Back to Sahih Muslim

The Book of Repentance

كتاب التَّوْبَةِ

Chapter 50

Hadith 6992
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو كُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ.
English

Abdullah رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: None is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible-and none loves His praise more than Allah Himself.

Urdu

محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے ، اسی لیے اس نے بے حیائی کے تمام کام ، ان میں سے جو ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں حرام کر دیے ہیں ، اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے جسے مدح زیادہ پسند ہو ۔ "

Hadith 6993
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ قُلْتُ لَهُ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ وَرَفَعَهُ أَنَّهُ قَالَ لَا أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ وَلَا أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ.
English

Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:

It directly from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) that he said: None is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts-both visible and invisible and nothing is loved by Allah more than the praise of His Ownself and it is because of this that He has praised Himself.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا,عمرو بن مرہ نے کہا : میں نے ابووائل کو کہتے ہوئے سنا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ، وہ کہتے تھے ۔ ۔ ( عمرو بن مرہ نے ) کہا : میں نے ان ( ابووائل ) سے کہا : کیا آپ نے خود عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا تھا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ اور

انہوں نے اسے مرفوعا بیان کیا : ۔ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ سے بڑھ کر کوئی غیرت مند نہیں ، اسی لیے اس نے تمام کھلی اور پوشیدہ فواحش ( بے حیائی کی باتیں ) حرام کر دیں اور اللہ سے بڑھ کر کسی کو مدح پسند نہیں ( کیونکہ حقیقت میں وہی مدح کا حقدار ہے ) ، اسی لیے اس نے اپنی مدح فرمائی ہے ۔ "

Hadith 6994
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ وَلَيْسَ أَحَدٌ أَحَبَّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنْ اللَّهِ مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ أَنْزَلَ الْكِتَابَ وَأَرْسَلَ الرُّسُلَض.
English

Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: None loves one's own praise more than Allah, the Exalted and Glurious, does. It is because of this that He has praised Himself, and none is more self-respecting than Allah and it is because of this that He has prohibited abominable acts and there is none who is more anxious to accept the apologies of the people than Allah Himself and it is because of this that He has revealed the Book and sent the Messengers.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, ہم سے اسحاق نے بیان کیا اور دوسرے دو نے کہا کہ ہم سے جریر نے مالک بن حارث کی سند سے اعمش کے بارے میں بیان کیا, عبدالرحمٰن بن یزید نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر مدح پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے اپنی مدح فرمائی اور کوئی نہیں جو اللہ سے بڑھ کر غیرت مند ہو ، اسی بنا پر اس نے تمام فواحش حرام کر دیں اور کوئی نہیں جسے اللہ سے بڑھ کر ( بندوں کا اس سے ) معذرت کرنا پسند ہو ، اسی بنا پر اس نے کتاب نازل فرمائی اور پیغمبروں کو بھیجا ۔ "

Hadith 6995
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ابْنِ عُلَيَّةَ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِي عُثْمَانَ قَالَ قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ يَغَارُ وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ يَغَارُ وَغَيْرَةُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمُؤْمِنُ مَا حَرَّمَ عَلَيْهِ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Allah is self-respecting and a believer is also self-respecting and the respect of Allah is injured if a believer does what He has forbidden him to do.

Urdu

ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم بن اولیاء نے بیان کیا، حجاج بن ابی عثمان نے کہا : یحییٰ ( بن ابی کثیر ) نے کہا : مجھے ابوسلمہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ غیرت فرماتا ہے اور بےشک مومن بھی غیرت کرتا ہے ۔ اللہ کی غیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ مومن ایسے کام کا ارتکاب کرے جو اس نے اس پر حرام کیا ہے ۔ "

Hadith 6996
Sahih
قَالَ يَحْيَى وَحَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ أَنَّ أَسْمَاءَ بِنْتَ أَبِي بَكْرٍ حَدَّثَتْهُ أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ شَيْءٌ أَغْيَرَ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
English

Asma' رضی اللہ عنہا daughter of Abu Bakr narrated:

She heard the Messenger of Allah ﷺ says: "Nothing has a greater sense of protective jealousy than Allah, Glorified and Exalted is he."

Urdu

یحییٰ نے کہا , مجھے ابوسلمہ نے حدیث بیان کی ، انہٰن عروہ بن زبیر نے بیان کیا ، انہیں حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا نے حدیث سنائی کہ

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : " کوئی نہیں جو اللہ عزوجل سے زیادہ غیرت مند ہو ۔ "

Hadith 6997
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ وَحَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ رِوَايَةِ حَجَّاجٍ حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ خَاصَّةً وَلَمْ يَذْكُرْ حَدِيثَ أَسْمَاءَ.
English

A report like that of Hajjaj (no. 6995) was narrated from Abu Hurairah رضی اللہ عنہ from the prophet ﷺ.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوداؤد نے بیان کیا, ابان بن یزید اور حرب بن شداد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حجاج کی روایت کے مانند صرف حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔

Hadith 6998
Sahih
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ عَنْ هِشَامٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَسْمَاءَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَا شَيْءَ أَغْيَرُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ.
English

Asma' رضی اللہ عنہا reported:

Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: There is none more self-respecting than Allah, the Exalted and Glorious.

Urdu

ہم سے محمد بن ابی بکر المقدمی نے بیان کیا، ہم سے بشر بن المفضل نے بیان کیا, ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل سے بڑھ کر کوئی غیور نہیں ہے ۔ "

Hadith 6999
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ عَنْ الْعَلَاءِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْمُؤْمِنُ يَغَارُ وَاللَّهُ أَشَدُّ غَيْرًا.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger (ﷺ) as saying: A believer is self-respecting and Allah is extremely self-respecting.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, عبدالعزیز بن محمد نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن ( دوسرے ) مومن کے لیے غیرت کرتا ہے ( کہ اس کی حرمت پامال نہ کی جائے ) اور اللہ تعالیٰ تو غیرت میں اس سے بڑھ کر ہے ۔ "

Hadith 7000
Sahih
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba through another chain of transmitters.

Urdu

ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا, شعبہ نے کہا : میں نے علاء کو اسی سند کے ساتھ ( یہی حدیث بیان کرتے ہوئے ) سنا ۔

Hadith 7001
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو كَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ كِلَاهُمَا عَنْ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي كَامِلٍ حَدَّثَنَا يَزِيدُ حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ قُبْلَةً فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ قَالَ فَنَزَلَتْ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ قَالَ فَقَالَ الرَّجُلُ أَلِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي.
English

Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:

A person kissed a woman and he came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and made a mention of that to him. It was (on this occasion) that this verse was revealed: And observe prayer at the (two) ends of the day and in the first hours of the night. Surely, good deeds take away evil deeds. That is a reminder for the mindful (xi. 115). That person said: Allah's Messenger, does it concern me only? He (the Holy Prophet) said: It concerns every one of my Unimah, who acts according to it.

Urdu

ہم سے قتیبہ بن سعید اور ابو کامل فضیل بن حسین الجہدری نے بیان کیا, یزید نے کہا؛ ہمیں تیمی نے ابوعثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

ایک شخص نے ایک عورت کو بوسہ دیا ، ( پھر ) وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعے کا ذکر کیا ، تب ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم رکھو ، بےشک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں ، یہ یاد دہانی ہے یاد رکھنے والوں کے لیے ۔ " اس شخص نے کہا : اللہ کے رسول! کیا یہ ( بشارت ) صرف میرے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں سے جو بھی ( گناہوں سے پاک ہونے کے لیے ) اس پر عمل کرے ۔ "

Hadith 7002
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنْ امْرَأَةٍ إِمَّا قُبْلَةً أَوْ مَسًّا بِيَدٍ أَوْ شَيْئًا كَأَنَّهُ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ثُمَّ ذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ
English

Ibn Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:

A person came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and told him that he had kissed a woman or touched her with his hand or did something like this. He inquired of him about its expiation. It was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse (as mentioned above)

Urdu

ہم سے محمد بن عبد العلا نے بیان کیا, معتمر نے اپنے والد ( سلیمان تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابوعثمان نے حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ

ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور اس نے ذکر کیا کہ اس نے ایک عورت کو بوسہ دیا ہے یا اس کو ہاتھ سے مس کیا ہے ( یا ایسا ) کوئی اور کام کیا ہے ، گویا کہ وہ اس کے کفار کے متعلق سوال کر رہا ہے ، کہا : تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی ، پھر یزید کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔

Hadith 7003
Sahih
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ أَصَابَ رَجُلٌ مِنْ امْرَأَةٍ شَيْئًا دُونَ الْفَاحِشَةِ فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى أَبَا بَكْرٍ فَعَظَّمَ عَلَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ وَالْمُعْتَمِرِ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman Taimi with the same chain of transmitters:

A person had taken liberty with a woman less than intercourse. He came to 'Umar b. Khattab رضی اللہ عنہ and he took it to be a serious offence. Then he came to Abu Bakr and he also took it to be a serious offence. Then he came the Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and he made a mention of this to him. The rest of the hadith is the same.

Urdu

ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا۔ اس نے ہمیں بتایا: جریر نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، کہا

ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ زنا سے کم درجے کا کوئی کام کیا ۔ وہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس گیا ، انہوں نے اس کے سامنے اس کو بہت بڑا گناہ قرار دیا ، پھر وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، انہوں نے بھی اس کے لیے اس کو بہت بڑی بات قرار دیا ، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، ( آگے ) یزید اور معتمر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔

Hadith 7004
Sahih
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَ يَحْيَى أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ وَالْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي عَالَجْتُ امْرَأَةً فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَإِنِّي أَصَبْتُ مِنْهَا مَا دُونَ أَنْ أَمَسَّهَا فَأَنَا هَذَا فَاقْضِ فِيَّ مَا شِئْتَ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ لَقَدْ سَتَرَكَ اللَّهُ لَوْ سَتَرْتَ نَفْسَكَ قَالَ فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا فَقَامَ الرَّجُلُ فَانْطَلَقَ فَأَتْبَعَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا دَعَاهُ وَتَلَا عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ أَقِمْ الصَّلَاةَ طَرَفَيْ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنْ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ يَا نَبِيَّ اللَّهِ هَذَا لَهُ خَاصَّةً قَالَ بَلْ لِلنَّاسِ كَافَّةً.
English

Abdullah رضی اللہ عنہ reported:

A person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger, I sported with a woman in the outskirts of Medina, and I have committed an offence short of fornication. Here I am (before you), kindly deliver verdict about me which you deem fit. Umar رضی اللہ عنہ said: Allah concealed your fault. You had better conceal it yourself also. Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ), however, gave no reply to him. The man stood up and went away and Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) sent a person after him to call him and be recited this verse: And observe prayer at the ends of the day and in the first hours of the night. Surely, good deeds take away evil deeds. That is a reminder for the mindful (xi. 115). A person amongst the people said: Allah's Apostle, does it concern this man only? Thereupon he (the Holy Prophet) said: No, but the people at large.

Urdu

ابو احوص نے سماک سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی کہ

ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے مدینہ کے آخری حصے میں ایک عورت کو قابو کر لیا اور اس کے علاوہ کہ میں اس سے جماع کروں میں نے اس سے اور سب کچھ حاصل کر لیا ۔ تو ( اب ) میں آپ کے سامنے حاضر ہوں ، آپ میرے بارے میں جو چاہیں فیصلہ کر لیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : اللہ نے تمہارا پردہ رکھا ، کاش! تم خود بھی اپنا پردہ رکھتے ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کوئی جواب نہ دیا ۔ تو ( کچھ دیر بعد ) وہ شخص اٹھا اور چل دیا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے پیچھے ایک آدمی بھیج کر اسے بلایا اور اس کے سامنے یہ آیت پڑھی : " دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کرو ، بےشک نیکیاں برائیوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔ یہ ان کے لیے یاددہانی ہے جو اچھی بات کو یاد رکھنے والے ہیں ۔ " اس پر لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا : اللہ کے نبی! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " بلکہ تمام لوگوں کے لیے ہے ۔ "

Hadith 7005
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعِجْلِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يُحَدِّثُ عَنْ خَالِهِ الْأَسْوَدِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِ أَبِي الْأَحْوَصِ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَقَالَ مُعَاذٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا لِهَذَا خَاصَّةً أَوْ لَنَا عَامَّةً قَالَ بَلْ لَكُمْ عَامَّةً.
English

This hadith has been transmitted by Abu al-Ahwas and in this (these words are) also found: Mu'adh رضی اللہ عنہ said:

Allah's Messenger, does it concern this particular case or to all of us? And he (the Holy Prophet) said: Of course, to all of you.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو النعمان الحکم بن عبداللہ العجلی نے بیان کیا, شعبہ نے سماک بن حرب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابراہیم کو اپنے ماموں اسود سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو احوص کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ، انہوں نے اپنی حدیث میں کہا : تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی

اللہ کے رسول! کیا یہ خاص اسی کے لیے ہے یا عمومی طور پر ہم سب کے لیے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلکہ تم سب کے لیے عام ہے ۔ "

Hadith 7006
Sahih
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَصَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْ فِيَّ كِتَابَ اللَّهِ قَالَ هَلْ حَضَرْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ قَدْ غُفِرَ لَكَ.
English

Anas رضی اللہ عنہ reported:

A person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves imposition of haad, so impose it upon me according to the Book of Allah. Thereupon he said: Were you not present with us at the time of prayer? He said: Yes. Thereupon he said: You have been granted pardon.

Urdu

ہم سے حسن بن علی الحلوانی نے بیان کیا، کہا ہم سے عمرو بن عاصم نے بیان کیا، کہا ہم سے ہمام نے بیان کیا، وہ اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ کی سند سے, حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ

ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول! میں نے حد ( لگنے والے کام ) کا ارتکاب کر لیا ہے ، مجھ پر حد قائم کیجئے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ( تب ) نماز کا وقت آ گیا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی ۔ جب نماز پڑھ لی تو کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں نے حد ( کے قابل گناہ ) کا ارتکاب کیا ہے ، میرے بارے میں اللہ کی کتاب کا ( جو ) فیصلہ ( ہے اسے ) نافذ فرمائیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تو ہمارے ساتھ نماز میں شامل ہوا؟ " اس نے عرض کی : ہاں ، فرمایا : " تیرا گناہ بخش دیا گیا ہے ۔ "

Hadith 7007
Sahih
حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنَا شَدَّادٌ حَدَّثَنَا أَبُو أُمَامَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ وَنَحْنُ قُعُودٌ مَعَهُ إِذْ جَاءَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَسَكَتَ عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ أَعَادَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ فَسَكَتَ عَنْهُ وَأُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَلَمَّا انْصَرَفَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَاتَّبَعَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ انْصَرَفَ وَاتَّبَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْظُرُ مَا يَرُدُّ عَلَى الرَّجُلِ فَلَحِقَ الرَّجُلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَصَبْتُ حَدًّا فَأَقِمْهُ عَلَيَّ قَالَ أَبُو أُمَامَةَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَأَيْتَ حِينَ خَرَجْتَ مِنْ بَيْتِكَ أَلَيْسَ قَدْ تَوَضَّأْتَ فَأَحْسَنْتَ الْوُضُوءَ قَالَ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ثُمَّ شَهِدْتَ الصَّلَاةَ مَعَنَا فَقَالَ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ غَفَرَ لَكَ حَدَّكَ أَوْ قَالَ ذَنْبَكَ.
English

Abu Umama رضی اللہ عنہ reported:

We were sitting in the mosque in the company of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). A person came there and said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves the imposition of hadd upon me, so impose it upon me. Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) kept silent. He repeated it and said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves the imposition of hadd upon me, so impose it upon me. He (the Holy Prophet) kept silent, and it was at this time that Iqama was pronounced for prayer (and the prayer was observed). And when Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) had concluded the payer that person followed Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌). Abu Umama رضی اللہ عنہ said: I too followed Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) after he had concluded the prayer, so that I should know what answer he would give to that person. That person remained attached to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) and said: Allah's Messenger, I have committed an offence which deserves imposition of hadd upon me, so impose it upon me. Abu Umama رضی اللہ عنہ reported that Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said to him: Didn't you see that as you got out of the house, you performed ablution perfectly well. He said: Allah's Messenger, of course. I did it. He again said to him: Then you observed prayer along with us. He said: Allah's Messenger, yes, it is so. Thereupon Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said to him: Verily, Allah has exempted you from the imposition of hadd, or he said. From your sin.

Urdu

ہم سے نصر بن علی الجہضَمی اور زہیر بن حرب نے بیان کیا اور لفظ زہیر کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے عمر بن یونس نے بیان کیا، ہم سے عکرمہ بن عمار نے بیان کیا, شداد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا

ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے اور ہم بھی آپ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص آیا تو کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں نے حد ( کے قابل گناہ ) کا ارتکاب کر دیا ہے ، لہذا آپ مجھ پر حد قائم کیجئے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، اس نے دوبارہ کہا : اللہ کے رسول! میں حد کا مستحق ہو گیا ہوں ، آپ مجھ پر حد قائم کیجئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ، اس نے تیسری بار ( یہی ) کہا تو ( اس وقت ) نماز کی اقامت کہہ دی گئی ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے ( فارغ ہو کر ) واپس ہوئے تو وہ شخص آپ کے پیچھے چل پڑا ، میں ( بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چل پڑا کہ دیکھوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو کیا جواب دیتے ہیں ۔ وہ شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملا اور کہا : اللہ کے رسول! میں نے حد ( کے قابل گناہ ) کا ارتکاب کیا ہے ، آپ مجھ پر حد قائم فرمائیں ۔ حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا : " ذرا دیکھو : جب تم اپنے گھر سے نکلے تھے تو تم نے وضو کیا تھا اور اچھی طرح وضو کیا تھا؟ " اس نے عرض کی : ہاں ، اللہ کے رسول! ( اچھی طرح وضو کیا تھا ۔ ) فرمایا : " اس کے بعد تم نے ہمارے ساتھ نماز پڑھی؟ " اس نے عرض کی : جی ہاں ، اللہ کے رسول! ( حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسے فرمایا : " تو یقینا اللہ تعالیٰ نے تمہاری حد ۔ ۔ یا فرمایا ۔ ۔ تمہارے گناہ کو معاف کر دیا ہے ۔ "

Hadith 7008
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الصِّدِّيقِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ رَجُلٌ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَسَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَاهِبٍ فَأَتَاهُ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ لَا فَقَتَلَهُ فَكَمَّلَ بِهِ مِائَةً ثُمَّ سَأَلَ عَنْ أَعْلَمِ أَهْلِ الْأَرْضِ فَدُلَّ عَلَى رَجُلٍ عَالِمٍ فَقَالَ إِنَّهُ قَتَلَ مِائَةَ نَفْسٍ فَهَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَقَالَ نَعَمْ وَمَنْ يَحُولُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ التَّوْبَةِ انْطَلِقْ إِلَى أَرْضِ كَذَا وَكَذَا فَإِنَّ بِهَا أُنَاسًا يَعْبُدُونَ اللَّهَ فَاعْبُدْ اللَّهَ مَعَهُمْ وَلَا تَرْجِعْ إِلَى أَرْضِكَ فَإِنَّهَا أَرْضُ سَوْءٍ فَانْطَلَقَ حَتَّى إِذَا نَصَفَ الطَّرِيقَ أَتَاهُ الْمَوْتُ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ جَاءَ تَائِبًا مُقْبِلًا بِقَلْبِهِ إِلَى اللَّهِ وَقَالَتْ مَلَائِكَةُ الْعَذَابِ إِنَّهُ لَمْ يَعْمَلْ خَيْرًا قَطُّ فَأَتَاهُمْ مَلَكٌ فِي صُورَةِ آدَمِيٍّ فَجَعَلُوهُ بَيْنَهُمْ فَقَالَ قِيسُوا مَا بَيْنَ الْأَرْضَيْنِ فَإِلَى أَيَّتِهِمَا كَانَ أَدْنَى فَهُوَ لَهُ فَقَاسُوهُ فَوَجَدُوهُ أَدْنَى إِلَى الْأَرْضِ الَّتِي أَرَادَ فَقَبَضَتْهُ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ قَالَ قَتَادَةُ فَقَالَ الْحَسَنُ ذُكِرَ لَنَا أَنَّهُ لَمَّا أَتَاهُ الْمَوْتُ نَأَى بِصَدْرِهِ.
English

Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as saying: There was a person before you who had killed ninety-nine persons and then made an inquiry about the learned persons of the world (who could show him the way to salvation). He was directed to a monk. He came to him and told him that he had killed ninety-nine persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: No. He killed him also and thus completed one hundred. He then asked about the learned persons of the earth and he was directed to a scholar, and he told him that he had killed one hundred persons and asked him whether there was any scope for his repentance to be accepted. He said: Yes; what stands between you and the repentance? You better go to such and such land; there are people devoted to prayer and worship and you also worship along with them and do not come to the land of yours since it was an evil land (for you). So he went away and he had hardly covered half the distance when death came to him and there was a dispute between the angels of mercy and the angels of punishment. The angels of mercy said: This man has come as a penitant and remorseful to Allah and the angels of punishment said: He has done no good at all. Then there came another angel in the form of a human being in order to decide between them. He said: You measure the land to which he has drawn near. They measured it and found him nearer to the land where he intended to go (the land of piety), and so the angels of mercy took possession of it. Qatada said that Hasan told him that it was said to them that as death approached him, he crawled upon his chest (and managed) to slip in the land of mercy.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، اور قول ابن المثنیٰ کا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے معاذ بن مثنیٰ نے بیان کیا, ہشام نے قتادہ سے ، انہوں نے ابوصدیق سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا کہ

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم سے پہلے لوگوں میں سے ایک شخص تھا اس نے ننانوے قتل کیے ، پھر اس نے زمین پر بسنے والوں میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں پوچھا ( کہ وہ کون ہے ۔ ) اسے ایک راہب کا پتہ بتایا گیا ۔ وہ اس کے پاس آیا اور پوچھا کہ اس نے ننانوے قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کی کوئی سبیل ) ہے؟ اس نے کہا : نہیں ۔ تو اس نے اسے بھی قتل کر دیا اور اس ( کے قتل ) سے سو قتل پورے کر لیے ۔ اس نے پھر اہل زمین میں سے سب سے بڑے عالم کے بارے میں دریافت کیا ۔ اسے ایک عالم کا پتہ بتایا گیا ۔ تو اس نے ( جا کر ) کہا : اس نے سو قتل کیے ہیں ، کیا اس کے لیے توبہ ( کا امکان ) ہے؟ اس ( عالم ) نے کہا : ہاں ، اس کے اور توبہ کے درمیان کون حائل ہو سکتا ہے؟ تم فلاں فلاں سرزمین پر چلے جاؤ ، وہاں ( ایسے ) لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ، تم بھی ان کے ساتھ اللہ کی عبادت میں مشغول ہو جاؤ اور اپنی سرزمین پر واپس نہ آو ، یہ بُری ( باتوں سے بھری ہوئی ) سرزمین ہے ۔ وہ چل پڑا ، یہاں تک کہ جب آدھا راستہ طے کر لیا تو اسے موت آ لیا ۔ اس کے بارے میں رحمت کے فرشتے اور عذاب کے فرشتے جھگڑنے لگے ۔ رحمت کے فرشتوں نے کہا : یہ شخص توبہ کرتا ہوا اپنے دل کو اللہ کی طرف متوجہ کر کے آیا تھا اور عذاب کے فرشتوں نے کہا : اس نے کبھی نیکی کا کوئی کام نہیں کیا ۔ تو ایک فرشتہ آدمی کے روپ میں ان کے پاس آیا ، انہوں نے اسے اپنے درمیان ( ثالث ) مقرر کر لیا ۔ اس نے کہا : دونوں زمینوں کے درمیان فاصلہ ماپ لو ، وہ دونوں میں سے جس زمین کے زیادہ قریب ہو تو وہ اسی ( زمین کے لوگوں ) میں سے ہو گا ۔ انہوں نے مسافت کو ماپا تو اسے اس زمین کے قریب تر پایا جس کی طرف وہ جا رہا تھا ، چنانچہ رحمت کے فرشتوں نے اسے اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔ "" قتادہ نے کہا : حسن ( بصری ) نے کہا : ( اس حدیث میں ) ہمیں بتایا گیا کہ جب اسے موت نے آ لیا تھا تو اس نے اپنے سینے سے ( گھسیٹ کر ) خود کو ( گناہوں بھری زمین سے ) دور کر لیا تھا ۔

Hadith 7009
Sahih
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الصِّدِّيقِ النَّاجِيَّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَجُلًا قَتَلَ تِسْعَةً وَتِسْعِينَ نَفْسًا فَجَعَلَ يَسْأَلُ هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ فَأَتَى رَاهِبًا فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَيْسَتْ لَكَ تَوْبَةٌ فَقَتَلَ الرَّاهِبَ ثُمَّ جَعَلَ يَسْأَلُ ثُمَّ خَرَجَ مِنْ قَرْيَةٍ إِلَى قَرْيَةٍ فِيهَا قَوْمٌ صَالِحُونَ فَلَمَّا كَانَ فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَنَأَى بِصَدْرِهِ ثُمَّ مَاتَ فَاخْتَصَمَتْ فِيهِ مَلَائِكَةُ الرَّحْمَةِ وَمَلَائِكَةُ الْعَذَابِ فَكَانَ إِلَى الْقَرْيَةِ الصَّالِحَةِ أَقْرَبَ مِنْهَا بِشِبْرٍ فَجُعِلَ مِنْ أَهْلِهَا.
English

Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying that a man killed ninety-nine persons and then he began to make an inquiry whether there was any way left for him for repentance. He came to a monk and asked him about that, and he said: There is no chance for repentance for you. He killed the monk also and then began to make an inquiry and moved from one village to another village where there lived pious persons, and as he had covered some distance, he was overtaken by death, but he managed to crawl upon his chest (to the side nearer to the place where the pious men lived). He died and then there was a dispute between the angels of mercy and the angels of punishment and (when it was measured) he was found to be nearer to the village where pious persons were living equal to the Space of a span and he was thus included among them.

Urdu

عبید اللہ بن معاذ بن عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو صدیق ناجی سے سنا ، انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے

نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی " ایک شخص نے ننانوے انسان قتل کیے ، پھر اس نے یہ پوچھنا شروع کر دیا : کیا اس کی توبہ ( کی کوئی سبیل ) ہو سکتی ہے؟ وہ ایک راہب کے پاس آیا ، اس سے پوچھا تو اس نے جواب دیا : تیرے لیے کوئی توبہ نہیں ۔ اس نے اس راہب کو ( بھی ) قتل کر دیا ۔ اس کے بعد اس نے پھر سے ( توبہ کے متعلق ) پوچھنا شروع کر دیا ، پھر ایک بستی سے ( دوسری ) بستی کی طرف نکل پڑا جس میں نیک لوگ رہتے تھے ۔ وہ راستے کے کسی حصے میں تھا کہ اسے موت نے آن لیا ، وہ ( اس وقت ) اپنے سینے کے ذریعے سے ( پچھلی گناہوں بھری بستی سے ) دور ہوا ، پھر مر گیا ۔ تو اس کے بارے میں رحمت کے فرشتوں اور عذاب کے فرشتوں نے آپس میں جھگڑا کیا ۔ تو وہ شخص ایک بالشت برابر نیک بستی کی طرف قریب تھا ، اسے اس بستی کے لوگوں میں سے ( شمار ) کر لیا گیا ۔ "

Hadith 7010
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ مُعَاذٍ وَزَادَ فِيهِ فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَى هَذِهِ أَنْ تَبَاعَدِي وَإِلَى هَذِهِ أَنْ تَقَرَّبِي.
English

This hadith has been narrated on the authority of Qatida with the same chain of transmitters but (with this variation of wording):

Allah commanded the earth (from where) he wanted to come out to move itself away and to the other earth (where he wanted to go) to draw nearer.

Urdu

ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن ابی عدی نے بیان کیا, شعبہ نے ہمیں قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح معاذ بن معاذ کی حدیث ہے اور اس میں مزید یہ کہا

" تو اللہ نے اس ( گناہگاروں کی بستی ) کو وحی کر دی کہ تو دور ہو جا اور اس ( نیک لوگوں کی بستی ) کو وحی کر دی کہ تو قریب ہو جا ۔ "

Hadith 7011
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ دَفَعَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى كُلِّ مُسْلِمٍ يَهُودِيًّا أَوْ نَصْرَانِيًّا فَيَقُولُ هَذَا فِكَاكُكَ مِنْ النَّارِ.
English

Abu Musa' رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: When it will be the Day of Resurrection Allah would deliver to every Muslim a Jew or a Christian and say: That is your rescue from Hell-Fire.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا, طلحہ بن یحییٰ نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب قیامت کا دن ہو گا تو اللہ تعالیٰ ( ایک مرحلے پر ) ہر مسلمان کو ایک یہودی یا نصرانی عطا کر دے گا ، پھر فرمائے گا : یہ جہنم سے تمہارے لیے چھٹکارے کا ذریعہ بنے گا ۔ "