Characteristics of The Hypocrites And Rulings Concerning Them
كتاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ
Chapter 51
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters, but with a slight variation of wording (and the words are):
I shall not cause him to enter Hell. (The words subsequent to these) have not been mentioned.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے کہا , ہمیں شعبہ نے ابو عمران سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کررہے تھے ، اسی کے مانند ، سوائے ( اللہ تعالیٰ کے ) اس قول کے
" اور میں تمھیں آگ میں نہیں ڈالوں گا " انھوں نے اسے بیان نہیں کیا ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger (ﷺ) said: It would be said to the non-believers on the Day of Resurrection: If you were to possess gold, filling the whole earth, would you like to secure your freedom by paying that? He would say: Yes. Thereupon it would be said to him: Something easier (than this) was demanded from you (but you paid no heed to it).
ہم سے عبید اللہ بن عمر القواری، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا۔ اسحاق نے کہا: اس نے ہمیں خبر دی، اور دوسروں نے کہا: معاذ بن ہشام ( دستوائی ) نے قتادہ سےروایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " قیامت کے دن کافر سے کہا جائے گا : تمہارا کیا خیال ہے ، اگر تمہارے پاس زمین ( کی مقدار ) بھر سونا موجود ہوتو کیا تم ( جہنم کے عذاب سے بچنے کے لئے ) اس کو بطور فدیہ دے دو گے؟وہ کہے گا : ہاں ، تو اس سے کہا جائے گا : تم سے تو اس سے بہت آسان مطالبہ کیاگیا تھا ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported this hadith through another chain of transmitters and the words are:
It would be said to him: You have told a lie; what had been demanded from you was quite easier than this (the belief in the Oneness of Allah).
اور ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے روح بن عبادہ نے بیان کیا، اور ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب نے بیان کیا، یعنی ابن عطاء نے, سعید بن ابی عرو بہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، مگر انھوں نے ( اس طرح ) کہا
" تو اس سے کہاجائے گا :تم جھوٹ بولتے ہو ، تم سے تو اس سے بہت آسان ( بات کا ) مطالبہ کیاگیا تھا ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
A person said: Allah's Messenger, how the non-believers be made to assemble on the Day of Resurrection (by crawling) on their faces? Thereupon he said: Is He Who is powerful to make them walk on their feet not powerful enough to make them (crawl) upon their faces on the Day of Resurrection? Qatada said: Of course, it is so. (He adjured): By the might of our Lord.
مجھ سے زہیر بن حرب اور عبد بن حمید نے بیان کیا اور لفظ زہیر کا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا, شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
ایک شخص نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! قیامت کے روز کافر کو کس طرح منہ کے بل میدان حشر میں لایا جائے گا؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کہ جس نے دنیا میں پاؤں کے بل چلایا ہےوہ اس بات پر قادر نہیں کہ قیامت کے دن اسے منہ کے بل چلائے؟ "" قتادہ نے ( حدیث سنانے کے بعد ) کہا : کیوں نہیں ، ہمارے رب کی عزت کی قسم! ( وہ قادر ہے )
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said that one amongst the denizens of Hell who had led a life of ease and plenty amongst the people of the world would be made to dip in Fire only once on the Day of Resurrection and then it would be said to him: O, son of Adam, did you find any comfort, did you happen to get any material blessing? He would say: By Allah, no, my Lord. And then that person from amongst the persons of the world be brought who had led the most miserable life (in the world) from amongst the inmates of Paradise. and he would be made to dip once in Paradise and it would be said to him. O, son of Adam, did you face, any hardship? Or had any distress fallen to your lot? And he would say: By Allah, no, O my Lord, never did I face any hardship or experience any distress.
ہم سے عمرو الناقد نے بیان کیا، ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا، انہیں حماد بن سلمہ نے ثابت البنانی کی سند سے خبر دی, سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قیامت کے دن اہل دوزخ میں سے اس شخص کو لایا جائے گا جو دنیا میں سب سے زیادہ آسودہ تر اور خوشحال تھا ، پس دوزخ میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! کیا تو نے دنیا میں کبھی آرام دیکھا تھا؟ کیا تجھ پر کبھی چین بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! اے میرے رب! کبھی نہیں اور اہل جنت میں سے ایک ایسا شخص لایا جائے گا جو دنیا میں سب لوگوں سے سخت تر تکلیف میں رہا تھا ، جنت میں ایک بار غوطہ دیا جائے گا ، پھر اس سے پوچھا جائے گا کہ اے آدم کے بیٹے! تو نے کبھی تکلیف بھی دیکھی ہے؟ کیا تجھ پر شدت اور رنج بھی گزرا تھا؟ وہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! مجھ پر تو کبھی تکلیف نہیں گزری اور میں نے تو کبھی شدت اور سختی نہیں دیکھی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Verily, Allah does not treat a believer unjustly in regard to his virtues. He would confer upon him (His blessing) in this world and would give him reward in the Hereafter. And as regards a non-believer, he would be made to taste the reward (of virtue in this world) what he has done for himself so much that when it would be the Hereafter, he would find no virtue for which he should be rewarded.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے بیان کیا - اور لفظ زہیر کا ہے - انہوں نے کہا : ہم سے یزید بن ہارون نے بیان کیا , ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بے شک اللہ تعالیٰ کسی مومن کے ساتھ ایک نیکی کے معاملے میں بھی ظلم نہیں فرماتا ۔ اس کے بدلے اسے دنیا میں بھی عطا کرتا ہے اور آخرت میں بھی اس کی جزا دی جاتی ہے ۔ رہا کافر ، اسے نیکیوں کے بدلے میں جو اس نے دنیا میں اللہ کے لئے کی ہوتی ہیں ، اسی دنیا میں کھلا ( پلا ) دیا جاتاہے حتیٰ کہ جب وہ آخرت میں پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی باقی نہیں ہوتی جس کی اسے جزا دی جائے ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) thus told him: When a non-believer does good he is made to taste Its reward in this world. And so far as the believer is concerned, Allah stores (the reward) of his virtues for the Hereafter and provides him sustenance in accordance with his obedience to Him.
ہم سے عاصم بن نضر تیمی نے بیان کیا, معتمر کے والد ( سلیمان ) نے کہا : ہمیں قتادہ نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی
" بلاشبہ ایک کافر جب کوئی نیک کام کر تا ہے ۔ تو اس کے بدلے اسے دنیاکے کھانوں ( نعمتوں ) میں سے ایک لقمہ ( نعمت کی صورت میں ) کھلادیتاہے اور مومن اللہ تعالیٰ اس کی نیکیوں کا ذخیرہ آخرت میں کرتا جاتا ہے ۔ اور اس کی اطاعت شعاری پر دنیا میں ( بھی ) اسے رزق عطا فرماتا ہے ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
ہم سے محمد بن عبداللہ الرزی نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الوہاب بن عطا نے بیان کیا, سعید ( بن ابی عروبہ ) نے قتادہ سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان دونوں ( ہمام اور سلیمان ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Similitude of a believer is that of (a standing) crop which the air continues to toss from one side to another; in the same way a believer always (receives the strokes) of misfortune. The similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which does not move until it is uprooted.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا, عبدالاعلیٰ نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کی طرح ہے ۔ ہوا مسلسل اس کو ( ایک یا دوسری طرف ) جھکاتی رہتی ہے اور مومن پر مسلسل مصیبتیں آتی رہتی ہیں ، اور منافق کی مثال ودیوار درخت کی طرح ہے ( جس کا تناؤ ہوا میں بھی تن کرکھڑا رہتا ہے ) ۔ بلتا نہیں حتیٰ کہ ( ایک ہی بار ) اسے کاٹ کر گرادیاجاتا ہے ۔
It was narrated from Az-Zuhri with this chin of narrators (a Hadith similar to no. 7092).
ہم سے محمد بن رافع اور عبد بن حمید نے بیان کیا, عبدالرزاق نے کہا : ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی مگر عبدالرزاق کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " اسے جھکاتی رہتی ہے " کے بجائے " اسے موڑتی رہتی ہے " کے الفاظ ہیں ۔
Ka'b رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said that the similitude of a believer is that of a standing crop in a field which is shaken by wind and then it comes to its original position but it stands at its roots. The similitude of a non-believer is that of a cypress tree which stands on its roots and nothing shakes it but it is uprooted (with) one (violent stroke).
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے عبداللہ بن نمیر اور محمد بن بشر نے بیان کیا, زکریا بن ابی زائدہ نے سعد بن ابراہیم سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کی مثال کھیتی کے باریک تیلی جیسے تنے کی ہے ۔ ہوا اسے موڑ دیتی ، ایک مرتبہ زمین پر لٹادیتی ہے اور دوسری مرتبہ اسے سیدھا کریتی ہے ، یہاں تک کہ وہ پیلا ہوکر خشک ہوجاتا ہے اور کافر کی مثال ویودار درخت کی سی ہے جو اپنی جڑوں پر تن کر کھڑا ہوتا ہے ، اسے کوئی چیز موڑ نہیں سکتی ، یہاں تک کہ اس کا اکھڑ کاگرنا ایک ہی بار ہوتا ہے ۔ "
Ka'b bin Malik reported on the authority of his father:
The Messenger of Allah ﷺ said: The similitude of a believer is that of a standing crop. The wind sometimes shakes it and sometimes raises it up and then it comes to its destined end. And the similitude of a hypocrite is that of a cypress tree which is not affected by anything but is uprooted once for all.
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں بشر بن سری اور عبدالرحمن بن مہدی نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے سعد بن ابراہیم سے ، انھوں نے عبدالرحمن بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " مومن کی مثال کھیتی کے تیلی نمانرم تنے کی سی ہے جس کو ہوا موڑتی رہتی ہے ، کبھی اس کو لٹا دیتی ہے اور کبھی کھڑا کردیتی ہے ، حتیٰ کہ اس ( کے پک کرکٹنے ) کا وقت آجاتا ہے ، اور منافق کی مثال ویودار کے مضبوط جڑوں والے درخت کی طرح ہے ، اس پر ( ایسی ) کوئی مشکل نہیں آتی ، حتیٰ کہ ایک ہی دفعہ وہ جڑوں سے اکھڑ ( کرگر ) جاتا ہے ۔ "
It was narrated from 'Abdullah bin K'ab bin Malik from his father from the prophet ﷺ (a Hadith similar to no. 7095), except that Mahmud said in his report from Bishr:
"The likeness of the disbelievers is that of a cedar," and Ibn Hatim said: "The likeness of the Hypocrites," the Zuhair said.
محمد بن حاتم اور محمود بن غیلان نے مجھے یہی حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں بشر بن سری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن کعب بن مالک سے ، انھوں نے ا پنے والد سے ، اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، مگر محمود نے بشر سے اپنی روایت میں کہا
" کافر کی مثال ویودار کے درخت کی طرح ہے ۔ " اور ابن حاتم نے " منافق کی مثال " کہا ، جس طرح زہیر نے کہا ہے ۔
It was narrated from Abdullah bin K'ab bin Malik, and Ibn Bash-shar: It was narrated from the son of K'ab bin Malik, from his father, from the prophet ﷺ" -a similar Hadith (as no. 7095). They both said in their hadith from Yahya:
"The likeness of the disbeliever is that of a cedar.
محمد بن بشار اور عبداللہ بن ہاشم نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ قطان نے سفیان سے ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے حدیث بیان کی ۔ ابن ہاشم نے کہا : عبداللہ بن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی اور ابن بشار نے کہا : ابن کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے انھوں نے اپنے والد سے ۔ انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جیسے ان سب کی حدیث ہے ۔ اور ان دونوں نے اپنی حدیث میں کہا : یحییٰ سے روایت ہے
" اورکافر کی مثال دیودار کے درخت جیسی ہے ۔ "
Abdullah bin Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: There is a tree amongst trees, the leaves of which do not wither and that is like a Muslim; tell me which that (tree) can be? The people began to think of the trees of the forest. Abdullah said: I thought that it could be the date-palm tree, but I felt hesitant (to say that). They (the Companions) then said: Allah's Messenger, (kindly) tell us which that can be? Thereupon he said: It is the date-palm tree. I made a mention of that to 'Umar رضی اللہ عنہ , whereupon he said: Had you said that it meant the date-palm tree, this statement of yours (would have been dearer to me) than such and such things.
ہم سے یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید اور علی بن حجر السعدی نے بیان کیا، اور لفظ یحییٰ کا ہے۔ انہوں نے کہا: ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، یعنی ابن جعفر نے، عبداللہ بن دینار نے کہا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے اور وہ درخت مسلمان کی طرح ہے ۔ لہذا مجھے بتاؤ کہ وہ کون سادرخت ہے؟ "" تو لوگوں کا دھیان جنگل کے مختلف درختوں کی طرف کیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرے دل میں یہ خیال آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ لیکن میں جھجک گیا پھر وہ ( لوگ ) کہنے لگے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آ پ بتائیے کہ وہ کون سا ( درخت ) ہے؟ کہا : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔ "" ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو میں نے یہ ( بات اپنے والد ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوبتائی تو انھوں نے کہا : اگر تم نے کہہ دیا ہوتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے تو میرے نزدیک یہ ( جواب ) فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے بھی زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) one day said to his Companions: Tell me about a tree which has resemblance with a believer. The people began to mention (different) trees of the forest. Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ said: It was instilled in my mind or in my heart and it stuck therein that it implied the date- palm tree. I made up my mind to make a mention of that but could not do that because of the presence of the elderly people there. When there was a hush amongst them (after they had expressed their views), Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: It Is the date-palm tree.
مجھ سے محمد بن عبید الغبری نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ہم سے ایوب نے بیان کیا, ابوخلیل الضبعی نے مجاہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے صحابہ سے فرمایا؛ "" مجھے اس درخت کے بارے میں بتاؤ جس کی مثال مومن جیسی ہے ۔ "" تو لوگ جنگلوں کے درختوں میں سے کوئی ( نہ کوئی ) درخت بتانے لگے ۔ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اور میرے دل میں یا ( کہا : ) میرے ذہن میں یہ بات ڈالی گئی کہ وہ کھجور کا د رخت ہے میں ارادہ کرنے لگا کہ بتادوں ، لیکن ( وہاں ) قوم کے معمر لوگ موجود تھے تو میں ان کی ہیبت سے متاثر ہوکر بولنے سے رک گیا ۔ جب وہ سب خاموش ہوگئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" وہ کھجور کا درخت ہے ۔ ""
Mujahid said:
(I have had the privilege) of accompanying Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ up to Medina but I did not hear him narrate anything from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) except one hadith. And he said: We were in the presence of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that there was brought to him the kernel of a date. The rest of the hadith is the same.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن ابی عمر نے بیان کیا، ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا , ابن ابی نجیح نے مجاہد سے روایت کی ، کہا
میں مدینہ تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہا ، میں نے انھیں ایک حدیث کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے نہیں سنا ۔ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے تو آپ کے پاس کھجور کے تنے کانرم گودا لایا گیا ۔ پھر ان دونوں ( ابوخلیل ضبعی اورعبداللہ بن دینار ) کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Mujahid reported:
I heard Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ as saying: There was brought to Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) the kernel. The rest of the hadith is tile same.
ہمیں ابن نمیر نے بیان کیا, سیف نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے مجاہد کو سنا ، وہ کہہ رہے تھے
میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س کھجور کے تنے کا نرم گودا لایا کیا ، پھر ان کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
We were in the company of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he said: Tell me of a tree which has resemblance to a Muslim and the leaves of which do not wither. Ibrahim said that perhaps Imam Muslim had stated like this: It constantly bears fruit but I have, however, seen [It does not bear fruit constantly]. Ibn Umar رضی اللہ عنہ said: It crossed my mind that it could be the date-palm tree, but as I saw Aba Bakr and Umar رضی اللہ عنہ observe silence, I did not deem it fit that I should speak or I should say something. 'Umar رضی اللہ عنہ said: Had you said so, it would have been dearer to me than such and such thing.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے ابو اسامہ نے بیان کیا، ہم سے عبید اللہ بن عمر نے بیان کیا, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے ، آپ نے فرمایا : "" مجھے اس درخت کے متعلق بتاؤ جو ایک مسلمان آدمی سے مشابہ یا ( فرمایا : ) کی طرح ہے ، اس کے پتے نہیں جھڑتے ۔ "" ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کےشاگرد ) ابراہیم ( بن سفیان ) نے کہا : غالباً ( ہمارے شیخ ) امام مسلم نے "" اور وہ ( درخت ) اپنا پھل دیتاہے "" کہا ہوگا ( لیکن میرے پاس "" نہیں دیتا "" لکھا ہے ) اور میں نے اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہاں بھی ( ان کے نسخوں میں ) یہی پایا ہے : اور وہ ہر وقت اپنا پھل نہیں دیتا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : تو میرے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے ۔ مگر میں نے حضرت ابو بکر وعمر رضی اللہ عنہ کو دیکھاکہ وہ نہیں بول رہے تھے تو میں نے یہ بات ناپسندی کہ میں بولوں اور کچھ کہوں ، چنانچہ ( میری بات سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اگر تم یہ بات کہہ دیتے تو مجھے یہ فلاں فلاں ( سرخ اونٹوں ) سے زیادہ پسندہوتا ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Verily, the Satan has lost all hopes that the worshippers would ever worship (him) in the peninsula of Arabia, but he (is hopeful) that he would sow the seed of dissension amongst them.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا۔ ہم سے اسحاق نے بیان کیا، اور عثمان نے کہا, جریر نےاعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " شیطان اس بات سے ناامید ہوگیا ہے کہ جزیر ہ عرب میں نماز پڑھنے والے اس کی عبادت کریں گے لیکن وہ ان کے درمیان لڑائی جھگڑے کرانے سے ( مایوس نہیں ہوا ۔ )