The Book of Paradise, its Description, its Bounties and its Inhabitants
كتاب الْجَنَّةِ وَصِفَةِ نَعِيمِهَا وَأَهْلِهَا
Chapter 52
Iyad bin Himad رضی اللہ عنہ reported:
While Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was delivering an address, he stated that Allah commanded me The rest of the hadith is the same, and there is an addition in it: Allah revealed to me that we should be humble amongst ourselves and none should show pride upon the others, And it does not behave one to do so, and He also said: There are among you people to follow not caring a bit for their family and property. Qatada said: Abu Abdullah, would this happen? Thereupon he said: Yes. By Allah, I found this in the days of ignorance that a person grazed the goat of a tribe and did not find anyone but their slave-girl (and he did not spare her) but committed adultery with her.
مجھ سے ابو عمار حسین بن حریث نے بیان کیا کہ ہم سے الفضل بن موسیٰ نے حسین رضی اللہ عنہ سے بیان کیا, مطر نے کہا : مجھے قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ عنہ سے جو قبیلہ مجاشع سے تھے ، روایت کی ، کہا
ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد قتادہ سے ہشام کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی اور اس میں مزید یہ کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو حتی کہ کو ئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے ۔ " انھوں نے اس حدیث میں کہا : وہ تم میں ( برائی کے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے ہیں والوں اور مال کے بھی متلاشی نہیں ( کہ کما کر دوسروں سے مستغنیٰ ہو جا ئیں ۔ ) تو میں ( قتادہ ) نے ( مطرف سے ) کہا : ابو عبد اللہ تو ( اب ) یہی ہوا کرے گا؟ انھوں نے کہا : ہاں ، اللہ !میں نے جاہلیت کے زمانے میں انھیں دیکھا ( ایسا ہوتا تھا ) کہ ایک شخص پورے قبیلے کی بکریاں چراتا تھا ۔ اسے ان کی ایک کنیز کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا جس سے مجامعت کرتا تھا ۔
Ibn 'Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: When any one of you dies, he is shown his seat (in the Hereafter) morning and evening; if he is amongst the inmates of Paradise (he is shown the seat) from amongst the inmates of Paradise and if he is one from amongst the denizens of Hell (he is shown the seat) from amongst the denizens of Hell, and it would be said to him: That is your seat until Allah raises you on the Day of Resurrection (and sends you to your proper seat).
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا کہ میں نے مالک کو پڑھا, نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتاہے ۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے ( اس کا ٹھکانا اسے دکھایاجاتاہےاور اس سے ) کہاجاتاہے ۔ تمھاراٹھکانا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس ( ٹھکانے ) تک لے جائے ۔ "
Ibn Umar رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When a person dies, he is shown his seat morning and evening. If he is one amongst the inmates of Paradise (he is shown his seat) in Paradise and if he is one amongst the denizens of Hell-Fire (he is shown his seat) in the Hell-Fire. Then it is said to him: That is your seat where you would be sent on the Day of Resurrection.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالرزاق نے بیان کیا، کہا ہم سے معمر نے بیان کیا، زہری کی سند سے,سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکاناپیش کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہوتوجنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہوتو دوزخ ( اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے ) " کہا : پھر کہا جاتا ہے یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھاکر لے جایا جائے گا ۔ "
Abu Sa'id al-Khudri رضی اللہ عنہ reported:
I did not hear this hadith from Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) directly but it was Zaid bin Thabit رضی اللہ عنہ who narrated it from him. As Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) was going along with us towards the dwellings of Bani an-Najjar, riding upon his pony, it shied and he was about to fall. He found four, five or six graves there. He said: Who amongst you knows about those lying in the graves? A person said: It is I. Thereupon he (the Holy Prophet) said: In what state did they die? He said: They died as polytheists. He said: These people are passing through the ordeal in the graves. If it were not the reason that you would stop burying (your dead) in the graves on listening to the torment in the grave which I am listening to, I would have certainly made you hear that. Then turning his face towards us, he said: Seek refuge with Allah from the torment of Hell. They said: We seek refuge with Allah from the torment of Hell. He said: Seek refuge with Allah from the torment of the grave. They said: We seek refuge with Allah from the torment of the grave. He said: Seek refuge with Allah from turmoil, its visible and invisible (aspects), and they said: We seek refuge with Allah from turmoil and its visible and invisible aspects and he said: Seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal, and they said We seek refuge with Allah from the turmoil of the Dajjal.
ہم سے یحییٰ بن ایوب اور ابوبکر بن ابی شیبہ نے ابن اُلیّہ کی سند سے بیان کیا۔ ابن ایوب نے کہا, ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابو نضرہ سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( ابو نضرہ نے ) کہا : حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ نے کہا
میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوکر نہیں سنی ، بلکہ مجھےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے ، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا ( دیکھا تو ) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں ( ابن علیہ نے ) کہا : جریری اسی طرح کہا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ان قبروں والوں کو کو ن جانتاہے؟ "" ایک آدمی نے کہا : میں ، آپ نے فرمایا : "" یہ لو گ کب مرے تھے؟اس نے کہا : شرک ( کے عالم ) میں مرے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ لو گ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( اپنے مردوں کو ) دفن نہ کرو گےتو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب ( کی آوازوں ) کومیں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنادے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا : "" آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" ( تمام ) فتنوں سے جوان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔
Anas رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: If you were not (to abandon) the burying of the dead (in the grave), I would have certainly supplicated Allah that He should make you listen the torment of the grave.
ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے قتادہ کی سند سے بیان کیا, حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( مردوں کو ) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر ( کی آوازیں ) سنوائے ۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Ayyub رضی اللہ عنہ through some other chains of transmitters (and the words are):
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) went out after the sun had set and he heard some sound and said: It is the Jews who are being tormented in their graves.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے بیان کیا، ہم سے وکیع نے بیان کیا، اور ہم سے عبید اللہ بن معاذ نے بیان کیا، اور ہم سے میرے والد نے بیان کیا، اور ہم سے محمد بن المثنیٰ اور ابن بشار نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ان سب سے شعبان، شعبان، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا۔ اور مجھ سے زہیر بن حرب اور محمد بن المثنیٰ نے بیان کیا, اور ابن بشار، سب یحییٰ القطان کی طرف سے، اور الفاظ زہیر کے ہیں۔ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے عون بن ابی جحیفہ نے اپنے والد سے بیان کیا,حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا : " یہودہیں انھیں قبر میں عذاب دیا جارہاہے ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) having said: When the servant is placed in his grave, his companions retrace their steps, and he hears the noise of their footsteps, two angels come to him and make him sit and say to him: What you have to say about this person (the Prophet)? If he is a believer, he would say: I bear testimony to the fact that he is a servant of Allah and His Messenger. Then it would be said to him: Look to your seat in the Hellfire, for Allah has substituted (the seat of yours) with a seat in Paradise. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He would be shown both the seats. Qatada said: It was mentioned to us that his grave (the grave of a believer) expands to seventy cubits and is full with verdure until the Day when they would be resurrected.
ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، ہم سے یونس بن محمد نے بیان کیا, شیبان بن عبد الرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی کہا , ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہا
اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اوراس کے ساتھی اسے چھوڑکرواپس جاتے ہیں تو وہ ( بندہ ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتاہے ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتےہیں ۔ تم اس آدمی کے متعلق ( دنیامیں ) کیاکہاکرتے تھے؟ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہاں تک مومن ہے تووہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ "" فرمایا : "" تو اس سے کہاجائے گا ۔ تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے ۔ "" اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا ۔ قتادہ نے کہا : اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کردی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں ترو تازہ نعمتیں بھردی جاتی ہیں ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the dead body. is placed in the grave, he listens to the sound of the shoes (as his friends and relatives return after burying him).
ہم سے محمد بن منہال الضریر نے بیان کیا, یزید بن زریع نے کہا , ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔ "
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: When the servant is placed in his grave and his friends retrace their steps. The rest of the hadith is the same as transmitted by Qatada.
مجھ سے عمرو بن زرارہ نے بیان کیا کہ انہوں نے ہم سے بیان کیا: عبدالوہاب بن عطاء نے سعید ( بن ابی عروبہ ) سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب بندے کو قبر میں رکھا جا تا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں ۔ " اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا ۔
Al-Bara' bin `Azib رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: This verse: Allah grants steadfastness to those who believe with firm word, was revealed in connection with the torment of the grave. It would be said to him: Who is your Lord? And he would say: Allah is my Lord and Muhammad is my Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ), and that is (what is implied) by the words of Allah, the Exalted: Allah keeps steadfast those who believe with firm word in this world and in the Hereafter.
ہم سے محمد بن بشار بن عثمان العبدی نے بیان کیا، ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، ہم سے شعبہ نے بیان کیا، علقمہ بن مرثد کی سند سے, سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول ( کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت ) کے ذریعے سے ( حق پر ) ثابت قدم رہتا ہے ۔ " فرمایا : " یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس ( مرنے والے ) سے کہا جا تاہے ۔ تمھارا رب کون ہے؟وہ ( مومن ) کہتا ہے ۔ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہی قول عزوجل ( يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ ) ( سے مراد ) ہے ۔ "
Al-Bara' bin 'Azib رضی اللہ عنہ reported:
This verse: Allah keeps those who believe steadfast with firm word in this world and the Hereafter was revealed in connection with the torment of the grave.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن المثنیٰ اور ابوبکر بن نافع نے بیان کیا, ہم سے عبدالرحمٰن نے بیان کیا، یعنی ابن مہدی نے، ہم سے سفیان کی سند سے، اپنے والد کی سند سے, خیثمہ نے حضرت براءبن عازب رضی اللہ عنہ سے ( اس آیت کے بارے میں ) روایت کی
" اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔ " کہا : یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔
Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported:
When the soul of a believer would go out (of his body) it would be received by two angels who would take it to the sky. Hammad (one of the narrators in the chain of transmitters) mentioned the sweetness of its odour, (and further said) that the dwellers of the sky say: Here comes the pious soul from the side of the earth Let there be blessings of Allah upon the body in which it resides. And it is carried (by the angels) to its Lord, the Exalted and Glorious. He would say: Take it to its destined end. And if he is a nonbeliever and as it (the soul) leaves the body-Hammad made a mention of its foul smell and of its being cursed-the dwellers of the sky say: There comes a dirty soul from the side of the earth, and it would be said: Take it to its destined end. Abu Huraira رضی اللہ عنہ reported that Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) put a thin cloth which was with him upon his nose while making a mention (of the foul smell) of the soul of a non-believer.
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں بدیل نے عبد اللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا
"" جب مومن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ فرشتے اس ( روح ) کو لیتے ہیں اور اسے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں ۔ "" حماد نے کہا : انھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کی بات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آسمان والے کہتے ہیں ۔ یہ ایک پاکیزہ روح ہے زمین والوں کی طرف سے آئی ہے ( اے روح مومن! ) تجھ پر اور اس جسم پر جسے تونے آباد کیے رکھا اللہ کی رحمت ہو ۔ چنانچہ اسے اس کے رب عزوجل کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر وہ فرماتا ہے ۔ اسے مقررشدہ آخری مدت تک کے لیے ( عالی شان ٹھکانے پر ) لے جاؤ ۔ "" فرمایا : "" اور کافرجب اس کی روح نکلتی ہے ۔ حماد نے کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بدبو اور ( اس پر کی جانے والی ) لعنتوں کا ذکر کیا ۔ اور آسمان والے کہتے ہیں ۔ گندی روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے فرمایا : تو کہاجاتا ہے اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے ( برےٹھکانے ) پر لے جاؤ ۔ "" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر جو آپ کے جسم مبارک پر تھی اس طرح موڑ کر اپنی ناک پر رکھی ۔
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
We were along with Umar رضی اللہ عنہ between Mecca and Medina that we began to look for the new moon. And I was a man with sharp eye- sight, so I could see it, but none except me saw it. I began to say to 'Umar رضی اللہ عنہ : Don't you see it? But he would not see it. Thereupon Umar رضی اللہ عنہ said: I would soon be able to see it (when it will shine more brightly). I lay upon bed. He then made a mention of the people of Badr to us and said: Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) showed us one day before (the actual battle) the place of death of the people (participating) in (the Battle) of Badr and he was saying: This would be the place of death of so and so tomorrow, if Allah wills. Umar رضی اللہ عنہ said: By Him Who sent him with truth, they did not miss the places (of their death) which Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had pointed for them. Then they were all thrown in a well one after another. Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) then went to them and said: O, so and so, the son of so and so; O so and so, the son of so and so, have you found correct what Allah and His Messenger had promised you? I have, however, found absolutely true what Allah had promised with me. Umar said: Allah's Messenger, how are you talking with the bodies without soul in them. Thereupon he said: You cannot hear more distinctly than (their hearing) of what I say, but with this exception that they have not power to make any reply.
مجھ سے اسحاق بن عمر بن سلیط ہذلی نے بیان کیا, سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا
ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو ہم نے پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کی ، میں تیز نظر انسان تھا میں نے چاند کو دیکھ لیا ۔ میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا جس کا خیال ہو کہ اس نے اسے دیکھ لیا ہے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگا : کیا آپ دیکھ نہیں رہے؟چنانچہ انھوں نے اسے دیکھنا چھوڑ دیا کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے عنقریب میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں گا تو اسے دیکھ لوں گا ، پھر انھوں نے ہم سے اہل بدرکا واقعہ بیان کرنا شروع کر دیا ۔ انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن پہلے ہمیں بدر ( میں قتل ہونے ) والوں کے گرنے کی جگہیں دکھا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے ۔ "" ان شاء اللہ!کل فلاں کے قتل ہونے کی جگہ یہ ہوگی ۔ "" کہا : توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا !وہ لوگ ان جگہوں کے کناروں سے ذرا بھی ادھر اُدھر ( قتل ) نہیں ہوئے تھے جن کی نشاندہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان ( کی لاشوں ) کو ایک دوسرے کے اوپر کنویں میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر ان کے پاس پہنچے اور فرمایا : "" اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں فلاں بن فلاں !کیا تم نے اللہ اور اس کے رسول سے کیے ہوئے وعدےکو سچا پایا؟بلاشبہ میں نے اس وعدے کو بالکل سچا پایا ہے جو اللہ نے میرے ساتھ کیا تھا ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ان جسموں سے کیسے بات کر رہے ہیں جن میں روحیں ہیں ۔ ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم لوگ اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ مگر وہ میری بات کا کو ئی جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ ""
Anas bin Malik رضی اللہ عنہ reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) let the dead bodies of the unbelievers who fought in Badr (lie unburied) for three days. He then came to them and sat by their side and called them and said: O Abu Jahl bin Hisham, O Umayya bin Khalaf, O Utba bin Rab'ila, O Shaiba bin Rabi'a, have you not found what your Lord had promised with you to be correct? As for me, I have found the promises of my Lord to be (perfectly) correct. Umar رضی اللہ عنہ listened to the words of Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) and said: Allah's Messenger, how do they listen and respond to you? They are dead and their bodies have decayed. Thereupon he (the Holy Prophet) said: By Him in Whose Hand is my life, what I am saying to them, even you cannot hear more distinctly than they, but they lack the power to reply. Then 'he commanded that they should be buried in the well of Badr.
ہم سے حداب بن خالد نے بیان کیا, حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک بدر کے مقتولین کو پڑا رہنے دیا ۔ پھر آپ گئے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو پکارکر فرمایا : اے ابوجہل بن ہشام !اے امیہ بن خلف !اے عتبہ بن ربیعہ !اےشیبہ بن ربیعہ !کیاتم نے وہ وعدہ سچانہیں پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟میں نے تو اپنے رب نے کے وعدے کو سچا پایاہے ۔ جو اس نے میرے ساتھ کیاتھا! " حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد سنا تو عرض کی ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ کیسے سنیں گے اور کہاں سے جواب دیں گے ۔ جبکہ وہ تولاشیں بن چکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم اس بات کو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ان کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ " پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں گھسیٹا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا ۔
Aba Talha رضی اللہ عنہ reported:
When it was the Day of Badr and Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) had gained victory over them (the Meccans), he commanded more than twenty persons, and in another hadith these are counted as twenty-four persons, from the non-believers of the Quraish to be thrown into the well of Badr. The rest of the hadith is the same.
مجھ سے یوسف بن حماد المعنی نے بیان کیا, عبد الاعلی اور روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ عنہ سے ( سن کر ) بیان کیا ، انھوں نے کہا
جب بدر کا دن تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر فتح حاصل فرمائی تو آپ نے قریش کے بڑے سرداروں میں سے بیس افراد کے بارے میں حکم دیا ۔ اور روح ( بن عبادہ ) کی حدیث میں ہے کہ چوبیس افراد کے بارے میں ( حکم دیا ) تو انھیں بدر کے پتھروں سے بنے ہوئے کنوؤں میں سے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا پھر انھوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے ثابت کی روایت کردہ حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Messenger ( صلی اللہ علیہ وسلم ) said: He who is taken to account on the Day of Resurrection is in fact put to torment. I said: Has Allah, the Exalted and Glorious, not said this: 'He will be made subject to an easy reckoning (Ixxxiv. 8)? Thereupon he said: (What it implies) is not the actual reckoning, but only the presentation of one's deeds to Him. He who is thoroughly examined in reckoning is put to torment.
ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ اور علی بن حجر نے بیان کیا, اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے انھوں نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا! ہو گیا ۔ میں نے عرض کی ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : " عنقریب اس سے آسان حساب لیا جا ئے گا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ حساب نہیں وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے جس سے قیامت کے دن حساب کی پوچھ گچھ ہوئی اسے عذاب ( میں ڈال ) دیا جائے گا ۔
This hadith has been narrated on the authority of Ayyub with the same chain of transmitters.
ابو الربیع العتکی اور ابو کامل نے مجھ سے کہا, حماد بن زید نے کہا : ہمیں ایوب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: Everyone who is reckoned thoroughly is undone. I said: Allah's Messenger, has Allah not called (reckoning) as easy reckoning? Thereupon he said.. It implies only presentation of (one's deeds to Him), but if one is thoroughly examined in reckoning, he in fact is undone.
اور مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر بن الحکم العبدی نے بیان کیا: یحییٰ یعنی ابن سعید القطان نے کہا, ابو یونس قشیری نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں ابن ابی ملیکہ نے قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کا بھی حساب کتاب شروع ہو گیا وہ ہلاک ہو گیا ۔ " میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا : " آسان حساب ہوگا : ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے لیکن جس سے محاسبے میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جا ئے گا ۔
A'isha رضی اللہ عنہا reported:
Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying: "Whoever examined thoroughly reckoning will be doomed." Then he mentioned a hadith like that of Abu Yunus (no. 7227).
اور مجھ سے عبدالرحمٰن بن بشر نے بیان کیا، مجھ سے یحییٰ نے جو القطان ہیں، بیان کیا:عثمان بن اسود نے ابن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس سے حساب میں پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ بلاک ہوجائے گا ۔ " پھر ابو یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
Jabir رضی اللہ عنہ reported:
I heard Allah's Apostle ( صلی اللہ علیہ وسلم ) as saying three days before his death: None of you should court death but only hoping good from Allah
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے بیان کیا, یحییٰ بن زکریا نے اعمش سے ، انھوں نےابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے ہر شخص کو اسی حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ کے متعلق حسن ظن رکھتا ہو ۔ "