Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah created mercy in one hundred parts and He retained with Him ninety-nine parts, and He has sent down upon the earth one part, and it is because of this one part that there is mutual love among the creation so much so that the animal lifts up its hoof from its young one, fearing that it might harm it.
ہم سے حرملہ بن یحییٰ التجیبی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی سند سے بیان کیا, سعید بن مسیب نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " اللہ تعالیٰ نے رحمت کے ایک سو حصے کیے ، ننانوے حصے اپنے پاس روک کر رکھ لیے اور ایک حصہ زمین پر اتارا ، اسی ایک حصے میں سے مخلوق ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے حتی کہ ایک چوپایہ اس ڈر سے اپنا سم اپنے بچے اوپر اٹھا لیتا ہے کہ کہیں اس کو لگ نہ جائے ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Allah created one hundred (parts of mercy) and He distributed one amongst His creation and kept this one hundred excepting one with Himself (for the Day of Resurrection).
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل یعنی ابن جعفر نے بیان کیا, علاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے سو رحمتیں پیدا کیں ، اس نے ایک رحمت اپنی مخلوق میں رکھی اور ایک کم سو رحمتیں ( آئندہ کے لیے ) اپنے پاس چھپا کر رکھ لیں ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There are one hundred (parts of) mercy for Allah and He has sent down out of these one part of mercy upon the jinn and human beings and animals and the insects, and it is because of this (one part) that they love one another, show kindness to one another and even the beast treats its young one with affection, and Allah has reserved ninety nine parts of mercy with which He would treat His servants on the Day of Resurrection.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے والد نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک نے بیان کیا, عطاء نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت اس نے جن و انس ، حیوانات اور حشرات الارض کے درمیان نازل فرما دی ، اسی ( ایک حصے کے ذریعے ) سے وہ ایک دوسرے پر شفقت کرتے ہیں ، آپس میں رحمت کا برتاؤ کرتے ہیں ، اسی سے وحشی جانور اپنے بچوں پر شفقت کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ننانوے رحمتیں مؤخر کر کے رکھ لی ہیں ، ان سے قیامت کے دن اپنے بندوں پر رحم فرمائے گا ۔ "
Salman Farisi رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily, there are one hundred (parts of) mercy for Allah, and it is one part of this mercy by virtue of which there is mutual love between the people and ninety-nine reserved for the Day of Resurrection.
مجھ سے الحکم بن موسیٰ نے بیان کیا, معاذ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوعثمان نہدی نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ کی سو رحمتیں ہیں ، ان میں سے ایک رحمت ہے جس کے ذریعے سے مخلوق آپس میں ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے اور ننانوے ( رحمتیں ) قیامت کے دن کے لیے ( محفوظ ) ہیں ۔ "
This hadith has been transmitted on the authority of Mu'tamir, reported on the authority of his father.
اور ہم سے محمد بن عبد الاعلی نے بیان کیا, معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
Salman رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily, Allah created, on the same very day when He created the heavens and the earth, one hundred parts of mercy. Every part of mercy is coextensive with the space between the heavens. and the earth and He out of this mercy endowed one part to the earth and it is because of this that the mother shows affection to her child and even the beasts and birds show kindness to one another and when there would be the Day of Resurrection, Allah would make full (use of Mercy).
ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا, داود بن ابی ہند نے ابو عثمان سے اور انہوں نے حضرت سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بےشک اللہ تعالیٰ نے جس دن آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس دن اس نے سو رحمتیں پیدا کیں ، ہر رحمت آسمانوں اور زمین کےدرمیان کی وسعت کے برابر ہے ، اس نے ان میں سے ایک رحمت زمین میں رکھی ، اسی رحمت کی وجہ سے والدہ اپنی اولاد پر رحمت کرتی ہے اور وحشی جانور اور پرندے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحمت کا سلوک کرتے ہیں ، جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ اپنی رحمتوں کو اس رحمت کے ساتھ ملا کر پوری ( سو ) کرے گا ( اور بندوں کے ساتھ سو فیصد رحمت کا سلوک فرمائے گا ۔ ) "
Umar bin Khattab رضی اللہ عنہ reported:
There were brought some prisoners to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) amongst whom there was also a woman, who was searching (for someone) and when she found a child amongst the prisoners, she took hold of it, pressed it against her chest and provided it suck. Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Do you think this woman would ever afford to throw her child in the Fire? We said: By Allah, so far as it lies in her power, she would never throw the child in Fire. ' Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah is more kind to His servants than this woman is to her child.
مجھ سے حسن بن علی الحلوانی اور محمد بن سہل التمیمی نے بیان کیا اور قول حسن ہے۔ ہم سے ابن ابی مریم نے بیان کیا، مجھ سے ابو غسان نے بیان کیا۔ زید بن اسلم، اپنے والد سے, حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قیدی آئے ، ان قیدیوں میں سے ایک عورت کسی کو تلاش کر رہی تھی ، اچانک قیدیوں میں سے اس ایک کو بچہ مل گیا ، اس نے بچے کو اٹھا کر پیٹ سے چمتا لیا اور اس کو دودھ پلانے لگی ، تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " کیا تم سمجھتے ہو کہ یہ عورت اپنے بچے کو آگ میں ڈال دے گی؟ " ہم نے کہا : اللہ کی قسم! اگر اس کے بس میں ہو کہ اسے نہ پھینکے ( تو ہرگز نہیں پھینکے گی ۔ ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اس سے بھی زیادہ رحم کرنے والا ہے جتنا اس عورت کو اپنے بچے کے ساتھ ہے ۔ "
It was narrated from Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
The Messenger of Allah ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: "If the believers knew what there is with Allah of mercy, no one would despair of Paradise."
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ اور ابن حجر نے اسماعیل بن جعفر کی سند سے بیان کیا۔ ابن ایوب نے کہا, ہم سے اسماعیل نے کہا, العلاء اپنے والد سے افضل ہے, حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر مومن کو یہ علم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ کے پاس سزا کیا ہے تو کوئی شخص اس کی جنت کی امید ہی نہ رکھے ، اور اگر کافر کو یہ پتہ چل جائے کہ اللہ کے پاس رحمت کس قدر ہے تو کوئی ایک بھی اس کی جنت سے مایوس نہ ہو ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that a person who had never done any good deed asked the members of his family to burn his dead body when he would die and to scatter half of its ashes over the land and half in the ocean. By Allah, if Allah finds him in His grip, He would torment him with a torment with which He did not afflict anyone amongst the people of the world; and when the person died, it was done to him as he had commanded (his family) to do. Allah commanded the land to collect (the ashes scattered on it) and He commanded the ocean and that collected (ashes) contained in it. Allah questioned him why he had done. that He said: My Lord, it is out of Thine fear that I have done it and Thou art well aware of it, and Allah granted him pardon.
مجھ سے محمد بن مرزوق بنت مہدی بن میمون نے بیان کیا، ہم سے ایک روح نے بیان کیا، ہم سے مالک نے ابو الزناد کی سند سے بیان کیا, اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی جس نے کبھی کوئی نیکی نہیں کی تھی ، اپنے گھر والوں سے کہا : جب وہ مرے تو اسے جلا دیں ، پھر اس کا آدھا حصہ ( ہواؤں میں اڑا کر ) خشکی پر بکھیر دیں اور آدھا حصہ سمندر میں بہا دیں ، کیونکہ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ نے اسے قابو کر لیا تو اس کو ضرور بالضرور ایسا عذاب دے گا جو تمام جہانوں میں سے کسی کو نہیں دے گا ، چنانچہ جب وہ آدمی مر گیا تو انہوں نے وہی کیا جس کا اس نے حکم دیا تھا ۔ اللہ تعالیٰ نے خشکی کو حکم دیا ، اس شخص کا جو بھی حسہ اس ( خشکی ) میں تھا اس نے اس کو اکٹھا کر دیا اور سمندر کو حکم تو جو کچھ اس میں تھا اس نے اکٹھا کر دیا ، پھر ( اللہ نے ) اس سے پوچھا : تم نے ایسا کیوں کیا تھا؟ اس نے کہا : میرے رب! تیرے ڈر سے ( ایسا کیا تھا ) اور تو سب سے زیادہ جاننے والا ہے ( کہ میری بات سچ ہے ) تو اللہ نے ( اس سچی خشیت کی بنا پر ) اسے بخش دیا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that a person committed sin beyond measure and when he was going to die, he left this will: (When I die), bum my dead body and then cast them (the ashes) to the wind and in the ocean. By Allah, if my Lord takes hold of me, He would torment me as He has not tormented anyone else. They did as he had asked them to do. He (the Lord) said to the earth: Return what you have taken. And he was thus restored to his (original form). He (Allah) said to him: What prompted you to do this? He said: My Lord, it was Thine fear or Thine awe, and Allah pardoned him because of this.
ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا, عبد نے ہمیں بتایا, ابن رافع نے کہا اور تلفظ ان کا ہے, ہمیں عبدالرزاق نے بتایا, معمر نے کہا : زہری نے مجھ سے کہا : کیا میں تمہیں دو عجیب حدیثیں نہ سناؤں؟ ( پھر ) زہری نے کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک شخص نے اپنے آپ پر ہر قسم کی زیادتی کی ( ہر گناہ کا ارتکاب کر کے خود کو مجرم بنایا ۔ ) تو جب اس کی موت کا وقت آیا تو اس نے اپنے بیٹوں کو وصیت کی اور کہا : جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دینا ، پھر مجھے ریزہ ریزہ کر دینا ، پھر مجھے ہوا میں ، سمندر میں اڑا دینا ۔ اللہ کی قسم! اگر میرے رب نے مجھے قابو کر لیا تو مجھے یقینا ایسا عذاب دے گا جو کسی اور کو نہ دیا ہو گا ۔ " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " انہوں نے اس کے ساتھ یہی کیا ۔ تو اللہ نے زمین سے کہا : جو تو نے لیا پورا واپس کر ، تو وہ ( پورے کا پورا سامنے ) کھڑا تھا ۔ اللہ نے اس سے فرمایا : تو نے جو کیا اس پر تمہیں کس چیز نے اکسایا؟ اس نے کہا : میرے پروردگار! تیری خشیت نے ۔ ۔ یا کہا ۔ ۔ : تیرے خوف نے تو اسی ( بات ) کی بنا پر اس ( اللہ ) نے اسے بخش دیا ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that a woman was thrown into Hell-Fire because of a cat whom she had tied and did not provide it with food. nor did she set it free to cat insects of the earth until it died inch by inch. Zuhri said: (These two ahadith) show that a person should neither feel confident (of getting into Paradise) because of his deeds, nor should he lose (all hopes) of getting into Paradise.
زہری نے کہا : اور حمید نے مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ایک عورت بلی کے معاملے میں جہنم میں ڈال دی گئی جسے اس نے باندھ رکھا تھا ۔ اس نے نہ اس کو کھلایا ، نہ اسے چھوڑا ہی کہ زمین کے چھوٹے چھوٹے جانور کھا لیتی ، وہ لاغر ہو کر مر گئی ۔ "" زہری نے کہا؛ یہ اس لیے ( فرمایا کیا : ) ہے کہ کوئی شخص نہ صرف ( رحمت پر ) بھروسہ کر لے اور نہ صرف مایوسی ہی کو اپنا لے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that a servant transgressed the litnit in committing sins. The rest of the hadith is the same but there is no mention of the story of the cat in it and in the hadith transmitted on the authority of Ziibaidl (the words are): Allah, the Exalted and Glorious, said to everything which had taken a part of lies ashes to return what it had taken.
مجھ سے ابو الربیع سلیمان بن داؤد نے بیان کیا، ہم سے محمد بن حرب نے بیان کیا, زبیدی نے مجھے حدیث سنائی کہ زہری نے کہا : مجھے حُمید بن عبدالرحمن بن عوف نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، کہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" ایک بندے نے اپنے آپ پر ہر طرح کی زیادتی کی ۔ "" ( آگے ) معمر کی حدیث کی طرح ہے ، اس قول تک : "" پس اللہ نے اسے بخش دیا ۔ "" اور انہوں نے بلی کے واقعے ( کے بارے ) میں عورت والی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔ اور زُبیدی کی حدیث میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل نے ہر شے سے ، جس نے اس ( جلائے جانے والے شخص ) کی کوئی بھی چیز لی تھی ، فرمایا : اس کا جو حصہ تیرے پاس ہے پورا واپس کر ۔ ""
Abu Sa'id Khudri رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said that a person amongst the earlier nations before you was conferred property and children by Allah, He said to his children: 'You must do as I command you to do, otherwise I will make others besides you as my inheritors. As I die, burn my body and blow my ashes in the wind as I do not find any merit of mine which would please Allah, and if Allah were to take hold of me, He would punish me. He took a pledge from them and they did as he commanded thein to do. Allah said: What prompted you to do this? He said: My Lord. Thine fear, and Allah did not punish him at all.
مجھ سے عبید اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عقبہ بن عبدالغافر کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے
" تم سے پہلے کے لوگوں میں سے ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے مال اور اولاد سے نوازا تھا ۔ اس نے اپنے بچوں سے کہا : ہر صورت وہی کچھ کرو گے جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں ، یا میں اپنا ورثہ دوسروں کے سپرد کر دوں گا ، جب میں مر جاؤں تو مجھے جلا دو ۔ ۔ اور مجھے زیادہ یہ لگتا ہے کہ قتادہ نے کہا ۔ ۔ پھر مجھے کوٹ کر ریزہ ریزہ کر دو ، پھر مجھے ہوا میں اڑا دو کیونکہ میں نے اللہ کے ہاں کوئی اچھائی ذخیرہ نہیں کی ۔ اللہ مجھ پر پوری قدرت رکھتا ہے کہ مجھے عذاب دے ۔ کہا : اس نے ان ( اپنی اولاد ) سے پختہ عہد و پیمان لیا ، تو میرے رب کی قسم! انہوں نے اس کے ساتھ وہی کیا ( جو اس نے کہا تھا ۔ ) اللہ تعالیٰ نے پوچھا : تم نے جو کچھ کیا اس پر تمہیں کس نے اکسایا؟ اس نے کہا : تیرے خوف نے ۔ فرمایا : پھر اسے اس کے سوا ( جو وہ بھگت چکا تھا ، یعنی لاش کا جلنا اور اللہ کے سامنے پیشی وغیرہ ) اور کوئی عذاب نہ ہوا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the chain of transmitters but with a slight variation of wording and Qatada explained the word lam yasiru as: "I find no good in store for rxie in the eye of Allah."
ہم سے یحییٰ بن حبیب الحارثی نے بیان کیا، معتمر بن سلیمان ، شیبان بن عبدالرحمٰن اور ابوعوانہ سب نے قتادہ سے شعبہ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔ شیبان اور ابوعوانہ کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : "" لوگوں میں سے ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ نے بہت مال اور اولاد سے نوازا ۔ "" اور تمیمی کی حدیث میں ہے : "" اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی جمع نہ کرائی "" کہا کہ قتادہ نے اس کی یہ تشریح کی : اس نے اللہ کے پاس کوئی اچھائی ذخیرہ نہ کی ۔ اور شیبان کی حدیث میں ہے : "" بےشک اس نے ، اللہ کی قسم! اللہ کے ہاں کوئی نیکی محفوظ نہ کرائی ۔ "" اور ابوعوانہ کی حدیث میں ہے : "" اس نے کچھ جمع نہ کیا "" امتار میم کے ساتھ ( یہ سب بولنے میں بھی ملتے جلتے الفاظ ہیں اور معنی میں بھی ۔ )
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ):
His Lord, the Exalted and Glorious, thus said. A servant committed a sin and he said: O Allah, forgive me my sins, and Allah (the Exalted and Glorious) said: My servant commited a sin and then he came to realise that he has a Lord Who forgives the sins and takes to account (the sinner) for the sin. He then again committed a sin and said: My Lord, forgive me my sin, and Allah, the Exalted and High, said: My servant committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who would forgive his sin or would take (him) to account for the sin. He again committed a sin and said: My Lord, forgive me for my sin, and Allah (the Exalted and High) said: My servant was committed a sin and then came to realise that he has a Lord Who forgives the sins or takes (him) to account for sin. O servant, do what you like. I have granted you forgiveness. 'Abdul-A'la said: I do not know whether he said thrice or four times to do what you desire .
عبدالاعلیٰ بن حماد نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب عزوجل سے نقل کرتے ہوئے فرمایا : "" ایک بندے نے گناہ کیا ، اس نے کہا : اے اللہ! میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا ہے ، اس کو پتہ ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور گناہ پر گرفت بھی کرتا ہے ، اس بندے نے پھر گناہ کیا تو کہا : میرے رب! میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرا بندہ ہے ، اس نے گناہ کیا ہے تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخش دیتا ہے اور ( چاہے تو ) گناہ پر پکڑتا ہے ۔ اس بندے نے پھر سے وہی کیا ، گناہ کیا اور کہا : میرے رب! میرے لیے میرا گناہ بخش دے ، تو ( اللہ ) تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے گناہ کیا تو اسے معلوم ہے کہ اس کا رب ہے جو گناہ بخشتا ہے اور ( چاہے تو ) گناہ پر پکڑ لیتا ہے ، ( میرے بندے! اب تو ) جو چاہے کر ، میں نے تجھے بخش دیا ہے ۔ "" عبدالاعلیٰ نے کہا : مجھے ( پوری طرح ) معلوم نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا یا چوتھی بار : "" جو چاہے کر ۔ ""
The hadith has been narrated on the authority of 'Abdul-A'la bin Hammad with the same chain of transmitters.
ابو احمد نے کہا کہ بتاؤ, محمد بن زنجویہ قشیری نے کہا : ہمیں عبدالاعلیٰ بن حماد نرسی نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Lie heard Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that a servant committed a sin. The rest of the hadith is the same, but there is a slight variation of wording.
مجھ سے عبد بن حمید نے بیان کیا، مجھ سے ابو الولید نے بیان کیا, ہمام نے کہا : ہمیں اسحٰق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مدینہ میں ایک واعظ تھا جسے عبدالرحمٰن بن ابی عمرہ کہا جاتا تھا ، میں نے اسے کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " یقینا ایک بندے نے گناہ کیا " ( آگے ) حماد بن سلمہ کی حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس نے " گناہ کیا " ( کے الفاظ ) تین بار کہے اور تیسری دفعہ کے بعد کہا : " میں نے اپنے بندے کو بخش دیا ، لہذا جو چاہے کرے ۔ "
Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying that Allah, the Exalted and Glorious, Stretches out His Hand during the night so that the people may repent for the fault committed from dawn till dusk and He stretches out His Hand during the day so that the people may repent for the fault committed from dusk to dawn. (He would accept repentance) before the sun rises in the west (before the Day of Resurrection).
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا,محمد بن جعفر نے کہا , ہمیں شعبہ نے عمرہ بن مرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوعبید کو حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " اللہ عزوجل رات کو اپنا دست ( رحمت بندوں کی طرف ) پھیلا دیتا ہے تاکہ دن کو گناہ کرنے والا توبہ کرے اور دن کو اپنا دست ( رحمت ) پھیلا دیتا ہے تاکہ رات کو گناہ کرنے والا توبہ کرے ( اور وہ اس وقت تک یہی کرتا رہے گا ) یہاں تک کہ سورج مغرب سے طلوع ہو جائے ۔ "
A hadith like this has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا, ابوداود نے کہا , ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Nothing is more loveable to Allah than His praise as He has praised Himself and no one is more self-respecting than Allah Himself and it As because of this that He has prohibited abominable acts.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا۔ ہمیں اسحاق نے بیان کیا اور عثمان نے کہا, جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابووائل ( شقیق ) سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں جسے مدح ( اس کی رحمت و عنایت کا اقرار اور اس پر اس کی تعریف ) پسند ہو ، اسی لیے اس نے خود اپنی مدح فرمائی ہے اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو ، اسی لیے اس نے بے حیائی کے تمام کام ، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں ، حرام کر دیے ہیں ۔ "