The Book Pertaining to the Remembrance of Allah, Supplication, Repentance and Seeking Forgiveness
كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ
Chapter 49
Khuthaim narrated a hadith like this. Sha'bi reported: I said to Rabi': From whom did you hear it? He said: From 'Amr bin Maimun. I came to 'Amr bin Maimun and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: from Ibn Abi Laila. I came to Ibn Abi Laila and said to him: From whom did you hear this hadith? He said: From Abu Ayyub Ansari رضی اللہ عنہ, who narrated from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
سلیمان نے کہا: ہم سے ابو عامر نے بیان کیا، ہم سے عمر نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن ابی صفر نے بیان کیا, شعبی نے ربیع بن خُثیم سے اسی کے مانند روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ربیع سے پوچھا : آپ نے یہ ( حدیث ) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا : عمرو بن میمون سے ، پھر میں عمرو بن میمون کے پاس آیا ، ان سے پوچھا : آپ نے یہ ( حدیث ) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا : ابن ابی لیلیٰ سے ، کہا : تو میں ابن ابی لیلیٰ کے پاس آیا اور ان سے پوچھا : آپ نے یہ ( حدیث ) کس سے سنی؟ انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے سنی ، وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے تھے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Two are the expressions which are light on the tongue, but heavy in scale, dear to the Compassionate One: Hallowed be Allah and praise is due to Him; Hallowed be Allah, the Great.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر بن حرب، ابو کریب اور محمد بن طریف البجلی نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے ابن فضیل نے عمارہ بن قعقع کی سند سے ابو زرعہ کی سند سے بیان کیا,حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں اور میزان میں بھاری ہیں اور اللہ کو بہت محبوب ہیں : " سبحان الله وبحمده سبحان العظيم " اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور سب حمد اسی کو سزاوار ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں اور عظمت کی ہر صفت سے متصف ہے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The uttering of (these words): Hallowed be Allah; all praise is due to Allah, there is no god but Allah and Allah is the Greatest, is dearer to me than anything over which the sun rises.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے بیان کیا، کہا: ہم سے ابو معاویہ نے العماش کی سند سے اور ابو صالح کی سند سے بیان کیا, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ بات کہ میں " سبحان الله والحمدلله ولا اله الا لله والله اكبر " کہوں ، مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج طلوع ہوتا ہے ۔ "
Mu'sab bin Sa'd reported on the authority of his father:
A desert Arab came to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said to him: Teach me the words which I should (often) utter. He said: Utter, There is no god but Allah, the One, having no partner with Him. Allah is the Greatest of the great and all praise is due to Him. Hallowed be Allah, the Lord of the worlds, there is no Might and Power but that of Allah, the All-Powerful and the Wise. He (that desert Arab) said: These all (glorify) my Lord. But what about me? Thereupon he (the Holy Prophet) said: You should say: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to righteousness and provide me sustenance. Musa (one of the narrators) said: I think he also said: Grant me safety. But I cannot say for certain whether he said this or not. Ibn Abi Shaiba has not made a mention of the words of Musa in his narration.
ابوبکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں علی بن مسہر اور ابن نمیر نے موسیٰ جہنی سے حدیث بیان کی ، اور ہمیں محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بھی یہی حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں موسی جہنی نے معصب بن سعد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا
ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : مجھے کچھ کلمات سکھائیے جنہیں میں ( بطور ذکر ) کہا کروں ۔ آپ نے فرمایا : "" یہ کہا کرو : "" لا اله الا لله وحده لا شريك له الله اكبر كبيرا والحمدلله كثيرا وسبحان الله رب العالمين لا حول ولا قوة الا بالله العزيز الحكيم "" "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، اللہ بڑائی میں سب سے بڑا ہے اور بے حد و حساب تعریف اللہ کی ہے ، اللہ ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کے شایان شان نہیں ، وہ سارے جہانوں کا پالنے والا ہے ، کسی میں برائی سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت نہیں مگر صرف اور صرف اللہ کی دی ہوئی جو سب پر غالب ہے ، بڑی حکمت والا ہے ۔ "" اس شخص نے کہا : یہ کلمات تو میرے رب کے لیے ہیں ، میرے لیے کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ کہو : "" اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى "" اے اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ "" موسیٰ نے کہا : جہاں تک "" عافنى "" مجھے عافیت عطا کر "" کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں مجھے تھوڑا سا وہم ہے اور مجھے یقین نہیں ہے ، اور ابن ابی شیبہ نے اپنی حدیث میں موسیٰ کا یہ قول نقل نہیں کیا ۔
Abu Malik Ashaja'i reported on the authority of his father:
Whenever a person embraced Islam, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) instructed him to recite: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness and provide me sustenance.
ہم سے ابو کامل الجہدری نے بیان کیا, عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں ابو مالک اشجعی نے اپنے والد ( طارق بن اشیم اشجعی رضی اللہ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا
جو شخص اسلام قبول کرتا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو ان کلمات کی تعلیم دیتے تھے : " اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وارزقنى " " اللہ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما ۔ "
Abu Malik reported on the authority of his father:
When a person embraced Islam, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) used to teach him how to observe prayer and then commanded him to supplicate in these words: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, direct me to the path of righteousness, grant me protection and provide me sustenance.
ہم سے سعید بن ازہر الواسطی نے بیان کیا, ابومعاویہ نے کہا؛ ہمیں ابومالک اشجعی نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا
جب کوئی شخص مسلمان ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس کو نماز سکھاتے ، پھر اس کو حکم دیتے کہ ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کرے : اللهم اغفرلى وارحمنى واهدنى وعافنى وارزقنى
Abu Malik reported on the authority Of his father:
He heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying to the person who bad come to him and asked him as to how he should beg his Lord, that he should utter these words: O Allah, grant me pardon, have mercy upon me, protect me, provide me sustenance, and he collected his fingers together except his thumb and said: It is in these words (that there is supplication) which sums up for you (the good) of this world and that of the Hereafter.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, یزید بن ہارون نے کہا : ابومالک نے ہمیں اپنے والد سے خبر دی کہ
انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، ( اس وقت ) ان کے پاس ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کی : اللہ کے رسول! جب میں اپنے رب سے مانگوں تو کیا کہا کروں؟ آپ نے فرمایا : " تم کہو : " اللهم اغفرلى وارحمنى وعافنى وارزقنى " ساتھ ہی اپنے انگوٹھے کے سوا ( ایک ایک کر کے ) ساری انگلیاں بند کرتے گئے ( اور فرمایا : ) " یہ کلمات تمہارے لیے تمہاری دنیا اور آخرت دونوں جمع کر دیں گے ۔ "
Mus'ab bin Sa'd reported that his father told him that h
He had been in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he said: Is one amongst you powerless to get one thousand virtues every day. Amongst those who had been sitting there, one asked: How one amongst us can get one thousand virtues every day? He said: Recite: Hallowed be Allah one hundred times for (by reciting them) one thousand virtues are recorded (to your credit) and one thousand vices are blotted out.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے مروان اور علی بن مشر نے بیان کیا، ان سے موسیٰ جہنی نے اور ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا۔ اور اس کے لیے لفظ: میرے والد نے ہمیں بتایا، موسیٰ الجہنی نے بتایا, مصعب بن سعد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ) نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے فرمایا : " کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات سے عاجز ہے کہ ہر روز ایک ہزار نیکیاں کمائے؟ " آپ کے ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں میں سے ایک نے پوچھا ہم میں سے کوئی شخص ایک ہزار نیکیاں کس طرح کما سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا : " وہ سو بار سبحان الله کہے ۔ اس کے لیے ہزار نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور اس کے ہزار گناہ مٹا دئیے جائیں گے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who alleviates the suffering of a brother out of the sufferings of the world, Allah would alleviate his suffering from the sufferings of the Day of Resurrection, and he who finds relief for one who is hard-pressed, Allah would make things easy for him in the Hereafter, and he who conceals (the faults) of a Muslim, Allah would conceal his faults in the world and in the Hereafter. Allah is at the back of a servant so long as the servant is at the back of his brother, and he who treads the path in search of knowledge, Allah would make that path easy, leading to Paradise for him and those persons who assemble in the house among the houses of Allah (mosques) and recite the Book of Allah and they learn and teach the Qur'an (among themselves) there would descend upon them tranquility and mercy would cover them and the angels would surround them and Allah mentions them in the presence of those near Him, and he who is slow-paced in doing good deeds, his (high) lineage does not make him go ahead.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ التمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن العلٰا ہمدانی نے بیان کیا اور تلفظ یحییٰ کا ہے۔ یحییٰ نے کہا: اس نے ہم سے کہا اور باقی دو نے کہا, ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے کسی مسلمان کی دنیاوی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کی ، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کی تکلیفوں میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا اور جس شخص نے کسی تنگ دست کے لیے آسانی کی ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی ، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندے کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور جو شخص اس راستے پر چلتا ہے جس میں وہ علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے لیے جنت کا راستہ آسان کر دیتا ہے ، اللہ کے گھروں میں سے کسی گھر میں لوگوں کا کوئی گروہ اکٹھا نہیں ہوتا ، وہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور اس کا درس و تدریس کرتے ہیں مگر ان پر سکینت ( اطمینان و سکون قلب ) کا نزول ہوتا ہے اور ( اللہ کی ) رحمت ان کو ڈھانپ لیتی ہے اور فرشتے ان کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے مقربین میں جو اس کے پاس ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتا ہے اور جس کے عمل نے اسے ( خیر کے حصول میں ) پیچھے رکھا ، اس کا نسب اسے تیز نہیں کر سکتا ۔ "
It was narrated that Abu Huraira رضی اللہ عنہ said: "The Messenger of Allah ﷺ said..." a Hadith like that of Abu Mu'awiyah (no. 6853), except that in the Hadith of Abu Usamah there is no mention of granting respite to (a debtor) who is in difficulty.
محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابواسامہ نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جس طرح ابومعاویہ کی حدیث ہے ، مگر ابواسامہ کی حدیث میں تنگدست کے لیے آسانی کرنے کا ذکر نہیں ۔
Agharr Abi Muslim reported:
I bear witness to the fact that both Abu Huraira and Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ were present when Allah's Messenger may peace be upon him) said: The people do not sit but they are surrounded by angels and covered by Mercy, and there descends upon them tranquillity as they remember Allah, and Allah makes a mention of them to those who are near Him.
ہم سے محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابواسحاق کو ابومسلم اغر سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا
میں حضرت ابوہریرہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے بارے میں گواہی دیتا ہوں ، ان دونوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں گواہی دی کہ آپ نے فرمایا : " جو قوم بھی اللہ عزوجل کو یاد کرنے کے لیے بیٹھتی ہے ، ان کو فرشتے گھیر لیتے ہیں ، رحمت ڈھانپ لیتی ہے اور ان پر اطمینان قلب نازل ہوتا ہے اور اللہ ان کا ذکر ان میں کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا, عبدالرحمٰن نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Mu'awiya رضی اللہ عنہ went to a circle in the mosque and said: What makes you sit here? They said: We are sitting here in order to remember Allah. He said: I adjure you by Allah (to tell me whether you are sitting here for this very purpose)? They said: By Allah, we are sitting here for this very purpose. Thereupon, he said: I have not demanded you to take an oath, because of any allegation against you and none of my rank in the eye of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) is the narrator of so few ahadith as I am. The fact is that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went out to the circle of his Companions and said: What makes you sit? They said: We are sitting here in order to remember Allah and to praise Him for He guided us to the path of Islam and He conferred favours upon us. Thereupon he adjured by Allah and asked if that only was the purpose of their sitting there. They said: By Allah, we are not sitting here but for this very purpose, whereupon he (the Messenger) said: I am not asking you to take an oath because of any allegation against you but for the fact that Gabriel came to me and he informed me that Allah, the Exalted and Glorious, was talking to the angels about your magnificence.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے مرحوم بن عبدالعزیز نے بیان کیا، انہوں نے ابو نعمہ السعدی کی سند سے، وہ ابو عثمان کی سند سے, حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نکل کر مسجد میں ایک حلقے ( والوں ) کے پاس سے گزرے ، انہوں نے کہا : تمہیں کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ انہوں نے کہا : ہم اللہ کا ذکر کرنے کے لیے بیٹھے ہیں ۔ انہوں نے کہا : کیا اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تمہیں اس کے علاوہ اور کسی غرض نے نہیں بٹھایا؟ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم اس کے علاوہ اور کسی وجہ سے نہیں بیٹھے ، انہوں نے کہا؛ دیکھو ، میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے قسم نہیں دی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری حیثیت کا کوئی شخص ایسا نہیں جو حدیث بیان کرنے میں مجھ سے کم ہو ، ( اس کے باوجود اپنے یقینی علم کی بنا پر میں تمہارے سامنے یہ حدیث بیان کر رہا ہوں کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نکل کر اپنے ساتھیوں کے ایک حلقے کے قریب تشریف لائے اور فرمایا : " تم کس غرض سے بیٹھے ہو؟ " انہوں نے کہا : ہم بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اس بات پر اس کی حمد کر رہے ہیں کہ اس نے اسلام کی طرف ہماری رہنمائی کی ، اس کے ذریعے سے ہم پر احسان کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم اللہ کو گواہ بنا کر کہتے ہو کہ تم صرف اسی غرض سے بیٹھے ہو؟ " انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! ہم اس کے سوا اور کسی غرض سے نہیں بیٹھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے تم پر کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی ، بلکہ میرے پاس جبریل آئے اور مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے سے فرشتوں کے سامنے فخر کا اظہار فرما رہا ہے ۔ "
Al-Agharr al-Muzani رضی اللہ عنہ, who was one amongst the Companions (of the Holy Prophet) reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is (at times) some sort of shade upon my heart, and I seek forgiveness from Allah a hundred times a day.
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ، قتیبہ بن سعید اور ابو الربیع العتکی نے حماد کی سند سے بیان کیا۔ یحییٰ نے کہا: ہمیں حماد بن زید نے خبر دی, ثابت نے ابو بُردہ سے اور انہوں نے حضرت اغرمزنی رضی اللہ عنہ سے ، جنہیں شرفِ صحبت حاصل تھا ، روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے دل پر غبار سا چھا جاتا ہے تو میں ( اس کیفیت کے ازالے کے لیے ) ایک دن میں سو بار اللہ سے استغفار کرتا ہوں ۔ "
Al-Agharr al-Muzani رضی اللہ عنہ who was from amongst the Companions of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) reported:
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ stated to him that Allah's Messenger (ﷺ) said: O people, seek repentance from Allah. Verily, I seek repentance from Him a hundred times a day.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, غندر نے شعبہ سے ، انہوں نے عمرہ بن مُرہ سے اور انہوں نے ابوبُردہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت اغر رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ ۔ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے ۔ ۔ وہ
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے تھے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لوگو! اللہ کی طرف توبہ کیا کرو کیونکہ میں اللہ سے ۔ ۔ ایک دن میں ۔ ۔ سو بار توبہ کرتا ہوں ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.
عبیداللہ کے والد معاذ ، ابوداؤد اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اسی سند سے ( یہی ) روایت کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: He who seeks repentance (from the Lord) before the rising of the sun from the west (before the Day of Resurrection), Allah turns to him with Mercy.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوخالد نے بیان کیا، کہا ہم سے سلیمان بن حیان نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے ابو سعید اشجع نے بیان کیا، حفص نے بیان کیا، ہم سے ابن غیث نے بیان کیا، ان سب کو ہشام نے روایت کیا ہے, مجھ سے ابو خیثمہ نے بیان کیا، ان سے زہیر بن حرب نے، اور ہم سے اس کا لفظ بیان کیا: ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے، ہشام بن حسن سے، محمد بن سیرین کی سند سے,حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص نے سورج کے مغرب سے طلوع ہونے سے پہلے توبہ کر لی ، اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرما لے گا ۔ "
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
We were along with Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) on a journey when the people began to pronounce Allahu Akbar in a loud voice. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: O people, show mercy to yourselves for you are not calling One who is deaf or absent. Verily, you are calling One who is All-Hearing (and) Near to you and is with you. Abu Musa said that he had been behind him (the Prophet) and reciting: There is neither might nor power but that of Allah. He (the Prophet), while addressing 'Abdullah b. Qais, said: Should I not direct you to a treasure from amongst the treasures of Paradise? I ('Abdullah b. Qais) said: Allah's Messenger, do it, of course. Thereupon he (the Prophet) said: Then recite: There is no might and no power but that of Allah.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, محمد بن فضیل اور ابومعاویہ نے عاصم سے ، انہوں نے ابوعثمان سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک سفر میں ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ لوگ بلند آواز کے ساتھ اللہ اکبر کہنے لگے ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے لوگو! اپنی جانوں پر نرمی کرو ، تم نہ کسی بہرے کو پکار رہے ہو ، نہ غائب کو ، تم اس کو پکار رہے ہو جو ہر وقت خوب سننے والا ہے ، قریب ہے اور تمہارے ساتھ ہے ۔ " اس وقت میں آپ کے پیچھے تھا اور یہ کہہ رہا تھا : " لا حول ولا قوة الا بالله " " گناہوں سے بچنے اور نیکی کی قوت صرف اور صرف اللہ سے ملتی ہے ۔ " تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عبدالہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانے کا پتہ نہ بتاؤں؟ " میں نے کہا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " کہا کرو ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of 'Asim with the same chain of transmitters.
ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم اور ابو سعید الاشجع نے ہم سے روایت کی ہے, حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
He (and his other companions) were climbing upon the hillock along with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and when any person climbed up, he pronounced (loudly): There is no god but Allah, Allah is the Greatest. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily, you are not supplicating One Who is deaf or absent. He said: Abu Musa or Abdullah bin Qais, should I not direct you to the words (which form) the treasure of Paradise? I said: Allah's Messenger, what are these? He said: There is no might and no power but that of Allah.
ہم سے ابو کامل فضیل بن حسین نے بیان کیا, یزید بن زُریع نے کہا : ہمیں ( سلیمان ) تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
وہ لوگ ( صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور وہ ایک گھاٹی پر چڑھ رہے تھے ، کہا : ایک آدمی جب بھی اونچائی پر چڑھتا زور سے پکارنا شروع کر دیتا : " لا اله الا لله والله اكبر " ( ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم لوگ کسی بہرے کو یا اسے جو غائب ہو ، نہیں پکار رہے ۔ " کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوموسیٰ! یا ( فرمایا : ) عبداللہ بن قیس! کیا تمہیں ایسا کلمہ نہ بتاؤں جو جنت کے خزانے میں سے ہے؟ " میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول! وہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " لا حول ولا قوة الا بالله " ( گناہوں سے بچنے کی ) کوئی کوشش اور ( نیکی کرنے کی ) کوئی قوت اللہ کے سوا کسی سے حاصل نہیں ہوتی ۔ "