Characteristics of The Hypocrites And Rulings Concerning Them
كتاب صِفَاتِ الْمُنَافِقِينَ وَأَحْكَامِهِمْ
Chapter 51
Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) worshipped so much that his feet were swollen. It was said to him: (Why do you undergo so much hardship despite the fact that) Allah has pardoned for you your earlier and later sins? Thereupon he said: May I not (prove myself) to be a grateful servant (of Allah)?
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا, ابو عوانہ نے زیاد بن علاقہ سے اور انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنی ( اتنی لمبی ) نمازیں پڑھیں کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ آپ سے کہاگیا کہ آپ اس قدر تکلیف اٹھاتے ہیں؟حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے اور پچھلےگناہوں کی مغفرت فرمادی ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا میں اللہ تعالیٰ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں ؟ ""
This hadith has been transmitted on the authority of Mughira bin Shu'ba رضی اللہ عنہ and the words are:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) kept standing in prayer (for such long hours) that his feet were swollen. They (his Companions) said: Verily, Allah has pardoned for thee the earlier and the later of thine sins. Thereupon he said: Should I not prove myself to be a grateful servant (of Allah)?
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن نمیر نے بیان کیا, سفیان نے ہمیں زیاد بن علاقہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اتنا ( اتنا لمبا ) قیام کیا کہ آپ کے قدم مبارک سوج گئے ۔ انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کے اگلے پچھلےتمام گناہ معافکردیے ہیں ( پھر اس قدر مشقت کیوں؟ ) تو آپ نے فرمایا : " کیا میں اللہ کا شکرگزار بندہ نہ بنوں؟
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
When Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) occupied himself in prayer, he observed such a (long) qiyam (posture of standing in prayer) that his feet were swollen. A'isha رضی اللہ عنہا said: Allah's Messenger you do this (in spite of the fact) that your earlier and later sins have been pardoned for you? Thereupon, he said. A'isha رضی اللہ عنہا should I not prove myself to be a thanksgiving servant (of Allah)?
ہم سے ہارون بن معروف اور ہارون بن سعیدا لا یلی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ابن وہب نے بیان کیا، کہا: مجھے ابو صخر نے ابن قصیط کی سند سے خبر دی, عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا
نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو ( بہت لمبا ) قیام کرتے یہاں تک کہ آپ کے قدم مبارک سوج جاتے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ایسا کرتے ہیں ۔ حالانکہ آپ کے اگلےپچھلے تمام گناہوں کی مغفرت کی ( یقین دہانی کرائی ) جاچکی ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !کیا میں ( اللہ تعالیٰ کا ) شکرگزار بندہ نہ بنوں؟ "
Shaqiq reported:
We were sitting at the door of Abdullah (bin Mas'ud) رضی اللہ عنہ waiting for him (to come out and deliver a sermon to us). It was at this time that there happened to pass by us Yazid b. Mu'awiya an-Nakha'i. We said: Inform him ('Abdullah b. Mas'ud) of our presence here. He went in and Abdullah b. Mas'ud lost no time in coming out to us and said: I was informed of your presence here but nothing hindered me to come out to you but the fact that I did not like to bore you (by stuffing your minds with sermons) as Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not deliver us sermon on certain days fearing that it might prove to be boring for us.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے وکیع نے بیان کیا اور ہم سے ابو معاویہ نے بیان کیا اور ہم سے ابن نمیر نے بیان کیا اور قول ان کا ہے, ابو معاویہ نے اعمش سے اور انھوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا
ہم حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے انتظار میں ان کے گھر کے دروازےپربیٹھےہوئے تھے کہ اتنے میں یزید بن معاویہ نخعی ہمارے پاس سے گزرے تو ہم نے کہا : ان ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو ہمارے آنے کی اطلاع کردیں وہ ان کے پاس گئے تو تھوڑی ہی دیر میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) آگئے ۔ اور فرمایا : " مجھے تمھارے آنے کی اطلاع کردی گئی تھی اور مجھے تمھارے پاس آنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع تھی کہ میں تمھاری اکتاہٹ کا سبب نہ بن جاؤں ۔ بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ہمارے اکتا جانے کے ڈرسے صرف بعض دنوں میں ہی وعظو نصیحت سے نوازاکرتے تھے ۔
This hadith has been narrated on the authority of 'Abdullah رضی اللہ عنہ through other chains of transmitters.
ابو سعید اشج نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن ادریس نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں منجانب بن حارث تمیمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن مسہر نے خبر دی ، نیز ہمیں اسحٰق بن ابراہیم اور علی بن خشرم نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبر دی ، نیز ہمیں ابن ابی عمر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی ، ان سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی ۔ اور منجانب نے اپنی روایت میں مزید یہ کہا : ابن مسہر سے روایت ہے اعمش نے کہا : اور مجھے عمرو بن مرہ نے شیقق سے اور انھوں نے عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
Shaqiq bin Wa'il reported:
'Abdullah رضی اللہ عنہ used to give us sermon on every Thursday. A person said: Abu 'Abd al-Rahman, we love your talk and so we yearn (to listen to you) and earnestly desire that you should deliver us lecture every day. Thereupon he said: There is nothing to hinder me in giving you talk (every day) but the fact that you may be bored. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) did not deliver sermons on certain days (fearing that we might be bored).
اور ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے بیان کیا, منصور نے شیقق ابو وائل سے روایت کی کہ
حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) ہمیں ہر جمعرات کے دن وعظ و نصیحت فرمایا کرتے تھے تو ایک شخص نے کہا : ابو عبد الرحمٰن !ہمیں آپ کی باتیں ( بہت ) پسند ہیں اور ہم ان کی طرف شدید رغبت رکھتے ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہر روز ہمیں احادیث بیان فرمایا کریں ۔ انھوں نے کہا : مجھے اس کے علاوہ تمھیں احادیث بیان کرنے سے صرف یہ ناپسندیدگی مانع ہے کہ میں تمھیں اکتاہٹ کا شکار نہ کردوں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ ہم پر اکتاہٹ طاری ہو جائے کچھ ( خاص ) دنوں میں ہی ہمیں وعظ و نصیحت سے نواازاکرتے تھے ۔