The Book of Paradise, its Description, its Bounties and its Inhabitants
كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا
Chapter 52
Samura bin Jundub رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would be among them those to whom the fire will reach up to their ankels and to some of them the fire would reach their knees and to some it would reach their waists and to some it would reach up to their collar-bones.
ہم سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا, عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو نضرہ کو سنا ، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت کر تے تھے کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی ۔ "
Sa'id narrated it with this chain of narrators (a Hadith similar to no. 7170), but instead of "waist" he said "groin".
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور محمد بن بشار نے بیان کیا, روح نے کہا , ہمیں سعید نے اسی سند کے سا تھ حدیث بیان کی اور انھوں نے ( کمر پر ازار باندھنے کی جگہ کے لیے ) " حجرة " کے بجائے ۔ " حقوية " کا لفظ استعمال کیا ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There was a dispute between the Hell and the Paradise and it (the Hell) said: The haughty and the proud would find abode in me. And the Paradise said: The meek and the humble would find their abode in me. Thereupon Allah, the Exalted and Glorious, (addressing the Hell) said: You are (the means) of My punishment by which I punish those of My servants whom I wish. (And addressing the Paradise) He said: You are only My Mercy by means of which 1 shall show mercy to those whom I wish, but each one of you would be full.
ہم سے ابن ابی عمر نے بیان کیا, سفیان نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت میں مباحثہ ہوا تو اس ( دوزخ ) نے کہا : میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے ۔ اور اس ( جنت ) نے کہا : میرے اندر ( اسباب دنیا ک اعتبار سے ) ضعیف اور مسکین لوگ داخل ہوں گے ۔ اللہ عزوجل نے اس ( دوزخ ) سے کہا : تم میرا عذاب ہو ، تمہارے ذریعے سے میں جنھیں چاہوں گا عذاب دوں گا ۔ یا شاید فرمایا : جنھیں چاہوں گا مبتلا کروں گا ۔ اور اس ( جنت ) سے کہا : تو میری رحمت ہے اور تمہارے ذریعے سے جس پرچاہوں گا رحم کروں گا اور تم دونوں کے لئے وہ مقدار ہوگی جو اس کو بھر دے گی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Hell and the Paradise fell into dispute and the Hell said: I have been distinguished by the proud and the haughty. And the Paradise said: What is the matter with me that the meek and the humble amongst people and the downtrodden and the simple enter me? Thereupon Allah said to the Paradise: You are (the means) of My Mercy whereby I show mercy to those of My servants whom I wish, and He said to the Hell: You are (the means) of punishment whereby I punish those of My servants whom l wish. Both of you will be full. The Hell will riot be filled up until Allah puts down His foot in it. The Hell would say: Enough, enough, enough, and at that time it will be filled up, all its parts integrated together.
مجھ سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے شبابہ نے بیان کیا, ورقاء نے مجھے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت نے باہم ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیے دوزخ نے کہا : مجھے جبر وتکبر کرنے و الوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : مجھے کیا ہواہے کہ میرے اندر کمزور ، خاک نشین ، اورعاجز ولاچار لوگ ہی داخل ہوں گے؟ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جن پر چاہوں گا تیسرے ذریعے سے رحمت کروں گا اور دوزخ سے کہا : تو میرا عذاب ہے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گاتمہارے ذریعے دے عذاب دوں گااور تم دونوں کے لئے اتنی ( مخلوق ) ہے جس سے تم بھر جاؤ ۔ رہی آگ تو وہ پوری طرح سے نہیں بھرے گی چنانچہ وہ ( اللہ ) اس کے اوپر اپناقدم رکھے گا تو وہ کہے گی!بس بس! اس وقت وہ بھر جائے گی اور باہم سمٹ جائے گی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same.
ہم سے عبداللہ بن عون ہلالی نے بیان کیا: ہم سے ابو سفیان یعنی محمد بن حمید نے معمر کی سند سے بیان کیا, ایوب نے ابن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جنت اور دوزخ نے ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیئے ۔ " پھر ابو زناد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
Hammam bin Munabbih reported that Abu Huraira رضی اللہ عنہ narrated to them some ahadith of Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and one of them is this:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Paradise and the Hell fell into dispute and the Hell said: 1 have been distinguished for accommodating (the haughty and proud in me), and the Paradise said: What is the matter that the meek and the humble and the downtrodden and simple would find an abode in me? Thereupon Allah said to Paradise: You are a (means) of My Mercy. 1 shall show mercy through you to one whom I will from amongst My servants. And lie said to the Hell: You are a (sign) of My chastisement and I shall chastise through you anyone whom I will from amongst My servants and both of you, would be full. And as regards the Hell it would not be full until Allah, the Exalted and Glorious, places His foot therein, and it would say: Enough, enough, enough, and it would be then full and the one part would draw very close to the other one and Allah would not treat unjustly anyone amongst His creation and He would create another creation for the Paradise (to accommodate it).
ہم سے محمد بن رافع نے بیان کیا، ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا, معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اوردوزخ نے ( اپنے اپنے بارے میں ) ایک دوسرے کو دلائل دیئے ۔ دوزخ نے کہا : مجھے تکبر اور جبر کرنے والوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر لوگوں میں سے کمزور خاک نشین اور سیدھے سادے لوگ داخل ہوں گے؟تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو سراسر میری رحمت ہے ، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا اور دوزخ سے کہا : تو صرف اور صرف میرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب میں ڈالوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لئے اتنے بندے ہیں جن سے وہ بھر جائے ، جہاں تک آگ کا تعلق ہے تو وہ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ۔ اپنا قدم ( اس پر ) رکھ دے گا تو وہ کہے گی ۔ بس ۔ بس ۔ بس اس وقت وہ بھر جائے گی ، اس کے بعض حصے بعض کے ساتھ سمٹ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ ( اس کے لیے ) ایک مخلوق تیار کردے گا ۔ "
Abu Sa'id al-Khudri reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The Paradise and the Hell disputed with each other. The rest of the hadith is the same as transmitted by Abu Huraira رضی اللہ عنہ up to the words'. It is essential for Me to fill up both of you.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا، کہا ہم سے جریر نے العماش کی سند سے، ابوصالح کی سند سے, حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اور دوزخ نے ایک دوسرے کے سامنے دلائل دیے ۔ " پھرانہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : " تم دونوں کو بھرنا میری ذمہ داری ہے " تک بیان کیا اور اس کے بعدکے مزید الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said that the Hell would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and High, would place His foot therein and that would say: Enough, enough, by Your Honour, and some parts of it would draw close to the other.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا, شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ
اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دوزخ مسلسل یہی کہتی رہے گی : کیا اور زیادہ ہے؟یہاں تک کہ رب العزت تبارک وتعالیٰ اس میں اپنا قدم ٹکائے گا تو وہ کہے گی بس بس تیری عزت کی قسم! ( میرامطالبہ ختم ہوگیا ۔ ) اور اس کاایک حصہ دوسرے حصے سے سمٹ جائے گا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Anas رضی اللہ عنہ through another chain of transmitters.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عبد الصمد بن عبد الوارث نے بیان کیا, ابان بن یزید عطار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔
Abdul-Wahhab bin Ata' reported:
In connection with the words of Allah, the Exalted and the Glorious: We would say to Hell on the Day of Ressurection: Have you been completely filled up? and it would say: Is there anything -more? And he stated on the authority of Anas bin Malik رضی اللہ عنہ that Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: (The sinners) would be thrown therein and it would continue to say: Is there anything more, until Allah, the Exalted and Glorious, would keep His foot there- in and some of its part would draw close to the other and it would say: Enough, enough, by Thy Honour and by Thy Dignity, and there would be enough space in Paradise until Allah would create a new creation and He would make them accommodate that spare place in Paradise.
ہم سے محمد بن عبداللہ الرازی نے بیان کیا, عبدالوہاب بن عطا نے ہمیں
اس ( اللہ ) عزوجل کے اس فرمان؛ " جس دن ہم جہنم سے کہیں کے کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی : کیا اور زیادہ ہے؟ " کے بارے میں حدیث بیان کی ، انھوں نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جہنم میں مسلسل ( لوگوں کو ) ڈالا جاتا رہے گا اور ہو کہتی رہے گی : کیا اور ہے؟یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پاؤں رکھ دے گا ، تو اس کا بعض بعض کی طرف سمٹ جائے گا اور وہ کہے گی : تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم! بس بس اور جنت میں مسلسل گنجائش رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک خلقت پیدا کردے گا اور انھیں جنت کی بچی ہوئی جگہ میں بسا دے گا ۔ "
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: There would be left some space in Paradise as Allah would like that to be left. Then Allah would create another creation as He would like.
مجھ سے زہیر بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے عفان نے بیان کیا، ہم سے حماد نے بیان کیا، یعنی ابن سلمہ نے, ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں سے جس حصے کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ باقی بچ جائے وہ باقی بچ جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ، جہاں سے چاہے گا ، مخلوق پیدا کردے گا ۔ "
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Death would be brought on the Day of Resurrection. in the form of a white-coloured ram. Abu Kuraib made this addition: Then it would be made to stand between the Paradise and the Hell. So far as the rest of the hadith is concerned there is perfect agreement (between the two narrators) and it would be said to the inmates of Paradise: Do you recognise this? They would raise up their necks and look towards it and say: Yes, ' it is death. Then it would be said to the inmates of Hell-Fire.. Do you recognise this? And they would raise up their necks and look and say: Yes, it is death. Then command would be given for slaughtering that and then it would be said: O inmates of Paradise,, there is an everlasting life for you and no death. And then (addressing) to the inmates of the Hell-Fire, it would be said: 0 inmates of Hell-Fire, there is an everlasting living for you and no death. Allah's Messenger (may peace be [email protected] him) then recited this verse pointing with his hand to this (material) world: Warn them, this Day of dismay, and when their affairs would be decided and they would be un- mindful and they believe not (xix. 39).
ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے ، ہاں ، یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا ۔ فرمایا : پھر کہاجائے گا : اے جنت والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے موت نہیں ہےاور اے جہنم والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے ، موت نہیں ہے ۔ " کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی : " ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب معاملہ نپٹا دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے ۔ " اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔
Abu Sa'id رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When the inmates of Paradise would be admitted to Paradise and the inmates of Hell would be admitted to Hell, it would be said (to the inmates of Paradise): O inmates of Paradise. The rest of the hadith is the same but with this variation (that he only) said. That is the word of Allah, the Exalted. And he did not say: Then Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) recited, and he did not make a mention of his having pointed with his hand towards the (material) world.
ہم سے عثمان بن ابی شیبہ نے بیان کیا, ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے ، اور انھوں نے ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل کردیے جائیں گے ۔ تو کہا جائے گا اے اہل جنت! " اس کے بعد ابو معاویہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ، مگر انھوں نے کہا : " یہی ( اسی کے مطابق ) ہے اس ( اللہ ) عزوجل کا فرمان ۔ " اورانھوں نے نہیں کہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی اور ( اسی طرح ) انھوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ آپ کے اپنے ہاتھ سے د نیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔
Abdullah رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Allah would admit the inmates of Paradise into Paradise and the inmates of Hell into Hell. Then the announcer would stand between them and say: O inmates of Paradise, there is no death for you, O inmates of Hell, there is no death for you. You would live for ever therein.
ہم سے زہیر بن حرب، حسن بن علی الحلوانی اور عبد بن حمید نے بیان کیا۔ عبد نے کہا: مجھے عبد نے خبر دی، اور باقی دو نے کہا: یعقوب نے جو ابراہیم بن سعد کے بیٹے ہیں، بیان کیا۔ میرے والد نے ہم سے صالح کی روایت سے بیان کیا, نافع نے ہمیں حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا ۔ پھر ان کےدرمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہوکر اعلان کرے گا : اے اہل جنت!اب موت نہیں ہے ، اور اے اہل دوزخ !اب موت نہیں ہے ہر شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہنے والا ہے ۔ "
`Umar bin Muhammad bin Zaid bin `Abdullah bin `Umar bin al-Khattab reported on the authority of his father `Abdullah bin `Umar رضی اللہ عنہ that:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the inmates of Paradise would go to Paradise and the inmates of Hell would go to Hell, death would be called and it would be placed between the Paradise and the Hell and then slaughtered and then the announcer would announce: O inmates of Paradise, no death. O inmates of Hell-Fire, no death. And it would increase the delight of the inmates of Paradise and it would increase the grief of the inmates of Hell-Fire.
مجھ سے ہارون بن سعید الایلی اور حرملہ بن یحییٰ نے بیان کیا, ابن وہب نے کہا : مجھے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نےحدیث بیان کی کہ انھیں ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے ر وایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ذبح کیا جائے گا اور اس کو جنت اوردوزخ کے درمیان کھڑا کیاجائے گا پھر اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : اے جنت والو! ( اب ) موت نہیں ہے ( اور ) اے جہنم والو! ( اب ) موت نہیں ہے ۔ اہل جنت کو اپنی خوشی پر مزید خوشی حاصل ہوجائے گی اور جہنم و الوں کو اپنے غم پر مزید غم لاحق ہوگا ۔ "
It is transmitted on the authority of Abu Huraira رضی اللہ عنہ :
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: The molar tooth of an unbeliever or the canine teeth of an unbeliever will be like Uhud and the thickness of his skin a three night's journey.
مجھ سے سریج بن یونس نے بیان کیا، ہم سے حمید بن عبدالرحمٰن نے بیان کیا، وہ حسن بن صالح سے، ہارون بن سعد نے ابوحازم کی سند سے, حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر کی داڑھ یا ( فرمایا : ) کافر کا کچلی دانت اُحد پہاڑ جتنا ہوجائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن چلنے کی مسافت کے برابر ہوگی ۔ "
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported directly from Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) that he said:
The distance of the two shoulders of the non-believer in Hell will be a three-day journey for a swift rider.
ابو کریب اور احمد بن عمر وکیعی نےہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابوحازم سے اور انھوں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے کہا کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہنم میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کےبرابر فاصلہ ہوگا ۔ "" وکیعی نے "" جہنم میں "" کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
Haritha bin Wahb رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? They said: Do this, of course. Thereupon Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: Every humble person who is considered to be humble if he were to adjure In the name of Allah, He would fulfil it. He then said: May I not inform you about the denizens of Hell-Fire? They said: Yes. And he said: Every haughty, fat and proud (person).
عبید اللہ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے معبد بن خالد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ عنہ سے سنا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتاہے ۔ ( مگر ایسا کہ ) اگر ( کسی معاملے میں ) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کردے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! " کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ " لوگوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہراجذ ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا ۔ "
This hadith has been narrated on the authority of Shu'ba with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.
ہم سے محمد بن المثنی نے بیان کیا, محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر اس میں کہا : " کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں؟ "
Haritha bin Wahb al-Khuzai رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: May I not inform you about the inmates of Paradise? (And then informing about them) said: Every meek person who is considered to be humble and if they were to adjure in the name of Allah, Allah would certainly fulfil it. May I not inform you about the inmates of Hell-Fire? They are all proud, mean and haughty.
ہم سے محمد بن عبداللہ بن نمیر نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا, سفیان نے ہمیں معبد بن خالد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے ۔ ( لیکن ایساکہ ) اگر اللہ پر ( اعتماد کرتے ہوئے ) قسم کھالے تو وہ اسے پوری کردے ۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہر مال سمیٹنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا ، بد اصل ، متکبر ۔ "