Back to Sahih Muslim

Characteristics of The Hypocrites And Rulings Concerning Them

كتاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ

Chapter 51

Hadith 7064
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ الزِّيَادِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ قَالَ أَبُو جَهْلٍ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ هَذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِنْ السَّمَاءِ أَوْ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ فَنَزَلَتْ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنْتَ فِيهِمْ وَمَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ وَمَا لَهُمْ أَلَّا يُعَذِّبَهُمْ اللَّهُ وَهُمْ يَصُدُّونَ عَنْ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ.
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Abu Jahl said: O Allah, if he is true, then shower upon us the volley of stones from the sky or inflict upon us a grievous torment, and it was on this occasion that this verse was revealed: 'Allah would never torment them so long as you are amongst them. And Allah is not going to torment them as long as they seek forgiveness. And why is it that Allah should not torment them and they prevent people from coming to the sacred mosque.... (viii. 34) to the end.

Urdu

ہم سے عبید اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا, شعبہ نے عبد الحمید زیادی سے روایت کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا : وہ کہہ رہے تھے کہ

ابو جہل نے کہا : اے اللہ !اگر ( یہ جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں ) یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ ۔ تو اس پر ( آیت ) نازل ہوئی : " اللہ تعالیٰ اس وقت ان پر ( اس طرح کا ) عذاب بھیجنے والا نہ تھا جبکہ آپ بھی ان میں موجود تھے اور اللہ تعالیٰ ان کو عذاب دینے والا نہ تھا جب وہ ( علیحدگی میں ) استغفار کیے جارہے تھے ۔ اور انھیں کیا ہے کہ اللہ انھیں عذاب نہ دےجبکہ وہ ( ایمان لانے والوں کو ) مسجد حرام سے روکتے ہیں ۔ " آیت کے آخرتک ۔

Hadith 7065
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى الْقَيْسِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ عَنْ أَبِيهِ حَدَّثَنِي نُعَيْمُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ أَبُو جَهْلٍ هَلْ يُعَفِّرُ مُحَمَّدٌ وَجْهَهُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ قَالَ فَقِيلَ نَعَمْ فَقَالَ وَاللَّاتِ وَالْعُزَّى لَئِنْ رَأَيْتُهُ يَفْعَلُ ذَلِكَ لَأَطَأَنَّ عَلَى رَقَبَتِهِ أَوْ لَأُعَفِّرَنَّ وَجْهَهُ فِي التُّرَابِ قَالَ فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي زَعَمَ لِيَطَأَ عَلَى رَقَبَتِهِ قَالَ فَمَا فَجِئَهُمْ مِنْهُ إِلَّا وَهُوَ يَنْكُصُ عَلَى عَقِبَيْهِ وَيَتَّقِي بِيَدَيْهِ قَالَ فَقِيلَ لَهُ مَا لَكَ فَقَالَ إِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَخَنْدَقًا مِنْ نَارٍ وَهَوْلًا وَأَجْنِحَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ دَنَا مِنِّي لَاخْتَطَفَتْهُ الْمَلَائِكَةُ عُضْوًا عُضْوًا قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَا نَدْرِي فِي حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ أَوْ شَيْءٌ بَلَغَهُ كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَى أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى إِنَّ إِلَى رَبِّكَ الرُّجْعَى أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهَى عَبْدًا إِذَا صَلَّى أَرَأَيْتَ إِنْ كَانَ عَلَى الْهُدَى أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَى أَرَأَيْتَ إِنْ كَذَّبَ وَتَوَلَّى يَعْنِي أَبَا جَهْلٍ أَلَمْ يَعْلَمْ بِأَنَّ اللَّهَ يَرَى كَلَّا لَئِنْ لَمْ يَنْتَهِ لَنَسْفَعًا بِالنَّاصِيَةِ نَاصِيَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍ فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ سَنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ كَلَّا لَا تُطِعْهُ زَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ فِي حَدِيثِهِ قَالَ وَأَمَرَهُ بِمَا أَمَرَهُ بِهِ وَزَادَ ابْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى فَلْيَدْعُ نَادِيَهُ يَعْنِي قَوْمَهُ.
English

Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:

Abu Jahl asked (people) whether Muhammad placed his face (on the ground) in their presence. It was said to him: Yes. He said: By Lat and `Uzza. If I were to see him do that, I would trample his neck, or I would smear his face with dust. He came to Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) as he was engaged in prayer and thought of trampling his neck (and the people say) that he came near him but turned upon his heels and tried to repulse something with his hands. It was said to him: What is the matter with you? He said: There is between me and him a ditch of fire and terror and wings. Thereupon Allah's Messenger (may peace he upon him) said: If he were to come near me the angels would have torn him to pieces. Then Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse- (the narrator) said: We do not know whether it is the hadith transmitted by Abu Huraira رضی اللہ عنہ or something conveyed to him from another source: Nay, man is surely inordinate, because he looks upon himself as self-sufficient. Surely to thy Lord is the return. Hast thou seen him who forbids a servant when he prays? Seest thou if he is on the right way, or enjoins observance of piety? Seest thou if he [Abu Jahl] denies and turns away? Knowest he not that Allah sees? Nay, if he desists not, We will seize him by the forelock-a lying, sinful forelock. Then let him summon his council. We will summon the guards of the Hell. Nay! Obey not thou him (lcvi, 6-19). (Rather prostrate thyself.) Ubaidullah made this addition: It was after this that (prostration) was enjoined upon and Ibn Abd al-Ala made this addition that by Nadiyah he meant his people.

Urdu

عبید اللہ بن معاذ اور محمد بن عبد الاعلی قیسی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے نعیم بن ابی ہندنےابوحازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہا

ابوجہل نے کہا : کیا محمدتم لوگوں کے سامنے اپنا چہرہ زمین پر رکھتے ہیں؟ ( حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو کہا گیا : ہاں چنانچہ اس نے کہا : لات اور عزیٰ کی قسم !اگر میں نے ان کو ایسا کرتے ہوئے دیکھ لیا تو میں ان کی گردن کو روندوں گا یا ان کے چہرےکو مٹی میں ملاؤں گا ( العیاذ باللہ! ) کہا : پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے وہ آپ کے پاس آیا اور یہ ارادہ کیا کہ آپ کی گردن مبارک کوروندے ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تووہ انھیں اچانک ایڑیوں کے بل پلٹتا ہوا اور اپنے دونوں ہاتھوں ( کو آگے کر کے ان ) سے اپنا بچاؤ کرتا ہوا نظر آیا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو اس سے کہا کیا : تمھیں کیا ہوا ؟تو اس نے کہا : میرے اور اس کے درمیان آگ کی ایک خندق اور سخت ہول ( پیدا کرنے والی مخلوق ) اور بہت سے پر تھے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو اچک لیتے ۔ ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیاتنازل فرمائیں ۔ ( ابو حازم نے کہا ۔ ( ہمیں معلوم نہیں کہ یہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہوئی ) اپنی حدیث ہے یا انھیں ( کسی کی طرف سے ) پہنچی ہے ۔ ( وہ آیات یہ تھیں ) "" اس کے سواکوئی بات نہیں کہ انسان ہر صورت میں سر کشی کرتا ہے اس لیے کہ وہ خود کو دیکھتا ہے کہ وہ ہر ایک سے مستغنی ہے حقیقت یہ ہے کہ ( اسے ) آپ کے رب کی طرف واپس جانا ہے ۔ آپ نے اسے دیکھا جو روکتا ہے ۔ ( اللہ کے ) بندے کو جب وہ نماز اداکرتا ہے ۔ کیا تم نے دیکھا کہ اگر وہ ( اللہ کا بندہ ) ہدایت پر ہو اور تقوی کا حکم دیتا ہو ( تو روکنے والے کا کیا بنے گا؟ ) کیا آپ نے دیکھا کہ آکر اس یعنی ابو جہل نے جھٹلایا ہے اور ہدایت سے منہ پھیراہے ۔ ( تو ) کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھتا ہے ۔ ہر گز نہیں !اگر وہ باز نہ آیا تو ہم ( اسے ) پیشانی سے پکڑ کر کھینچیں کے ۔ ( اس کی ) جھوٹی گناہ کرنے والی پیشانی سے پھر وہ اپنی مجلس کو ( مددکے لیے ) پکارے ہم عذاب دینے والے فرشتوں کو بلائیں گے ۔ ہر گز نہیں!آپ اس کی ( کوئی بات بھی ) نہ مانیں ۔ "" عبید اللہ ( بن معاذ ) نے اپنی حدیث میں مزید کہا ۔ ( ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے أَوْ أَمَرَ بِالتَّقْوَىٰ کی تفسیر کرتے ہوئے ) کہا : اور اس بات کا حکم دیتا ہو جس کا اس ( اللہ ) نے اسے حکم دیا ہے ۔ اور ( محمد ) بن عبد الاعلیٰ نے مزید یہ کہا : "" وہ اپنی مجلس کو پکارے "" یعنی اپنی قوم کو ۔

Hadith 7066
Sahih
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ جُلُوسًا وَهُوَ مُضْطَجِعٌ بَيْنَنَا فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِنَّ قَاصًّا عِنْدَ أَبْوَابِ كِنْدَةَ يَقُصُّ وَيَزْعُمُ أَنَّ آيَةَ الدُّخَانِ تَجِيءُ فَتَأْخُذُ بِأَنْفَاسِ الْكُفَّارِ وَيَأْخُذُ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ وَجَلَسَ وَهُوَ غَضْبَانُ يَا أَيَّهَا النَّاسُ اتَّقُوا اللَّهَ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ شَيْئًا فَلْيَقُلْ بِمَا يَعْلَمُ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّهُ أَعْلَمُ لِأَحَدِكُمْ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا يَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَكَلِّفِينَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا رَأَى مِنْ النَّاسِ إِدْبَارًا فَقَالَ اللَّهُمَّ سَبْعٌ كَسَبْعِ يُوسُفَ قَالَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ حَصَّتْ كُلَّ شَيْءٍ حَتَّى أَكَلُوا الْجُلُودَ وَالْمَيْتَةَ مِنْ الْجُوعِ وَيَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ أَحَدُهُمْ فَيَرَى كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ فَأَتَاهُ أَبُو سُفْيَانَ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ إِنَّكَ جِئْتَ تَأْمُرُ بِطَاعَةِ اللَّهِ وَبِصِلَةِ الرَّحِمِ وَإِنَّ قَوْمَكَ قَدْ هَلَكُوا فَادْعُ اللَّهَ لَهُمْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّكُمْ عَائِدُونَ قَالَ أَفَيُكْشَفُ عَذَابُ الْآخِرَةِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ فَالْبَطْشَةُ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ مَضَتْ آيَةُ الدُّخَانِ وَالْبَطْشَةُ وَاللِّزَامُ وَآيَةُ الرُّومِ.
English

Masruq reported:

We were sitting in the company of Abdullah and he was lying on the bed that a person came and said: Abu Abdul-Rabmin, a story-teller at the gates of Kinda says that the verse (of the Qur'an) which deals with the smoke implies that which is about to come and it would hold the breath of the infidels and would inflict the believers with cold. Thereupon Abdullah got up and said in anger. O people, fear Allah and say only that which one knows amongst you and do not say which he does not know and he should simply say: Allah has the best knowledge for He has the best knowledge amongst all of you. It does not behave him to say that which he does not know. Allah has the best knowledge of it. Verily Allah, the Exalted and Glorious, said to His Prophet ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) to state: I do not ask from you any remuneration and I am not the one to put you in trouble, and when Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) saw people turning back (from religion) he said: O Allah, afflict thern with seven famines as was done in the case of Yusuf, so they were afflicted with famine by which they were forced to eat everything until they were obliged to eat the hides and the dead bodies because of hunger, and every one of them looked towards the sky and he found a smoke. And Abu Sufyan came and he said: Muhammad, you have come to command us to obey Allah and cement the ties of blood- relation whereas your people are undone; supplicate Allah for tlicm. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, said: Wait for the day when there would be clear smoke from the sky which would envelop people and that would be grievous torivent up to the words: you are going to return to (evil). (if this verse implied the torment of the next life) could the chastisement of the next (life) be averted (as the Qur'an states): On the day when We seize (them) with the most violent seizing; surely We shall exact retribution (xliv. 16)? The seizing (in the hadith) implies that of the Day of Badr. And so far as the sign of smoke, seizing, inevitability and signs of Rome are concerned, they have become things of the past now.

Urdu

ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, منصور نے ابو ضحیٰ ( مسلم بن صحیح ) سے ، انھوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا

ہم حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اور وہ ہمارے درمیان ( اپنے بستر یا بچھونے پر ) لیٹے ہوئے تھے تو ایک شخص آیا اور کہنے لگا : ابو عبدالرحمن!ابواب کندہ ( کوفہ کا ایک محلہ ) میں ایک قصہ گو ( واعظ ) آیا ہوا ہے ، وہ وعظ کررہا ہے اور یہ کہتا ہے کہ دھوئیں والی ( اللہ کی ) نشانی آئے گی اور ( یہ د ھواں ) کافروں کی روحیں قبض کرلے گا اور مومنوں کو یہ زکام جیسی کیفیت سے دو چار کرے گا ۔ حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا اور وہ غصے کے عالم میں اٹھ کر بیٹھ گئے ، لوگو! اللہ سے ڈرو ، تم میں سے جو شخص کوئی چیز جانتا ہو ، وہ اتنی ہی بیان کرے جتنی جانتاہو اور جو نہیں جانتا ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ بے شک وہ ( اللہ تعالیٰ ) تم میں سے اس کو ( بھی ) زیادہ جاننے والاہے ۔ جو اس بات کے بارے میں جو وہ نہیں جانتا ، یہ کہتا ہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ اللہ عزوجل نے ا پنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا؛ "" کہہ دیجئے : میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی بناوٹ کرنے والوں میں سے ہوں ۔ "" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب لوگوں کی دین سے روگردانی دیکھی تو آپ نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : "" اے اللہ! ( ان پر ) یوسف علیہ السلام کےسات سالوں جیسے سات سال ( بھیج دے ۔ ) "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو انھیں ( قحط کے ) ایک سال نے آلیا جس نے ہر چیز کاصفایاکرایا ، یہاں تک کہ ان ( مشرک ) لوگوں نے بھوک سے چمڑے اور مردار تک کھائے ۔ ان میں سے کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا تو اسے دھوئیں کے جیسی ایک چیز چھائی ہوئی نظر آتی ۔ چنانچہ ابو سفیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا : اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ آئے ہیں ، اللہ کی اطاعت اور صلہ رحمی کاحکم دیتے ہیں ، آپ کی قوم ( قحط اور بھوک سے ) ہلاک ہورہی ہے ۔ ان کےلیے اللہ سے دعا کریں ۔ اللہ عزوجل نے فرمایا : "" آپ اس دن کا انتظار کریں جب آسمان ایک نظر آنے والے دھوئیں کو لے آئے گا ۔ ( اور وہ ) لوگوں کو ڈھانپ لے گا ۔ یہ دردناک عذاب ہوگا ، سے لے کر اس کے فرمان : "" نے شک تم ( کفر میں ) لوٹ جانے والے ہوگئے "" تک ۔ ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کیا آخرت کا عذاب ہٹایا جائے گا؟ "" جس دن ہم تم پر بڑی گرفت کریں گے ( اس دن ) ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ "" وہ گرفت بدر کے دن تھی ۔ اب تک دھوئیں کی نشانی گرفت اور چمٹ جانےوالا عذاب ( بدر میں شکست فاش اور قتل ) اور روم ( کی فتح ) کی نشانی ( سب ) آکر گذر چکی ہیں ۔

Hadith 7067
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَوَكِيعٌ و حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ كُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ و حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَأَبُو كُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمِ بْنِ صُبَيْحٍ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ جَاءَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٌ فَقَالَ تَرَكْتُ فِي الْمَسْجِدِ رَجُلًا يُفَسِّرُ الْقُرْآنَ بِرَأْيِهِ يُفَسِّرُ هَذِهِ الْآيَةَ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ قَالَ يَأْتِي النَّاسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ دُخَانٌ فَيَأْخُذُ بِأَنْفَاسِهِمْ حَتَّى يَأْخُذَهُمْ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ عَلِمَ عِلْمًا فَلْيَقُلْ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَعْلَمْ فَلْيَقُلْ اللَّهُ أَعْلَمُ مِنْ فِقْهِ الرَّجُلِ أَنْ يَقُولَ لِمَا لَا عِلْمَ لَهُ بِهِ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّمَا كَانَ هَذَا أَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْطٌ وَجَهْدٌ حَتَّى جَعَلَ الرَّجُلُ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجَهْدِ وَحَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اسْتَغْفِرْ اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهُمْ قَدْ هَلَكُوا فَقَالَ لِمُضَرَ إِنَّكَ لَجَرِيءٌ قَالَ فَدَعَا اللَّهَ لَهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّا كَاشِفُوا الْعَذَابِ قَلِيلًا إِنَّكُمْ عَائِدُونَ قَالَ فَمُطِرُوا فَلَمَّا أَصَابَتْهُمْ الرَّفَاهِيَةُ قَالَ عَادُوا إِلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ.
English

Masruq reported:

There came to Abdullah رضی اللہ عنہ a person and said: I have left behind in the mosque a man who explains the Qur'an according to his personal discretion and he explained this verse: So wait for the day when the Heaven brings a clear smoke. He says that a smoke would come to the people on the Day of Resurrection anl it will withhold breath and they would be inflicted with cold. 'Abdullahرضی اللہ عنہ said: He who has knowledge should say something and he who has no knowledge should simply say: Allah is best aware. This reflects the understanding of a person that he should say about that which he does not know that it is Allah who knows best. The fact is that when the Quraish disobeyed Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) he supplicated Allah that they should be afflicted with famine and starvation as was done in case of Yusuf. And they were so much hard pressed that a person would ace the sky and he would see between him and the sky something like smoke and they were so much hard pressed that they began to cat the bones, and a person came to Allah's Apostle ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) and said: Allah's Messenger. seek forgiveness for the tribe of Mudar for (its people) have been undone. The Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: For Mudar? You are overbold, but he supplicated Allah for them. It was upon this that this verse was revealed: We shall remove the chastisement a little, but they will surely return to evil (xliv. 15). lie (the narrator) said: There was a downpoor of rain upon them. When there was some relief for them they returned to the same position as they had been before, and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: So wait for the day when the heaven brings a clear smoke enveloping people. This is a grievous torment on the day when We seize them with the most violent seizing; surely, We shall exact retribution. And this (seizing) implied (Battle) of Badr.

Urdu

ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ابو معاویہ ، وکیع ، اور جریر نے اعمش سے ، انھوں نے مسلم بن صحیح سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی کہ

حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : میں مسجد میں ایک ایسے شخص کو چھوڑ کر آرہا ہوں جو اپنی رائے سے قرآن مجید کی تفسیر کرتا ہے وہ ( قرآن کی ) آیت : " جب آسمان سے واضح دھواں اٹھے گا " کی تفسیر کرتا ہے ، کہتا ہے : " قیامت کےدن لوگوں کے پاس ایک دھواں آئے گا جو لوگوں کی سانسوں کو گرفت میں لے لے گا ، یہاں تک کہ لوگوں کو زکام جیسی کیفیت ( جس میں سانس لینی مشکل ہوجاتی ہے ) درپیش ہوگی ، توحضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے کہا : جس کے پاس علم ہو وہ اس کے مطابق بات کہے اور جو نہ جانتا ہو ، وہ کہے : اللہ زیادہ جاننے والا ہے ۔ یہ بات انسان کے فہم ( دین ) کاحصہ ہے ۔ کہ جس بات کو وہ نہیں جانتا اس کے بارے میں کہے : اللہ زیادہ جاننے والاہے ۔ اس ( دھوئیں ) کی حقیقت یہ تھی کہ قریش نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سخت نافرمانی سے کام لیا تو آپ نے ان کے خلاف یوسف علیہ السلام ( کے زمانےوالے ) قحط کے سالوں جیسی قحط سالی کی دعاکی ۔ انھیں قحط اور تنگ دستی نے آلیا یہاں تک کہ ( ان میں سے ) کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھنے لگتا تو بھوک کی شدت سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں ساچھایا ہوا نظرآتا یہاں تک کہ ان لوگوں نے ( بھوک کی شدت سے ) ہڈیاں تک کھائیں ، چنانچہ ( ان میں سے ) ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ( قبیلہ ) مضر کے لئے بخشش طلب فرمائیں ۔ وہ ہلاکت کا شکار ہیں ، تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مضر کے لئے؟تو بہت جراءت والا ہے ( کہ اللہ سے شرک اور اس کے رسول سے بغض کے باوجود د رخواست کررہا ہے کہ میں تمہارے لئے اللہ سے دعا کروں ) " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر بھی ) ان کے حق میں دعا فرمادی ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( آیت ) نازل فرمائی : " ہم ( تم سے ) تھوڑے عرصے کے لئے عذاب ہٹادیتے ہیں ۔ تم ( پھر کفر ہی میں ) لوٹنے والا ہو ۔ " ( حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان پر بارش برسائی گئی ۔ انھیں خوشحالی مل گئی ، کہا : ( تو پھر ) وہ اپنی اسی روش پر لوٹ گئے جس سے پہلے تھے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ حصہ ) نازل فرمایا : " آپ انتظار کیجئے جب آسمان ظاہر دھواں لے آئے گا ۔ جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا ، یہ دردناک عذاب ہوگا ۔ ( پھر یہ آیت نازل فرمائی ) جس دن ہم بڑ ی گرفت میں لیں گے ، ہم انتقام لینے والے ہوں گے ۔ " کہا : یعنی جنگ بدر کو ۔

Hadith 7068
Sahih
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَى عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ خَمْسٌ قَدْ مَضَيْنَ الدُّخَانُ وَاللِّزَامُ وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ وَالْقَمَرُ.
English

Abdullah رضی اللہ عنہ said:

Five signs have (become things) of the past (and have proved the truth of the Holy Prophet): (Enveloping) by the smoke, inevitable (punishment to the Meccans at Badr), (the victory of) Rome, (violent) seizing (of the Meccans at Badr) and (the splitting up of) the Moon.

Urdu

قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ضحیٰ سے ، انھوں نے مسروق سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

پانچ ( نشانیاں گزر چکی ہیں : دھواں ، چمٹ جانے والا عذاب ( بدر کے دن شکست اور ہلاکتیں ) روم کی فتح ( بدر کےدن ستر مشرکوں کی گرفتاری ) سخت گرفت اور چاند ( کادو ٹکڑے ہونا ۔ )

Hadith 7069
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ.
English

This hadith has been narrated on the authority of A'mash with the same chain of transmitters.

Urdu

ہم سے ابو سعید الاشجاج نے بیان کیا, وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

Hadith 7070
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنْ الْعَذَابِ الْأَدْنَى دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ قَالَ مَصَائِبُ الدُّنْيَا وَالرُّومُ وَالْبَطْشَةُ أَوْ الدُّخَانُ شُعْبَةُ الشَّاكُّ فِي الْبَطْشَةِ أَوْ الدُّخَانِ.
English

Ubayy bin Ka'b رضی اللہ عنہ reported:

The words of Allah, the Exalted and Glorious: We will, surely, make them taste the lesser punishment before the severer punishment (that haply they may return) (xxxii. 21) imply the torments of the world. (victory of) Rome, seizing (of the Meccans), or smoke. And Shubah was in doubt about seizing or smoke.

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا: محمد بن جعفر نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے عزرۃ سے انھوں نے حسن عرفی سے ، انھوں نے یحییٰ بن جزار سے ، انھوں نے عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ سے

اللہ عزوجل کے فرمان : " اور بڑے عذاب سے پہلے ہم انھیں قریب کا ( چھوٹا ) عذاب چکھائیں گے ۔ " ( کی تفسیر ) کے بارے میں روایت کی ، انھوں نے کہا ( اسی ) دنیا میں پیش آنے والے مصائب ، روم کی فتح ، گرفت ( جنگ بدر ) یا دھواں ( مراد ) ہیں ۔ گرفت اور دھوئیں کے بارے میں شک کرنے والے شعبہ ہیں ۔ ( ان سے اوپر کے راویوں نے یقین سے بتایا ۔ شعبہ نے کہا : انھیں شک ہوا ہے )

Hadith 7071
Sahih
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشِقَّتَيْنِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا.
English

Abu Ma'mar reported on the authority of Abdullah رضی اللہ عنہ:

The moon was split up during lifetime by Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) in two parts and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: Bear testimony to this.

Urdu

ہم سے عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا: ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن ابی نجیح کی سند سے بیان کیا, مجاہد نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہوکر دوٹکڑے ہوگیاتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ( لوگو! اس کو دیکھ لو اور ) گواہ بن جاؤ ۔ "

Hadith 7072
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ و حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي كِلَاهُمَا عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا مِنْجَابُ بْنُ الْحَارِثِ التَّمِيمِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا ابْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى إِذَا انْفَلَقَ الْقَمَرُ فِلْقَتَيْنِ فَكَانَتْ فِلْقَةٌ وَرَاءَ الْجَبَلِ وَفِلْقَةٌ دُونَهُ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اشْهَدُوا.
English

This hadith has been transmitted on the authority of Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ (who said):

We were along with Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) at Mina, that moon was split up into two. One of its parts was behind the mountain and the other one was on this side of the mountain. Allah's Messenger (ﷺ) said to us: Bear witness to this.

Urdu

ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو کریب اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا, ابو معاویہ ، حفص بن غیاث اور ( علی ) ابن مسہر نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم ( نخعی ) سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

ایک بار ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منیٰ میں موجودتھے کہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوگیا ، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے ( نظر آتا ) تھا اوردوسرا ٹکڑا اس سے آگے ( دوسری طرف نظر آتا ) تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا : " ( اس کے ) گواہ بن جاؤ ۔ "

Hadith 7073
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِلْقَتَيْنِ فَسَتَرَ الْجَبَلُ فِلْقَةً وَكَانَتْ فِلْقَةٌ فَوْقَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اشْهَدْ.
English

Abdullah bin Mas'ud رضی اللہ عنہ reported:

The moon was split up in two parts during the lifetime of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ). The mountain covered one of its parts and one part of it was above the mountain and Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) said: 'O Allah, Bear witness to this.

Urdu

ہم سے عبید اللہ بن معاذ العنبری نے بیان کیا، ہم سے میرے والد نے بیان کیا, شعبہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چاند تقسیم ہوکردوٹکڑے ہوگیا ، ایک ٹکڑے کو پہاڑ نے ڈھانپ لیا ( اس پہاڑ کے پیچھے نظر آتا تھا ) اورایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ ! تو گواہ رہ ۔ "

Hadith 7074
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ.
English

A similar report (as Hadith no. 7073) was narrated from Ibn Umar رضی اللہ عنہ , from the Prophet.

Urdu

عبید اللہ بن معاذ نے کہا , ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مجاہد سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔

Hadith 7075
Sahih
و حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ كِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِإِسْنَادِ ابْنِ مُعَاذٍ عَنْ شُعْبَةَ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ ابْنِ أَبِي عَدِيٍّ فَقَالَ اشْهَدُوا اشْهَدُوا.
English

A similar Hadith (as no. 7073) was narrated from Shobah, but in the Hadith of Ibn 'Adiyy it says:

"And he said: 'Bear witness, Bear witness.'"

Urdu

مجھ سے بشر بن خالد نے بیان کیا, محمد بن جعفر اور ابن عدی دونوں نے شعبہ سے ، شعبہ سے ابن معاذ کی سند کے ساتھ اسی کی حدیث نے مانند روایت کی ، مکر ابن ابی عدی کی حدیث میں ہے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( اس کے ) گواہ بن جاؤ ، گواہ بن جاؤ ۔ "

Hadith 7076
Sahih
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَهْلَ مَكَّةَ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرِيَهُمْ آيَةً فَأَرَاهُمْ انْشِقَاقَ الْقَمَرِ مَرَّتَيْنِ.
English

Anas رضی اللہ عنہ reported:

The people of Mecca demanded from Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) that he should show them (some) signs (miracles) and he showed twice the splitting of the moon.

Urdu

مجھ سے زہیر بن حرب اور عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا: ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا, شیبان نےکہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ

اہل مکہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کہ آپ انھیں ( اپنی نبوت کی سچائی کی ) کوئی نشانی دکھائیں تو آپ نے انھیں چاند کے دو ٹکڑے ہونا دکھایا ۔

Hadith 7077
Sahih
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ بِمَعْنَى حَدِيثِ شَيْبَانَ.
English

This hadith has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.

Urdu

مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا , معمر نے ہمیں قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شیبان کی حدیث سے ہم معنی روایت کی ۔

Hadith 7078
Sahih
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ و حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ وَأَبُو دَاوُدَ كُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ انْشَقَّ الْقَمَرُ فِرْقَتَيْنِ وَفِي حَدِيثِ أَبِي دَاوُدَ انْشَقَّ الْقَمَرُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

Anas رضی اللہ عنہ reported:

The moon was split up in two parts and in the hadith recorded in Abu Dawud, the words are: The moon was split up into two parts during the life of Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ).

Urdu

ہم سے محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر اور ابوداؤد نے بیان کیا اور ہم سے ابن بشار نے بیان کیا, یحییٰ بن سعید ، محمد بن جعفر اور ابو داود سب نے شعبہ سے ، انھوں نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

چاند دو ٹکڑوں میں پھٹ گیا ۔ اور ابو داود ( طیالسی ) کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں چاند پھٹ گیا ۔

Hadith 7079
Sahih
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ قُرَيْشٍ التَّمِيمِيُّ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّ الْقَمَرَ انْشَقَّ عَلَى زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
English

Ibn 'Abbas رضی اللہ عنہ reported:

The moon was split up during the lifetime of Allah's Messenger (ﷺ).

Urdu

ہم سے موسیٰ بن قریش التمیمی نے بیان کیا، ہم سے اسحاق بن بکر بن مدر نے بیان کیا، مجھ سے میرے والد نے بیان کیا، ان سے جعفر بن ربیعہ نے بیان کیا، ان سے عرق بن مالک نے، وہ عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے, حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چاند پھٹ گیا ۔

Hadith 7080
Sahih
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَحَدَ أَصْبَرُ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ يُشْرَكُ بِهِ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ ثُمَّ هُوَ يُعَافِيهِمْ وَيَرْزُقُهُمْ.
English

Abu Musa رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) said: There is none to show more patience at listening to the most irksome things than Allah, the Exalted and Glorious. 'Partnership is associated to Him (polytheism), and (fatherhood) of a child is attributed to Him, but in spite of this He protects them (people) and provides them sustenance.'

Urdu

ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو معاویہ اور ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے ابو عبدالرحمن سلمی سے اور انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تکلیف دل باتیں سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا کوئی نہیں ، ا س کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہرایا جاتا ہے اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے پھر بھی وہ انھیں عافیت میں رکھتا ہے اور انھیں رزق عطا کرتا ہے ۔ "

Hadith 7081
Sahih
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ قَالَا حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ إِلَّا قَوْلَهُ وَيُجْعَلُ لَهُ الْوَلَدُ فَإِنَّهُ لَمْ يَذْكُرْهُ.
English

A similar report (as Hadith no. 7080) was narrated from Abu Musa رضی اللہ عنہ from the prophet ﷺ, except the words, "a son is attributed to him," which he did not mention.

Urdu

ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر اور ابو سعید اشجع نے بیان کیا, وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے ابو عبدالرحمن سلمی سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، سوائے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کے : " اور اس کی اولاد بنائی جاتی ہے " انھوں نے اس ( قول ) کو بیان نہیں کیا ۔

Hadith 7082
Sahih
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحَدٌ أَصْبَرَ عَلَى أَذًى يَسْمَعُهُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى إِنَّهُمْ يَجْعَلُونَ لَهُ نِدًّا وَيَجْعَلُونَ لَهُ وَلَدًا وَهُوَ مَعَ ذَلِكَ يَرْزُقُهُمْ وَيُعَافِيهِمْ وَيُعْطِيهِمْ.
English

Abdullah bin Qais رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌ ) that none is more forbearing in listening to the most irksome things than Allah, the Exalted. They associate rivals with him, attribute sonhood to Him, but in spite of this He provides them sustenance, grants them safety, confers upon them so many things.

Urdu

عبیداللہ بن سعید نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو اسامہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے ابو عبدالرحمان سلمی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن قیس ( ابو موسیٰ اشعری ) رضی اللہ عنہ نے کہا کہ

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی نہیں جو تکلیف دہ باتوں پر جنھیں وہ سنتا ہے اللہ تعالیٰ سے زیادہ صبر کرنے والا ہو ، لوگ ( دوسروں کو ) اس کاشریک ٹھہراتے ہیں ، اس کی اولاد بناتے ہیں اور وہ اس ( سب کچھ ) ک باوجود انھیں رزق دیتا ہے ، عافیت بخشتا ہے اور ( جو مانگتے ہیں ) عطا کرتا ہے ۔ "

Hadith 7083
Sahih
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِأَهْوَنِ أَهْلِ النَّارِ عَذَابًا لَوْ كَانَتْ لَكَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهَا فَيَقُولُ نَعَمْ فَيَقُولُ قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ هَذَا وَأَنْتَ فِي صُلْبِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ أَحْسِبُهُ قَالَ وَلَا أُدْخِلَكَ النَّارَ فَأَبَيْتَ إِلَّا الشِّرْكَ.
English

Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:

Allah's Messenger ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌) as saying: Allah, the Exalted and High, would say to one who shall have to undergo the least torture (on the Day of Resurrection): Would you like to go as ransom if you had all worldly riches; he would say: Yes. Allah would say to him: When you were in the loins of Adam, I demanded from you something easier than this that you should not associate anything with Me. (The narrator says): I think He also said: I would not cause you to enter Hell-Fire but you defied and attributed Divinity (to others besides Me).

Urdu

عبید اللہ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو عوان جونی سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ تبارک وتعالیٰ اس شخص سے ، جسے اہل جہنم میں سب سے کم عذاب ہوگا ، فرمائے گا : اگر پوری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ۔ تمہارے پاس ہوتو ( عذاب سے چھوٹ جانے کے لئے ) اسے بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو وہ ( اللہ تعالیٰ ) فرمائے گا : میں نے تم سے اس وقت جب تم آدم علیہ السلام کی پشت میں تھے ، اس کی نسبت بہت کم کا مطالبہ کیا تھا کہ تم شرک نہ کرنا ۔ میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( آگے یہ ) فرمایا ۔ ۔ ۔ اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا ، مگر تم نے شرک ( کرنے ) کے سوا ہر چیز سے انکارکردیا ۔ "