Abu Burda reported on the authority of his father:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: No Muslim would die but Allah would admit in his stead a Jew or a Christian in Hell-Fire. 'Umar bin Abdul-'Aziz took an oath: By One besides Whom there is no god but He, thrice that his father had narrated that to him from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and he swore to him. Saeed did not tell me that he asked him to swear, but he did not object to what 'Awn said.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عفان بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہمام نے قتادہ سے حدیث بیان کی کہ عون ( بن عبداللہ ) اور سعید بن ابی بردہ نے انہیں حدیث بیان کی ، وہ دونوں ابو بردہ کے سامنے موجود تھے جب وہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اپنے والد سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ نے فرمایا : " جو مسلمان بھی فوت ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر ایک یہودی یا ایک نصرانی کو دوزخ میں داخل کر دیتا ہے ۔ " کہا : عمر بن عبدالعزیز نے حضرت ابوبُردہ کو تین بار اس اللہ کی قسم دی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں کہ واقعی ان کے والد نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی تھی ۔ انہوں نے ان ( عمر بن عبدالعزیز ) کے سامنے قسم کھائی ۔ ( قتادہ نے ) کہا : سعید نے مجھ سے یہ بیان نہیں کیا کہ انہوں نے ان سے قسم لی اور نہ انہوں نے عون کی ( بتائی ہوئی ) بات پر کوئی اعتراض کیا ۔
Qatadah narrated a Hadith like that of 'Affan (no.7012), with this chain of narrators, and he said: "Aun bin Utba."
ہم سب سے اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا, عبدالصمد بن عبدالوارث سے روایت ہے ، کہا : ہمیں ہمام نے خبر دی ، انہوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے اسی سند کے ساتھ عفان کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی اور ( عون بن عبداللہ کی نسبت اس کے دادا کی طرف کرتے ہوئے ) کہا : عون بن عتبہ ۔
Abu Burda reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would come people amongst the Muslims on the Day of Resurrection with as heavy sins as a mountain, and Allah would forgive them and He would place in their stead the Jews and the Christians. (As far as I think), Abu Raub said: I do not know as to who is in doubt. Abu Burda said: I narrated it to 'Umar bin 'Abdul-'Aziz, whereupon he said: Was it your father who narrated it to you from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم )? I said: Yes.
ہم سے محمد بن عمرو بن عباد بن جبلہ بن ابی رواد نے بیان کیا, ( ابوروح ) حرمی بن عمارہ نے کہا : ہمیں شداد ابو طلحہ راسبی نے غیلان بن جریر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابو بردہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قیامت کے دن مسلمانوں میں سے کچھ لوگ پہاڑوں جیسے ( بڑے بڑے ) گناہ لے کر آئیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کے لیے وہ گناہ بخش دے گا ، اور جہاں تک میں سمجھتا ہوں ، وہ ان ( گناہوں ) کو یہود اور نصاری پر ڈال دے گا ۔ "" ابو روح نے کہا : مجھے معلوم نہیں کہ یہ شک کس ( راوی ) کی طرف سے ہے ۔ حضرت ابو بردہ نے کہا : میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز کو بیان کی ، انہوں نے کہا : کیا تمہارے والد نے تمہیں یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی تھی؟ میں نے کہا : ہاں ۔
Safwan bin Muhriz reported:
A person said to Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ: How did you hear Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying something about intimate conversation? He said: I heard him say: A believer will be brought to his Lord, the Exalted and Glorious, on the Day of Resurrection and He would place upon him His veil (of Light) and make him confess his faults and say: Do you recognise (your faults)? He would say: My Lord, I do recognise (them). He (the Lord) would say: I concealed them for you in the world. And today I forgive them. And he would then be given the Book containing (the account of his) good deeds. And so far as the non-believers and hypocrites are concerned, there would be general announcement about them before all creation telling them that these (people, i.e. non-believers and hypocrites) told a lie about Allah.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے اسماعیل بن ابراہیم نے بیان کیا، وہ ہشام دستوی کی سند سے, قتادہ نے صفوان بن محرز سے روایت کی کہ
ایک شخص نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نجویٰ ( مومن سے اللہ کی سرگوشی ) کے متعلق کس طرح سنا تھا؟ انہوں نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " مومن کو قیامت کے دن اس کے رب عزوجل کے قریب کیا جائے گا ، حتی کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا پردہ ڈال دے گا ( تاکہ کوئی اور اس کے راز پر مطلع نہ ہو ) ، پھر اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور فرمائے گا : کیا تو ( ان سب گناہوں کو ) پہچانتا ہے؟ وہ کہے گا : میرے رب! میں ( ان سب گناہوں کو ) پہچانتا ہوں ۔ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا : میں نے دنیا میں تم پر ( رحم کرتے ہوئے ) ان گناہوں کو چھپا لیا تھا اور آج ( تم پر رحم کرتے ہوئے ) تمہارے لیے ان سب کو معاف کرتا ہوں ، پھر اسے ( محض ) اس کی نیکیوں کا صحیفہ پکڑا دیا جائے گا اور رہے کفار اور منافقین تو ساری مخلوقات کے سامنے بلند آواز سے انہیں کہا جائے گا : یہی ہیں جنہوں نے اللہ پر جھوٹ باندھا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri with the same chain of transmitters.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے حوزین بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے لیث نے بیان کیا, عُقیل بن ابن شہاب سے یونس کی سند کے ساتھ زہری سے بالکل اسی طرح روایت کی ۔
Abdullah bin K'ab رضی اللہ عنہ reported:
Who was his (Ka'b's) guide as he became blind, reported that he heard from Ka'b bin Malik رضی اللہ عنہ the story of his staying behind Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) from the expedition of Tabuk. The rest of the hadith is the same (but with this variation) that in the narration transmitted on the authority of Yunus (the words are): When Allah's Messenger (may. peace be upon him) intended to set on an expedition he kept It as a secret, but. be did not do so in this. expedition. And in the narration transmitted on the authority of Muhammad bin Abdullah bin Muslim, there is no mention of Abu Khaithana and no mention of his meeting with Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ).
مجھ سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے بیان کیا، کہا ہم سے میرے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا, زہری کے بھتیجے محمد بن عبداللہ بن مسلم نے ہمیں اپنے چچا محمد بن مسلم زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ عبداللہ بن کعب بن مالک نے ، اور
وہ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہونے کے بعد ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی رہنمائی کرتے تھے ، کہا : میں نے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ اپنی حدیث ( اپنا واقعہ ) بیان کرتے تھے جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پیچھے رہ گئے تھے ، پھر انہوں نے ( سابقہ حدیث کی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں یونس کی روایت پر مزید یہ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کم ہی کسی غزوے کا ارادہ فرماتے تھے مگر عملا اس جنگ کے ہونے تک ، کسی اور ( مہم ) کی جہت ظاہر فرماتے حتی کہ یہ غزوہ ( بھی اسی نہج پر ) ہوا ۔ اور انہوں نے زہری کے بھتیجے کی حدیث میں ابوخیثمہ کا اور ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جا ملنے کا ذکر نہیں لیا ۔
'Abdur Rahman bin K'ab bin Malik narrated:
Abdullah bin K'ab رضی اللہ عنہ and he was the guide of Ka'b as he lost his eyesight and he was the greatest scholar amongst his people and he retained in his mind many ahadith of the Companions of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). He said: I heard my father Ka'b bin Malik, and he was one of those three whose repentance was accepted (by Allah). He transmitted that He never lagged behind Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) from any expedition that he undertook except two expeditions; the rest of the hadith is the same, and in the tradition narrated through another chain of transmitters the words are: That Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم) set out on an expedition with a large number of persons more than ten thousand and this could not be recorded in the census register.
مجھ سے سلمہ بن شبیب نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بن عیان نے بیان کیا, معقل بن عبیداللہ نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے اپنے چچا عبیداللہ بن کعب سے روایت کی اور
جب حضرت کعب رضی اللہ عنہ کی آنکھیں جاتی رہیں تو وہی ان کا ہاتھ پکڑ کر ان کی رہنما کرتے تھے ۔ وہ اپنی قوم میں سب سے بڑے عالم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی احادیث کے سب سے بڑے حافظ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے والد حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ ان تین لوگوں میں سے ایک تھے جن کی توبہ قبول کی گئی ، وہ حدیث بیان کرتے تھے کہ وہ دو غزووں کو چھوڑ کر کبھی کسی غزوے میں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑا ، آپ سے پیچھے نہیں رہے ۔ انہوں نے ( سابقہ حدیث کی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی بہت بڑی تعداد کے ساتھ ، جو دس ہزار سے زیادہ تھے اور کسی محفوظ رکھنے والے کے دیوان ( رجسٹر ) میں ان سب کے نام درج نہ تھے ، اس جنگ کے لیے نکلے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri through other chains of transmitters but with a slight variation of wording. In the hadith transmitters on the authority of 'Urwa, there is an addition of these words:
'A'isha رضی اللہ عنہا did not like that Hassan should be rebuked in her presence and she used to say: It was he who wrote this verse also: 'Verily, my father and my mother and my honour, those are all meant for defending the honour of Muhammad against you. And 'Urwa further reported that 'A'isha رضی اللہ عنہا said: By Allah, the person, about whom the allegation was trade used to say: Hallowed be Allah, by One, in Whose hand is my life, I have never unveiled any woman, and then he die, & as a martyr in the cause of Allah, and in the narration transmitted on the authority of Ya'qub bin Ibrahim., the word is Mu'irin and in the narration transmitted on the'authority of 'Abd al-Razzaq it is Mughirin. 'Abd bin Humaid said: I said to 'Abd al-Razzaq: What does this word Mughirin mean? And he said: Al- waghra means intense heat.
ابو ربیع عتکی نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں فلیح بن سلیمان نے حدیث سنائی ، نیز ہمیں حسن بن علی حلوانی اور عبد بن حمید نے حدیث سنائی ، دونوں نے کہا : ہمیں یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے صالح بن کیسان سے حدیث سنائی ، ان دونوں ( فلیح بن سلیمان اور صالح بن کیسان ) نے زہری سے یونس اور معمر کی روایت کے مطابق انہی کی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ فلیح کی حدیث میں اسی طرح ہے جیسے معمر نے بیان کیا : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے جاہلیت ( کے دور ) میں گھسیٹ لیا ۔ اور صالح کی حدیث میں یونس کے قول کی طرح ہے : انہیں ( قبائلی ) حمیت نے اکسا دیا ۔ اور صالح کی حدیث میں مزید یہ ہے : عروہ نے کہا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اس بات کو ناپسند کرتی تھیں کہ حسان ( بن ثابت رضی اللہ عنہ ) کو ان کے سامنے برا بھلا کہا جائے ۔ وہ فرماتی تھیں : انہوں نے یہ ( عظیم شعر ) کہا ہے : "" بےشک میرا باپ اور اس کا باپ اور میری عزت ، تم لوگوں سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آبرو کی حفاظت کے لیے ڈھال ہیں ۔ "" اور انہوں نے مزید بھی کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ کی قسم! جس شخص کے بارے میں وہ ساری باتیں ، جو گھڑی گئی تھیں ، وہ کہتا تھا : سبحان اللہ! ( یہ کیسی باتیں ہیں ) اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے کبھی کسی عورت کے حجلہ عروسی 0تک کا ) پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : پھر بعد میں وہ اللہ کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور یعقوب بن ابراہیم کی حدیث میں موغرين في نحر الظهيرة ( لوگ دوپہر کے وقت بے سایہ بنجر راستے میں سفر سے بے حال ہو گئے تھے ۔ ) عبدالرزاق نے موغرين ( گرمی کی شدت سے بے حال ہوئے ) کہا ہے ۔ عبد بن حمید نے کہا : میں نے عبدالرزاق سے پوچھا : "" موغرين "" کا مطلب کیا ہے؟ کہا : الوغرة گرمی کی شدت ہوتی ہے ۔
A'Isha رضی اللہ عنہا reported:
When I came under discussion what the people had to say about me, Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) stood up for delivering an address and he recited tashahhud (I bear witness to the fact that there is no god but Allah) and praised Allah, lauded Him what He rightly deserves and then said: Coming to the point. Give me an advice about them who have brought false charge about my family. By Allah, I know no evil in the members of my family and the person in connection with whom the false charge is being levelled, I know no evil in him too. And he never entered my house but in my presence and when I was away on a journey, he remained with me even in that. The rest of the hadith is the same but with this change that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) came to my house and asked my maidservant and she said: By Allah, I know no fault in her but this that she sleeps, and goat comes and eats the kneaded flour. Some of the Companions (of the Holy Prophet) scolded her and said: State the fact before Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and they even made a pointed reference (to this incident). She said: gallowed be Allah. By Allah, I know about her as does the jeweller know about the pure piece of gold. And when this news reached the person in connection with whom the allegation was made he said: Hallowed be Allah. By Allah, I have never unveiled any woman. 'A'isha رضی اللہ عنہا said: He fell as a martyr in the cause of Allah, and there is this addition in this hadith that the people who had brought false allegation amongst them were Mistah and Hamna and Hassan رضی اللہ عنہم . And so far as the hypocrite 'Abdullah bin Ubayy is concerned, he was one who tried his best to gather the false news and then gave them the wind. And he was in fact a fabricator and there was Hamna رضی اللہ عنہا, daughter of Jahsh with him.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور محمد بن علاء نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ابو اسامہ نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا
جب میرے معاملے میں وہ باتیں کہی گئیں جو کہی گئیں اور مجھے اس معاملے کا علم نہ تھا ، ( اس وقت ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ شہادتین پڑھیں ، اللہ کی حمد و ثنا کی جو اس کے شایان شان ہے ، پھر فرمایا : "" اس ( حمد و ثنا ) کے بعد! مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دو جنہوں نے میری اہلیہ پر بہتان لگایا اور میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ میری اہلیہ کے خلاف کبھی کوئی برائی میرے علم میں نہیں آئی ۔ وہ ( صفوان بن معطل رضی اللہ عنہ ) جس کے بارے میں انہوں نے تہمت لگائی ہے ، اللہ کی قسم! مجھے اس کے بارے میں کسی برائی کا علم نہیں ، وہ کبھی میرے گھر نہیں آیا مگر اس وقت جب میں موجود تھا اور میں کبھی سفر کی وجہ سے ( مدینہ سے ) غیر حاضر نہیں رہا مگر وہ بھی ( اس سفر میں ) میرے ساتھ ( مدینہ س ) غیر حاضر تھا ۔ "" اور پورے واقعے سمیت حدیث بیان کی اور اس میں یہ ( بھی ) ہے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں داخل ہوئے اور میری خادمہ سے پوچھا ۔ اس نے کہا : اللہ کی قسم! میں ان میں کوئی ایک عیب بھی نہیں جانتی ، اس کے سوا کہ وہ سو جایا کرتی تھیں اور بکری اندر آتی اور ان کا آٹا یا کہا : ان کا خمیر ( جو آٹے میں ملایا جاتا ہے ) کھا جاتی ۔ ہشام کو شک ہوا ہے ۔ ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک ساتھی نے جھڑکیاں دیں اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بالکل سچ بتاؤ ، حتی کہ اس معاملے میں ان لوگوں نے اسے تحقیر آمیز باتیں کہیں تو اس نے جواب میں کہا : سبحان اللہ! اللہ کی قسم! میں ان کے بارے میں بالکل اسی طرح جانتی ہوں جس طرح سنار خالص سونے کو جانتا ہے ۔ ( ان میں ذرہ برابر کھوٹ نہیں ، وہ خالص سونا ہیں ۔ ) اور یہ معاملہ اس شخص تک پہنچا جس کے بارے میں یہ بات کہی گئی تو اس نے کہا : سبحان اللہ! اللہ کی قسم! میں نے آج تک کسی عورت کی خلوت گاہ کا پردہ بھی نہیں اٹھایا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : وہ اللہ عزوجل کی راہ میں قتل ہو کر شہید ہو گیا ۔ اور اس حدیث میں مزید یہ بات بھی ہے کہ جن لوگوں نے ( بہتان پر مبنی ) باتیں کی تھیں ان میں مسطح ، حمنہ اور حسان ( بن ثابت ) رضی اللہ عنہم تھے ۔ اور منافق عبداللہ بن ابی وہ شخص تھا جو ( سیدھے سادھے واقعے کے اندر سے ) جھوٹے الزام نکالتا تھا اور ( بہتان کی جھوٹی کہانی کی صورت میں ) انہیں یکجا کرتا تھا ۔ اسی نے اس بہتان تراشی میں سب سے بڑا کردار سنبھالا اور ( اس کے بعد ) حمنہ رضی اللہ عنہا تھی ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
A person was charged with fornication with the slave girl of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ). Thereupon Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said to 'Ali رضی اللہ عنہ: Go and strike his neck. 'Ali رضی اللہ عنہ came to him and he found him in a well making his body cool. 'Ali said to him: Come out, and as he took hold of his hand and brought him out, he found that his sexual organ had been cut. Hadrat 'Ali رضی اللہ عنہ refrained from striking his neck. He came to Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, he has not even the sexual organ with him.
ہم سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، ہم سے حماد بن سلمہ نے بیان کیا، ہم سے ثابت نے بیان کیا, حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
ایک شخص کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ام ولد ( آپ کے فرزند کی والدہ ) کے ساتھ مہتم کیا جاتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہا : جاؤ اور اس کی گردن اڑا دو ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے تو وہ ایک اتھلے ( کم گہرے ) کنویں میں ٹھنڈک کے لیے غسل کر رہا تھا ، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : نکلو ، اور ( سہارا دینے کے لیے ) اسے اپنا ہاتھ پکڑایا اور اسے باہر نکالا تو دیکھا کہ وہ ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص تھا ہی نہیں ۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ ( اس کو قتل کرنے سے ) رُک گئے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! وہ تو ہیجڑا ہے ، اس کا عضو مخصوص ہے ہی نہیں ۔
Ibn Shihab reported:
Allah's Messenger (ﷺ) made an expedition to Tabuk and he (the Holy Prophet) had in his mind (the idea of threatening the) Christians of Arabia in Syria and those of Rome. Ibn Shihab (further) reported that 'Abdul-Rahman bin 'Abdullah bin Ka'b informed him that Abdullah bin Ka'b who served as the guide of Ka'b bin 'Malik as he became blind that he heard Ka'b bin Malik narrate the story of his remaining behind Allah's Messenger (ﷺ) from the Battle of Tabuk. Ka'b bin Malik said: I never remained behind Allah's Messenger (ﷺ) from any expedition which he undertook except the Battle of Tabuk and that of the Battle of Badr. So far as the Battle of Badr is concerned, nobody was blamed for remaining behind as Allah's Messenger (ﷺ) and the Muslims (did not set out for attack but for waylaying) the caravan of the Quraish, but it was Allah Who made them confront their enemies without their intention (to do so). I had the honour to be with Allah's Messenger (ﷺ) on the night of 'Aqaba when we pledged our allegiance to Islam and it was more dear to me than my participation in the Battle of Badr, although Badr was more popular amongst people as compared with that (Tabuk). And this is my story of remaining back from Allah's Messenger (ﷺ) on the occasion of the Battle of Tabuk. Never did I possess means enough and (my circumstances) more favourable than at the occasion of this expedition. And, by Allah, I had never before this expedition simultaneously in my possession two rides. Allah's Messenger (ﷺ) set out for this expedition in extremely hot season; the journey was long and the land (which he and his army had to cover) was waterless and he had to confront a large army, so he informed the Muslims about the actual situation (they had to face), so that they should adequately equip themselves for this expedition, and he also told them the destination where he intended to go. And the Muslims who accompanied Allah's Messenger (ﷺ) at that time were large in numbers but there was no proper record of them. Ka'b (further) said: Few were the persons who wanted to absent themselves, and were under the impression that they could easily conceal themselves (and thus remain undetected) until revelations from Allah, the Exalted and Glorious (descended in connection with them). And Allah's Messenger (ﷺ) set out on an expedition when the fruits were ripe and their shadows had been lengthened. I had weakness for them and it was during this season that Allah's Messenger (ﷺ) made preparations and the Muslims too along with them. I also set out in the morning so that I should make preparations along with them but I came back and did nothing and said to myself: I have means enough (to make preparations) as soon as I like. And I went on doing this (postponing my preparations) until people were about to depart and it was in the morning that Allah's Messenger (ﷺ) set out and the Muslims too along with him, but I made no preparations. I went early in the morning and came back, but I made no decision. I continued to do so until they (the Muslims) hastened and covered a good deal of distance. I also made up my mind to march on and to meet them. Would that I had done that but perhaps it was not destined for me. After the departure of Allah's Messenger (ﷺ) as I went out amongst people, I was shocked to find that I did not find anyone like me but people who were labelled as hypocrites or the people whom Allah granted exemption because of their incapacity and Allah's Messenger (ﷺ) took no notice of me until he had reached Tabuk. (One day as he was sitting amongst the people in Tabuk) he said: What has happened to Ka'b bin Malik? A person from Banu' Salama said: Allah's Messenger, the (beauty) of his cloak and his appreciation of his sides have allured him and he was thus detained. Mua'dh bin Jabal said: Woe be upon that what you contend. Allah's Messenger, by Allah, we know nothing about him but good. Allah's Messenger (ﷺ), however, kept quiet. It was during that time that he (the Holy Prophet) saw a person (dressed in all white (garment) shattering the illusion of eye (mirage). Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: May he be Abu Khaithama and, lo, it was Abu Khaithama al-Ansari and he was that person who contributed a sa' of dates and was scoffed at by the hypocrites. Ka'b b. Malik farther said: When this news reached me that Allah's Messenger (ﷺ) was on his way back from Tabuk I was greatly perturbed. I thought of fabricating false stories and asked myself how I would save myself from his anger on the following day. In this connection, I sought the help of every prudent man from amongst the members of my family and when it was said to me that Allah's Messenger (ﷺ) was about to arrive, all the false ideas banished (from my mind) and I came to the conclusion that nothing could save me but the telling of truth, so I decided to speak the truth and it was in the morning that Allah's Messenger (ﷺ) arrived (in Medina). And it was his habit that as he came back from a journey he first went to the mosque and observed two Rak'ahs of nafl prayer (as a mark of gratitude) and then sat amongst people. And as he did that, those who had remained behind him began to put forward their excuses and take an oath before him and they were more than eighty persons. Allah's Messenger (ﷺ) accepted their excuses on the very face of them and accepted their allegiance and sought forgiveness for them and left their secret (intentions) to Allah, until I presented myself to him. I greeted him and he smiled and there was a tinge of anger in that. He (the Holy Prophet) then said to me: Come forward. I went forward until I sat in front of him. He said to me: What kept you back? Could you not afford to go in for a ride? I said: Allah's Messenger, by Allah, if I were to sit in the presence of anybody else from amongst the worldly people I would have definitely saved myself from his anger on one pretext (or the other) and I have also the knack to fall into argumentation, but, by Allah, I am fully aware of the fact that if I were to put forward before you a false excuse to please you Allah would definitely provoke your wrath upon me, and if I speak the truth you may be annoyed with me, but I hope that Allah would make its end well and, by Allah, there is no valid excuse for me. By Allah, I never possessed so good means, and I never had such favourable conditions for me as I had when I stayed behind you (failed to join the expedition). Thereupon, Allah's Messenger (ﷺ) said: This man told the truth, so get up until Allah gives a decision in your case. I stood up and some people of Banu' Salama followed me in hot haste, and they said to me: By Allah, we do not know about you that you committed a sin prior to this. You, however, showed inability to put forward an excuse before Allah's Messenger (ﷺ) as those who stayed behind him have put forward excuses. It would have been enough for the forgiveness of your sin that Allah's Messenger (ﷺ) would have sought forgiveness for you. By Allah, they continued to incite me until I thought of going back to Allah's Messenger (ﷺ) and contradict myself. Then I said to them: Has anyone else also met the same fate? They said: Yes, two persons have met the same fate as has fallen to you and they have made the sane statement as you have made, and the same verdict has been delivered in their case as it has been delivered in your case. I said: Who are they? They said: Murara b. ar-Rabi'a 'Amiri and Hilal b. Umayya al-Waqafi. They made a mention of these two pious persons to me who had participated in the Battle of Badr and there was an example for me in them. I went away when they named these two persons. Allah's Messenger (ﷺ) forbade the Nluslims to talk with three of us from amongst those (persons) who had stayed behind him. The people began to avoid us and their attitude towards us underwent a change and it seemed as if the whole atmosphere had turned (hostile) against us and it was in fact the same atmosphere ot which I was fully aware and in which I had lived (for a fairly long time). We spent fifty nights in this very state and my two friends confined themselves withen their houses and spent (most of the) time in weeping, but as I was young and strong amongst them I got (out of my house), participated in congregational prayers, moved about in the bazar; but none spoke to me. I came to Allah's Messenger (ﷺ) as he sat amongst (people) after the prayer, greeted him and asked myself whether his lips stirred in response to my greetings (or not). Then I observed prayer beside him and looked at him with stealing glances and when I attended to my prayer, he looked at me and when I cast a glance at him he turned away his eyes from me. And when the harsh treatment of the Muslims towards me extended to a (considerable) length of time, I walked until I climbed upon the wall of the garden of Abu Qatada, and he was my cousin, and I had the greatest love for him. I greeted him but, by Allah, he did not respond to my greetings. I said to him: Abu Qatada, I adjure you by Allah, arn't you well aware of the fact that I love Allah and His Messenger (ﷺ) the most. He kept quiet. I again repeated saying: I adjure you by Allah. arn't you well aware of the fact that I love Allah and His Messenger (ﷺ) the most. He kept quiet. I again adjured him, whereupon he said: Allah and the Messenger (ﷺ) are best aware of it. My eyes began to shed tears and I came back climbing down from the wall and as I was walking in the bazar of Medina a Nabatean from amongst the Nabateans of Syria, who had come to sell foodgrains in Medina, asked people to direct him to Ka'b b. Malik. People gave him the indication by pointing towards me. He came to me and delivered to me a letter of the King of Ghassan and as I was a scribe I read that letter and it was written like this:" Coming to my point, it has been conveyed to us that your friend (the Holy Prophet) is subjecting you to cruelty and Allah has not created you for a place where you are to be degraded and where you cannot find your right place, so you come to us that we should accord you honour. As I read that letter I said: This is also a calamity, so I burnt it in the oven. When out of the fifty days, forty days had passed and Allah's Messenger (ﷺ) received no revelation, there came the messenger of Allah's Messenger (ﷺ) to me and said: Verily, Allah's Messenger (ﷺ) has commanded you to remain separate from your wife. I said: Should I divorce her or what (else) should I do? He said: No, but only remain separate from her and don't have sexual contact with her. The same message was sent to my companions. So I said to my wife: You better go to your parents and stay there with them until Allah gives the decision in my case. The wife of Hilal b. Umayya came to Allah's Messenger (ﷺ) and said: Allah's Messenger, Hilal b. Umayya is a senile person, he has no servant. Do you disapprove of my serving him? He said: No, but don't go near him. She said: By Allah, he has no such instinct in him. By Allah, he spends his time in weeping from that day to this day. Some of the members of my family said to me: Were you to seek permission from Allah's Messenger (ﷺ) in regard to your wife as he has granted permission to the wife of Hilal b. Umayya to serve him. I said: I would not seek permission from Allah's Messenger (ﷺ), for I cannot say what Allah's Apostle may say in response to seeking my permission. Moreover, I am a young man. It was in this state that I spent ten more nights and thus fifty nights had passed that (people) had observed boycott with us. It was on the morning of the fiftieth night that I observed my dawn prayer and was sitting on one of the roofs of our houses. And I was in fact sitting in that very state which Allah, the Exalted and Glorious, has described about us in these words:" Life had become hard for myself and the earth had compressed despite its vastness," that I heard the noise of an announcer from the peak of the hill of Sal' saying at the top of his voice: Ka'b b. Malik, there is glad tidings for you. I fell down in prostration and came to realise that there was (a message of) relief for me. Allah's Messenger (ﷺ) had informed the people of the acceptance of our repentance by Allah as he offered the dawn prayer. So the people went on to give us glad tidings and some of them went to my friends in order to give them the glad tidings and a person galloped his horse and came from the tribe of Aslam and his horse reached me more quickly than his voice. And when he came to me whose sound I heard, he gave me the glad tidings. I took off my clothes and clothed him with them because of his bringing good news to me and, by Allah, I possessed nothing else (in the form of clothes) than these two on that occasion, and I asked one to lend me two clothes and dressed myself in them. I came to Allah's Messenger (ﷺ) and on my way I met groups of people who greeted me because of (the acceptance of) repentance and they said: Here is a greeting for you for your repentance being accepted by Allah. (I moved on) until I came to the mosque and Allah's Messenger (ﷺ) had been sitting there amongst persons. So Talha b. 'Ubaidullah got up and rushed towards me and he shook hands with me and greeted me and, by Allah, no person stood up (to greet me) from amongst the emigrants except he. Ka'b said that he never forgot (this good gesture of) Talha. Ka'b further said: I greeted Allah's Messenger (ﷺ) with Assalam-o-'Alaikam and his face was glistening because of delight, and he said: Let there be glad tidings and blessings for you, the like of which (you have neither found nor you will find, as you find today) since your mother gave your birth. I said: Allah's Messenger. is this acceptance of repentance from you or from Allah? He said: No, (it is not from ma), it is from Allah, and it was common with Allah's Messenger (ﷺ) that as he was happy his face brightened up and it looked like a part of the moon and it was from this that we recognised it (his delight). As I sat before him, I said: Allah's Messenger, am I allowed to give in charity my wealth for Allah's sake and for the sake of His Messenger (ﷺ)? Thereupon Allah's Messenger (ﷺ) said: Keep some property with you as it is better for you. I said: I shall keep with me that part (of my property) which fell to my lot (on the occasion of the expedition of) Khaibar. I said: Allah's Messenger, verily, Allah has granted me salvation because of truth and, therefore, (I think) that repentance implies that I should not speak anything but truth as long as I live. He said: By Allah, I do not know whether anyone amongst the Muslims was put to more severe trial than I by Allah because of telling the truth. And since I made a mention of this to Allah's Messenger (ﷺ) up to this day I have not told any lie and, by Allah, I have decided not to tell a lie and I hope that Allah would save me (from trials) for the rest of my life and Allah, the Exalted and Glorious, revealed these verses:" Certainly, Allah has turned in Mercy to the Prophet and the emigrants and the helpers who followed him in the hour of hardship after the hearts of a part of them were about to deviate; then He turned to them in mercy. Surely, to them He is Compassionate, Merciful and (He turned in Mercy) to the three who were left behind until the earth despite its vastness became strait for them and their souls were also straitened to them." And this revelation reached up to the (words):" O you who believe, develop God consciousness, and be with the truthful" (ix. 117-118). Ka'b said: By Allah, since Allah directed me to Islam there has been no blessing more significant for me than this truth of mine which I spoke to Allah's Messenger (ﷺ) and if I were to tell a lie I would have been ruined as were ruined those who told lies, for in regard to those who told lies Allah used harshest words used for anyone as He descended revelation (and the words of Allah are):" They will swear by Allah to you when you return to them so that you may leave them alone. So leave them alone. Surely, they are unclean and their resort is Hell, recompense for what they earned. They will swear to you that you may be pleased with them but if you are pleased with them, yet surely Allah is not pleased with the transgressing people" (ix. 95-96). K'ab said that the matter of us three persons was deferred as compared with those who took an oath in the presence of Allahs Messenger (ﷺ) and he accepted their allegiance and sought forgiveness for them and Allah did not give any decision in regard to us. It was Allah, the Exalted and Glorious, Who gave decisions in our case, three who remained behind. (The words of the Qur'an)" the three who were left behind" do not mean that we remained back from Jihad but these imply that He kept our matter behind them who took oath and presented excuse before Him.
ابو الطاہر، احمد بن عمرو بن عبداللہ بن عمرو بن سرح، بنو امیہ کے ایک مؤکل نے مجھ سے بیان کیا۔ مجھ سے ابن وہب نے بیان کیا۔ مجھ سے یونس نے ابن شہاب کی روایت سے کہا
پھر رسول اللہ ﷺ غزوہ تبوک لڑنے گئے اور آپ کا ارادہ روم اور شام کے عرب نصرانیوں کا مقابلہ کرنے کا تھا ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے عبدالرحمن بن عبداللہ بن کعب بن مالک نے خبر دی کہ عبداللہ بن کعب حضرت کعب رضی اللہ عنہ کے نابینا ہونے کے بعد حضرت کعب کے بیٹوں میں سے وہی حضرت کعب رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑنے اور انھیں ( ہر ضرورت کے لیے ) لانے لے جانے والے تھے ۔ کہا : میں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے ان کی وہ حدیث سنی تھی جب وہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہ گئے تھے ۔ کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : میں غزوہ تبوک کے سوا کسی جنگ میں ، جو آپ ﷺ نے کی ، کبھی رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہا ۔ ( ہاں ) مگر میں غزوہ بدر میں بھی پیچھے رہا تھا ( کیونکہ آپ ﷺ سب کو ساتھ لے کر تشریف نہیں لے گئے تھے اس لیے ) آپ ﷺ نے کسی شخص پر ، جو اس جنگ میں شریک نہیں ہوا ، عتاب نہیں فرمایا تھا ۔ ( بدر کے موقع پر ) رسول اللہ ﷺ اور مسلمان قریش کے تجارتی قافلے ( کا سامنا کرنے ) کے ارادے سے نکلے تھے ، یہاں تک کہ اللہ نے طے شدہ وقت کے بغیر ان کی اور ان کے دشمنوں کی مڈبھیڑ کروا دی ۔ میں بیعت عقبہ کی رات میں آپ ﷺ کے ساتھ شامل تھا جب ہم سب نے اسلام قبول کرنے پر ( رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ) معاہدہ کیا تھا ۔ مجھے اس ( اعزاز ) کے عوض بدر میں شمولیت ( کا اعزاز بھی ) زیادہ محبوب نہیں ، اگرچہ لوگوں میں بدر کا تذکرہ اس ( بیعت ) کی نسبت زیادہ ہوتا ہے ۔ میں جب غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ ﷺ سے پیچھے رہا تھا تو میرے احوال یہ تھے کہ میں اس وقت کی نسبت ، جب میں اس جنگ سے پیچھے رہا تھا ، کبھی ( جسمانی طور پر ) زیادہ قوی اور ( مالی اعتبار سے ) زیادہ خوش حال نہیں رہا تھا ۔ اللہ کی قسم ! میرے پاس اس سے پہلے کبھی دو سواریاں اکٹھی نہیں ہوئی تھیں ، یہاں تک کہ اس غزوے کے موقع پر ہی میں نے دو سواریاں اکٹھی کر رکھی تھیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ غزوہ سخت گرمی میں کیا تھا ، آپ کو بہت دور کے چٹیل صحرا کا سفر درپیش تھا اور آپ کو بہت زیادہ دشمنوں کا سامنا کرنا تھا ۔ آپ ﷺ نے مسلمانوں کے سامنے اس معاملے کو ( جو انھیں درپیش تھا ) اچھی طرح واضح فرما دیا تھا تاکہ وہ اپنی جنگ کی ( پوری ) تیاری کر لیں ۔ آپ ﷺ نے انھیں ان کی سمت سے بھی آگاہ فرما دیا تھا جدھر سے آپ جانا چاہتے تھے ۔ رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ کثیر تعداد میں مسلمان تھے ۔ کسی محفوظ رکھنے والے کی کتاب میں ان کے نام جمع ( اکٹھے لکھے ہوئے ) نہیں تھے ۔۔۔ ان کی مراد رجسٹر سے تھی ۔۔۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : ایسے لوگ کم تھے جو غائب رہنا چاہتے تھے ، جو سمجھتے تھے کہ ان کی یہ بات اس وقت تک مخفی رہے گی جب تک ان کے بارے میں اللہ عزوجل کی وحی نازل نہیں ہوتی اور رسول اللہ ﷺ نے یہ غزوہ اس وقت کیا جب پھل اور ( درختوں پر پتے زیادہ ہو جانے کی بنا پر ) سائے اچھے ہو گئے تھے ۔ ( ہر آدمی کا دل چاہتا تھا کہ آرام سے گھر میں رہے ، دن کو سائے کے نیچے آرام کرے اور تازہ پھل کھائے ۔ ) میرا بھی دل اسی طرف زیادہ مائل تھا ۔ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے ساتھ مسلمان ( جہاد کی ) تیاری میں لگ گئے ۔ میں صبح کو نکلتا کہ میں بھی ان کے ساتھ تیاری کروں اور واپس آتا تو میں نے کچھ بھی نہ کیا ہوتا ۔ میں دل میں کہتا : میں چاہوں تو اس کی بھرپور تیاری کر سکتا ہوں ، یہی کیفیت مجھے مسلسل آگے سے آگے کرتی گئی اور لوگ مسلسل سنجیدہ سے سنجیدہ ہوتے گئے ، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ صبح سویرے روانہ ہو گئے ، مسلمان آپ کے ہمراہ تھے اور میں اپنی کوئی بھی تیاری مکمل نہ کر پایا تھا ۔ میں پھر صبح کے وقت نکلا اور واپس آیا تو بھی کچھ نہ کر پایا تھا اور میری یہی کیفیت تسلسل سے آگے چلتی رہی ، یہاں تک کہ ( تیاری میں پیچھے رہ جانے والے ) مسلمان جلد از جلد جانے لگے اور جنھوں نے جنگ میں حصہ لینا تھا وہ بہت آگے نکل گئے ، اس پر میں نے ارادہ کیا کہ نکل پڑوں اور لوگوں سے جا ملوں ۔ اے کاش ! میں ایسا کر لیتا لیکن یہ ( بھی ) میرے مقدر میں نہ ہوا اور میری حالت یہ ہو گئی کہ رسول اللہ ﷺ کی روانگی کے بعد جب میں لوگوں میں نکلتا تو میں اس بات پر سخت غمگین ہوتا کہ مجھے ( اپنے لیے اپنے جیسے کسی شخص کی ) کوئی مثال نہ ملتی ( جس کے نمونے پر میں نے عمل کیا ہو ) ، سوائے کسی ایسے انسان کے جس پر نفاق کی تہمت تھی یا ضعفاء میں کوئی شخص جسے اللہ کی طرف سے معذور قرار دیا گیا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس وقت تک میرا ذکر نہیں کیا ، یہاں تک کہ آپ تبوک پہنچے تو آپ نے ، جب آپ لوگوں کے ساتھ تبوک میں بیٹھے ہوئے تھے ، فرمایا :’’ کعب بن مالک نے کیا کیا ؟‘‘ تو بنو سلمہ کے ایک شخص نے کہا : اسے اس کی دو ( خوبصورت ) چادروں اور اپنے دونوں پہلوؤں کو دیکھنے ( کے کام ) نے روک لیا ہے ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم نے بری بات کہی ، اللہ کے رسول ! اللہ کی قسم ! ہم ان کے بارے میں اچھائی کے سوا اور کچھ نہیں جانتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے سکوت اختیار فرما لیا ۔ آپ اسی کیفیت میں تھے کہ آپ نے سفید لباس میں ملبوس ایک شخص کو دیکھا جس کے ( چلنے کے ) سبب سے ( صحرا میں نظر آنے والا ) سراب ٹوٹتا جا رہا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تجھے ابوخیثمہ انصاری ہونا چاہیے ۔‘‘ تو وہ ابوخیثمہ انصاری رضی اللہ عنہ ہی تھے اور یہ وہی ہیں جنھوں نے ایک صاع کھجور کا صدقہ دیا تھا جب منافقوں نے انھیں طعنہ دیا تھا ( اور کہا تھا : اللہ اس کے ایک صاع کا محتاج نہیں ۔ ) کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے تبوک سے واپسی کا رخ فرما لیا ہے تو مجھے میرے غم اور افسوس نے ( شدت سے ) آ لیا ، میں جھوٹے عذر سوچنے اور ( دل میں ) کہنے لگا : میں کل آپ کی ناراضی سے کیسے نکلوں گا ؟ میں اپنے گھر والوں میں سے ہر رائے رکھنے والے فرد سے ( بھی ) مدد لینے لگا ۔ جب مجھ سے کہا گیا : رسول اللہ ﷺ پہنچنے والے ہیں تو باطل ( بہانے تراشنے ) کا خیال میرے دل سے زائل ہو گیا ، یہاں تک کہ میں نے جان لیا کہ میں کسی چیز کے ذریعے سے آپ ( کی ناراضی ) سے نہیں بچ سکتا تو میں نے آپ کے سامنے سچ کہنے کا تہیہ کر لیا ۔ رسول اللہ ﷺ کی تشریف آوری صبح کے وقت ہوئی ۔ آپ ﷺ جب سفر سے آتے تو مسجد سے آغاز فرماتے ، اس میں دو رکعتیں پڑھتے ، پھر لوگوں ( سے ملاقات ) کے لیے بیٹھ جاتے ۔ جب آپ نے ایسا کر لیا تو پیچھے رہ جانے والے آپ کے پاس آنے لگے ۔ انھوں نے ( آ کر ) عذر پیش کرنا اور آپ کے سامنے قسمیں کھانا شروع کر دیں ، وہ اسی سے کچھ زائد آدمی تھے ، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے ظاہر ( کیے گئے عذروں ) کو قبول فرمایا ، ان سے آئندہ ( اطاعت ) کی بیعت لی ، اللہ سے ان کی مغفرت کی دعا کی اور ان کے باطن کو اللہ کے حوالے کر دیا ، یہاں تک کہ میں حاضر ہوا ۔ جب میں نے سلام کیا تو آپ ﷺ اس طرح مسکرائے جیسے آپ کو غصہ دلایا گیا ہو ، پھر آپ نے فرمایا :’’ آؤ ۔‘‘ میں چلتا ہوا آیا ، یہاں تک کہ آپ کے سامنے ( آ کر ) بیٹھ گیا تو آپ نے مجھ سے فرمایا :’’ تمہیں کس بات نے پیچھے رکھا ؟ کیا تم نے اپنی سواری حاصل کر نہیں لی تھی ؟‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول ! بے شک ، اللہ کی قسم ! اگر میں آپ کے سوا پوری دنیا میں سے کسی بھی اور کے سامنے بیٹھا ہوتا تو میں دیکھ لیتا ( ایسا عذر تراش لیتا ) کہ میں جلد ہی اس کی ناراضی سے نکل جاتا ، مجھے ( اپنے حق میں ) دلیلیں دینے کا ملکہ ملا ہے ، لیکن اللہ کی قسم ! میں جانتا ہوں کہ آج اگر میں آپ سے کوئی جھوٹی بات کہہ دوں جس سے آپ مجھ پر راضی ہو جائیں تو جلد ہی اللہ تعالیٰ آپ کو مجھ سے ناراض کر دے گا اور اگر میں آپ سے سچی بات کہہ دوں جس سے آپ مجھ پر ناراض ہو جائیں تو کل مجھے اس میں اللہ کی طرف سے اچھے انجام کی پوری امید ہے ۔ اللہ کی قسم ! میرے پاس ( پیچھے رہ جانے کا ) کوئی عذر نہیں تھا ۔ اللہ کی قسم ! میں جب آپ کا ساتھ دینے سے پیچھے رہا ہوں تو اس سے پہلے کبھی ( جسمانی طور پر ) اس سے بڑھ کر قوی اور ( مالی طور پر ) اس سے زیادہ خوش حال نہ تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ شخص ہے جس نے سچ کہا ہے ، ( اب ) تم اٹھ جاؤ ( اور انتظار کرو ) یہاں تک کہ اللہ تمہارے بارے میں فیصلہ فرما دے ۔‘‘ میں اٹھ گیا ، بنو سلمہ کے کچھ لوگ بھی جوش میں کھڑے ہو کر میرے پیچھے آئے اور مجھ سے کہنے لگے : تمہارے بارے میں ہم نہیں جانتے کہ اس سے پہلے تم نے کوئی گناہ کیا ہے ، کیا تم اس سے بھی عاجز رہ گئے کہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کوئی عذر پیش کر دیتے جس طرح دوسرے پیچھے رہنے والے لوگوں نے عذر پیش کیے ہیں ۔ تمہارے گناہ کے معاملے میں تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کا استغفار فرمانا کافی ہو جاتا ۔ ( حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اللہ کی قسم ! وہ مسلسل مجھ سے سخت ناراضی کا اظہار اور ملامت کرتے رہے ، یہاں تک کہ میں نے ارادہ کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس جاؤں اور خود کو جھٹلا دوں ۔ کہا : پھر میں نے ان سے کہا : کیا میرے ساتھ کسی اور نے بھی اس صورت حال کا سامنا کیا ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، تمہارے ساتھ دو اور آدمیوں نے بھی اسی صورت حال کا سامنا کیا ہے ، ان سے بھی وہی کہا گیا ہے جو تم سے کہا گیا ہے ۔ کہا : میں نے پوچھا : وہ دونوں کون ہیں ؟ انھوں نے کہا : وہ مرارہ بن ربیعہ عامری اور ہلال بن امیہ واقفی ہیں ۔ انھوں نے میرے سامنے دو نیک انسانوں کا نام لیا جو بدر میں شریک ہوئے تھے ۔ ان ( دونوں کی صورت ) میں ایک قابل نمونہ موجود تھا ۔ کہا : جب انھوں نے میرے سامنے ان دونوں کا ذکر کیا تو میں ( رسول اللہ ﷺ کے پاس واپس جانے کے بجائے اسی پر ڈٹا ) رہا ۔ کہا : اور رسول اللہ ﷺ نے پیچھے رہ جانے والوں میں سے صرف ہم تینوں کو مخاطب کرتے ہوئے سب مسلمانوں کو ہم سے بات کرنے سے منع فرما دیا ۔ کہا : لوگ ہم سے اجتناب برتنے لگے ، یا کہا : وہ ہمارے لیے ( بالکل ہی ) بدل گئے ، یہاں تک کہ میرے دل ( کے خیال ) میں یہ زمین میرے لیے اجنبی بن گئی ، یہ اب وہ زمین نہ رہی تھی جسے میں پہچانتا تھا ۔ ہم پچاس راتیں اسی حالت میں رہے ۔ جہاں تک میرے دونوں ساتھیوں کا تعلق ہے تو وہ دونوں بے بس ہو کر روتے ہوئے گھروں میں بیٹھ گئے ۔ میں ان دونوں کی نسبت زیادہ جوان اور دلیر تھا ، اس لیے میں ( گھر سے ) نکلتا ، نماز میں شامل ہوتا اور بازاروں میں گھومتا اور مجھ سے بات کوئی نہ کرتا ۔ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس بھی ، جب آپ نماز کے بعد مجلس میں ہوتے ، آتا اور سلام کرتا ۔ میں اپنے دل میں سوچتا : کیا آپ نے سلام کے جواب میں لب مبارک ہلائے تھے یا نہیں ؟ پھر میں آپ کے قریب ( کھڑے ہو کر ) نماز پڑھتا اور چور نظروں سے آپ کی طرف دیکھتا ، جب میں اپنی نماز کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ میری طرف دیکھتے اور جب آپ کی طرف متوجہ ہوتا تو آپ مجھ سے رخ مبارک پھیر لیتے ، یہاں تک کہ جب میرے ساتھ مسلمانوں کی بے اعتنائی ( کی مدت ) طویل ہو گئی تو ( ایک دن ) میں چل پڑا اور ( جا کر ) ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کے باغ کی دیوار پھلانگی ( اور باغ میں چلا گیا ۔ ) اور وہ میرے چچا کا بیٹا اور لوگوں میں سے مجھے سب سے زیادہ پیارا تھا ۔ میں نے اسے سلام کیا تو اللہ کی قسم ! اس نے مجھے سلام کا جواب تک نہ دیا ۔ میں نے اس سے کہا : ابوقتادہ ! میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ( ہوں اور پوچھتا ) ہوں : تم جانتے ہو نا کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کرتا ہوں ؟ کہا : وہ خاموش رہے ۔ میں نے دوبارہ پوچھا اور اسے اللہ کا واسطہ دیا تو ( پھر بھی ) وہ خاموش رہے ۔ میں نے ( تیسری بار ) پھر سے پوچھا اور اللہ کا واسطہ دیا تو انھوں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول ﷺ زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اس پر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے ، میں واپس مڑا ، یہاں تک کہ ( پھر سے ) دیوار پھلانگی ( اور باغ سے نکل گیا ۔ ) ایک روز میں مدینہ کے بازار میں چلا جا رہا تھا تو میں نے اہل شام کے نبطیوں میں سے ایک نبطی ( سامی / زمیندار ) کو ، جو کھانے کی اجناس لے کر بیچنے کے لیے مدینہ آیا ہوا تھا ، دیکھا ، وہ کہتا پھر رہا تھا : کوئی ہے جو مجھے کعب بن مالک کا پتہ بتا دے ۔ لوگوں نے اس کے سامنے میری طرف اشارے کرنے شروع کر دیے ۔ یہاں تک کہ وہ میرے پاس آ گیا اور شاہ غسان کا ایک خط میرے حوالے کر دیا ۔ میں لکھنا ( پڑھنا ) جانتا تھا ۔ میں نے وہ خط پڑھا تو اس میں لکھا تھا : سلام کے بعد ، ہمیں یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے صاحب ( رسول اللہ ﷺ ) نے تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کیا ہے اور اللہ نے تمہیں ذلت اٹھانے اور ضائع ہو جانے والی جگہ میں ( محبوس کر کے ) نہیں رکھ دیا ، لہذا تم ہمارے ساتھ آ ملو ، ہم تمہارے ساتھ بہت اچھا سلوک کریں گے ، کہا : جب میں نے وہ خط پڑھا تو ( دل میں ) کہا : یہ ایک اور آزمائش ہے ۔ میں نے اسے لے کر ایک تندور کا رخ کیا اور اس خط کو اس میں جلا دیا ، یہاں تک کہ پچاس میں سے چالیس راتیں گزر گئیں اور وحی مؤخر ہو گئی تو اچانک میرے پاس رسول اللہ ﷺ کا قاصد آیا اور کہا : رسول اللہ ﷺ تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے بھی الگ ہو جاؤ ۔ کہا : میں نے پوچھا : کیا اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا : نہیں ، بس الگ رہو ۔ اس کے قریب نہ جاؤ ، کہا : آپ ﷺ نے میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی یہی پیغام بھیجا ۔ کہا : میں نے اپنی بیوی سے کہا : تم اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اس وقت تک انھی کے ساتھ رہو جب تک اللہ تعالیٰ اس معاملے کا فیصلہ نہ فرما دے ۔ کہا : ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور عرض کی : اللہ کے رسول ! ہلال بن امیہ اپنا خیال نہ رکھ سکنے والا بوڑھا انسان ہے ، اس کے پاس کوئی خادم بھی نہیں ، کیا آپ اس بات کو بھی ناپسند فرماتے ہیں کہ میں ان کی خدمت کروں ؟ فرمایا :’’ نہیں ، لیکن وہ تمہارے ساتھ قربت ہرگز اختیار نہ کرے ۔‘‘ انھوں نے کہا : اللہ جانتا ہے وہ تو کسی چیز کی طرف حرکت بھی نہیں کر سکتے ۔ جب سے ان کا یہ معاملہ ہوا ہے اس روز سے آج تک مسلسل روتے ہی رہتے ہیں ۔ کہا : میرے گھر والوں میں سے بعض نے مجھ سے کہا : ( اچھا ہو ) اگر تم بھی اپنی بیوی کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے لو ، آپ ﷺ نے ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کی بیوی کو اجازت دے دی ہے کہ وہ ان کی خدمت کرتی رہیں ۔ کہا : میں نے جواب دیا : میں اس معاملے میں رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہیں مانگوں گا ، مجھے معلوم نہیں کہ جب میں اس کے بارے میں آپ سے اجازت کی درخواست کروں تو آپ کیا فرمائیں ، میں ایک جوان آدمی ہوں ، ( اپنا خیال خود رکھ سکتا ہوں ) کہا : میں دس راتیں اسی عالم میں رہا اور جب سے ہمارے ساتھ بات چیت کو ممنوع قرار دیا گیا اس وقت سے پچاس راتیں پوری ہو گئیں ۔ کہا : پھر میں نے پچاسویں رات کی صبح اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر فجر کی نماز ادا کی اور میں ، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ہماری جس حالت کا ذکر فرمایا ، اسی حالت میں کہ مجھ پر زمین اپنی وسعتوں کے باوجود تنگ تھی اور میرا دل بھی مجھ پر تنگ پڑ چکا تھا ، بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو کوہ سلع پر چڑھ کر اپنی بلند ترین آواز میں کہہ رہا تھا : کعب بن مالک ! خوش ہو جاؤ ۔ کہا : میں ( اسی وقت ) سجدے میں گر گیا اور مجھے پتہ چل گیا کہ ( تنگی کے بعد ) کشادگی ( کی نوید ) آ گئی ہے ۔ کہا : اور رسول اللہ ﷺ نے جب صبح کی نماز پڑھی تو آپ نے لوگوں میں ہم پر اللہ کی توجہ اور عنایت ( توبہ قبول کرنے ) کا اعلان فرما دیا ۔ لوگ ہمیں خوش خبری سنانے کے لیے چل پڑے ، میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوش خبری سنانے والے روانہ ہو گئے اور میری طرف ( آنے کے لیے ) ایک شخص نے گھوڑا دوڑایا اور ( میرے قبیلے ) اسلم میں سے ایک شخص نے خود میری طرف دوڑ لگائی اور پہاڑ پر چڑھ گیا ، تو آواز گھوڑے سے زیادہ تیز رفتار تھی ( پہلے پہنچ گئی ) جب وہ شخص میرے پاس پہنچا جس کی خوش خبری دینے کی آواز میں نے سنی تھی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتار کر اس خوش خبری کے بدلے اسے پہنا دیے ۔ اللہ کی قسم ! اس دن دو کپڑوں کے سوا میری ملکیت میں ( پہننے کی ) اور کوئی چیز نہ تھی ۔ میں نے دو کپڑے عاریتاً لے کر انھیں پہن لیا اور رسول اللہ ﷺ ( سے ملاقات ) کا قصد کر کے چل پڑا ، لوگ گروہ در گروہ مجھ سے ملتے تھے ، توبہ ( قبول ہونے ) پر مجھے مبارک باد دیتے تھے اور کہتے تھے : تم پر اللہ کی نظر عنایت تمہیں مبارک ہو ! یہاں تک کہ میں مسجد میں داخل ہوا تو ( دیکھا کہ ) رسول اللہ ﷺ مسجد میں تشریف فرما تھے اور لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے ہوئے تھے ، ( ان میں سے ) طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اٹھ کر میری طرف لپکے ، میرے ساتھ مصافحہ کیا اور مبارکباد دی ۔ اللہ کی قسم ! مہاجرین میں سے ان کے سوا کوئی اور ( میرے استقبال کے لیے اس طرح ) نہ اٹھا ۔ ( عبداللہ بن کعب نے ) کہا : کعب رضی اللہ عنہ طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات کبھی نہ بھولتے تھے ( انھوں نے اس کو ہمیشہ یاد رکھا ۔ ) حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : جب میں نے رسول اللہ ﷺ کو سلام کیا تو آپ نے فرمایا ، جبکہ آپ کا چہرہ مبارک خوشی سے دمک رہا تھا اور آپ یہ فرما رہے تھے :’’ ماں کے پیٹ سے جنم لینے کے وقت سے جو بہترین دن تم پر گزر رہا ہے ، تمہیں اس کی خوش خبری ہو !‘‘ کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول ! ( یہ بشارت ) آپ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ نہیں ، بلکہ اللہ کی طرف سے ہے ۔‘‘ اور جب رسول اللہ ﷺ کو بہت خوشی حاصل ہوتی تو آپ کا چہرہ مبارک اس طرح چمک اٹھتا تھا جیسے آپ کا چہرہ مبارک چاند کا ایک ٹکڑا ہو ۔ کہا : اور ہمیں یہ بات اچھی طرح معلوم تھی ۔ کہا : جب میں آپ کے روبرو بیٹھ گیا تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول ! میری توبہ میں یہ بھی ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے سامنے صدقہ پیش کرنے کے لیے اپنے پورے مال سے دستبردار ہو جاؤں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنا کچھ مال اپنے پاس رکھو ، یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے ۔‘‘ میں نے عرض کی : تو میں اپنا وہ حصہ جو مجھے خیبر سے ملا ، اپنے پاس رکھ لیتا ہوں ( حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول ! اللہ نے مجھے صرف اور صرف سچائی کی بنا پر نجات عطا فرمائی اور یہ بات بھی میری توبہ کا حصہ ہے کہ جب تک میری زندگی ہے ، سچ کے بغیر کبھی کوئی بات نہیں کہوں گا ۔ کہا : اللہ کی قسم ! میں مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا جسے اس وقت سے لے کر ، جب میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے سچ بولا تھا ، آج تک اللہ تعالیٰ نے اس سے بہتر انداز میں نوازا ہو ، جس طرح مجھے نوازا ۔ اللہ کی قسم ! جب میں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات عرض کی ، اس وقت سے لے کر آج تک کوئی ایک جھوٹ بولنے کا ارادہ تک نہیں کیا اور میں امید رکھتا ہوں کہ میری بقیہ زندگی میں بھی اللہ مجھے ( جھوٹ سے ) محفوظ رکھے گا ۔ کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیات ) نازل فرمائیں :’’ اللہ تعالیٰ نے نظر عنایت فرمائی نبی ﷺ اور مہاجرین اور انصار پر جنھوں نے تنگی کی گھڑی میں آپ کا اتباع کیا ‘‘ حتی کہ آپ یہاں پہنچ گئے :’’ بے شک وہ انتہائی مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔ اور ان تین ( افراد ) پر بھی جو پیچھے کر دیے گئے تھے یہاں تک کہ زمین اپنی وسعت کے باوجود ان پر تنگ ہو گئی تھی اور خود ان کے اپنے دل ان پر تنگ پڑ گئے تھے اور انھیں یقین ہو گیا تھا کہ اللہ سے پناہ ملنے کی ، اس کے اپنے سوا ، کہیں اور جگہ نہ تھی ، پھر اس نے ان کی طرف نظر عنایت کی کہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوں ، یقیناً اللہ ہی ہے بہت نظر عنایت کرنے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ‘‘ سے لے کر اس ٹکڑے تک :’’ اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے تقویٰ اختیار کرو اور سچ بولنے والوں میں شامل ہو جاؤ ۔‘‘ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے مجھے اسلام کا راستہ دکھانے کے بعد ، مجھ پر کبھی کوئی ایسا انعام نہیں کیا جس کی میرے دل میں اس سچ سے زیادہ قدر ہو جو میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے بولا تھا ، ( یعنی ) اس بات کی کہ میرے ساتھ ایسا نہ ہوا کہ میں آپ کے سامنے جھوٹ بولتا اور ان لوگوں کی طرح ہلاک ہو جاتا جنھوں نے جھوٹ بولا تھا ۔ جن لوگوں نے جھوٹ بولا تھا ، اللہ تعالیٰ نے جب وحی نازل فرمائی تو جتنی ( کبھی ) کسی شخص کی مذمت کی ، ان کی اس سے کہیں زیادہ مذمت فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :’’ یہ لوگ جب تم ( مدینہ میں ) اس کے پاس واپس پہنچو گے تو ضرور اللہ کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کر لو ، لہذا تم ان سے رخ پھیر لو ، یہ ( سرتاپا ) گندگی ہیں اور جو کچھ یہ کرتے رہے اس کی جزا کے طور پر ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔ یہ تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم لوگ ان سے راضی ہو جاؤ ، اگر تم ان سے راضی ہو بھی جاؤ تو اللہ تعالیٰ ( ان ) فاسق لوگوں سے کبھی راضی نہ ہو گا ۔‘‘ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے کہا : ہم تینوں کو مخاطب کر کے ، ہمیں ان لوگوں کے معاملے سے پیچھے ( مؤخر ) کر دیا گیا تھا جنھوں نے قسمیں کھائی تھیں اور ( بظاہر ) وہ قسمیں قبول کر لی گئیں تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے ( تجدید ) بیعت فرمائی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا بھی کی تھی ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے ہمارا معاملہ مؤخر فرما دیا تھا حتی کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے بارے میں فیصلہ فرمایا ، اسی کے متعلق اللہ عزوجل نے فرمایا :’’ اور ان تینوں پر بھی نظر عنایت فرمائی جن کو پیچھے ( مؤخر ) کر دیا گیا تھا ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ہمارے پیچھے کر دیے جانے کے بارے میں جو فرمایا ہے اس سے مراد ہمارا جنگ سے پیچھے رہ جانا نہ تھا بلکہ اس شخص کی نسبت ہمیں ( ہمارا معاملہ ) مؤخر کر دینا اور ہمارے معاملے کے فیصلے کو بعد میں کرنا مراد تھا کہ جس نے آپ ﷺ کے سامنے قسمیں کھائی ، معذرت کی تو آپ نے اس سے قبول کر لی ۔