائی عطا فرما اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who uttered these words: There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Sovereignty belongs to Him and all the praise is due to Him, and He is Potent over everything one hundred times every day there is a reward of emancipating ten slaves for him, and there are recorded hundred virtues to his credit, and hundred vices are blotted out from his scroll, and that is a safeguard for him against the Satan on that day till evening and no one brings anything more excellent than this, except one who has done more than this (who utters these words more than one hundred times and does more good acts) and he who utters: Hallowed be Allah, and all praise is due to Him, one hundred times a day, his sins are obliterated even if they are equal to the extent of the foam of the ocean.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا، انہوں نے کہا: میں نے سمیہ کی سند سے اور ابوصالح کی سند سے مالک کو پڑھا, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص دن میں سو مرتبہ : " لا اله الا لله وحده لا شريك له له الملك وله لحمد وهو على كل شيء قدير " اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، ساری بادشاہت اسی کی ہے ، حمد صرف اسی کو سزاوار ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے " کہے اس شخص کو دس غلام آزاد کرنے کے برابر اجر ملتا ہے ، اس کے لیے سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ، اس کے سو گناہ مٹا دیے جاتے ہیں اور یہ کلمات شام تک پورا دن شیطان سے اس کی حفاظت کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور کوئی شخص اس سے زیادہ افضل عمل نہیں کر سکتا ، سوائے اس شخص کے جو اس سے بھی زیادہ مرتبہ یہی عمل کرے اور جس شخص نے ایک دن میں سو مرتبہ " سبحان الله وبحمده " کہا تو اس کے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ، چاہے وہ سمندر کے جھاگ کے برابر ہوں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who recites in the morning and in the evening (these words): Hallowed be Allah and all praise is due to Him one hundred times, he would not bring on the Day of Resurrection anything excellent than this except one who utters these words or utters more than these words.
مجھ سے محمد بن عبد الملک اموی نے بیان کیا، ہم سے عبدالعزیز بن مختار نے، سہیل کی سند سے، سمیع کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی شخص جب صبح کرے اور جب شام کرے تو سو بار " سبحان الله وبحمده " کہے تو قیامت کے روز کوئی شخص اس سے بہتر عمل لے کر نہیں آئے گا ، سوائے اس کے جو اتنی بار ( یہ کلمات ) کہے یا اس سے زیادہ بار کہے ۔ "
Amr bin Maimun reported:
He who uttered: There is no god but Allah, the One, having no partner with Him, His is the Sovereignty and all praise is due to Him and He is Potent over everything ten times, he is like one who emancipated four slaves from the progeny of Isma'il.
ہم سے سلیمان بن عبید اللہ ابو ایوب الغیلیانی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو عامر یعنی العقدی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمر نے جو ابی زیدہ کے بیٹے ہیں، بیان کیا, ابواسحٰق نے عمرو بن میمون سے روایت کی ، کہا
جس شخص نے کہا : " لا اله الا لله وحده لا شريك له له الملك وله لحمد وهو على كل شيء قدير " پڑھا وہ اس شخص کی طرح ہو گا جس نے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے چار غلام آزاد کیے ہوں ۔